Wednesday, 26 August 2009

رمضان میں ہزاروں گداگر کراچی کی جانب

0 comments

گداگری ایک مافیا ہے جس کا باقاعدہ ٹھیکہ ہوتا ہے: اظہر ہاشمی

کراچی شہری حکومت نے تین روز میں چودہ سو پیشہ ور گداگروں کو حراست میں لیا ہے جن میں سے بعض کی جیبوں سے موبائل فون بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق گداگروں کا ایک مافیا ہے اور دعویٰ کیا کہ اس سال ماہ رمضان میں گداگری کا ٹھیکہ پانچ کروڑ میں حاصل کیا گیا ہے۔

ماہ رمضان آتے ہی گداگروں کی ایک بڑی تعداد کراچی کا رخ کرتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے اور ان کی اکثریت جنوبی پنجاب کے علاقوں رحیم یار خان، راجن پور، خانپور کٹورہ، صادق آباد اور بہاولپور سے تعلق رکھتی ہے۔

شام کو شہر کے تجارتی مراکز کلفٹن، ڈیفنس، نارتھ ناظم آباد، حیدری، گلشن اقبال، طارق روڈ اور صدر کے بازاروں اور ٹریفک سگنلز پر بچے، خواتین اور مرد مختلف واسطے دے کر گداگری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

زیب النساء اسٹریٹ پر میلے کپڑوں میں موجود بارہ سالہ زینب خانپور کٹورہ سے آئی ہیں۔ ان کےساتھ ان کے بہن بھائی بھی موجود تھے جو سب بھیک مانگتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے بوڑھے والد بھی یہ کام کرتے ہیں۔ زینب کا کہنا ہے کہ انہیں مانگنا پسند نہیں ہے مگر والد بھیج دیتے ہیں۔

ایدھی ویلیج والوں کا کہنا ہے خواجہ سراؤں کو نہ لایا جائے اس وجہ سے ان کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی۔گزشتہ سال شہری حکومت نے خواجہ سراؤں کے خلاف بھی کارروائی کی تھی مگر اس مرتبہ صرف گداگروں کے خلاف مہم جاری ہے۔

چیف وارڈن رضا ہاشمی

صدر بازار میں موجود محمد بخش شکاپور سے آئے ہیں جہاں وہ مزدوری کرتے تھے جس سے سو روپے دہاڑی ملتی تھی۔ ان کے مطابق گداگری میں کبھی اسی تو کبھی سو روپے مل جاتے ہیں جبکہ کھانا وہ کسی ہوٹل کے باہر کھا لیتے ہیں اور رات فٹ پاتھ پر گذار لیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مزدوری سے گذارہ نہیں ہوتا۔ ماہ رمضان میں وہ کراچی میں گداگری کرکے کچھ پیسے حاصل کرلیتے ہیں اور بچوں کی عید اچھی ہوجاتی ہے۔

کراچی شہری حکومت کی جانب سے قائم سٹی وارڈنز فورس کی جانب سے گداگروں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ چیف وارڈن اظہر ہاشمی نے بی بی سی کو بتایا کہ پندرہ سو وارڈنز شہر کی تمام بڑی شاہراہوں، چورنگیوں، تجارتی مراکز پر تعینات کردیےگئے ہیں جس کی وجہ سے ان چورنگیوں پر یہ پیشہ ور گداگر مسافروں سے بھیک نہیں مانگ سکتے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان پیشہ ور گداگروں کی وجہ سے لوگ کو مشکلات ہوتی ہے اور وہ خریداری نہیں کرسکتے۔ یہ افراد حادثات کے علاوہ بعض جرائم میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔

اظہر ہاشمی کے مطابق یہ ایک مافیا ہے جس کا باقاعدہ ٹھیکہ ہوتا ہے اور انہیں پتہ چلا ہے کہ اس مرتبہ پانچ کروڑ میں یہ ٹھیکہ گیا ہے۔ چیف وارڈن نے اعتراف کیا کہ ابھی تک وہ کسی سرغنہ کو پکڑنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

بارہ سالہ زینب خانپور کٹورہ سے آئی ہیں ان کےساتھ ان کے بہن بھائی بھی بھیک مانگتے ہیں

گزشتہ سال شہری حکومت نے خواجہ سراؤں کے خلاف بھی کارروائی کی تھی مگر اس مرتبہ صرف گداگروں کے خلاف مہم جاری ہے۔ چیف وارڈن اظہر ہاشمی کا کہنا ہے کہ ایدھی ویلیج والوں کا کہنا ہے خواجہ سراؤں کو نہ لایا جائے اس وجہ سے ان کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی۔

ان گداگروں کو سپر ہائی وے پر ایدھی ویلیج چھوڑا جاتا ہے جہاں سے دو تین روز کے بعد انہیں جانے کی اجازت مل جاتی ہے۔

فلاحی تنظیم ایدھی ویلفیئر کے اہلکار انور کاظمی کے مطابق ان کے پاس کوئی جیل تو نہیں، اور نہ ہی خاطر خواہ انتظامات اتنی بڑی تعداد میں لوگ آکر ہنگامہ آرائی کرتے ہیں اور حکام سے سکیورٹی بھی مشکل سے ملتی ہے۔

ان کے مطابق ان گداگروں کو رہائش اور کھانا فراہم کیا جاتا ہے اور جب ان کے رشتے دار آکر یقین دہانی کراتے ہیں تو اس کے بعدانہیں جانے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔

سٹی وارڈنز کی یہ مہم عید تک جاری رہے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ کامیاب مہم کے بعد کراچی میں آئے ہوئے پیشہ ور گداگر مایوس ہو کر دیگر شہروں کا رخ کررہے ہیں۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔