Saturday, 15 August 2009

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلِہ وسلم کی سیرت مُبارک ( مُختصراً )

0 comments
(١)پیدائش سے وفات تک کے مراحل :::::
::: نام و نسب ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شجرہ نسب یوں ہے کہ محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب ، بن مُرَّہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فِھر (اِس فِھر کا لقب قُریش تھا اور قُریشی قبیلہ اِسی سے منسوب ہے ، اس کے آگے سلسلہ نسب یوں کہ فِھر ) بن مالک بن النضر بن کنانہ بن خُزیمہ بن مدرکہ بن اِلیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان ، جو کہ یقیناً اِسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں(صحیح سیرۃ النبویہ ) ،
::: والدہ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا شجرہ نسب ::: آمنہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرۃ بن قصی بن کلاب ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی والدہ کا شجرہ نسب اُن کے والد عبداللہ کے ساتھ قصی بن کلاب پر جا ملتا ہے ،
::: تاریخ پیدائش ::: مؤرخین کی اکثریت کا کہنا ہے ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی پیدائش مُبارک عام الفیل یعنی جِس سال ابرہہ ہاتھیوں کے ساتھ خانہ کعبہ پر حملہ آور ہوا تھا اُس سال میں ہوئی ، اور تاریخ پیدائش آٹھ ربیع الاول ہے (مؤطا مالک) اور پیدائش کا دِن سوموار ہے (صحیح مُسلم)۔ کچھ تاریخی روایات میں تاریخ پیدائش بارہ ربیع الاول بیان ہوئی ہے اور یہ روایت عام طور پر زیادہ مشہور ہیں ( مزید تفصیل کے لیے کتاب ،عید میلاد النبی اور ہم ، کا مطالعہ کیجیئے)۔
::: بچپن و پرورش ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے والد عبداللہ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے ، عرب رواج کے مُطابق دودھ پلائی کے لیے بنی سعد بھیجا گیا اور حلیمہ سعدیہ نے اُنہیں دُودھ پِلایا ، وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے چار سال بسر فرمائے ، اور وہیں رہنے کے دوران اُن کے سینہ مُبارک کے کھولے اور دھوئے جانے کا واقعہ پیش آیا ، اِس واقعہ کے بعد حلیمہ سعدیہ اُن کو واپس مکہ لے آئیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم چھ سال کے ہوئے تو اُن کی والدہ اُن کو لے کر اُن کے ننیھال مدینہ روانہ ہوئیں اور راستہ میں الابواء کے مُقام پر وفات پا گئیں ، پھر اُن کی خادمہ اُم ایمن نے اُن کی نگہداشت و پرورش کی اور اُن کے دادا عبدالمطلب نے کفالت کی، دو سال گذرنے کے بعد عبدالمطلب بھی فوت ہو گئے، اِس کے بعد عام تاریخی روایات کے مطابق اُن صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب نے اُن کی کفالت و پرورش کی اور اپنی زندگی کے آخر تک اُن کے مدد گار رہے ،
::: پہلا نکاح ::: پچیس سال کی عُمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا نکاح اُم المومنین خدیجہ بنت الخویلد رضی اللہ عنہا سے ہوا ، جِن میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چار بیٹیاں اوردو بیٹے عطاء فرمائے ، خدیجہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پچیس سال بسر فرمائے ۔
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد ::: رقیہ ، زینب ، اُم کلثوم ، فاطمہ ، القاسم ، عبداللہ ، اِبراہیم ، رضی اللہ عنہم اجمعین ، آخری بیٹے اِبراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔
::: وحی کا آغاز ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کواللہ کی طرف سے تنہائی کی طرف مائل کیا گیا تو وہ غارِ حراء میں جانے لگے اور چالیس سال کی عُمر میں اُن پر اللہ نے وحی نازل فرمائی ( اقرَا بِاسمِ رَبِّکَ الَّذِی خَلَقَ ) ۔
::: دعوتِ اِسلام کا آغاز ::: اللہ کا حُکم ملنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اللہ کی توحید کی دعوت کا آغاز فرمایا تو سب سے پہلے اللہ کے دِین کو ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہُ نے قُبُول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دعوتِ توحید اور خدمتِ اِسلام میں مدد گار ہوئے اور اُن کے ذریعے عُثمان ، طلحہ ، اور سعد رضی اللہ عنہم اجمعینُ پہلے اِسلام لانے والوں میں سے ہوئے ، خواتین میں سب سے پہلے اُم المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنھا نے اِسلام قُبُول کیا ، اور بچوں میں سے سب سے پہلے علی رضی اللہ عنہُ نے ، اُن کی عُمر اُس وقت آٹھ سال تھی ۔
::: چند ہی دِنوں میں ہر طرف سے اُنکی مُخالفت شروع ہو گئی اور سختیاں کی جانے لگِیں، یہاں تک سُمیہ اور اُنکے خاوندیاسر رضی اللہ عنہما کو اذیتیں دے دے کر شہید کر دیا گیا ، یہ دونوں بالترتیب اِسلام کے پہلے شہید ہیں ، جب مُسلمانوں پر ظُلم و ستم بہت بڑھ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُنہیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت فرمائی تو اسی ٨٠ مَرد اور ایک خاتون نے ہجرت کی ،
::: نبوت کے دسویں سال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے چچا ابو طالب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بڑے مددگار تھے ، اِسلام قُبُول کیئے بغیر فوت ہو گئے ، اور تھوڑے ہی عرصہ بعد اُن کی دوسری بڑی مددگار و غم خوار اُم المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنھا فوت ہو گئیں ،
::: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم طائف تشریف لے گئے وہاں بھی دِین حق کی دعوت دینے کی پاداش میں ظُلم و جور کا سامنا کرنا پڑا ، واپس مکہ المکرمہ تشریف لائے اور مطعم بن عدی کی حفاظت میں ٹھہرے ۔
::: اِس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو سفر معراج کروایا گیا ، اور بُراق پر سوار کروا کر مسجد الحرام سے مسجد الاقصی لے جایا گیا جہاں اُنہوں نے سب نبیوں کی اِمامت کروائی ، اور وہاں سے آسمانوں پر لے جایا گیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے واپس آ کر اپنے اِس سفر کی خبر دِی تو سب نے انکی بات کو جُھٹلا دِیا ، صِرف ابو بکر رضی اللہ عنہُ نے تصدیق کی اور اسی وجہ سے اُن کو ''' الصدیق ''' لقب دِیا گیا ،
::: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ کے دِین کی دعوت کے لیے مختلف مواقع (میلوں ، اجتماعی بازاروں ، منڈیوں ) میں اکٹھے ہونے والے قبیلوں کے پاس تشریف لے جاتے تو ابو لھب اُن لوگوں کو کہتا کہ ، یہ جادُوگر ہے ، یہ جھوٹا ہے اِس کی بات مت سُننا ، اور لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے ملنے اور اُن سے بات کرنے سے دُور رہتے ، یہاں تک نبوت کے گیارویں سال میں حج کے لیے آنے والے قبیلہ خزرج کے ایک وفد کی اُن صلی اللہ علیہ وسلم سے مُلاقات ہوئی ، اور اللہ نے اُن لوگوں کے دِل اِسلام کے لیے کھول دیے اور وہ لوگ مُسلمان ہو گئے اور اِسلام کی دعوت لے کر مدینہ المنورہ(جِس کا نام اُس وقت تک ''یثرب ''تھا جِسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے تبدیل فرما دِیا لیکن افسوس کہ کچھ لوگ اب تک اُسے اُسی پرانے نام سے ذِکر کرتے ہیں) واپس چلے گئے اور اُن کی دعوت پر اللہ نے کئی اوروں کو مُسلمان بنا دِیا ،
::: نبوت کے بارہویں سال میں مدینہ سے مُسلمانوں کے گروہ نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی جِسے بیعتِ عُقبہ الا ُولیٰ یعنی پہلی بیعت عُقبہ کہا جاتا ہے، اور اُن کے ساتھ اِسلام کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے سفیر'' مُصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہُ ''جنہیں'' مُصعب الخیر'' بھی کہا جاتا ہے کو بھیجا گیا ، اور اُن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے کئی کو جہنم سے نجات دی اور اپنے دِین میں داخل فرمایا ، ،
::: اگلے سال مُصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہُ کے ساتھ کئی مسلمان مدینہ سے مکہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ، اِس بیعت کو بیعت عُقبہ الثانیہ یعنی دُوسری بیعت عُقبہ کہا جاتا ہے ،( مُصعب الخیر رضی اللہ عنہُ کے بارے میں ایک مضمون''' اپنے مثالی شخصیت چنیئے '''میں بھی شامل ہے اور الرسالہ مُحرم ١٤٢٩ ہجری میں میں بھی )
::: اِس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم کو مدینہ ہجرت کی اِجازت مرحمت فرمائی تو سب مُسلمان ہجرت کر گئے یہاں تک مکہ میں صِرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر اور علی رضی اللہ عنہما رہ گئے ،
::: جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کی اجازت عطاء فرمائی تو نبوت کے تیرہویں (١٣) سال میں ستائیس (٢٧) صفر کی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہُ کے ساتھ اپنا گھر چھوڑا اور مدینہ روانہ ہو گئے ،
::: اور بارہ ربیع الاول ، سوموار کے دِن ضُحیٰ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم قُباء میں داخل ہوئے ، انصار نے اپنے تمام اسلحہ کے ساتھ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا اِستقبال کیا ،
::: انصار سے سب سے پہلا خطاب ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے سب سے پہلا خطاب فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا (یایُّہا النَّاس اَفشُوا السَّلَامَ وَاَطعِمُوا الطَّعَامَ وَصَلُّوا بِاللَّیلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ تَدخُلُوا الجَنَّۃَ بِسَلَامٍ )( اے لوگو سلام پھیلاؤ ، اور (بھوکوں کو) کھانا کِھلاؤ ، اور رشتہ داریوں کو جوڑے رکھو ، اور نماز پڑہو جب کہ لوگ سو رہے ہوتے ہیں، سلامتی کے ساتھ جنّت میں داخل ہو جاؤ گے) سنن ابن ماجہ /کتاب اِقامۃ الصلاۃ و السنّۃ فیھا / باب ١٧٤،
::: اور قُباء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسلام کی سب سے پہلی مسجد تعمیر فرمائی ، اور پھر مدینہ تشریف لے گئے ،
::: مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے سب پہلے مسجدِ نبوی تعمیر فرمائی اور مسجد کی مشرقی جانب اپنی بیگمات کے لیے کمرے بنوائے ،
::: مہاجرین اور انصار میں بھائی چارہ کروایا ، یہودیوں کے قبیلوں بنو النضیر ، بنو القِینُقاع ، اور بنو قُریظہ کے ساتھ معاہدے فرمائے اور اِن کو باقاعدہ لکھوایا ،
::: اسی سال شعبان میں اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے اور زکوۃِ فِطر (فِطرانہ ) فرض فرمایا ، اور رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی خواہش کے مُطابق مسجد الحرام مکہ المکرمہ کو قبلہ مقرر فرمایا ،
::: معرکہ بدر ::: ہجرت کے دوسرے سال سترہ (١٧) رمضان ، جمعہ کے دِن معرکہ بدر واقع ہوا جِس میں اللہ تعالیٰ نے مُسلمانوں کو بہت واضح اور بڑی کامیابی عطا فرمائی ،
::: فتح مکہ المکرمہ ::: ہجرت کے بعد اللہ کی دِین کی سربلندی اور ایک اکیلے اللہ کی عبادت کے لیے زُبانی ، مالی ، جسمانی جہاد کرتے کرتے اور ہر مُشقت برداشت کرتے کرتے ، ہجرت کے نویں سال میں ، اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اِیمان والوں کے دِل و آنکھیں ٹھنڈی فرماتے ہوئے ، اُنہیں مکہ المکرمہ عطاء فرمایا اور سب اِیمان والے اپنے قائدِ اعظم مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سربراہی میں ، سن آٹھ(٨)ہجری ، سترہ (١٧) رمضان ، بروز منگل ، صُبح کے وقت فاتح کی حیثیت سے مکہ المکرمہ میں داخل ہوئے ،
::: ابن مسعود رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے ''''' جب نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ المکرمہ ( فاتح کی حیثیت سے ) داخل ہوئے تو کعبہ کے اِرد گِرد تین سو ساٹھ بُت تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن بتوں کو اپنے ہاتھ میں تھامی ہوئی لکڑی سے مارتے جاتے اور فرماتے جاتے ( جاء الحَقُّ وَزَہَقَ البَاطِلُ اِِنَّ البَاطِلَ کان زَہُوقًا) ( اور حق آ گیا اور باطل ہلاک ہو گیا اور باطل ہلاک ہی ہونے والا تھا ) جاء الحَقُّ وما یُبدِءُ البَاطِلُ وما یُعِیدُ، حق آ گیا اور( اب) باطل ظاہر نہ ہو گا اور نہ ہی واپس پلٹے گا ''''' اور جب تک کعبہ میں موجود سب کی سب تصویریں مِٹا نہیں دِی گئیں اور بُت توڑ نہیں دیے گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر داخل نہیں ہوئے ،
::: فتح مکہ کے بعدوہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارد گرد کے علاقوں میں تمام بُتوں کو توڑنے اور جلانے کے لیے اپنے فوجی دستے ، اور اسلام کی دعوت کے لیے دعوتی وفود ارسال فرمائے ، اور چند دِن قیام فرمانے کے بعد واپس مدینہ المنورہ تشریف لے گئے ،
::: حجۃ الوِداع ::: سن دس ہجری ، چوبیس (٢٤) ذی القعدہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم (جِن میں اہل مدینہ اور آس پاس والے سب ہی تھے )کے ساتھ حج کے لیے مکہ المکرمہ کی طرف روانہ ہوئے ، اور حج پورا فرمانے کے بعد مدینہ المنورہ واپس تشریف لائے ،
::: اپنے رب کی طرف واپسی کے سفر کا آغاز ::: حج سے واپسی کے بعد ، سن گیارہ (١١) ہجری ، صفر کے مہینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو جِسمانی تکلیف شروع ہو گئی ، اور اپنی بیگمات سے اجازت طلب فرما کر کہ وہ اپنی بیماری کے دِن عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں گذاریں ، اپنی محبوبہ بیوی اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر مُنتقل ہو گئے ،
::: ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہُ کو حُکم فرمایا کہ لوگوں کی اِمامت کریں ،
::: دِن بدِن بیماری بڑہتی گئی یہاں تک کہ، بروز سوموار ضُحیٰ ( دوپہر سے کچھ دیر پہلے ) رسول اللہ صلوات اللہ علیہ وسلامہ اپنے رب اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کے پاس بلا لیے گئے ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی میّت مُبارک کو اُن کی قمیص میں ہی غُسل دِیا گیا اور غُسل دینے والے ، اُن کے چچا العباس ، العباس کے بیٹے الفضل اور قثم ، اور علی بن ابی طالب ، اُسامہ بن زید ، اوس بن خولی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے غُلام شقران رضی اللہ عنہم اجمعین تھے ، اور کیفیت یہ تھی کہ علی رضی اللہ عنہُ نے اُن صلی اللہ علیہ و علیہ و علی آلہ وسلم کے جِسم مُبارک اپنی گود میں بٹھا رکھا تھا اور اپنے سینے کی ٹیک دے رکھی تھی اور العباس اور اُن کے دونوں بیٹے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے جسم مُبارک کو پلٹاتے غُسل دیتے ملتے اور علی بھی ، اور اُسامہ اور شقران پانی ڈالتے ، رضی اللہ عنہم اجمعین ،
::: غسل کے بعد ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفنایا گیا ، جِن میں نہ قمیص تھی نہ عِمامہ ،
::: دفن کی جگہ کے بارے میں صحابہ رضی اللہ عنہم کوئی فیصلہ نہ کر پا رہے تھے تو ابو بکر رضی اللہ عنہُ نے فرمایا کہ ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا کہ (ما قُبِضَ نَبِیٌّ اِلا دُفِنَ حَیثُ یُقبَضُ )(جہاں جِس نبی (کی رُوح ) کو قبض کیا جاتا ہے وہیں اُس کو دفن کیا جاتا ہے )، یہ سُن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چارپائی اُٹھائی اور اُسی جگہ پر قبر کھودی جِس میں لحد (چھوٹی جانبی قبر )بھی کھودی گئی ،
::: اِس تیاری کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم دس دس کے گروہ کی صورت میں حجرے میں داخل ہوتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ پڑہتے ، مَردوں کے بعد خواتین نے اِسی طرح نماز پڑہی اور خواتین کے بعد بچوں نے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی نماز جنازہ کی اِمامت کِسی نے بھی نہیں کروائی ، بلکہ سب نے اپنے اپنے طور پر الگ الگ نماز پڑہی
::: ادئیگی نماز میں منگل کا سارادن گذر گیا ، اور اُس کے بعد بُدھ کی رات (یعنی منگل اور بُدھ کی درمیانی رات ) کا کافی حصہ بھی ، تقریباً آدھی رات کے قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو دفن کر دِیا گیا ، اللہ کی وحی کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ،
(وما مُحَمَّدٌ اِلا رَسُولٌ قد خَلَت من قَبلِہِ الرُّسُلُ اَفَاِِن مَاتَ او قُتِلَ انقَلَبتُم علی اَعقَابِکُم وَمَن یَنقَلِب علی عَقِبَیہِ فَلَن یَضُرَّ اللَّہَ شیاا وَسَیَجزِی اللہ الشَّاکِرِینَ )(مُحمد بھی اُسی طرح ایک رسول ہیں جِس طرح اُن سے پہلے رسول ہو گذرے ہیں اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو کیا تُم لوگ اپنی ایڑیوں پر واپس پِھر جاؤ گے اور جو کوئی اپنی ایڑیوں پر واپس پِھر جائے گا تو وہ اللہ کوئی ہر گِز کِسی چیز میں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور اللہ جلد ہی شکر کرنے والوں کو اجر دے گا )

اللَّہُمَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَاَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما صَلَّیتَ علی آلِ اِبراہیم وَبَارِک
علی مُحَمَّدٍ وَاَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما بَارَکتَ علی آلِ اِبراہیم اِِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ


::::: (٢) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اِخلاق مُبارک کی چند جھلکیاں ، دیکھیے اور انہیں اپنائیے :::::
: : : تحمل و بُردباری اور برداشت کرنا، اور قُدرت ہونے کے باوجود معاف کرنا ، اور سختیوں اور مظالم پر صبر کرنا ، اور اپنے پاس ہونے نہ ہونے کا احساس رکھے بغیردوسروں کو دینا ، شرم و حیاء ، اِنصاف و میانہ روی ، تواضع و اِنکسار ، بُہادری اور دلیری ، یہ ایسی صفات ہیں جِن سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ذات مُبارک کو مُزین فرمایا تھا ، ہر حلیم و بُردبار شخص کی زندگی میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی لڑکھڑاہٹ ، غلطی ، ٹھوکر مل ہی جاتی ہے ، اِنسانی تاریخ میں صرف ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہی ایک ایسی شخصیت ہیں جِن کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی بلکہ اُن صلی اللہ علیہ وسلم پر جتنے زیادہ ظُلم و ستم کیے گئے اُنہوں نے اُتنا ہی زیادہ تحمل وبُردباری کا مظاہرہ فرمایا ، جتنی زیادہ مُصبیتیں آئیں اُتنا ہی زیادہ صبر کا مظاہرہ فرمایا ، آئیے مختصر طور پر اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں سے اُن کی منذکورہ بالا صِفات کی دل آویز و اِیمان افروز جھلکیاں دیکھیں ، اور اِنہیں اپنی زندگیوں میں نافذ کر کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے سچے پیروکار بنیں ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو جب کِسی دو کاموں میں ایک اختیار کرنے کا موقع دِیا جاتا تو وہ آسان کام کو اختیار فرماتے بشرطیکہ وہ کام گُناہ نہ ہو ، اور اگر آسانی میں گُناہ ہوتا تو وہ صلی اللہ علیہ وسلم گُناہ سے سب سے زیادہ دُور رہتے تھے ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے کبھی کِسی سے اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لِیا لیکن اگر اللہ کی مقرر کردہ کِسی حُرمت کی پامالی کی گئی ہو تو اللہ کے لیے اُس کا انتقام لیتے ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہر کِسی سے بڑھ کرغُصے سے دُور رہتے اور جلد ی راضی ہو جاتے ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اتنا اور اس طرح عطاء فرماتے کہ فقر کا ڈر نہ رہتا ، عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ ''''' کانَ رَسُولَ اللَّہ أَجوَدَ الناس وکان أَجوَدُ ما یَکُونُ فی رَمَضَانَ حین یَلقَاہُ جِبرِیلُ وکان یَلقَاہُ فی کل لَیلَۃٍ من رَمَضَانَ فَیُدَارِسُہُ القُرآنَ فَلَرَسُولُ اللَّہِ صَلی اللَّہ علیہ وسلم أَجوَدُ بِالخَیرِ من الرِّیحِ المُرسَلَۃِ ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ بڑھ کر سخاوت کرنے والے تھے اور رمضان میں جب اُنہیں جبریل( علیہ السلام ) ملِا کرتے تھے اُس وقت وہ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہر دوسرے وقت سے زیادہ سخاوت فرمایا کرتے اور جبریل (علیہ السلام) ہر رات اُن ( صلی اللہ علیہ وسلم )سے ملا کرتے تھے اور قُران سِکھایا کرتے تھے ، پس رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم ) خیر (کے کام کرنے )میں ہوا سے بھی زیادہ تیزی فرماتے ) ""، اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ( جب کبھی بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے کچھ مانگا گیا تو اُنہوں نے کبھی نہ نہیں کی )
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سب سے زیادہ بُہادر تھے ، اُن کی سیرت مُبارک پرصِرف نظر کرنے والا بھی اُن کی شُجاعت و بُہادری سے نا واقف نہیں رہ سکتا ، اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سیرت مُبارک میں کئی ایسے مواقع ملتے ہیں کہ جب بڑے بڑے لڑاکے اور ماہر جنگجو اُن کا سامنا کرنے سے بھاگ اُٹھے ، لوگ خوف زدگی کی حالت میں رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی شُجاعت سے ثابت قدمی کے ساتھ مُشکل و خوف کا سامنا فرماتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اُسے دُور یا ختم فرما دِیا ، یہاں صِرف ایک مثال بیان کی جا تی ہے کہ جب جِہادِ حُنین کے موقع پر صحابہ دُشمن کے انتہائی ماہر تیر انداز دستے کے اچانک حملے کی وجہ سے دائیں بائیں ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی شُجاعت سے اپنے سُفید خچر پر سوار دُشمن کی طرف بڑہتے رہے اور یہ فرماتے جاتے کہ (أنا النبی لَا کَذِب أنا بن عبد المُطَّلِب ::: میں نبی ہوں کوئی جھوٹ نہیں ، میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں) اور یہ بہادری و شجاعت اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی صِفت تھی جیسا کہ علی رضی اللہ عنہُ کافرمان ہے ( إذا احمَرَّ البَأسُ ولَقی القَومُ القَومَ اتَّقَینَا بِرَسُولِ اللَّہِ صلی اللَّہ عَلیہِ وسلَّم فَما یَکُونُ مِنَّا أَحَدٌ أَدنَی مِن القَومِ مِنہُ) ( جب جنگ کی سختی سُرخ ہو جاتی اور دونوں گروہ ٹکرا جاتے تو ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے اپنا بچاؤ کرتے اور ہم میں سے سب سے زیادہ دُشمن کے قریب وہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوا کرتے )
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سب سے زیادہ شرم و حیاء والے تھے ، سب سے زیادہ اپنی نظر کی حفاظت کرنے والے تھے ، اور سب سے زیادہ اپنی نظر و زُبان سے بھی لوگوں کا احترام کرنے والے تھے ، أبو سعید الخُدری رضی اللہ عنہُ کا فرمان ہے (کان النبی صلی اللَّہ علیہ وسلم أَشَدَّ حَیَاء ً من العَذرَاء ِ فی خِدرِہَا فإذا رَأَی شیأا یَکرَہُہُ عَرَفنَاہُ فی وَجہِہِ )( نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چادر میں لپٹی ہوئی کِسی کنواری سے زیادہ حیاء والے تھے ، اور اگر وہ صلی اللہ علیہ وسلم کِسی چیز کو نا پسند کرتے تو ہم اُن کے چہرے (مُبارک)سے (اُن کی نا پسنددیدگی ) جان لیتے )
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سب سے زیادہ اپنی نظر کی حفاظت کرنے والے تھے ، اور اپنی پلکوں کو جُھکائے رکھتے تھے ، اُن کی نظر مُبارک اُوپر اُٹھی رہنے سے کہیں زیادہ زمین کی طرف جُھکی رہتی تھی، ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سب سے زیادہ اپنی نظر و زُبان سے بھی لوگوں کا احترام کرنے والے تھے ، کِسی کے چہرے پر نظرچپکائے نہیں رکھتے تھے ، کِسی کی غلطی جاننے پر اُس کا نام لے کر بات نہ فرماتے بلکہ یوں فرما کر کہ ( کیا ہو گیا ہے لوگوں کو کہ ، یہ کہتے ہیں ، یا یہ کرتے ہیں ،،،، ) غلطی کی نشاندہی فرماتے ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سب سے زیادہ انصاف کرنے والے ، عِفت والے ، باکِردار ، بات کے سچے اور پکے ، اور امانت دار تھے ، نبوت سے پہلے اہل مکہ اُنہیں ''' امانت دار ''' کے لقب سے جانتے تھے ، اور نبوت کے بعد بھی اِن صِفات کا اِقرار اُن صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ کے دِین کے دُشمن بھی کرتے تھے ، علی رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ ''''' ابو جھل نے ایک دِن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ::: ہم تُمہاری تکذیب نہیں کرتے لیکن جو تُم لے کر آئے ہو اُس کی تکذیب کرتے ہیں::: تو اللہ تعالیٰ نے اُن (کی اِس بات کے جواب ) میں یہ آیت نازل فرمائی ( قَد نَعلَمُ إِنَّہُ لَیَحزُنُکَ الَّذِی یَقُولُونَ فَإِنَّہُم لاَ یُکَذِّبُونَکَ وَلَکِنَّ الظَّالِمِینَ بِآیَاتِ اللّہِ یَجحَدُونَ ) ( یقینا ہم جانتے ہیں کہ اُن کی یہ بات آپ کو دُکھی کرتی ہے ،لہذا (آپ دُکھی نہ ہوں ) کہ وہ لوگ آپ کو نہیں جُھٹلا رہے بلکہ وہ ظالم اللہ کی آیات کا اِنکار کر رہے ہیں) سورت الانعام/آیت ٣٣ ،
::: جب ہرقل نے ابو سُفیان سے پوچھا کہ ''' کیا تُم لوگ مُحمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اُس کی اِس (نبوت والی ) بات سے پہلے جُھوٹا کہتے تھے ؟''' تو ابو سُفیان نے کہا ''' نہیں '''،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سب سے بڑھ کر تواضع و اِنکساری والے تھے ، اور سب سے زیادہ غرور و تکبر سے دُور رہنے والے تھے ، اپنے لیے کھڑے ہونے سے منع فرمایا کرتے تھے جیسے کہ بادشاہوں کے لیے کھڑا ہوا جاتا ہے ، غریبوں کی عیادت کے لیے تشریف لے جایا کرتے ، اُن کو اپنے پاس بٹھاتے ، مُحبت اور توجہ سے ہر ایک بات سُنتے ، حتیٰ کہ زرخرید غُلاموں کی بات بھی قُبُول فرماتے اور اُنہیں اپنی محفل میں دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرح ہی بِٹھاتے ، اپنے سارے کام خود کر لینے میں کوئی عار محسوس نہ فرماتے ، اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں اُس طرح کام کیا کرتے تھے جِس طرح تُم لوگ کرتے ہو ، وہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جوتا مُرمت فرماتے ، اپنا کپڑا سیتے ، اپنے برتن میں پانی بھرتے ، وہ صلی اللہ علیہ وسلم اِنسانوں میں سے ایک اِنسان تھے اپنے کپڑوں کی صفائی کرتے اور اپنی بکری کا دُودھ نکالتے اور اپنے کام خود کرتے )
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سب سے بڑھ وعدہ اور عہد پورا کرنے والے ، رشتہ داریوں کو جوڑے رکھنے اور نبھانے والے ، اور سب لوگوں کے لیے محبت ، رحم اور مہربانی کرنے والے تھے ، بہترین طور پر معاملات نبھانے والے اور ادب کرنے والے ، سب سے بڑھ کر خوش اخلاق تھے ، اور بد اِخلاقی سے سب سے زیادہ دُور رہنے والے تھے ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نہ بے حیائی کرنے والے تھے اور نہ ہی بے حیائی کی بات کرنے والے اور نہ ہی لعنت کرنے والے ، اور نہ ہی بازاروں میں گھومنے والے ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے کبھی بُرائی کا جواب بُرائی سے نہ دِیا بلکہ بُرا کرنے والے سے درگزر فرماتے اور معاف فرما دیتے ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے کبھی اپنے خادموں ، یا خادمات کو دانٹا نہیں اور نہ مارا ، اور نہ ہی اپنے کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے میں خود کو اُن پر فوقیت دی ، اور نہ کبھی اُن کو کِسی کام کے نہ کرنے کا سبب پوچھا اور نہ ہی کِسی کام کے کرنے کی وجہ دریافت فرمائی ، بلکہ کبھی کِسی کے کام پر اُف تک بھی نہ کہا ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم غُلاموں ، خادموں ، غریبوں کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے اُن پر نماز جنازہ پڑہاتے ، اُن کے دفن میں شامل ہوتے ، کبھی کِسی غریب کو اُس کی غُربت یا کِسی (معاشی ، معاشرتی درجہ بندی کی وجہ سے )کمزور کو اُس کی کمزوری کی وجہ سے حقیر جانا ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے اور خود کو کبھی ایک حکمران یا پیر و مُرشد کی حیثیت میں نہ رکھتے ، اِس کی کئی مثالیں اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی مُبارک و پاکیزہ زندگی میں ملتی ہیں ، جیسا کہ مسجدِ قُباء اور مسجدِ نبوی بناتے ہوئے ، جِہاد خندق کے لیے خندق کھودتے ہوئے ، اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ مل کر کام کیا ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم لوگوں کو اپنے پیچھے نہ چلنے دیتے ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اپنے صحابہ کی خبرر کھتے ، اُن کے حال احوال معلوم کرتے رہتے ، اگر کوئی نظر نہ آتا تو اُس کے بارے میں دریافت فرماتے ، اچھی بات کو اچھا قرار دیتے اور غلط کو غلط ، کبھی حق دار کے حق سے غافل نہ ہوتے اور نہ ہی اُسے دوسرے کے پاس جانے دیتے ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم مجلسوں میں اپنے لیے جگہیں مخصوص نہ فرماتے ، اور نہ ہی کوئی بلند مقام اختیار کرتے ، جب کِسی مجلس میں تشریف لاتے تو جہاں جگہ ملتی وہیں تشریف فرما ہو جاتے ، اور اپنے صحابہ کو بھی ایسا کرنے کا حُکم فرماتے اور اپنی مجلس میں آنے والے ہر ایک کو اس طرح بِٹھاتے کہ کِسی کے دِل میں یہ خیال نہ آئے کہ اُن صلی اللہ علیہ وسلم نے کِسی دوسرے کو زیادہ عِزت و بزرگی دی ہے ، اگر کوئی اُن صلی اللہ علیہ وسلم کو کِسی وجہ سے بِٹھا لیتا یا کھڑا کر لیتا تو اُس کے ساتھ اُس کی دِل جَوئی میں اُس وقت تک بیٹھے یا کھڑے رہتے جب تک وہ خود ہی اُن صلی اللہ علیہ وسلم سے رُخصت نہ ہو جائے ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کبھی کِسی سائل کو اُس کا سوال ہورے کیے بغیر واپس نہ کرتے اور اگر دینے کے لیے کچھ نہ ہوتا تو اُس کی بہت اچی طرح سے دل جمعی کر کے اپنے پاس سے سے رُخصت فرماتے ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم خوش اِخلاقی سے ملنے والے ، نرمی اور مُحبت سے پیش آنے والے تھے ، نہ ہی تُرش رَو تھے ، نہ ہی بد کلام تھے ، نہ ہی سخت مزاج ، نہ ہی بلا سبب کِسی کی تعریف کرنے والے ، جو کام نہ کرنے والا ہوتا اُس کی طرف توجہ نہ فرماتے ، جو کام اُن سے متعلق نہ ہواُس میں دخل اندازی نہ فرماتے ، کوئی کام دِکھاوے کے لیے نہیں کرتے تھے، ہر کام درمیانہ روی سے کرتے ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہمیشہ خوش خبری سنانے والے تھے ، عِزت و احترام ومُحبت سے بات فرماتے تھے، کبھی کِسی کو بُرا نہ کہا ، کبھی کِسی کو بے پردگی ، راز افشائی نہیں کی ، کبھی حق بات کے عِلاوہ کچھ نہ فرمایا ، جب وہ کلام فرماتے تو اُن کی محفل میں موجود صحابہ رضی اللہ عنہم بالکل خاموش ہو جاتے اوراِس طرح ساکت ہو جاتے گویا کہ اُن کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کلام مُبارک روکتے تو صحابہ میں سے جِسے ضرورت ہوتے بات کرتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات انتہائی جامع ہوتی ، اُس میں کوئی بے جا حرف تک بھی نہ ہوتا اور نہ ہی کِسی کمی کا احساس ہوتا ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ہنسی دِلوں کو موہ لینے والی مُسکراہٹ ہوتی ، مُنہُ و حلق پھاڑ کر قہقہہ لگانا کبھی اُن صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی مُنہ یا حلق پھاڑ قہقہہ لگاتے ہوئے نہیں دیکھا ، سُنا گیا ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی آنکھیں ، دُکھ کی حالت میں اشک بار وتِین لیکن کبھی ماتم و افسوس ، شکوہ و شکایت والے الفاظ اُن کی زُبان مُبارک پر نہیں آئے ،
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ذات اللہ کے بعد ہر ایک لحاظ سے ، مُبارک ، مقدس، اور بہترین تھی ، نہ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے پہلے کوئی ویسا تھااور نہ ہی اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بعد کوئی ہونے والا ہے ،
::: [COLOR="Purple"]اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی صفات کی کوئی مثال نہ تھی نہ ہو سکتی ہے ، کہ اُن کی ہر ایک صِفت اپنی مکمل ترین اور خوبصورت ترین صورت میں تھی ، اللہ تعالیٰ نے اُن کو اِسی طرح تخلیق فرمایا تھا اور اِس کا اعلان فرمایا [/COLOR]( وَإِنِّکَ لعَلیٰ خُلقٌ عَظِیم ::: اور بے شک آپ عظیم اخلاق والے ہیں ) اور جِس اخلاق کی عظمت کی اللہ تعالیٰ گواہی دیں اُس سے بڑھ کے کوئی اخلاق نہیں ہو سکتا ،
اللَّہُمَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما صَلَّیتَ علی آلِ إبراہیم وَبَارِک
علی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما بَارَکتَ علی آلِ إبراہیم إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ


::::: ( ٣ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہر ایک کے لیے اللہ کی رحمت تھے :::::
::: اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کا فرمان ہے ((( وَمَا اَرسلنٰکَ إِلَّا رَحمۃٌ لِلعَالَمِین ::: اور ہم نے آپ کو سب جہانوں کے لیے صِرف رحمت بنا کر بھیجا ہے ))) سورت الانبیا /آیت ١٠٧،
(((وَمَن اَصدق مِن اللَّہ قِیلا:::اور اللہ سے بڑھ کر سچ بولنے والا اور کون ہے)))لہذا یقیناً اللہ نے اپنے رسول مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو سارے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا لہذا وہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف اِنسانوں کے لیے ہی رحمت نہیں تھے ، بلکہ ساری مخلوق کے لیے رحمت تھے ،
::: ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے نام بتاتے ہوئے اِرشاد فرمایا ((( أنا مُحَمَّدٌ وَأَحْمَدُ والمقفی وَالْحَاشِرُ وَنَبِیُّ التَّوْبَۃِ وَنَبِیُّ الرَّحْمَۃِ :::میں محمد ہوں اور احمد اور آخری نبی ہوں اور حشر میں لے جانے والا ہوں اور توبہ (لے کر آنے )والا نبی ہوں اور رحمت والا نبی ہوں ))) صحیح مُسلم/کتاب الفضائل / باب ٣٤
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اِیمان والوں کے لیے بھی رحمت تھے :::::
::: اللہ تعالیٰ نے فرمایا ((( لَقَد جَاء کُم رَسُولٌ مِّن أَنفُسِکُم عَزِیزٌ عَلَیہِ مَا عَنِتُّم حَرِیصٌ عَلَیکُم بِالمُؤمِنِینَ رَؤُوفٌ رَّحِیمٌ :::تُم لوگوں کے پاس تُم میں سے ہی رسول تشریف لائے ہیں جِنکو تمہارے نُقصان والی بات بوجھل لگتی ہے اور جو تُمہارے فائدے کے خواہش مند رہتے ہیں اِیمان والوں کے ساتھ بہت شفیق اور مہربانی کرنے والے ہیں ))) سورت التوبہ / آیت ١٢٨
::: ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( إنّی لَأَقُومُ إلی الصَّلَاۃِ وأنا أُرِیدُ أَن أُطَوِّلَ فیہا فَأَسمَعُ بُکَاء َ الصَّبِیِّ فَأَتَجَوَّزُ فی صَلَاتِی کَرَاہِیَۃَ أَن أَشُقَّ علی أُمِّہِ )( میں نماز شروع کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اُسے طویل کروں لیکن کِسی بچے کے رونے کی آواز سُن کر اُس کی ماں کی سختی کا خیال کرتے ہوئے نماز مختصر کر دیتا ہوں ))) صحیح البُخاری / کتاب صفۃ الصلاۃ /باب٧٩،
::: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہُ سے ہی روایت ہے کہ''''' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما )کو چوم رہے تھے ، حابس بن اقرع (رضی اللہ عنہُ )نے یہ منظر دیکھا تو عرض کیا ::: اے رسول اللہ میرے دس بیٹے ہیں لیکن میں اُن میں سے کبھی کسی کو نہیں چوما ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کی طرف نظر فرمائی اور اِرشاد فرمایا (((مَن لَا یَرحَمُ لَا یُرحَمُ:::جو رحم نہیں کرتا اُس پر رحم نہیں کیا جائے گا )))مُتفقٌ علیہ ،صحیح البُخاری /کتاب الآداب /باب ١٨،صحیح مسلم/کتاب الفضائل /با ب١٥
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( الرَّاحِمُونَ یَرحَمُہُم الرَّحمَنُ ارحَمُوا مَن فِی الأرضِ یَرحَمکُم مَن فی السَّمَاء ِ :::رحم کرنے والوں پر رحمان رحم کرتا ہے ، تم اُن پر رحم کرو جو زمین پر ہیں ، تُم پر وہ رحم کرے گا جو آسمان پر ہے ))) سُنن الترمذی /حدیث ١٩٢٤ /کتاب البر و الصلۃ / باب ١٦ ، السلسلۃ الاحادیث الصحیحہ/حدیث ٩٢٥، اس بات میں شک کی کسی کے لیے کوئی گنجائش نہیں کہ وہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر فرمان پر سب سے پہلے ، مکمل اور بہترین طور پر عمل فرماتے تھے ،
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کافروں کے لیے بھی رحمت تھے :::::
::: اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او ر صحابہ پر کیا کیا ظلم نہیں کیے تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے مکہ فتح کروایا دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کی معافی کا عام اعلان فرما تے ہوئے اِرشاد فرمایا ((( أَقُولُ کما قال یُوسُف """ لاَ تَثرِیبَ عَلَیکُم الیَومَ یَغفِرُ اللَّہُ لَکُم وہو أَرحَمُ الرَّاحِمِینَ """ ::: میں (تُم لوگوں کو )وہی کہتا ہوں جو یوسف (علیہ السلام ) نے (اپنے بھائیوں کو )کہا تھا """ تُم لوگوں پر آج کوئی گرفت نہیں اللہ تُمہاری بخشش کرے اور وہ رحم کرنے والوں میں سے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے """ ))) سنن البہیقی الکبریٰ ، شرح معانی الآثار ،
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم تمام اِنسانوں کے لیے ہی رحمت تھے :::::
::: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف تشریف لے گئے اور طائف والوں نے اُن کی دعوت کے جواب میں اُن صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم و ستم کیے پتھراو کِیا ، یہاں تک اُن کے مُبارک و پاکیزہ خون سے اُن صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے تک بھر گئے ، شدید دُکھ کے حالت میں اپنی کمزوری کا شکوہ اللہ تعالیٰ سے کیا تو اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کے ساتھ پہاڑوں کے حُکمران فرشتے کو بھیجا اور اُس فرشتے نے کہا """ اے مُحمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کے رب نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ اِن لوگوں کے بارے میں جو حُکم فرمائیںمیں اُس کی تعمیل کروں ، اب فرمائیے ، اگر آپ حُکم فرمائیں تو میں یہ دونوں بڑے والے پہاڑ اُٹھا کر اِن لوگوں کے اوپر دبا دوں """ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( بَل أَرجُو أَن یُخرِجَ اللہ من أَصلَابِہِم من یَعبُدُ اللَّہَ وَحدَہُ لَا یُشرِکُ بِہِ شیئاً::: (نہیں) بلکہ میں یہ اُمید کرتا ہوں کہ اللہ اِن کی نسل میں سے ایسے لوگ نکالے گا جو صِرف ایک اللہ کی ہی عِبادت کریں گے اور اللہ کے ساتھ کِسی بھی چیز کو شریک نہیں کریں گے ))) صحیح البخاری / کتاب بداء الخلق / باب ۷ ، صحیح مُسلم / کتاب الجھاد و السیر/باب ۳۹
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم جانوروں کے لیے بھی رحمت تھے :::::
::: عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہُ کا کہنا """ ایک دفعہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے وہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی کام سے تشریف لے گئے اِس دوران ہم نے ایک حُمرہ (چڑیا جیسا ایک چھوٹا پرندہ) دیکھی جِس کے ساتھ اُس کے دو بچے بھی تھے ہم نے وہ بچے لے لیے ، وہ حُمرہ آئی اور اِدھر اُدھر اُڑنے لگی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور اُس حُمرہ کو دیکھ کر فرمایا ((( مَن فَجَعَ ہَذہِ بِوَلَدِہَا رُدُّوا وَلَدَہَا إِلَیہَا :::کِس نے اِس کو اِس کے بچوں کی وجہ سے خوف زدہ کر رکھا ہے ؟ اِس کے بچے اِس کی طرف واپس پلٹاؤ ))) ، اور چیونٹیوں کی ایک بستی جِسے ہم نے جلا دِیا تھا اُسے دیکھ کر دریافت فرمایا (((مَن حَرَّق َ ہَذہِ؟ ::: کِس نے اِنہیں جلایا ہے ))) ہم نے عرض کِیا ::: ہم نے ایسا کِیا ہے ::: فرمایا ((( إنہ لَا یَنبَغِی أَن یُعَذِّبَ بِالنَّارِ إلا رَبُّ النَّارِ ::: یہ جائز نہیں کہ آگ کے رب (یعنی اللہ )کے عِلاوہ کوئی اور کِسی کو آگ سے عذاب دے ))) سنن ابو داؤد /حدیث ٢٦٧٥، السلسلہ الصحیحہ /حدیث ٢٥،
::: عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ """ ایک دفعہ ایک شخص نے جانور ذبح کرنے کے لیے لِٹایا اور پھر چُھری تیز کرنے لگا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو فرمایا ((( أتُریدَ أن تُمیتَہَا مَوتات ؟ہلا حَددتَ شَفرتَکَ قَبلَ أن تَضجعہَا::: کیا تُم اُس کو ایک سے زیادہ دفعہ مارنا چاہتے ہو ؟ تُم نے اِس کو لِٹانے سے پہلے چُھری تیز کیوں نہیں کر لی )))المستدرک الحاکم /حدیث ٧٥٦٣/کتاب الاضاحی، السلسلہ الصحیحہ /حدیث ٢٤،
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم جمادات کے لیے بھی رحمت تھے :::::
::: کھجور کے درخت کے اُس تنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت ملاحظہ فرمائیے ، جِس تنے پر وہ صلی اللہ علیہ وسلم خُطبہ اِرشاد فرمایا کرتے تھے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے منبر تیار کیا گیا اور اُن صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس تنے کو چھوڑ دِیا تو اُس تنے میں سے سسکیوں کی آواز آنے لگی جو بڑہتی گئی اور لوگوں نے اُس میں سے بیل کے خرخرے جیسی آواز سُنی، یہاں تک مسجد اُس کی پر سوز آواز سے گونج اُٹھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے اور اُس تنے پر اپنا ہاتھ مُبارک رکھا تو وہ خاموش ہو گیا ،صحابہ کا کہنا ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس تنے کے ساتھ ایسا (با رحمت معاملہ )نہ فرماتے تو وہ قیامت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ِفراق کے دُکھ میں سسکتا رہتا، (سُنن ابن ماجہ ، سنن الدارمی ، صحیح ابن حبان، سلسلہ الصحیحہ ، حدیث ٢١٧٤)
::::: اپنی جانوں پر کس قدر ظُلم کرتے ہیں وہ جو ایسی رؤف و رحیم ہستی کے بارے میں وہ کچھ کہتے لکھتے اور سنتے ہیں جو کسی بھی طور اُن کی ذات کے کسی بھی پہلو سے کوئی بھی مُطابقت نہیں رکھتا ، لیکن کیا ہم اُن ظالموں کی اس جرات مندی میں مدد گار نہیں ؟؟؟ کیونکہ ہمارے اقوال و افعال میں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے افعال و اقوال کی نمائیندگی نہ ہونے کے برابر ہے ، اور نہ ہی ہم اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی شخصیت کا صحیح تعارف دوسروں کو کرواتے ہیں ،،، اللہ ہمیں اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سچی ، حقیقی عملی محبت عطا فرما اور میرا سب کچھ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر قُربان ہونا قبول فرما۔ اللَّہُمَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما صَلَّیتَ عَلی آلِ إبراہیم وَبَارِک
عَلی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما بَارَکتَ عَلی آلِ إبراہیم إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ


::::: (٤) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا غیر مسلموں سے رویہ :::::
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد جب اِسلامی ریاست قائم ہو گئی اور سیاسی معاملات واضح ہو کر سامنے آ گئے تو باقاعدہ طور پر مدینہ کے یہودیوں کے حقوق بارے میں قوانین لکھے گئے جِسے اُس پہلے اِسلامی ریاست کا پہلا دستور کہا جا سکتا ہے ، اُس میں لکھا گیا """ یہودیوں میں سے جو ہماری تابعداری کرے گا اُس کی مدد کی جائے گی لیکن اِس طرح کہ نہ اُن میں سے کِسی پر ظُلم ہو اور نہ ہی اُن کی آپس میں لڑائی میں کِسی ایک کی مدد ہو ،،،،، یہودیوں کے لیے اُن کا دِین ہے اور مسلمانوں کے لیے اُن کا دِین """ (البدایہ والنہایہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا مقرر کردہ یہ دستور اُس لوگوں کوبہت وضاحت سے جھوٹا ثابت کرتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مُحمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور اُن کے ساتھیوں (رضی اللہ عنہم ) نے اِسلام تلوار کے زور سے پھیلایا ، اگر ایسا ہوتا تو رسول اللہ مدینہ المنورہ میںاپنی اِس اِسلامی ریاست اور اپنی حُکمرانی میں یہودیوں کو اِس طرح اُن کے دِین پر رہنے کی اجازت نہ فرماتے بلکہ تلوار کے زور پر اُن یہودیوں کو اِسلام قُبُول کرواتے ،
::::: ایک دِن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا تو وہ کھڑے ہوگئے ،صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کِیا ::: اے اللہ کے رسول یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے ::: تو فرمایا ((( أ لَیست نَفساً ::: کیا وہ انسان نہیں تھا))) ،،،مُتفقٌ علیہ
::::: اورذرا اِس واقعہ پر غور فرمائیے ، انس رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ ، ایک یہودی بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا ، وہ بیمار ہو گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اُس کے سر کے پاس تشریف فرما ہوئے اور فرمایا ((( اِسلام قُبُول کر لو ))) اُس بچے نے اپنے باپ کی طرف دیکھا تو اُس کے باپ نے کہا ::: اطیع ابا القاسم ، ابو قاسم (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بات مان لو ::: تو اُس بچے نے اِسلام قُبُول کر لِیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہوئے وہاں سے واپس تشریف لائے کہ ((( الحَمدُ لِلَّہِ الذی أَنقَذَہُ من النَّارِ :::اللہ کی ہی تعریف ہے جِس نے اِسے آگ سے بچا لِیا ))) صحیح البُخاری/کتاب الجنائز /باب٧٨،
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( إِنَّکُم سَتَفتَحُونَ مِصرَ وَہِیَ أَرضٌ یُسَمَّی فیہا القِیرَاطُ فإذا فَتَحتُمُوہَا فَأَحسِنُوا إلی أَہلِہَا فإن لہم ذِمَّۃً وَرَحِمًا ))) أو قال((( ذِمَّۃً وَصِہرًا ))) ((( تُم لوگ بہت جلد مصر فتح کرو گے اور وہ ایسی زمین ہے جِس میں القیراط کا نام لیا جاتا ہے پس جب تُم لوگ اُس جگہ کو فتح کر لو تو وہاں کے رہنے والوں سے اچھا سلوک کرنا کیونکہ ( اُنکے لیے ایسا کرنا)اُن کا حق ہے اور رشتہ داری ہے ))) یا فرمایا ((( اُن کا حق ہے اور سُسرال داری ہے ))) ،،،صحیح مُسلم /کتاب فضائل الصحابہ/باب ٥٦
::: اور دوسری روایت میں مزید وضاحت کے ساتھ فرمایا ((( إذا افتَتحتُم مِصراً فاستَوصَوا بالقِبط خَیراً فَإنَّ لَہُم ذِمۃً ورَحِماً :::جب تُم لوگ مِصر فتح کر لو تو ایک دوسرے کو قِبط ( قوم کے لوگوں) سے خیر والا معاملہ کرنے کی نصیحت کرنا کیونکہ( اُنکے لیے ایسا کرنا ) اُن کا حق ہے اور رشتہ داری ہے ))) ،،، مستدرک الحاکم /حدیث ٤٠٣٢، السلسہ الصحیحہ /حدیث ١٣٧٤،
::::: یہ حدیث اِس بات کا ثبوت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیر مُسلموں کے ساتھ بہترین طور پر معاملات فرماتے تھے ، اور محض غیر مُسلم ہونے کی وجہ اُن کی حق تلفی نہ فرماتے تھے اور نہ ہی ایسی کوئی تعلیم دِی بلکہ اُن کے حقوق کی ادائیگی کا سبق سِکھایا ،
::: ایک اور مثال ::: اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ ایک دفعہ میری والدہ میرے پاس آئیں اور وہ مُسلمان نہیں تِھیں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ طلب کیا اور عرض کِیا کہ میری والدہ میرے پاس آئی ہیں اور وہ کچھ حاصل کرنے کی خواہش مند ہیں کیا میں رشتہ داری نبھاؤں تو فرمایا (((نعم صِلِی أُمَّکِ ::: جی ہاں ، اپنی والدہ (کے رشتے )کا تعلق پورا کرو))) صحیح البُخاری /کتاب الآداب/باب٨،
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس تعلیم پر عمل صحابہ رضی اللہ عنہم کی زندگیوں مسلسل ملتا تھا بلکہ اُن سے تربیت پائے ہوئے تابعین کی زندگیوں میں بھی ، جیسا کہ """ ربعی بن عامر رحمہُ اللہ """ جو تابعین میں سے ہیں ، کو جب ایرانی سپہ سالار رُستم کے پاس بھیجا گیا اور اُس نے پوچھا کہ """ تُم لوگ کون ہو اور کیوں آئے ہو ؟ """ تو اُنہوں نے کہا """ ہم وہ لوگ ہیں جِنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی طرف بھیجا ہے کہ جِسے اللہ چاہے اُسے ہم بندوں کی عِبادت سے نکال کر بندوں کے رب کی عِبادت کی طرف لے جائیں اور دُنیا کی تنگی سے وسعت کی طرف لے جائیں """،
::::: پس ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ہمیں اللہ نے اِس لیے بھیجا ہے کہ ہم لوگوں میں اپنے رب اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مُحبت اور آخرت میں اپنے بچاؤ کی فِکر بیدار کریں ، ،،،،
غیر مُسلم ہمارے معاملات اور اِخلاقیات کے ذریعے ہی اِسلام کو پہچانتے ہیں ، کہ ہم آپس میں اور اُن کے ساتھ کِس طرح معاملات طے کرتے ہیں اور کِس اِخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں ، اگر ہمارے معاملات اور اخلاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مُطابق ہوں گے تو ہم اِسلام کے اچھے نمائندے ہیں ، اور اگر نہیں تو ہم نہ صِرف غیر مُسلموں میں اپنے دِین کی خوبصورتی اور حقانیت کو خراب کرنے کا سبب ہیں بلکہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مُبارک کے بارے میں منفی سوچ اور اُن کی شان میں گُستاخی کی جرات پیدا ہونے کا سبب ہیں ، ،،،،،
اور اِس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازِ معاملات اپنائیں اور ہر معاملے کو اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سُنّت کے مُطابق نمٹائیں، لہذا جو اپنے دِین اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مُحبت کرتا ہے اُسے چاہیئے کہ وہ اُس مُحبت کو عملی طور پر ثابت کرے ، صرف دعویِٰ مُحبت نہ کرے ۔

اللَّہُمَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما صَلَّیتَ علی آلِ إبراہیم وَبَارِک
علی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما بَارَکتَ علی آلِ إبراہیم إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ ،


::: (۵) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کا اپنے اہل خاندان کے ساتھ رویہ ::::
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم اپنی ساری زندگی میں بے تکلفی، تواضع اور انکساری کا بہترین نمونہ تھے ۔اور ایسا ہی معاملہ وہ اپنے گھر میں اپنی بیگمات کے ساتھ رکھتے اور اپنے خاندان میں دیگر رشتے داروں کے ساتھ رکھتے ،
::::: اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ وہ گھر میں کیا کرتے تھے تو انہوں نے فرمایا ((( کَان بَشَراً مِنَ البَشَرِ یَفلِی ثَوبَہُ وَیَحلُبُ شَاتَہُ وَیَخدُمُ نَفسَہُ ::: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یَصنَعُ فی بَیتِہِ قالت کما یَصنَعُ أحدکم یَخصِفُ نَعلَہُ وَیُرَقِّعُ ثَوبَہُ ::: رسول اللہ بھی اِنسانوں میں سے ایک اِنسان تھے اپنے گھر میں اُس طرح کام کیا کرتے تھے جِس طرح تُم لوگ کرتے ہو ، وہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جوتا مُرمت فرماتے ، اپنا کپڑا سیتے ، اپنے برتن میں پانی بھرتے ، وہ صلی اللہ علیہ وسلم اِنسانوں میں سے ایک اِنسان تھے اپنے کپڑوں کی صفائی کرتے اور اپنی بکری کا دُودھ نکالتے اور اپنے کام خود کرتے ))) مجموعہ روایات ، صحٰح ابن حبان ، مُسند احمد ، سنن الترمذی ، مُسند ابی یعلیٰ ، سنن البیہقی الکُبرٰی ،
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم اپنی بیگمات کے ساتھ بہت خوش اخلاقی اور محبت والے روّیے سے پیش آتے تاکہ ان کے دلوں میں خوشی اور سرور داخل فرمائیں ۔جیسا کہ اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو محبت سے مختصر نام کے ساتھ پکارتے اور فرمایا کرتے ((( یا عَائِش ہذا جِبرِیلُ یَقرئُکِ السَّلَامَ ::: اے عائش!یہ جبرائیل آئے ہیں اور تمہیں سلام کہہ رہے ہیں))) مُتفقٌ علیہ
::::: اور جیسا کہ اِیمان والوں کی والدہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت اور ان کی محبت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم ہمیشہ خیر اور مُحبت سے یاد فرمایا کرتے ،
::::: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم جہادِ خیبر سے واپس تشریف لا رہے تھے تو اِیمان والوں کی والدہ محترمہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو اپنے نکاح میں لیا ، اِیمان والوں کی والدہ محترمہ رضی اللہ عنہا کی سواری کے وقت اونٹ کے ارد گرد خود چادر تانتے ،تا کہ اِیمان والوں کی والدہ محترمہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا پردے میں رہ سکیں اور جب اُم المؤمنین رضی اللہ عنہا سواری کے لیے اونٹ کے پاس تشریف لائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم اپنا گھٹنا مبارک آگے کیا تاکہ اِیمان والوں کی والدہ محترمہ صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اُن کے گھٹنے مبارک پر سوار ہو کر اونٹ کی گدّی تک پہنچ سکیں ، یہ ایک ایسا پُر اثر عمل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے تواضع اور انکسار کو بڑی وضاحت کے ساتھ ظاہر کرتا ہے ، باوجود اس کے کہ وہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم ایک کامیاب اور فاتح قائد اور لیڈر تھے اور اللہ کے بھیجے ہوئے نبی اور رسول تھے ، لیکن اس کے باوجود وہ اِس طرح تواضع اور انکسار سے کام لیتے تاکہ اُن کی اُمت کو یہ علم ہو جائے کہ اپنی بیگمات کے ساتھ پُر محبت اور عزت والا روّیہ اختیار کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی شان و عظمت و عزت اوررُتبے میں کوئی فرق نہیں آتا تو کسی اور کی عِزت میں بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا ،
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم ازدواجی زندگی کے معاملات کسی ایک بیوی کو دوسریوں پر فضیلت نہیں دیا کرتے تھے ، سب کے ساتھ ایک جیسا معاملہ فرمایا کرتے تھے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم عملی طور پر اپنی سب بیگمات کے ساتھ ایسا روّیہ رکھتے جو میاں بیوی میں ایک دوسرے کی رغبت اور محبت بڑھانے کے لیے بہترین نفسیاتی نتائج کا سبب ہوتی ہے، اور بیوی پر اس چیز کا اظہار ہوتی کہ اس کا خاوند اس کو کتنی محبت کرتا ہے ۔
::::: اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ( کنت أَشرَبُ وأنا حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُہُ النبی صَلی اللّہُ عَلِیہ وسلّم فَیَضَعُ فَاہُ علی مَوضِعِ فِیَّ فَیَشرَبُ وَأَتَعَرَّقُ العَرقَ وأنا حَائِضٌ ثُمَّ أُنَاوِلُہُ النبی صَلی اللّہُ عَلِیہ وسلّم فَیَضَعُ فَاہُ علی مَوضِعِ فِیَّ ::: میں حیض کی حالت میں (بھی) کچھ پیتی اور (پینے کے بعد ) وہ برتن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کرتی تو وہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا مُنہُ مُبارک (برتن پر ) اُس جگہ رکھتے جہاں (پیتے ہوئے ) میں نے مُنہ رکھا ہوتا اور میں حیض کی حالت میں گوشت کھاتے ہوئے ( گوشت کے بڑے ٹُکڑے پر سے دانتوں کے ساتھ ) کھینچ کر گوشت کا نوالہ اُتارتی اور پھر رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو دیتی تو وہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا مُنہُ مُبارک (گوشت پر ) اُس جگہ رکھتے جہاں (نوالہ توڑتے ہوئے ) میں نے مُنہ رکھا ہوتا ) صحیح مُسلم /کتاب الحیض /باب ٢ ،
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم اپنی بیٹیوں کے لیے بہترین باپ تھے اور اُن کو خوش کرتے اور ان کے دِلوں میں سرور اور خوشی داخل فرمانے کی ہر ممکن کوشش فرماتے اور یہ چیز اُن کی بیٹیوں نے اُن سے وافر مقدار میں حاصل کی اور کیوں ایسا نہ ہوتا جب کہ وہ رحمتٌ للعالمین تھے،
::::: جب فاطمہ رضی اللہ عنہا اُن کے پاس تشریف لاتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم محبت سے اُن کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے اُن کا ہاتھ تھامتے اور اُن کے ماتھے پہ بوسہ دیتے اور اُنہیں اپنے بیٹھنے کی جگہ میں اپنے ساتھ بٹھاتے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی اِسی طرح کیا کرتیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم اِن کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ اُن صلی اللہ علیہ وسلم کے اِستقبال کے لیے کھڑی ہوتیں اور اُن کا ہاتھ مبارک تھامتیں اُنہیں بوسہ دیتیں اور اپنے بیٹھنے کی جگہ میں اُن صلی اللہ علیہ وسلم کو بٹھاتیں ( صحیح سنن ابو داؤد /حدیث ٥٢١٧ )
:::::رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی ذاتِ مبارک پر بحیثیت نبی اور رسول اور بحیثیت حکمران و قائد اور سپہ سالار بہت زیادہ ذِمّہ داریاں تھیں لیکن ان تمام تر ذِمّہ داریوں کے باوجود جہاں وہ ایک بہت کامیاب ، مکمل ترین حکمران اور قائد اور سپہ سالار تھے ، وہاں ایک بہترین والد بھی تھے اور ان تمام تر ذِمّہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹیوں کے حال احوال کی خبر رکھتے ،اور اُن کی مشکلیں حل فرمانے کے لیے خود اُن کے پاس تشریف لے جایا کرتے اُن کے گھروں میں اُن کی ضروریات کی طرف مکمل توجہ رکھتے،
::::: فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہاتھوں پر چکی چلا چلا کر اور گھر کے دیگر پُر مشقت کام کر کر کے تکلیف ہو گئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم حاصل کرنے کی طلب لے کر آئیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مُلاقات نہ ہوئی تو اپنی پریشانی کا اِظہار اپنی والدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرما کر واپس چلی گِئیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم تشریف لائے تو اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُن کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کا پیغام دِیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے ،
اس کے بعد کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے علی رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے :::رسول اللہ ہمارے گھر تشریف لائے اُس وقت ہم دونوں اپنے بستر میں داخل ہو چکے تھے میں جلدی سے اُن کے استقبال کے لیے کھڑا ہونے لگا تو اُنہوں نے فرمایا ((( مَکَانِکُمَا ::: دونوں اپنی جگہ پر رہو ))) اور ہم دونوں کے درمیان میں تشریف فرما ہو گئے یہاں تک کہ مجھے ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاؤں مبارک کی ٹھنڈک پیٹ پر محسوس ہوئی اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم نے فرمایا ((( ألا أُعَلِّمُکُمَا خَیرًا مِمَّا سَأَلتُمَانِی إذا أَخَذتُمَا مَضَاجِعَکُمَا تُکبِّران أَربَعًا وَثَلَاثِینَ وتُسبِّحان ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ وتَحمِدان ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ فَہُوَ خَیرٌ لَکُمَا مِن خَادِمٍ ::: کیا میں تُم دونوں نے مجھ سے جِس چیز کا سوال کِیا ہے کیا میں تُم دونوں کو اُس سے زیادہ خیر (والی چیز ) نہ سِکھا دوں ، (اور وہ یہ ہے کہ ) جب تُم دونوں اپنے بستروں پر جاؤ تو ٣٤ چونتیس دفعہ تکبیر (اللہ اُکبر) کہا کرو ، اور ٣٣ تئنتیس دفعہ تسبیح کیا کرو ( یعنی سُبحان اللہ کہا کرو) ، اور ٣٣ تئنتیس دفعہ تحمید کیا کرو ( یعنی الحمد للہ کہاکرو) ، یہ تُم دونوں کے لیے خادم سے زیادہ خیر والا ہے))) صحیح البُخاری /کتاب فضائل الصحابہ /باب ٩ ،
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم اپنے نواسوں حسن اور حسین رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی انتہائی محبت سے پیش آتے ، اللہ کے نبی اور رسول ہونے کے باوجود ایک بہت بڑی سلطنت کے حکمران ہونے کے باوجود اور ایک انتہائی کامیاب سربراہ ہونے کے باوجود اپنے نواسوں کے ساتھ اپنے گھر میں بڑی محبت کے ساتھ پیش آتے اور اُن کے ساتھ کھیل فرماتے، اور اُن کو خوش کرنے لے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم اپنی زُبان مُبارک اپنے مُنہ مُبارک سے باہر نکالتے وہ دونوں بھاگے بھاگے اُن کے پاس آتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی زُبان مُبارک پکڑنا چاہتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم اپنی زُبان مُبارک واپس مُنہ میں داخل فرما لیتے اور اپنے دانتوں کو سختی سے بند کر لیتے تو وہ دونوں ہنسنے لگتے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم ان کے ساتھ ایسا ہی کرتے ، ان کو ہنساتے ، ان کو کھیلاتے، کیا ہم میں سے کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم ایسا کس طرح کرتے ہوں گے کتنی محبت اور کتنی شفقت والی ہستی تھے ۔ کسی قسم کا تکبر ، اور کسی قسم کی بڑائی اور کبریائی کے بغیر وہ کس طرح اپنے اہلِ خانہ کے بغیر ہر کسی کے ساتھ محبت اور تواضع والاروّیہ رکھتے حتی کہ حسن اورحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی پشت مبارک پر سوار کرواتے اور ان کے ساتھ کھیلتے ۔
ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی محبت کا دم بھرتے ہیں اور اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سنت کی پیروی کا زعم بھی ، لیکن اپنے گھر والوں اور اولاد کے ساتھ اُن کا رویہ !!!
اللہ تعالی ہم سب کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی حقیقی محبت عطاء فرمائے اور ہمارا سب کچھ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر قُربان ہو جائے ۔
اللَّہُمَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما صَلَّیتَ عَلی آلِ إبراہیم وَبَارِک
عَلی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما بَارَکتَ عَلی آلِ إبراہیم إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ


::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا بچوں ، نوجوانوں سے رویہ اور تعلیم وتربیت کا انداز :::::
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و علی آلہ وسلم اپنے اِرد گِرد ہر ایک کی ہر بات کا مکمل خیال فرما کرتے تھے ، جس میں تعلیم و تربیت ایک اہم معاملہ تھا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم وتربیت پر بڑی شفقت سے توجہ فرما رہتے اور تعلیم و تربیت کے معاملے میں اپنی مجلس میں بڑوں اور چھوٹوں میں کوئی فرق روا نہ فرماتے ، اور ایسے محبت آمیز طریقوں سے تعلیم و تربیت فرماتے جو اُس سے پہلے اِنسانی تاریخ میں نہیں ملتے ،
::::: آئیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے تعلیم و تربیت دینے کے دِل کش اندازوں میں سے کچھ کا نظارہ کریں
::::: عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے """ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کندھوں پر اپنے دونوں ہاتھ (مُبارک ) رکھے اور فرمایا (((اللَّھُم فَقَھُہُ فِی الدِین و علِّمہ ُ التأویل ::: اے اللہ اِسے دِین کی فقہ(سمجھ بوجھ ) عطا فرما اور تفسیر کا علم سِکھا)))""" مُسند احمد / حدیث ٢٣٩٧ ،سلسلہ الصحیحہ /حدیث ٢٥٨٩ ،
::: سبق ::: جِسے سِکھایا جا رہا ہو سبق دینے سے پہلے اُس کی طرف مُحبت کے ساتھ پوری توجہ مبذول کرنا اور اُس کی پوری توجہ اپنی طرف مبذول کروانا،
::::: عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہما کا کہنا ہے کہ ایک دِن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تو فرمایا ((( إِنَّ مِن الشَّجَرِ شَجَرَۃً لَا یَسقُطُ وَرَقُہَا وَإِنَّہَا مَثَلُ المُسلِمِ فَحَدِّثُونِی مَا ہِیَ ؟ :::درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے جِس کے پتے گرتے نہیں اور اُس کی مثال مُسلمان کے جیسی ہے پس تُم لوگ مجھے بتاؤ وہ کونسا درخت ہے ؟))) تو سب لوگ جنگلوں میں پائے جانے والے درختوں کے باروں میں بات کرنے لگے ، میرے دِل میں خیال آیا کہ ، وہ درخت کھجور کا درخت ہے ، لیکن میں چونکہ سب سے چھوٹا تھا لہذاشرم کی وجہ سے کچھ کہہ نہ پایا ، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ::: اے رسول اللہ ہمیں بتائیے وہ کون سا درخت ہے ؟ ::: تو فرمایا ((( ہِیَ النَّخلَۃُ ::: وہ کھجور کا درخت ہے ))) میں نے اپنے والد عُمر رضی اللہ عنہُ سے ذِکر کیا (کہ میرے دِل میں یہ جواب آ گیا تھا ) تو اُنہوں نے کہا ::: اگر تُم اُس وقت یہ جواب دے دیتے تو مجھے فلاں فلاں چیز مل جانے سے زیادہ پسند ہو تا """ صحیح البُخاری /کتاب العِلم /باب ١٤ ، اور باب ٥٠، صحیح مُسلم /حدیث ١٨٢١/کتاب صفۃ القیامۃ /باب ١٥،
::: سبق ::: تعلیم دیتے ہوئے ،سوال کر کے جواب حاصل کرنے کا شوق پیدا کرنے کے بعد کچھ سِکھانا ، کچھ سِکھاتے ہوئے بڑے اور چھوٹے کا فرق روا نہ رکھنا ، چھوٹے کا بڑوں کے احترام میں اُن سے شرم کرتے ہوئے خاموش رہنا،
::::: سہل بن سعد رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ """ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک برتن پیش کیا گیا اُنہوں نے اُس میں سے کچھ پیا اور (پینے کے بعد وہ برتن دوسروں کو دینا چاہتے تھے لیکن ) اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں (سیدہے ہاتھ کی ) طرف ایک چھوٹا بچہ تھا اور بائیں (اُلٹے ہاتھ کی) طرف بڑی عُمر والے لوگ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس بچے سے فرمایا ((( یا غُلَامُ أَتَأذَنُ لی أَن أُعطِیَہُ الأَشیَاخَ ::: اے بچے کیا تُم مجھے اجازت دو گے کہ میں یہ برتن بڑوں کو دے دوں ))) اُس بچے نے عرض کِیا ::: اے رسول اللہ میں آپ سے اپنی طرف آنے والا فضل کِسی اور کونہیں دینا چاہتا ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ برتن اُس بچے کو دے دِیا """ صحیح البُخاری / حدیث ٢٢٢٤/کتاب المساقاۃ الشُرب،
::: سبق ::: چھوٹوں کے حقوق کی پاسداری اور بڑوں کا ادب ، اور مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کی طرف سے ملنے والی بزرگی و عِزت برکت حاصل کرنے کا شوق ،
::::: عُمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ """ میں چھوٹا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود مُبارک میں تھا اور (کھانے کے دوران ) میرا ہاتھ تھالی (پلیٹ)میں ادِھر اُدھر چل رہا تھا (یعنی میں اِدھر اُدھر سے چُن یا لے رہا تھا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( یا غُلَامُ سَمِّ اللَّہَ وَکُل بِیَمِینِکَ وَکُل مِمَّا یَلِیکَ ::: اے بچے(کھانے سے پہلے) اللہ کا نام لو اور اپنے دائیں (سیدہے) ہاتھ سے کھاؤ اور جو تمہارے سامنے ہے اُس میں سے کھاؤ ) اُس وقت سے اب تک میرے کھانے کا طریقہ وہی ہے (جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سِکھایا)""" صحیح البخاری / حدیث ٥٩٦١/کتاب الاطعمہ /باب اول، صحیح مسلم / حدیث٢٠٢٢ /کتاب الأشربۃ/باب١٣،
::: سبق ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں سے مُحبت ، بات سمجھانے اور سکھانے کے لیے پُر شفقت انداز اپنانا نہ کہ رُعب و دبدبہ اور ڈانٹ ڈپٹ ، اور یہ کہ کھانا کھانے سے پہلے، بسم اللہ کہا جانا چاہیے ،
::::: عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہُ کا فرمان ہے کہ """ ایک دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُن کی سواری ہر اُنکے پیچھے بیٹھا ہوا تھا تو اُنہوں نے فرمایا ((( یا غُلَامُ إنی أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ احفَظ اللَّہَ یَحفَظکَ احفَظ اللَّہَ تَجِدہُ تُجَاہَکَ إذا سَأَلتَ فَاسأَل اللَّہَ وإذا استَعَنتَ فَاستَعِن بِاللَّہِ وَاعلَم أَنَّ الأُمَّۃَ لو اجتَمَعَت علی أَن یَنفَعُوکَ بِشَیء ٍ لَم یَنفَعُوکَ إلا بِشَیء ٍ قد کَتَبَہُ اللَّہ ُ لکَ وَلَو اجتَمَعُوا علی أَن یَضُرُّوکَ بِشَیء ٍ لَم یَضُرُّوکَ إلا بِشَیء ٍ قد کَتَبَہُ اللہ عَلَیکَ رُفِعَت الأَقلَامُ وَجَفَّت الصُّحُفُ ::: اے بچے میں تُمہیں کچھ باتیں سِکھا رہا ہوں ( اِنہیں یاد رکھنا ) اللہ (کے حقوق )کی حفاظت کرو وہ تُماری حفاظت کرے گا ، اللہ (کے حقوق )کی حفاظت کرو تُم اُسے اپنے پاس پاؤ گے ، اور اگر سوال کرو تو صِرف اللہ سے سوال کرو ، اور اگر مدد مانگو تو صِرف اللہ سے مدد مانگو ، اور جان لو کہ اگر سب کے سب مل کر تُمہیں کوئی فائدہ پہنچانا چاہیں تو نہیں پہنچائیں سکتے سِوائے اُس کے جو اللہ نے تُمہارے لیے لکھ دِیا ہے ، اور اگر سب کے سب مل کر تُمہیں کوئی نُقصان پُہنچانا چاہیں تو نہیں پُہنچا سکتے سِوائے اُس کے جو اللہ نے تُمہارے لیے لِکھ دِیا ہے ، (اور جان لو کہ ) قلمیں اُٹھا لی گئی ہیں اور لکھے ہوئے اوراق خُشک ہو چکے ہیں ))) سُنن الترمذی /حدیث٢٥١٦ /کتاب صفۃ القیامۃ و الرقائق والورع/آخری باب ، مُسند احمد / حدیث ٢٦٦٩، اِمام الالبانی نے صحیح قرار دِیا ،
::: سبق ::: کِسی چھوٹے کو بھی عقیدے کے مسائل سمجھائے جانے ضروری ہیں ، یہ نہیں سوچناچاہیئے کہ بڑے ہو کر سیکھ لیں گے ابھی یہ باتیں اِن کی سمجھ میں نہیں آ سکتِیں ، اللہ کی مشیت کے بغیر نہ کوئی کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان ، پس براہ راست اللہ سے مانگو کیونکہ یہ اللہ کے حقوق میں سے ہے ۔
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسامہ ابن زید رضی اللہ عنہُ کو سترہ سال کی عُمر میں روم سے جِہاد کے لیے بھیجی جانے والی فوج کا سپہ سالار مقرر کیا ،
::: سبق ::: نوجوانوں کو آنے والے وقت میں قیادت و اِمامت کی تربیت دینا ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑوں ، نوجوانوں، چھوٹوں ، سب کے لیے بہترین ، شفیق اُستاد تھے اور بنی نوع اِنسان کو تعلیم و تربیت کے وہ ہُنر و انداز سِکھا گئے جِن کی خوبصورتی اور مُثبت نتائج کی نظیر نہیں ملتی ، لیکن افسوس کہ ہم اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت ہوتے ہوئے اُن کے صلی اللہ علیہ وسلم کے اندازِ تربیت و تعلیم سے بے خبر ہیں اور غیروں کی طرف سے وہی یا اُس سے ملتا جلتا انداز ملتا ہے تو اُس کی تعریف میں بِچھے چلے جاتے ہیں،اللہ ہمیں اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سیرت و تربیت جاننے اور اُسے با فخر رہتے ہوئے اپنانے اور اُس پر عمل کرنے اور اُس کو زُبانی اور عملی طور پر نشر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے،
ہمارا سب کچھ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر قُربان ہو جائے۔
اللَّہُمَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما صَلَّیتَ علی آلِ إبراہیم وَبَارِک
علی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما بَارَکتَ علی آلِ إبراہیم إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِید

::::: سول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے حقوق :::::

::::: اللہ سُبحانہُ وتعالیٰ نے ہم پر یہ کرم فرمایا کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کو ہماری طرف بھیجا اور اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ احسان فرمایا کہ اُن صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دِین اور دُنیا کی ہر خیر ہم تک پہنچائی اللہ سُبحانہُ وتعالیٰ کا فرمان ہے ( لَقَد مَنَّ اللّہُ عَلَی المُؤمِنِینَ إِذ بَعَث َ فِیہِم رَسُولاً مِّن أَنفُسِہِم یَتلُو عَلَیہِم آیَاتِہِ وَیُزَکِّیہِم وَیُعَلِّمُہُمُ الکِتَابَ وَالحِکمَۃَ وَإِن کَانُوا مِن قَبلُ لَفِی ضَلالٍ مُّبِینٍ ::: یقینا اللہ نے اِیمان والوں پر اُن میں سے ہی رسول بھیج کر احسان فرمایا (وہ رسول) جو اُن کے لیے اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے اور( اُن آیات کے ذریعے کفر وشرک سے) اُن اِیمان والوں (کے دِلوں )کو صاف کرتا ہے اور اُنہیں (اللہ کی )کتاب اور حِکمت سِکھاتا ہے جبکہ وہ لوگ اِس سے پہلے کُھلی گُمراہی میں تھے ) سورت آل عمران /آیت ١٦٤،
: : : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ہم پر بہت زیادہ حقوق ہیں ،اور ہم پر فرض ہے کہ ہم ان کے حقوق کی حفاظت کریں، ان حقوق کو بہترین طور پر ادا کریں ،اور ان کو ضائع ہو جانے سے یا ان میں کسی قسم کی کمی، بے
عزتی، نقصان ہونے سے ان حقوق کو محفوظ رکھیں،
::::: ان حقوق میں سے اہم ترین اور پہلا حق ::::: اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر ایمان لاناہے ، اور اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر اِیمان یہ ہے کہ زُبانی اور عملی طور پر اُن کو آخری نبی اور رسول مانتے ہوئے اُن کی نبوت و رسالت کی تصدیق کی جائے ،کیونکہ جو رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر اِیمان نہیں لاتا اور انہیں تمام تر نبیوں اور رسولوں میں سے آخری رسول اور نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے ،خواہ مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے پہلے آنے والے تمام نبیوں پر وہ ایمان رکھتا ہو لیکن اگر ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر ایمان نہیں رکھتا اُن کے آخری نبی اور رسول ہونے پر ایمان نہیں رکھتا تو وہ شخص کافرہے ، قرآن میں بے شمار ایسی آیات ہے جن کے ذریعے اللہ سُبحانہُ وتعالیٰ نے یہ حکم دیا ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے رسول اور نبی ہونے پر ایمان لائیں ، مثلاً اللہ سُبحانہُ وتعالیٰ نے فرمایا (فَآمِنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَالنُّورِ الَّذِی أَنزَلنَا وَاللَّہُ بِمَا تَعمَلُونَ خَبِیرٌ ::: پس اِیمان لاؤ اللہ اور اُس کے رسول پر اور اُس روشنی (یعنی قُرآن ) پر جو ہم نے اُتاری اور جو کچھ تُم لوگ کرتے ہو اللہ وہ اچھی طرح جانتا ہے ) سورت التغابن / آیت ٨
::::: رسول اللہ صلی علیہ و علی آلہ وسلم کا فرمان ہے (وَالَّذِی نَفسُ مُحَمَّدٍ بیدہ لَا یَسمَعُ بِی أَحَدٌ مِن ہِذہِ الأُمَّۃِ یَہُودِیٌّ ولا نَصرَانِیٌّ ثُمَّ یَمُوتُ ولم یُؤمِن بِالَّذِی أُرسِلتُ بِہِ إلا کان مِن أَصحَابِ النَّارِ:::اُس کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے اِس اُمت میں سے کوئی بھی میرے بارے میں سنے ، وہ یہودی ہو یا نصرانی ہو ، اور اُس چیز پر ایمان لائے بغیر مر جائے جو مجھے دے کر بھیجی گئی ہے تو وہ جہنمی ہے ) صحیح مُسلم /حدیث ١٥٣/کتاب الاِیمان /باب ٧٠،
::::: دوسرا حق رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اِتباع کرنا :::::
::::: رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اِتباع (یعنی تابع فرمانی )اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر ایمان کی ایک حقیقی عملی دلیل ہے ، اب اگر کوئی نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر اِیمان کا دعویٰ کرتا ہے،محبت کا دعویٰ کر تا ہے ، اور پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حکم پر عمل نہیں کرتا اُن کی منع کی ہوئی چیزوں سے باز نہیں رہتا ،تو اپنے دعویٰ اِیمان و مُحبت میں جھوٹا ہے ، کیونکہ اِیمان دِلوں میں ہوتا ہے اور جو چیز دِلوں میں ہوتی ہے وہ اعمال سے ظاہر ہوکر ہی رہتی ہے ، اللہ سُبحانہُ وتعالیٰ نے بڑی وضاحت سے یہ چیز بتائی کہ اللہ کی رحمت اِتباع کرنے والوں اور ایمان کو عملی طور پر نافذ کرنے والوں کے عِلاوہ کسی اور کو ملنے والی نہیں ،
::::: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ( وَرَحمَتِی وَسِعَت کُلَّ شَیء ٍ فَسَأَکتُبُہَا لِلَّذِینَ یَتَّقُونَ وَیُؤتُونَ الزَّکَـاۃَ وَالَّذِینَ ہُم بِآیَاتِنَا یُؤمِنُونَO الَّذِینَ یَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِیَّ الأُمِّیَّ ::: اور میری رحمت نے ہر ایک چیز کو گھیر رکھا ہے لہذا میں اپنی یہ رحمت اُنکے نام لکھوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکاۃ ادا کرتے ہیں اور ہماری آیات پر اِیمان لاتے ہیںO وہ جو اُس رسول اور نبی کی اِتباع کرتے ہیں جو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے) الااعراف/ آیت نمبر١٥٦، ١٥٧،
::::: اللہ سُبحانہُ وتعالیٰ نے ان لوگوں سے عذاب کا وعدہ کیا جو رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ہدایت سے منہ پھیرتے ہیں،جو اُن کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( لَاتَجعََلُوا دُعآءَ الرَّسُولِ بَینَکُم کَدُعَآءِ بَعضُکُم بَعضَاً قَد یَعلمَ اللَّہُ الَّذِینَ یَتَسَلَّلُونَ مِنکُم لَوَاذًا فَلیَحذَر الَّذِینَ یُخَالِفُونَ عَن أمرِہِ أن تُصِیبَھُم فَتنَۃٌ أو یُصِیبَھُم عَذَابٌ ألِیم ::: تُم رسول کے بلانے کو ایسا بلانا مت بناؤ جیسا کہ تُم لوگوں کا ایک دوسرے کو بلانا ہوتا ہے ، تُم میں سے اللہ اُنہیں خوب جانتا ہے جو ( رسول کی طرف سے بلاوے پر ) نظر بچا کر چُپکے سے کِھسک جاتے ہیں لہذا جو لوگ اُس ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں وہ خبردار رہیں کہ ( کہیں ) اُن پر کوئی
آفت نہ آ پڑے یا ( کہیں ) اُنہیں کوئی عذاب نہ آ پکڑے ) سورت النور /آ یت ٦٣،
::::: اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ہر حکم کو ہر بات کوقُبُول کریں اپنا آپ اُن کے سپرد کر دیں ، اُن کی اِتباع کے لیے اُن کے حوالے کر دیں ، اور بڑے کھلے دل سے اُن کے حکموں کوقُبُول کریں ،پس اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ( فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یؤمِنونَ حَتَّیٰ یحَکِّموکَ فِیمَا شَجَرَ بَینَھم ثمَّ لَا یَجِدونَ فِی أنفسِھِم حَرَجاً مَمَّا قَضَیتَ وَ یسَلِّموا تَسلِیماً ::: اور تُمہارے رب کی قسم ، یہ لوگ ہر گِز اُس وقت تک اِیمان والے نہیں ہو سکتے جب تک اپنے اِختلافات میں تمہیں حاکم نہ بنائیں اور پھر(تمہارے کیئے ہوئے فیصلے کے بارے میں اپنے اندر کوئی پریشانی محسوس نہ کریں اور خود کو مکمل طور پر (تمہارے فیصلوں کے )سُپرد کر دیں ) سورت النِساءَ /آیت ٦٥
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بلا مشروط ، کِسی فلسفے ، مذھب ، مسلک کی قید کے بغیر اِتباع کرنے کی فرضیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے اور بھی بہت سے احکامات ہیں ، (جِن '''اپنے عقیدے کا جائزہ لیں سوال رقم ٧ '''میں ذِکر کیا گیا )
::::: تیسرا حق رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے مُحبت کرنا :::::
::::: نبی اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے مُحبت کرنا بھی اُن حقوق میں سے ہے اور اُمت پر فرض ہے ، اور اللہ کے بعد اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے کِسی بھی اور سے زیادہ مُحبت کرنا فرض ہے،
::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (لَا یُؤمِنُ أحدُکم حَتٰی أَکُونَ أَحَبَّ إلیہِ مِن وَلَدِہِ وَوَالِدِہِ وَالنَّاسِ أَجمَعِین ::: تُم سے کوئی بھی اُس وقت تک اِیمان والا نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اُسے اُس کے بیٹے ، باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ) صحیح البُخاری / کتاب الاِیمان /باب٦،
::::: پس ہر وہ شخص جو رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے مُحبت نہیں کرتا اُس کا اِیمان مکمل نہیں ، اور رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے مُحبت میں سب سے زیادہ بلند رتبہ والی مُحبت یہ ہے کہ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے اپنی جان سے بھی زیادہ مُحبت کی جائے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی ہی مُحبت کرنے والا مُحبِّ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم بنائے ۔
::::: چوتھا حق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مدد کرنا :::::
::::: یہ حق اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی زندگی میں اُن کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے انتہائی مکمل اور بہترین طورپر ادا کیا اور اُن صلی اللہ علیہ وسلم کے دُنیاسے تشریف لے جانے کے بعد اب اِس حق کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مُبارک اُن کی سُنّت، اُن کے لائے ہوئے دِین ،اُنکی دی ہوئی تعلیمات کے بارے میں اعتراضات کرنے والوں اور اُس میں تبدیلیاں پیدا کرنے والوں اور اُن چیزوں کی تاویلات کرنے والوں کی غلطیوں کے خلاف کام کیا جائے، اور ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تعلیمات کے عین مطابق اپنی زندگیوں کو عملی نمونہ بنایا جائے ، تاکہ اگر کوئی ان صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ذات مُبارک کے بارے میں کوئی بری بات کہے مذاق اُڑائے یا اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے بارے میں ایسی صفات اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے منسوب کرے ، جو اُن کی نہیں تو اس کو روکا جائے ،
::::: پانچوا ں حق اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی دعوت کو پھیلانا :::::
رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حُقوق اور اُن سے مُحبت اور وفاء میں سے یہ بھی ہے کہ ، اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی لائی ہوئی دعوت ، اللہ کے دِین اِسلام کو دُنیا کے ہر ایک گوشے تک پہنچا جائے ، اور دُنیا کے ہر کونے میں پہنچایا جائے ، کِسی کمی ، کِسی زیادتی ، کِسی تحریف ، کِسی تبدیلی کے بغیر مِن و عَن بالکل اُسی طرح پہنچائے جِس طرح اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو وہ دِین دے کر بھیجا ،
::::: رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا (بَلِّغُوا عَنِّی وَلَو آیَۃً ::: میری طرف سے ( آئی ہوئی باتوں کی)تبلیغ کرو خواہ (تُمہارے پاس اُن میں سے ) ایک ہی بات کیوں نہ ہو) صحیح البخاری /کتاب الانبیاء /باب٥١،
::::: اور فرمایا ( فَوَاللَّہِ لَأَن یَہدِیَ اللہ بِکَ رَجُلًا وَاحِدًا خَیرٌ لک من أَن یَکُونَ لک حُمرُ النَّعَمِ ::: اللہ کی قَسم اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے کسی ایک شخص کو بھی ہدایت دے دیتا ہے ، تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ فائدہ کی چیز ہے ) (مُتفقٌ علیہ)
: اور فرمایا (إنّی مُکَاثِرٌ بِکُم الأُمَمَ فلا تَقتَتِلُنَّ بَعدِی ::: میں قیامت والے دن تم لوگوں کی کثرت کی وجہ سے دوسری قوموں کے سامنے فخر کروں گا پس تُم لوگ میرے بعد ہر گِز(آپس میں) لڑائی نہ کرنا ) سُنن الترمذی /کتاب ابواب الطہارۃ /باب٢ ، صححہ الشیخ الالبانی،
اُمت میں کثرت کے اسباب میں سے ایک بڑا اور اہم سبب یہ ہے ، کہ ہم لوگ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی دعوت کو ہر ایک تک پہنچائیں اور لوگ اللہ کے حکم سے اِس دعوت کو قُبُول کریں اور اُمتِ مُحمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم میں داخل ہوں ، یہ ایسا کام ہے جو تمام تر رسولوں اور اُن کی اِتباع کرنے والوں کی صفات میں سے ہے ، اللہ سُبحانہُ وتعالیٰ فرماتے ہیں ( قُل ہَـذِہِ سَبِیلِی أَدعُو إِلَی اللّہِ عَلَی بَصِیرَۃٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِی ::: اے رسول(صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم )آپ فرما دیجیے کہ یہ ہی میرا راستہ ہے کہ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ بلاتا ہوں ، میں بھی یہ ہی کرتا ہوں اورجِس جِس نے میری اتباع کی وہ بھی یہی کرتا ہے ) سورت یوسف / آیت ١٠٨،
::::: رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم چھٹا حق :::::
اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تعظیم اور توقیر کی جائے ، اِسکا بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کا حُکم ہے ( لِتُؤمِنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ وَتُعَزِّرُوہُ وَتُوَقِّرُوہُ وَتُسَبِّحُوہُ بُکرَۃً وَأَصِیلاً :::لازم ہے کہ تُم لوگ اللہ پر اِیمان لاؤ اور رسول پر اور اُسکی عِزت کرو اور اُسکی توقیر کرو اور صُبح اورشام اللہ کی پاکیزگی بیان کرو ) الفتح / آیت ٩ ،
ہمارا سب کچھ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر قُربان ہو جائے
اللَّہُمَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما صَلَّیتَ عَلی آلِ إبراہیم وَبَارِک
عَلی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما بَارَکتَ عَلی آلِ إبراہیم إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ
(اِس موضوع کو تفصیل سے '''الرسالہ جمادی الثانی ١٤٢٩ ہجری میں بیان کیا گیا ہے ، اور '''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کیجیئے ''' نامی سلائیڈ شو میں بھی شامل کیا گیا ہے، جہاں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے محبت ، اِس محبت کے فائدے اور تقاضا بھی بیان ہوا ہے )، و الحمد للہ الذی تتم بنعمتہ الصالحات ، اور اللہ کا ہی شکر ہے جس کی توفیق سے نیکیاں مکمل ہوتی ہیں ۔

::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلِہ وسلم سے مُحبت اور اُن کی تابع فرمانی :::::
::::: ہم نبی صلی اللہ علیہ وعلی وسلم سے محبت کیوں کریں اور ان کی اتباع کیوں کریں؟ :::::

کیا آپ اپنے آپ سے یہ مندرجہ بالاسوال نہیں پوچھیں گے ؟ ، یا آپ اس کا جواب حاصل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے ؟
یقینا آپ اِس سوال کا جواب جاننا پسند کریں گے ، لیجیئے شیخ الاسلام اِمام ابن تیمیہ رحمۃُ اللہ علیہ سے اِس کا جواب سُنیے ، کہتے ہیں """ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم سے کسی بھی اور چیز سے زیادہ محبت کرنے اور ان کی کسی بھی اور شخص سے زیادہ تعظیم کرنے ، کا سبب یہ ہے کہ دنیا اور آخرت کی سب سے بڑی خیر حاصل کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی ذریعہ نہیں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم پر ایمان لا کر اور ان کی اتباع کر کے ہی ہم دنیا اور آخرت کی سب سے بڑی خیر حاصل کر سکتے ہیں ،کیونکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچنے کااور اللہ کی رحمت تک پہنچنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے علاوہ کوئی اور ذریعہ نہیں ہے ،اور یہ یوںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم پر ایمان لایا جائے ، ان سے ہر کسی سے بڑھ کر محبت کی جائے اور ان کی اتباع کی جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم ہی وہ ذات ہیں جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت کے عذاب سے ہمیں بچائے گا ، اور وہ ہی ایک راستہ ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا اور آخرت کی ہر خیر عطا فرمائے گا ، تو اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے سب سے زیادہ فائدے والی نعمت ایمان ہے اور یہ نعمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے ذریعے کے علاوہ اور کسی ذریعے سے حاصل ہونے والی نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم ہی وہ ہستی ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالی کِسی کوکفرو شرک کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل فرماتا ہے ، اور ایسا ہون جانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے علاوہ اور کوئی راستہ ( اللہ کی طرف سے مُقرر) نہیں ہے ،کسی کے لیے بھی اس کی ذات یا اس کے اہل و عیال (یا) کوئی بھی اس کو اللہ تعالی کو عذاب سے نہیں بچا سکتا (پس اللہ کے عذاب سے بچنے اور اللہ کی رھمت حاصل کر کے اُس کی جنّت میں داخل ہو سکنے کا )کوئی ذریعہ نہیں سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی ذات ِ مبارک پر ایمان لا کر ان کی مکمل اتباع کرنے کے """ ( مجموعہ الفتاوٰی)،
اگر کوئی بھی شخص اس چیز پر غور کرے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی ذاتِ مبارک کے ذریعے اللہ تعالی نے اس کو کتنا عظیم اور بڑا فائدہ دیا ہے ، کہ اللہ تعالی نے اس کو کفرو شرک کے اندھیروں سے نکال کر ایمان کی روشنی میں داخل فرمایا تو اس بات پر غور کرنے والا یہ جان لے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم ہی وہ اکیلا سبب ہیں جس کی وجہ سے وہ شخص ان پر ایمان لانے کے بعد اور ان کی تابع فرمانی اختیار کرنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے عیش و آرام میں داخل ہو سکتا ہے، اور دنیا اور آخرت کے ہر قسم کے فائدے حاصل کر سکتا ہے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی محبت اور کسی بھی اور چیز سے زیادہ ان کی توقیرو تعظیم اور ان سے محبت کرنا یہ ان کا حق ہے لیکن افسوس کہ آج لوگوں کی اکثریت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے اس حق کو اپنی غفلت اور لا علمی کی وجہ سے جانتی نہیں ، اور ان کا یہ حق ادا نہیں کر پاتی ہر وہ شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم پر ایمان لایا، صحیح مطلوب درجہ تک پہنچا ہواایمان ، وہ اپنے اندر یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی محبت پاتا ہے ، اب اِن اِیمان لانے والوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں جن کو اللہ سبحانہُ وتعالیٰ نے یہ محبت بہت زیادہ عطاء فرمائی اور کچھ ایسے ہیں جن کو یہ محبت تھوڑی ملی، جیسے کہ ایسے لوگ جن کا زیادہ وقت غفلت میں گزرتا ہے اور وہ لوگ دنیا کی مشغولیات اور محبتوں اور لالچ میں مشغول رہتے ہیں لیکن جب اِن کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کو دیکھنے کے شوق میں بہت زیادہ آگے بڑھے ہوئے نظر آتے ہیں اور ایسے کاموں پر فوراً راضی ہو جاتے ہیں کہ جن کے ذریعے سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کا قرب حاصل کر سکےں ،اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا دیدار کر سکےں، لیکن ،یہ اُن کی یہ کیفیت ، یہ شوق ، یہ مُحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت تھوڑے وقت کے لیے ظاہرہوتی ہے ، وقتی طور پراُن کے اندر یہ جذبہ بیدار ہوتا ہے اور اُس کے بعد پھر سے دنیا کے مال ، بیوی، بچوں ، بہنوں ،بھائیوں ، رشتے داروں ، کاروبار ، تجارت کے شوق اُن پر حاوی ہو جاتے ہیں اور بات آئی گئی ہو جاتی ہے ۔ (فتح الباری ، بتصرف)
یا د رکھیے ، ایمان کی تکمیل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم سے محبت ضروری ہے ( اِس بات کی تفصیل '''اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کیجیئے ''' نامی سلائیڈ شو میں بھی شامل کیا گیا ہے، اور اِس محبت کے فائدے اور تقاضا بھی بیان ہوا ہے )
اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کا فرمان ہے (قُل إِن کَانَ آبَاؤُکُم وَأَبنَآؤُکُم وَإِخوَانُکُم و َأَزوَاجُکُم وَعَشِیرَتُکُم وَأَموَالٌ اقتَرَفتُمُوہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخشَونَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرضَونَہَا أَحَبَّ إِلَیکُم مِّنَ اللّہِ وَرَسُولِہِ وَجِہَادٍ فِی سَبِیلِہِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّی یَأتِیَ اللّہُ بِأَمرِہِ وَاللّہُ لاَ یَہدِی القَومَ الفَاسِقِینَ ::: ( اے رسول ) کہہ دیجیئے اگر اپنے باپ دادا اور بیٹے اور بھائی اور بیویاں اور خاندان اور مال جو تُم لوگ جمع کرتے ہو اور تجارت جِس کے خراب ہونے کا تُمہیں ڈر ہے اور گھر جو تُمہیں پسند ہیں ( اگر یہ سب کچھ ) تُم لوگوں کو اللہ اور اُسکے رسول اور اللہ کی راہ میں جِہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ( دُنیا اور آخرت میں تُماری ذلت و تباہی کے لیے ) اللہ کا حُکم آ جائے اور (اگر ایسا ہی کرتے رہو گے تو یاد رکھو ) اللہ فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا ) سورت التوبہ /آیت ٢٤ ،
غور فرمائیے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو اپنی ہر ایک چیز سے زیادہ مُحبت نہ کرنے والا اللہ کے ہاں فاسق ہے ، جی ہاں فاسق ہے ،
عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہُ کا کہنا ہے کہ ''' ایک دِن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ساتھ تھے اور اُنہوں نے عُمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہُ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا ، تو عُمر رضی اللہ عنہُ نے کہا ::: اے اللہ رسول آپ مجھے میری جان کے عِلاوہ ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ((( لا وَالَّذِی نِفسِی بِیدہِ حَتٰی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَیکَ مِن نَفْسِکَ :::نہیں اُسکی قسم جِس کے ہاتھ میں میری جان ہے جب تک کہ میں تمہیں تُماری جان سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ))) تو عُمر رضی اللہ عنہُ نے عرض کیا ::: جی اچھا تو پھر اب آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں ::: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ((( الْآنَ یا عُمَرُ ::: اب اے عُمر)))) (یعنی اب تُمہارا اِیمان مکمل ہوا اے عُمر) صحیح البُخاری /کتاب الاَیمان و النذور /باب٢،
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ((( لَا یُؤمِنُ أحدُکم حَتٰی أَکُونَ أَحَبَّ إلیہِ مِن وَلَدِہِ وَوَالِدِہِ وَالنَّاسِ أَجمَعِین ::: تُم سے کوئی بھی اُس وقت تک اِیمان والا نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اُسے اُس کے بیٹے ، باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں ))) صحیح البُخاری / کتاب الاِیمان /باب٦
امام الخطابی کہتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ''' تم میری محبت میں اتنے سچے ہو جاو کہ اپنے آپ کو میری اطاعت میں فنا کر دو۔ اور اپنی خواہشات پر میری خوشی کو ہمیشہ مسلط رکھو ۔ خواہ تمہیں ایسے کرنے میں کتنی ہی تکلیف اور پریشانی برداشت کرنا پڑے '''
ابی ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم نے فرمایا ((( إنما مَثَلِی وَمَثَلُ النَّاس کَمَثَلِ رَجُلٍ استَوقَدَ نَارًا فلما أَضَاء َت ما حَولَہُ جَعَلَ الفَرَاشُ وَہَذِہِ الدَّوَابُّ التی تَقَعُ فی النَّارِ یَقَعنَ فیہا فَجَعَلَ یَنزِعُہُنَّ وَیَغلِبنَہُ فَیَقتَحِمنَ فیہا فَأَنَا آخُذُ بِحُجَزِکُم عن النَّارِ وأنتُم تَقحَمُون فِیہا ::: میری اور لوگوں کی مثال ایسے ہے کہ جیسے ایک شخص نے آگ جلائی اور جب اُس آگ نے اپنے ارد گرد کی چیزوں کو روشن کر لیا تو پتنگے اور کیڑے جو آگ میں آ گرتے ہیں اُس آگ میں گرنے لگے اور وہ شخص ان کو آگ سے بچانے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ اس کے قابو میں نہیں آتے اور آگ میں جا گرتے ہیں ، تو میں تُم لوگوں کی کمر پکڑ کر تُم لوگوں کو آگ سے بچا رہا ہوں اور تُم لوگ اُس میں گرنا ہی چاہتے ہو ))) (صحیح البُخاری)
صحیح مُسلم کی روایت کے الفاظ ہیں ((( إنَّما مَثَلِی وَمَثَلُ أُمَّتِی ::: میری اور میری اُمت کی مِثال )))
دیکھا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم اپنی اُمت سے جِس میں ہم بھی شامل ہیں کتنی مُحبت فرماتے ہیں کہ ہر اس چیز سے جو ہمیں تکلیف دے دور رکھنے کی بھر پور کوشش فرماتے ہوئے ہمیں سب کچھ بتا گئے ، اب آپ ہی بتائیے کیا جہنم کی آگ سے بڑھ تکلیف دہ چیز کوئی اور ہے ؟
یہ بھی سُنیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ہم سے اتنی محبت فرماتے تھے کہ ہمیں دیکھنے کی خواہش کا اظہار فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا(وَدِدْتُ انی لَقِیتُ إخوانی) صحابہ رجی اللہ عنہم نے عرض کِیا ::: کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ تو فرمایا ((( أَنْتُمْ أصحَابی وَلَکِنْ إخوانی الَّذِینَ آمَنُوا بی ولم یرونی ::: تُم لوگ میرے صحابی ہو اور میرے بھائی وہ ہیں جو مجھ پر اِیمان لائے اور مجھے دیکھا نہیں))) (مُسند أحمد)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم نے ہمیں کفر و شرک کے اندھیروں سے نکال اِیمان کی روشنی میں داخل کرنے کے لیے، اور جہنم کے راستے سے اُٹھا کر جنّت کی راہ پر ڈالنے کے لیے کتنی تکلیفیں برداشت کیں،
کیا اب بھی ہم اُن سے سچی عملی مُحبت نہ کریں گے ؟
جبکہ اللہ اور خودرسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم نے ہمیں اِس مُحبت کا حُکم دِیا ہے اور اِس مُحبت میں ہمارا ہی فائدہ ہے ، نہ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا ، کیونکہ اگر ہم اُن سے محبت نہ کریں گے تو یہ ہمارا نقصان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی ذاتِ مبارک پر کوئی فرق نہیں پڑے گا تو آج ہم سوچیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی کتنی حیاء ہے ؟ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم سے کتنی محبت ہے؟ ہم آج اپنے اعمال اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم سے مُحبت کے دعوے اور مُحبت کو سامنے رکھیں اور ذرا دیکھیں کہ ہم قیامت کے دن کس مُنہ سے اُن کو اُن کو حوض پر ملیں گے؟ اور کون سا عمل ہمارا ایسا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی شفاعت کی امید رکھیں ؟ اُن صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی اطاعت ہم نے ایسی کی ہے یا کون سی اطاعت ہم ایسی کرتے ہیں جس کو لے کر ہم جنت میں داخل ہوسکیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کے سامنے پیش ہوسکیں اور اُنہیں دکھائیں کہ اے اللہ کے رسول ہم آپ کی یہ یہ اطاعت کرتے تھے ، سوچئے اور اپنے اعمال کا اپنے عقائد کا جائزہ لیجیے اور اپنے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلِہ وسلم کی محبت اُس درجے پر پیدا کیجیے اور ان کی اطاعت اس درجے پر اختیار کیجیے جو درجہ مطلوب ہے ۔
میرا سب کچھ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر قُربان ہو جائے ۔
اللَّہُمَ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما صَلَّیتَ عَلی آلِ إبراہیم وَبَارِک
عَلی مُحَمَّدٍ وَأَزوَاجِہِ وَذُرِّیَّتِہِ کما بَارَکتَ عَلی آلِ إبراہیم إِنَّکَ حَمِیدٌ مَجِیدٌ

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔