Wednesday, 19 August 2009

15 اگست2047ءکے اخبارات سے

0 comments
پاکستان ڈرون حملے بند کروائے۔امریکہ

واشنگٹن(ایجنسیاں)امریکہ نے پاکستان اور اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ پاکستان ڈرون حملے بند کروائے۔یہ حملے امریکہ کی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں۔ان ڈرون حملوں میں بے گناہ امریکی شہری،خواتین اور بچے نشانہ بن رہے ہیں۔دوسری جانب پاکستان نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ڈرون حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک آخری دہشت نہیں مارا جاتا۔یاد رہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکہ نے چار دہائی قبل خود شروع کی تھی جس میں پاکستان اس کا فرنٹ لائن اتحادی تھا ۔اب پاکستان دہشت گردی کی اس جنگ میں فرنٹ لائن اٹیکرکے فرائض سر انجام دے رہا ہے اور دہشتگردوں کے تعاقب میںامریکہ تک جا پہنچا ہے۔

صدر اور وزیراعظم میں مکمل ہم آ ہنگی ہے۔ایوان صدر

اسلام آباد(پ ر)ایوان صدر نے صدر پاکستان پرویز مشرف اور وزیراعظم چوہدری پرویز الہی کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو محض پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایوان صدر کی جانب سے جاری شدہ ایک بیان میںصد سالہ جشن آزادی کی تقریب میںصدر اور وزیر اعظم کے ایک د وسرے سے ہاتھ نہ ملانے کے واقعہ کو مخالفین اپنے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔حالانکہ بات صرف اتنی سی ہے کہ صدر پرویز مشرف دور نظری اور وزیر اعظم چوہدری پرویز الہی قریب نظری کی بیماری کا شکا ر ہیں۔جس کی وجہ سے دور سے آتے چوہدری پرویز الہی ،پرویز مشرف کو نظر نہ آ سکے اور قریب نظری کی وجہ سے چوہدری پرویزالہی ،صدر مشرف کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو نہ دیکھ سکے۔اتنی سی بات سے مخالفین اپنے مطلب کے معنی نکال رہے ہیں جو کہ بے معنی ہیں۔کیونکہ رات کو ایک موسیقی کے فنکشن میں دونوں راہنماموسیقی کے تال میل میں ایک دوسرے میں رچ بس گئے۔

سستی روٹی سیکم جاری رہے گی۔وزیر اعلی پنجاب

لاہور(وقائع نگار خصوصی )مخالفین اپنی موت مر جائیں گے۔لیکن سستی روٹی سیکم جاری رہے گی۔ان خیالات کا اظہار وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں موبائل تنوروں کا افتتاح کرتے ہو ئے کیا۔انہوں نے ان خبروں کومحض مخالفین کا پروپیگنڈا قرار دیاجو سستی روٹی سیکم کے بند ہونے کی خبریں میڈیا میں اچھال رہے ہیں۔حاظرین کے ان سوالوں پر کہ چینی 1000 روپے کلو،2000روپے کلوگھی،1000روپے لیٹر دودھ،اور دودھ1000روپے لیٹران میں بھی کمی کے لئے پنجاب حکومت اپنا کردار ادا کرئے۔انہوں نے اس پر فرمایا کہ یہ وفاقی حکومت کے ایشو ہیں ۔ان کو حل کرنا وفاقی حکو مت کا کام ہے۔پنجاب حکومت صرف روٹی دو روپے کی دستبیابی کی ذمہ دار ہے او پنجاب حکومت اس سیکم کوبڑی کام یابی سے چلا رہی ہے۔

چوہدری شجاعت مسلم لیگ قاف کے تا حیات صدر بنا دیئے گئے۔(پارٹی ذرائع)

گجرات(پ ر)قاف لیگ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق چوہدری شجاعت حسین کومسلم لیگ قاف کا تا حیات صدر چن لیا گیا ہے۔پارٹی ذرائع کی جانب سے جاری شدہ تصویر میں شجاعت حسین گلاب کے پھولوں سے لدے ہوئے ،مسکراتے پارٹی کارکنوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے ہیں۔تصویر میں مشاہد حسین اور چوہدری پرویز الہی بھی نمایاں ہیں۔اس موقع پر مشاہد حسین نے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاچوہدری شجاعت حسین کی تا حیات صدارت سے وہ خبریں دم توڑ گئی ہیں جن میں انہیں پارٹی صدارت چھوڑنے کے دباﺅ کا سامنا تھا۔چونکہ جنرل مشرف ایک مرتبہ پھر اس ملک کے صدر ہیں اور ان کی نظریں مسلم لیگ قاف کی صدارت پر بھی تھیں ۔اس لئے چوہدری شجاعت نے ملک کے وسیع تر مفاد میں پارٹی کارکنوں کے مشورے سے قاف لیگ کی صدارت قبول کر لی۔

پاکستان نے مریخ سے بجلی حاصل کرلی،لوڈ شیڈنگ جلد ختم کر دی جائے گی۔راجہ پرویز اشرف

()پاکستان نے مریخ سے بجلی حاصل کر لی بہت جلد پاکستان سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہاروفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے اسلام آباد میں انٹرنیشل لالٹین سٹور کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے بڑھتی ہوئی آبادی کو لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار قرار دیا۔انہوں نے کہا اگر 2009 ءمیں تین سے ذیادہ بچوں پر ٹیکس عائد کر دیا جاتا تو آج پاکستان کے حلات مختلف ہوتے۔آبادی پاکستان کے وسائل کو نگل چکی ہے۔آج ایوان صدر اور وزیر اعظم ہاوس میں بھی بیس ،بیس گھنٹے بجلی بند ہوتی ہے۔مریخی حکام سے بجلی کے حصول کے مذاکرات ہوئے رہے ہیں ۔مریخ کا اعلی سطحی وفد جلد پاکستان کا دورہ کرئے گا۔ٹیرف سے متعلقہ کچھ مسائل ہیں جو جلد حل کر لئے جائیں گے۔میں پھر اپنی اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ دسمبر2047ءتک پاکستان سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔

سو سال بعد پاکستانی روپیہ امریکی ڈالر نگل گیا

کراچی(خصوصی اکنامک رپورٹ)31جولائی1955ءکو آئی ایم ایف سے قرضے کے حصول کے بعدڈالرکی شرح تبادلہ4.76 روپے تھی۔جو اندرونی حالات و واقعات کی وجہ سے بتدریج بڑھتی رہی۔2009ءمیں دہشت گردی کے شکار پاکستان میں شرح تبادلہ 83 روپے تک جا پہنچی۔لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ترقی کا پہیہ رک گیا۔مگر پاکستان کے عوام نے یہ جان لیا کہ اب زندہ رہنے کے لئے جو کچھ بھی کرنا ہے اب خود کرنا ہے۔حکمران ان کے لئے اب کچھ نہیں کر سکتے۔پھر یوں محسوس ہوا جیسے پاکستان ازمنہ قدیم میں داخل ہو گیا ہو۔کھیتی باڑی کے لئے قدیم طریقے استعمال ہونے لگے۔غرض زندگی کے دوسروں شعبوں میں بھی جہاں توانائی کی ضرورت محسوس ہوئی وہاں انسانی لیبر سے کام چلایا گیا۔ کیونکہ ایک ارب کی آبادی والے ملک میں لیبر کی کوئی کمی نہیں تھی۔جبکہ سپر پاور امریکہ گذشتہ کئی دہائیوں سے تنزلی کا شکاررہا۔اس تنزلی کی وجوہات کچھ بھی ہوں۔حکومت پاکستان کی جانب سے جاری شدہ اعدادو شمار کے مطابق اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپیہ کے مقابلے 120 امریکی ڈالر دستیاب ہیں۔یہی وجہ ہے امریکہ میں پاکستانی سفارت خانہ انتہائی مصروف ہے۔کیونکہ کئی دہائیوں سے امریکہ میں مقیم پاکستانی اب پاکستان واپس جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔جس کی وجہ سے پاکستان کو تقریبا پچیس کروڑ تارکین وطن کا بوجھ بھی برداشت کرنا پڑے گا۔اس کے علاوہ امریکہ کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بھاری اکثریت روزگار کے لئے پاکستانی سفارت خانہ کے باہر میلوں لمبی لائن میں رجسٹریشن کے لئے اپنی باری کا انتظار کرتی ہے۔اب تک پاکستان میں روزگار کے لئے پانچ کروڑ امریکی نوجوان اپنے ناموں کی رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔

ماضی میں گائے جانے والے فحش گانوں پر شرمندہ ہوں۔حاجن نصیبو لال

لاہور(شو بز پورٹر)ماضی میں گائے جانے والے فحش گانوں پر شرمندہ ہوں۔ان خیالات کا اظہارحاجن نصیبو لال نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاآج میں ماضی کی جانب دیکھتی ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں نے واقعی غلط کام کیا ہے ۔میرے مقابلے میں دوسری گلو کارائیں بھی تھیں انہوں نے بھی فحش گانے گائے ہیں مگر ملکہ ترنم سے ملتی جلتی آواز میرے لئے قاتل ٹھہری۔اس لئے ذیادہ تر فحش گانے میرے حصے میں آئے۔چونکہ میں تعلیم یافتہ نہیں ہوںاس لئے ان گانوں میں چھپے فحش اشارے کنائیوں کی مجھے قطعی خبر نہ ہوتی تھی۔اور میں بے دھڑک گا دیتی تھی۔میر ی وجہ شاعروں،کمپوزروں،پروڈیوسروں نے کروڑوں بنا لئے اور میں۔۔۔انہوں نے سر پر دوپٹہ صیح کرتے ہوئے کہا۔اس موقع پر حاجن نصیبو لال کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ہاتھوں میں تسبیح جاری تھی اور آواز رندھ چکی تھی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔