Monday, 31 August 2009

ماں کے لیے

0 comments
آنکھ سے اوجھل جو تیری ذات ہو گئی
اک غمِ پیہم سے ملاقات ہو گئی

لمس تیرے ہاتھ کا سر پر مرے تو ہے
تو نظر آتی نہیں کیا بات ہو گئی

تیری نظر جو پیار سے اُٹھتی مری طرف
یوں لگتا جیسے کوئی مناجات ہو گئی

کوئی اس دنیا میں مجھ سے یہ نہیں کہتا
اب لوٹ آئو گھر کو بہت رات ہو گئی

دامن جو تیرا ہاتھ سے چھُوٹا تو یوں لگا
خالی سی جیسے ساری کائنات ہو گئی

لکھا تو کچھ نہ جا سکا ماں کے لیے حَفِی
نوکِ قلم سے اشکوں کی برسات ہو گئی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔