Monday, 27 April 2009

: قطب نما - طول عرض اور عرض بلد

0 comments
قطب نما ایک آلہ ہے جس سے سمتیں معلوم کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ یہ ایک مقناطیسی سوئی سے کام کرتا ہے۔ چونکہ مقناطیسی سوئی کا ایک سرا مقناطیسی شمال کی طرف اشارہ کرتا ہے اس لیے اس سے شمال اور نتیجتاً دوسری سمتیں معلوم کرنا ممکن ہے۔ اسے چینیوں نے سب سے پہلے استعمال کیا۔ بعد میں مسلمانوں نے کئی صدیوں تک ستاروں کی مدد کے علاوہ قطب نما کو سمت شناسی کے لیے استعمال کیا۔ چودھویں صدی میں مغربی دنیا نے اسے استعمال کرنا شروع کیا۔ یہاں یہ یاد رہے کہ قطب نما کی سوئی مقناطیسی شمال کی طرف اشارہ کرتی ہے، جغرافیائی شمال کی طرف نہیں۔ اصل سمت سے اس فرق کو مقناطیسی انحراف کہتے ہیں۔
تصوير
لمبائی (سنسکرت) یا طول (عربی. انگریزی: Length) کسی جسم کے سب سے دراز یا طویل سمت یا بُعد کو کہاجاتا ہے. نیز، فاصلہ یا وقت کی پیمائش کو بھی لمبائی کہاجاتا ہے.
کسی چیز کی لمبائی، اُس کے دونوں سِروں کے درمیان فاصلہ ہے۔لمبائی یا طُول، چوڑائی یا عَرض، اُونچائی اور وُسعت یا کُشادگی میں فرق ہے.
بین الاقوامی نظام اکائیات میں لمبائی کی اِکائی میٹر ہے.

شمالی قطب سے عموماً جغرافیائی شمالی قطب مراد لی جاتی ہے اگرچہ شمالی قطب کئی قسم کے ہیں۔ جغرافیائی شمالی قطب سے مراد زمین کا شمالی ترین نقطہ ہے یعنی °90 درجے شمالی عرض بلد۔ یہ ایسا نقطہ ہے جس سے آپ جس طرف کو بھی چل پڑیں آپ جنوب ہی کی طرف جا رہے ہوں گے۔ قطب نما اس جغرافیائی شمالی قطب کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ مقناطیسی شمالی قطب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ان تمام مختلف تعریفوں کے مطابق شمالی قطب کو بحری سفر کے لیے اور صحرا میں سفر کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ آج کل ان کا استعمال فلکیات دان، ریاضی دان اور ارضی علوم کے ماہرین کثرت سے کرتے ہیں۔ زمین کے جتنے نقشے بنتے ہیں وہ جغرافیائی شمالی قطب کو مدِنظر رکھ کر بنتے ہیں اسی لیے اسے صحیح شمالی قطب بھی کہتے ہیں۔ قابلِ تصدیق ریکارڈ کے مطابق پہلی دفعہ 1909 میں کوئی انسان اس تک پہنچ سکا تھا۔
تصوير
جغرافیائی شمالی قطب سے مراد زمین کا شمالی ترین نقطہ ہے یعنی °90 درجے شمالی عرض بلد۔ یہ ایسا نقطہ ہے جس سے زمین کا گردشی محور زمین کی شمالی سطح سے ٹکراتا ہے۔ گردشی محور وہ فرضی لکیر ہے جس پر زمین اپنے اردگرد گردش کرتی ہے۔ یہ ایسا نقطہ ہے جس سے آپ جس طرف کو بھی چل پڑیں آپ جنوب ہی کی طرف جا رہے ہوں گے۔ اسے صحیح شمالی قطب بھی کہتے ہیں۔ جغرافیائی شمالی قطب شمالی بحیرہ منجمد شمالی میں واقع ہے مگر اس پر برف کی موٹی تہہ جمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اس پرمستقل تجربہ گاہیں تعمیر کی گئی ہیں۔ مقناطیسی قطب نما اس کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ مقناطیسی شمالی قطب کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اس سے سینکڑوں کلومیٹر دور بھی ہے اور بدلتا بھی رہتا ہے۔ جغرافیائی شمالی قطب چونکہ برف پر واقع ہے اور برف بہت غیر محسوس طریقہ سے کھسک رہی ہے اس لیے ادھر قائم تجربہ گاہیں حرکت کر کے شمالی قطب سے ھٹ جاتی ہیں۔ اسی لیے کچھ سالوں کے بعد انہیں بھی منتقل کرنا پڑتا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ خود جغرافیائی شمالی قطب ایک جگہ نہیں بلکہ اس میں بہت معمولی تبدیلی آتی ہے۔ یعنی زمین لرزتی ہے۔ زمین کا گردشی محور کچھ میٹر تک حرکت کر سکتا ہے اور اس بات کو چانڈلر کا ارتعاش (Chandler wobble ) کہتے ہیں۔ گرمیوں میں چوبیس گھنٹے کا دن ہوتا ہے اور سردیوں میں چوبیس گھنٹے کی رات۔ 20 یا 21 مارچ کو سورج چھ ماہ کے لیے نکلتا ہے جس نے جون کے مہینے تک چڑھتے رہنا ہے۔ بیس جون کے بعد اس کا زوال شروع ہوتا ہے۔ 23 ستمبر کو سورج مکمل غروب ہو جاتا ہے جس کے بعد چھ ماہ کے لیے رات رہتی ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔