Wednesday, 19 August 2009

رمضان ایک عبادت، ایک پیغام

0 comments

عزیز قارئین و قاریات!

امید ہے آپ بخیر وعافیت ہونگے!

اس خیر و عافیت کی قدر پہچاننا یقینا بہت بڑی سعادت ہے۔ لینے والے کو اپنی اوقات اور دینے والے کی فضیلت و برتری کا پاس رہے، اپنی کم مائیگی او ر اسکی مہربانی کا احساس رہے تو بندگی خوب نبھتی ہے۔ بندے اور مالک کا رشتہ اپنی بہترین حالت میں جڑا رہتا ہے۔ بندہ اپنے مالک سے لے کر ہی تو کھاتا ہے۔ اس لینے میں آخر عیب ہی کیا ہے، بشرطیکہ یہ احساس رہے کہ یہ رشتہ لینے اور ہاتھ پھیلانے کا رشتہ ہے۔ یہ مانگ کر لینے کا رشتہ ہے۔ لے کراقرار کرنے کا رشتہ ہے ۔ کھا کر شکر کرنے کا رشتہ ہے۔ اس رشتے کی اصل قیمت بس یہی تو ہے کہ اسے یاد رکھا جائے اور قلب وذہن سے ایک پل بھی محو نہ ہونے دیا جائے۔ کیونکہ اس کے محو ہو جانے کا مطلب پھر یہی تو ہوگا کہ یہ سب نعمتیں ، یہ صحت و شادمانی، یہ تندرستی ، یہ زندگی ، یہ جوانی ، یہ راحت اور تن آسانی، یہ بیوی بچوں کی محبت اور چاہت، یہ مسرت کے لمحات میں دوستوں کے قہقہے اور عزیزوں کی چہک ، یہ خوشیاں یہ سب نعمتیں یہاں آپ سے آپ ہیں!! یہ کسی مہربان کی دین نہیں! یہ سب کچھ روزانہ ایسے ہی یہا ں گلیوں ، بازاروں میں بے تحاشا پڑا ہوتا ہے! یہ خود بخود کہیں سے آتا ہے اور پھر کبھی کبھار خو د بخود ہی کہیں کو سدھار جاتا ہے!!

شہر کے ایک نادان بچے کی طرح جس نے کھیت اور باغات کبھی نہ دیکھے ہوں، کسانوں اور باغبانوں کا پسینہ کبھی بہتا نہ دیکھا ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ سیب ریڑھیوں کولگتے ہیں اور آم دکانوں میں اگتے ہیں۔ بندگی کا یہ رشتہ ،خدا کی ممنونیت اور احسان مندی کا یہ احساس جس لمحہ دل سے محو ہوتا ہے تو پوری زندگی ہمارے لیے ویسے ہی بے معنی اور لغو ہوکر رہ جاتی ہے۔ سب خوشیاں اور راحتیں ویسی ہی بے مقصد اور بے قیمت ہوجاتی ہیں۔ یہ خوبصورت دنیا پھر کسی کاریگر کی صناعی معلوم نہیں ہوتی، پھر سورج کے روزانہ اپنے وقت پر نکل آنے پر ہمارے لئے کوئی پیغام نہیں ہوتا۔پھر چاند کے گھٹتے بڑھتے اجالے میں کوئی عبرت اور کوئی سبق نہیں ہوتا۔ یہاں کے خوش نما پھل، پر لطف ذائقے ، یہ سب رعنائیاں اور لطافتیں ہم کو ریڑھی کا کمال نظر آتا ہے!!

مالک کی پہچان سے محروم ہوکر آدمی واقعی اتنا نیچ ہوجاتا ہے۔ جب یہ کسی کی دین نہیں تو پھر یہ لوٹ ہے!! دوستو لوٹ مچی ہو تو پھر اتنی کسی کو فرصت کہاں کہ ریڑھی سے آگے کی سوچے! کوئی رازق کو پہچانے! خالق کا پوچھے ! مالک کا پتہ کرے! منعم کا احسان مند ہو! جس کا مال کوئی لوٹ نہیں محض اس کی دین ہے! اس کا فضل اور احسان ہے! اس کو کوئی اٹھائے تو اس سے پوچھ کر، کھائے تو اس کا نام پہلے لے کر، پھر کھالے تو دل اور زبان سے اسکی مہربانی تسلیم کرے، اس کی کاریگری کی داد دے اوراس کی عظمت کے گیت گائے! پھر اپنی ذات پر اپنا یا کسی اور کا نہیں سب سے بڑھ کراسی کاحق تسلیم کرے اور نمک حلالی کا یہ حق بھی جانے کہ مالک کے سوا دنیا میں کسی اور کی بڑائی اس سے برداشت نہ ہوگی!! اس کے جیتے جی زمین میں اب کسی اور کی خدائی اور فرمانروائی نہ چل پائے گی!اتنا سوچنے کی کسی کو یہاں فرصت کہاں!!!

صاحبو! مالک کی بجائے اناج کی بندگی، رازق سے بے اعتنائی پر رزق کی طمع ، نعمت کا پاس اور منعم کی بے وقعتی۔۔۔۔ یہ دنیا میں ہمیشہ پست ہمتوں اور کم ظرفوں کاشیوہ رہاہے۔ یہاں گھٹیا انسانوں کا یہ پرانا مذہب چلا آرہاہے۔ روزہ جو اصل معبود کےلئے اختیار ی بھوک رکھ کر ہوتا ہے ، مالک کی خاطر پیاس سہہ کر رکھاجاتاہے، دراصل اسی کم ظرفی کے مذہب کا انکار ہے۔ یہ روزہ کیا ہے؟اس بات کا اعلان کہ دنیا میں خدائی روٹی کی نہیں، روٹی دینے والے اور پیدا کرنے والے کی ہے۔ جو کبھی نہ بھی دے تب بھی خدائی اسی کی شان ہے۔ ہر حال میں اپنا اس سے ایک ہی رشتہ ہے۔ یہ بندگی اور سپاس کا رشتہ ہے۔ یہ منعم شناسی ہی دراصل خود شناسی ہے۔ بھائیو اس رشتے کو جانے بغیر منعم کو پہچانے بغیر کھاتے چلے جانا ویسے کہاں کی انسانیت ہے!! اعلی ظرفی تو یہ ہے کہ کھانے سے زیادہ انسان کو کھلانے والے کی قدر ہو اور کمینگی یہ ہے کہ آدمی کو بس صرف کھانے سے غرض ہو!

پیٹ بھرے تو اس کو روٹی کا کمال جاننا کس قدر گھٹیا پن ہے! اپنا سارا مبلغ علم روٹی پکانے اور اگانے کا فن سیکھنے تک محدود کرلینا روٹی کے مالک سے بے اعتنائی تو ہے ہی، مگر بھائیو! یہ انسان کی اپنی بھی توہین ہے۔ ایسی کم ظرفی کی زندگی جوسب نعمتوں کی قدرکھو دے!! ایسی بد بختی ہر اس انسان کے حصے میں آتی ہے جو دنیا میں اللہ کے تعارف سے محروم رہے۔ جو بندگی کے پر لطف معنوں سے آشنا نہ ہو پائے۔ جسے محمد ﷺکی لائی ہوئی روشنی میں دنیا کی حقیقت دیکھ لینا نصیب نہ ہو۔ لوگ پہلے بھی یقینا ہنستے بستے اور کھاتے پیتے رہے ہونگے مگر بندگی کا مطلب سمجھا کر انسانوں کی طرح کھانا اور بندوں کی طرح نعمت کا حظ اٹھانا ان کو محمد ﷺ ہی نے آکر سکھایا ہے۔ یہ بندگی کا احساس، یا یوں کہہ لیں کہ محمد ﷺکی لائی ہوئی ہدایت ، ایک لمحہ کےلئے بھی آپ کی نظر سے اوجھل ہوئی تو سمجھئے یہ ہنستی بستی دنیا بس اندھیر ہوگئی ۔ انسان کے کھانے اور چارے کا فرق بس اسی ہدایت کے دم قدم سے تو ہے!! دنیا کے طبیب اور ڈاکٹر تو آپ کو کھانے اور چار ے کا فرق صرف غذائیت کے اعتبارسے ہی بتا سکیں گے۔ وہ تو آپ کو کیلوریوں اور ویٹامینوں کی گنتی کرنا ہی سکھا سکیں گے، مگر انسانوں کی طرح کھانا، کسی سوچے سمجھے مقصد کےلئے کھانا بلکہ کسی اعلی مقصد کےلئے کبھی نہ بھی کھان۔۔۔۔ پھر کھانے اور نہ کھانے، ہر دوصورت میں بندگی کا اقرار اور اعتراف کرنا، بلکہ نہ کھانے کی صورت میں شکم سیروں سے کہیں بڑھ کر اس کی حمد وتسبیح کرنا، بھوکا اور پیاسا رہ کر اپنی بندگی اوراس کی کبریائی کا اور بھی شدت سے اعتراف کرنا کوئی صرف محمد ﷺ سے ہی سیکھ سکتا ہے، انسان اور حیوان کا یہ فرق آپ کو سورہ محمد ہی سے معلوم ہوسکتا ہے۔

وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ (سورہ محمد:12)

خالق سے کفر کرنے والے بس کھاتے ہیں، چند روزہ زندگی کی موج کرنے میں لگے ہیں، یوں کھاتے ہیں جیسے جانور ،اور آگ ان کا گھر بننے کےلئے ان کے(انتظار میں )ہے

بھائیواور بہنو! سچ تو یہ ہے کہ محمد ﷺ مبعوث نہ ہوئے ہوتے تو ہمیں اللہ کی تو کیا اپنی پہچان بھی نہ ہو پاتی۔ ہم بھی چوپایوں کی طرح رہتے ،کھانے کےلئے جیتے، روٹی کےلئے مرتے اور حیوانوں کی طرح دفن ہوتے۔ اللہ کا درودہو محمد ﷺ پر جوہمیں زندگی کی اعلی قدریں سکھا گئے ۔ جو ہمیں اعلٰی ظرفی کا مطلب بتا گئے۔ جوہمیں جینے کا مقصد سمجھا گئے ۔بلکہ یو ں کہیئے جو ہمیں انسان بنا گئے ۔سورہ بینہ پڑھ لیجئے محمد ﷺ قرآن کا صحیفہ لے کرنہ آئے ہوتے تو دنیا مان کر دینے والی نہیں تھی۔ انسان بن جانے پر تیار نہ تھی۔ پر یہ اللہ کی رحمت تھی کہ اس نے پاکیزہ صحیفے دے کر اپنا آخری رسول مبعوث فرمایا۔ ان صحیفوں میں روشنی بھر دی اورر سول کے ہاتھ یہ مشعل تھمادی جس سے زمین روشن ہوئی اور انسانیت کی کایا پلٹ گئی! جس رات یہ صحیفے نازل ہوئے ، جس ماہ میں انسانوں کو یہ روشنی اور ہدایت ملی اس رات کواور اس ماہ کو یادگار ہونا ہی چاہیے تھا! سو یہ ہدایت ملنے کاجشن ہے جو ہدایت پا کر ہی منایا جاسکتا ہے۔ یہ آدمی کے انسان بن جانے کی تقریب ہے جس میں ہم اپنی انسانیت نکھار کر اور بندگی کو جلا دے کر شریک ہونگے اور عبادت کا خاص سلیقہ اختیار کریں گے ۔ بھائیو!! انسانیت میسر آجانے کا یہ شکر انہ کوئی زیادہ تونہیں! ہدایت کا یہ مول ہی کیا ہے!؟ مگر اللہ زیادہ طلب کرتا ہی کب ہے!

يُرِيدُ اللّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُواْ الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُواْ اللّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (البقرہ 185)

اللہ کو تمہارے ساتھ نرمی ہی مطلوب ہے سختی نہیں۔(بندگی کی یہ ادائیں تم کو سکھا دیں گئیں تاکہ تم خوشی خوشی) روزوں کی تعداد پوری کرلو اور اللہ نے تمہیں بندگی کی جو راہ دکھائی اس پر تم اللہ کی کبریائی کااظہار اور اعتراف کرو اور شکر انہ ادا کرو

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔