Thursday, 20 August 2009

نظریاتی جدوجہد

0 comments

اس عمل کی جان جس چیز میں ہے، اگر ہم چند جملوں میں سمیٹنا چاہیں، تو وہ ہے:

اپنے وقت کی جاہلیت کے ساتھ اپنے وقت کی زبان میں ایک نہایت گہرا اور اصیل اختلاف سامنے لے کر آنا اور اسی کو سب سے پہلے اپنا اور پھر اپنے معاشرے کا مسئلہ بنا دینے پر پورا زور لگا دینا۔جاہلیت کے ساتھ ’مشترک‘ نکات میں جلدی کرنے کے بجائے جاہلیت کے ساتھ اپنے نہایت بنیادی ’متنازعہ‘ نکات کو ہی نمایاں ترین کر دینا اور حتیٰ کہ ’مشترک نکات‘ کو بھی بڑی حد تک ’متنازعہ‘ نکات پر ہی موقوف ٹھہرا دین۔۔ غرض حقیقتِ توحید کی بنیاد پر، اور انبیاء کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، ایک ایسا تنازعہ کھڑا کر دینا جس کا ’بظاہر‘ کوئی حل نہ ہو بلکہ واقعتاً کوئی حل نہ ہو سوائے یہ کہ دونوں میں سے ایک فریق اپنی ’ضد‘ چھوڑ دے، یا پھر اللہ ہی ان دونوں کا جو فیصلہ کر دے۔ (يَحْكُمَ اللّهُ بَيْنَنَا وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ)

اس اسلوب کے سامنے آنے کی دیر ہوتی ہے کہ معاشرے میں آپ سے آپ ایک ہلچل کھڑی ہو جاتی ہے، اور دعوت کا پہلا مرحلہ تو سمجھئے یہیں سر ہو جاتا ہے۔۔۔۔

پس جن زرق برق عبارتوں سے جاہلیت اپنا ننگ چھپاتی ہے ہمارا کام یہ نہیں ہوگا کہ ہم بھی انہی کی تحسین میں لگ جائیں بلکہ خود بھی انہی کو مستعار لینے کی سوچیں! آپ کو اپنا مقدمہ خود اپنی اصطلاحات کے ساتھ سامنے لانا ہوگا، جس کے ہر ہر لفظ کی تعبیر اور ترجمانی کا حق صرف آپ رکھتے ہوں گے۔ فریقِ دیگر ان کو قبول یا رد کرنے کا اختیار ضرور رکھے گا اور ضرور اس پر ماحول میں ایک طویل مکالمہ بھی ہوگا، مگر وہ کوئی ایسی دھول نہیں اڑا سکے گا جس میں آپ اپنے ’مقدمہء دعوت‘ سمیت روپوش ہو جائیں اور ’بطورِ فریق‘ ہی بالآخر آپ کا وجود محل نظر ہو جائے’کہ ہے نہیں ہے‘! وہ کوئی ایسی واردات نہیں کر سکے گا کہ مسئلے کا سرا ہی کہیں گم ہو کر رہ جائے؛ لوگ ہمیں ’بولتا‘ پائیں مگر ہمارا ’مدعا‘ روپوش ہو!

ابتدا میں معاشرے کا ہر شخص اس بظاہر ’خوامخواہ‘ کے اختلاف کو نہایت حیران ہو کر دیکھتا ہے۔ جاہلیت کی پشت پر صرف ’اسٹیٹس کو‘ کی دلیل ہوتی ہے جوکہ اس وقت تک نہایت معقول لگتی ہے بلکہ معقول ہے جب تک ’حق‘ میدان میں نہیں اترا ہوتا۔ اور ویسے یہ ’اسٹیٹس کو‘ کا حق بھی ہے کہ اس کے مقابلے میں میدان کے اندر اگر ’حق‘ نہیں بلکہ کوئی ’مسئلہ‘ ہے، یعنی باعثِ تنازعہء آں صاف صاف اگر حق اور باطل کا جھگڑا نہیں تو نہایت معقول بات یہی ہے کہ پھر جو چیز پہلے سے ہے، یعنی ’اسٹیٹس کو‘، اسی کو ہی برقرار رہنے دیا جائے۔ اسی لئے اسلامی دعوت کو، جو یہاں ایک بہت ہی بنیادی اور جان دار تبدیلی کا تقاضا کر رہی ہوگی، ’عجیب وغریب‘ نظروں سے دیکھا جاناابتدا میں ایک نہایت طبعی امر ہو گا اور اس کے لئے آپ کو پہلے سے تیار بھی رہنا ہوگا۔ مگر پھر جب اس ’تنازعہ‘ کی حقیقت سامنے آتی ہے اور جس پر کہ دعوت کا بے حد زور لگتا ہے تو رفتہ رفتہ عقل، خرد، ضمیر، فطرت، حق پرستی ایک فریق کے ساتھ کھڑی ہونے لگتی ہے اور جہالت، ظلم، بے حسی، مفاد پرستی اور عاقبت نا اندیشی دوسرے فریق کے ساتھ۔ ایسے اعلیٰ اختلاف کی جب ایک بنیاد رکھ دی جائے تو پھر وہ آپ ہی اپنا بیان ہوتا ہے اور آپ ہی اپنا عنوان اور آپ ہی اپنی اپیل اور جاذبیت۔ آپ کا کا کوئی کام ہوتا ہے تو بس یہ کہ اُسی ’اختلاف‘ پر اپنا زور بڑھاتے چلے جائیں، باقی کام وہ خود کرے گا! ماحول میں آپ کو ایک راستہ بنا کر دینااب اُس کی ’ذمہ داری‘ ہوگی! روشنی کو اندھیرے پر فوقیت پانے کیلئے کس چیز کی ضرورت؟؟؟ ایک ’نیا راستہ‘ بننے کیلئے ’راستوں کا فرق‘ سامنے لایا جانا ہی تو اس عمل کا نقطہء اساس ہے! لہٰذا اشد ضروری ہوتا ہے کہ سوائے ’مسئلہء حق وباطل‘ کے اور سوائے ایک اصیل ’تنازعہء اسلام وجاہلیت‘ کے کوئی مسئلہ ’ہائی لائٹ‘ ہونے ہی نہ دیا جائے۔ خود دعوت کی جان جب اس تنازعہ کی شدت میں ہے اور اسی کے ’دعوت‘ کے اندر سے پھوٹ پھوٹ کر نکلنے میں، تو وہ دیگر ’مسئلے‘ تو آپ سے آپ اس تنازعہ کے تابع ہوئے جو کسی وجہ سے اصحابِ دعوت کو پریشان کر رہے ہوں!

اب جس ’اختلاف‘ کی پشت پر آسمانی صحیفے بول رہے ہوں، انبیاءکا مقدمہء دعوت خطاب کر رہا ہو، مقصد تخلیق بولتا ہو، اور جس کے حق میں زمین، آسمان اور پوری کائنات کی گواہی ہو، اور جس کے سامعین عقل وفطرت ہوں، ضمیر اور شعور ہوں، قلوب اور اذہان ہوں اور انسانوں کے اندر ودیعت کر دی گئی وہ قدرتی استعداد ہو جو حق سے ٹکرانے کی بجائے حق کو سراہتی ہے بے شک کچھ دیر کیلئے اس کی آنکھ پر معاشرے کا پردہ کیوں نہ پڑا رہے اور جس کو کھینچ کر اتارنا دعوت کے فرائض میں سے ہی ایک فریضہ ہے۔۔ جس ’اختلاف‘ کا خطاب انسان کے اندر پائی جانی والی اس فطری استعداد سے ہو جوکہ خدا کے ساتھ معاملہ کرنے میں اور خدا کے عذاب اور ثواب میں سے کسی ایک کا چناؤ کرنے میں کوئی خطرہ مول لینا اپنے حق میں بہرحال نقصان دہ جانتی ہے۔۔۔۔ اور پھر جبکہ یہاں تو جاہلیت کے ساتھ اپنے اس تنازعہ میں طرفدار ہونے کیلئے پوری ایک امت پائی جاتی ہے اور پہلے سے اس کی راہ تک رہی ہے۔۔۔۔ اس اختلاف کے سامنے، اگر وہ پوری ’شدت‘ سے سامنے لے آیا جائے، جاہلیت بھلا کیونکر اور کب تک کھڑی رہ سکے گی؟ یہی وجہ ہے کہ ’تفصیلِ آیات‘ کا ’سبیل المجرمین کے واضح وعریاں ہوجانے‘ کے ساتھ ایک گہرا تعلق ہے، اور حق کیلئے راستہ بس یہیں سے کھل جاتا ہے۔

وَكَذَلِكَ نفَصِّلُ الآيَاتِ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ (الانعام:55)

” اور اسی طرح ہم تو اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے“۔

یقین کیجئے جاہلیت کے تن سے ’اسٹیٹس کو‘ کی عبا اتارنا، ’دستوری بحثوں‘ اور ’آئینی شقوں کے حوالوں‘ سے نہیں ’تفصیلِ آیات‘ سے ہی ممکن ہے۔ قوم کے ساتھ اپنے موضوعات آپ کو بالکل بدل کر رکھ دینا ہوں گے اور ایک سراسر مختلف اپروچ اختیار کر لینا ہوگی۔ اس کیلئے پہلے تو ’مقدمہء دعوت‘ کو ہی ایک ترتیبِ نو دینا ہو گی۔ مگر بہت جلد، ان شاءاللہ، یہاں آپ ایک اور سماں پیدا کر لیں گے۔۔۔۔

’طریقتکم المثلیٰ‘ ایسے زعم کے تحت جاہلیت جن زرق برق عبارتوں سے اپنا ننگ چھپا کر رکھتی ہے، اور اس کی ہمیشہ یہی ریت رہی ہے۔۔۔۔ کمیونسٹ معاشرے تھے تو وہاں یہ کمال کے نعرے رکھتی تھی، بلکہ ’ترقی پسندوں‘ کا ادب دیکھیں تو پوری دکھی انسانیت کا غم گویا انہی کے دل میں ہے۔۔ یہی حال ’جمہوریت‘ کے نعروں کا ہے جوکہ عوام کو بے وقوف بنانے کی سب سے زیادہ امکانی استعداد رکھتی ہے، بے شک کوئی صدر ’دوتہائی اکثریت‘ سے آیا ہو یا چپکے سے آئین میں ’ترمیم‘ کر کے، نفس الامر میں کوئی بھی فرق نہیں، کھیل چند ہی لوگوں کا ہوتا ہے، باقی سب ’مشقت‘ کرتے ہیں۔۔ یہی حال ’فری مارکیٹ اکانومی‘ کا ہے جوکہ غلامی کی ایک نہایت ترقی یافتہ صورت ہے۔۔ اور یہی حال ’سول سوسائٹی‘ کے افسوں کا۔۔۔ ’حق‘ کے سوا یہاں سب فریب ہے، چاہے کوئی کتنا ہی اخلاص کیوں نہ رکھتا ہو، اور اس ’حق‘ کا تعین صرف شریعت کرتی ہے اور اس کا روپزیر ہونا بھی ’شریعت‘ کے لئے دوڑ دھوپ کرنے سے ممکن ہے، خاص طور پر اس امت کے حق میں۔۔۔۔

وہ سب ’چمکیلے‘ نعرے اور شعار جو ’قومی اپیل‘ کی راہ سے، یا ’وقتی مسائل‘ کی منطق سے، یا ’ہنگامی ضرورت‘ کا طریقہء واردات اختیار کر کے مسلم زبانوں پر آنا چاہ رہے تھے، سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نام کا شخص ان کی راہ میں اکیلا چٹان بن کر کھڑا تھا! حالانکہ وقت بھی کونسا تھا؟ پچھلی ڈیڑھ صدی سے اس قوم کی تاریخ میں آنے والا سب سے نازک وقت، کہ جب ’تقسیم ملک‘ کا سوال کھڑا تھا اور ایک نئی ’قوم‘ معرضِ وجود میں آنے والی تھی۔ آپ ’تحریکِ آزادیِ ہند‘ پڑھ کر حیران رہ جاتے ہیں، ایسی ایسی ’ہنگامی‘ صورتحال کہ جس پر بظاہر ’قوم‘ کی زندگی موت کا سوال ہے اور اس پر ’ذرا سی‘ چھوٹ دے دینے کی منتیں اور سماجتیں ہوتی ہیں مگر ”عقیدہ“ کا ایک داعی اپنے موقف سے ایک انچ ہٹنے پر تیار نہیں۔ صرف اتنا نہیں بلکہ وہ ’ہنگامی اور وقتی مسائل‘ کی منطق کے ایسے پرخچے اڑاتا ہے گویا سنگریزے ایک پہاڑ سے ٹکرا کر ہوا میں تحلیل ہو رہے ہیں!

پس جاہلیت جن عبارتوں کو صبح شام جپتی ہوہم بھی انہی عبارتوں کا ورد کرنے لگیں تو ’راستوں کا فرق‘ کہاں سے آئے گا؟ جاہلیت جو نعرے صبح شام الاپتی ہو ہم بھی انہی میں اپنے لئے ’گنجائش‘ ڈھونڈیں تو جاہلیت کے ساتھ ہمارا وہ ’امتیاز‘ جس سے درحقیقت ہماری زندگی شروع ہوتی ہے اور جاہلیت کی موت، آخر کہاں سے برآمد ہوگا؟

پس جن زرق برق عبارتوں سے جاہلیت اپنا ننگ چھپاتی ہے ہمارا کام یہ نہیں ہوگا کہ ہم بھی انہی کی تحسین میں لگ جائیں بلکہ خود بھی انہی کو مستعار لینے کی سوچیں! آپ کو اپنا مقدمہ خود اپنی اصطلاحات کے ساتھ سامنے لانا ہوگا، جس کے ہر ہر لفظ کی تعبیر اور ترجمانی کا حق صرف آپ رکھتے ہوں گے۔ فریقِ دیگر ان کو قبول یا رد کرنے کا اختیار ضرور رکھے گا اور ضرور اس پر ماحول میں ایک طویل مکالمہ بھی ہوگا، مگر وہ کوئی ایسی دھول نہیں اڑا سکے گا جس میں آپ اپنے ’مقدمہء دعوت‘ سمیت روپوش ہو جائیں اور ’بطورِ فریق‘ ہی بالآخر آپ کا وجود محل نظر ہو جائے’کہ ہے نہیں ہے‘! وہ کوئی ایسی واردات نہیں کر سکے گا کہ مسئلے کا سرا ہی کہیں گم ہو کر رہ جائے؛ لوگ ہمیں ’بولتا‘ پائیں مگر ہمارا ’مدعا‘ روپوش ہو!

جاہلیت کے سب زرق برق لباس اس سے دور کر دینا بغیر اس کے کہ اس کی اترن کو آپ اپنے قریب آنے دیں۔۔۔۔ ’نکتہء نظر‘ کی بجائے سیدھا سیدھا اس کو ’عقیدہ‘ کا اختلاف بنا ڈالن۔۔۔۔ طویل ’وضاحتوں‘ کی بجائے ’چند لفظوں‘ میں بات ختم کرنا جوکہ ’عوام‘ میں اترنے سے پہلے ایک دعوت کی بے حد بنیادی ضرورت ہے۔۔۔۔ جاہلیت کے ساتھ صاف صاف ایک حملہ آور اسلوب اختیار کرن۔۔۔۔ ’علم‘ اور ’آگہی‘ اور ’روشن خیالی‘ ایسے اس کے سب زعم اور دعوے بے بنیاد ثابت کر دینا، کہ جس کے ہو جانے کے بعد ہی آپ کے لئے معاشرے میں کوئی جگہ بنے گی۔۔۔۔ ’مالک‘ ہونے میں ’اشتراکیتِ خلق‘ کا فسوں ہو جوکہ مشرقی بلاک کا طریقہء واردات تھا، یا ’حاکم‘ ہونے میں ’سلطانیِ جمہور‘ کا طلسم جوکہ مغربی بلاک کی دی ہوئی سوغات ہے، جاہلیت کو ایسے تمام چمکیلے القابات رکھنے کے علی الرغم صرف اور صرف ظالم، سرکش، جاہل اور معتدی کے طور پر سامنے لانا بلکہ اس بھڑکتے چمکیلے لبادے میں اس کو اور بھی پھوہڑ اور بدنما بنا کر دکھانا۔۔۔۔ یہ دعوت کے مطالب میں سے ایک اہم مطلب ہے اور اس کے متحقق ہونے کا جہاں اور کئی ایک باتوں پر انحصار ہے وہاں ان میں سے ایک بات بلکہ دعوت کی ایک اہم ضرورت یہ بھی ہے کہ لفظوں اور تعبیروں کے اس اشتراک کو کم سے کم کر دیا جائے جو آمنے سامنے کے ان دو صفحوں کو ’ایک ہی اسلوب‘ میں پڑھا جانے کا احتمال پیدا کراتا ہو۔

نہ ہم ان کے شعارات کی ’اپنی‘ تشریح کریں اور نہ وہ ہمارے تقاضوں اور مطالبوں کو اپنی ’لغت‘ کے مطابق لیں۔۔ اور نہ معاملہ کہیں ’بیچ‘ میں الجھا رہے، اس کیلئے زیادہ سے زیادہ کوشش ہونی چاہیے کہ ہر دو جانب سے ’ملتا جلتا‘ نعرہ نہ لگ رہا ہو! ہر دو فریق کا نعرہ اگر ایک سا ہے تو اس صورت میں جو فریق فائدے میں رہے گا اس کا نام ’اسٹیٹس کو‘ ہے البتہ آپ جو ایک ’حقیقی تبدیلی‘ کا ایجنڈا رکھتے ہیں ایسے ’مشترک نعرے‘ لگانا کچھ دیر ضرور ایک ’پیش قدمی‘ جانیں گے مگر بالآخر گھر لوٹنے پر مجبور ہوں گے!

پس جو چیز ہمیں تیس اور چالیس کے عشروں میں یہاں کی تحریک اسلامی میں نظر آتی ہے وہ یہ کہ اس نے اپنے زمانے کی جاہلیت کے ساتھ ایک نہایت اصیل اور گہرا اختلاف کرنے کا سراغ پا لیا تھا۔وقت کی جاہلیت کے ساتھ وقت کی زبان میں اختلاف ہونے لگا تھا اور اپنے اس اختلاف کی پشت پر نبیوں اور صحیفوں اور فطرت اور مقصدِ تخلیق کی گواہی کو لے آنے کا انتظام ہونے لگا تھا۔ جاہلیت کو عین اس کی اساس سے ہاتھ ڈال دیا گیا تھا۔ ایک ایسا تنازعہ کھڑا کر دیا گیا تھا جس کا کوئی حل نہیں ہوتا سوائے یہ کہ اپنے عقیدہ اور طرزِ حیات کے اعتبار سے ایک ’فریق‘ یہاں رہے اور ’دوسر‘ا نہ رہے۔’قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں‘ کے مندرجات پر ضرور بات ہوسکتی ہے (اور ہم بھی یقیناً اس پر کچھ ملاحظات رکھتے ہیں) مگر یہ اپنے اس حقیقت کے بیان میں بہت واضح تھی کہ یہ اختلاف دو عقیدوں دو ملتوں کا اختلاف ہے اور مسئلہ خدا کو الہٰ اور رب ماننے یا نہ ماننے کا ہے۔۔ ایسا گہرا اختلاف۔۔۔۔!!!

وہ سب ’چمکیلے‘ نعرے اور شعار جو ’قومی اپیل‘ کی راہ سے، یا ’وقتی مسائل‘ کی منطق سے، یا ’ہنگامی ضرورت‘ کا طریقہء واردات اختیار کر کے مسلم زبانوں پر آنا چاہ رہے تھے، سید مودودی رحمۃ اللہ علیہ نام کا شخص ان کی راہ میں اکیلا چٹان بن کر کھڑا تھا! حالانکہ وقت بھی کونسا تھا؟ پچھلی ڈیڑھ صدی سے اس قوم کی تاریخ میں آنے والا سب سے نازک وقت، کہ جب ’تقسیم ملک‘ کا سوال کھڑا تھا اور ایک نئی ’قوم‘ معرضِ وجود میں آنے والی تھی۔ آپ ’تحریکِ آزادیِ ہند‘ پڑھ کر حیران رہ جاتے ہیں، ایسی ایسی ’ہنگامی‘ صورتحال کہ جس پر بظاہر ’قوم‘ کی زندگی موت کا سوال ہے اور اس پر ’ذرا سی‘ چھوٹ دے دینے کی منتیں اور سماجتیں ہوتی ہیں مگر ”عقیدہ“ کا ایک داعی اپنے موقف سے ایک انچ ہٹنے پر تیار نہیں۔ صرف اتنا نہیں بلکہ وہ ’ہنگامی اور وقتی مسائل‘ کی منطق کے ایسے پرخچے اڑاتا ہے گویا سنگریزے ایک پہاڑ سے ٹکرا کر ہوا میں تحلیل ہو رہے ہیں!

’راستے‘ در حقیقت یونہی بنائے جاتے ہیں۔ حق کی روشنی کو اندھیرے کی چادر پھاڑ کر آنا ہوتا ہے نہ کہ اندھیرے کے ساتھ ’معاملہ‘ کر کے۔چنانچہ اس ’راستے‘ کے ابھی آثار ہی نظر آنے لگے تھے، گو اس کے بہت کچھ خدوخال واضح ہونے کی ابھی مزید ضرورت تھی، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ’چلنے‘ کا شوق اور طلب رکھنے والے پورے برصغیر سے پروانوں کی طرح امڈ کر آنے لگے تھے۔ایک چیز تھی جو اس کی صدا میں بول رہی تھی۔ ایک شان تھی جو اس کارواں کے جادہ پیما ہونے میں دیکھی جانے لگی تھی۔ اس کی دھمک کا اثر براہِ راست عرشِ باطل کی بنیادوں پر پڑ رہا تھا۔

کوئی حرج کی بات نہیں کہ ہم اپنی طاقت کے اسی سرچشمے پر پھر سے جا بیٹھیں۔ بے شک ہمارا کام کچھ نیچے گیا ہو، مگر کوئی چیز بھی ہماری پہنچ سے باہر نہیں۔ تھوڑی کوشش کر کے ہم آج بھی ’فضائے بدر‘ پیدا کر سکتے ہیں۔کمیونسٹوں کی طرح نہ ہم مرے ہیں اور سرمایہ داری اور سلطانیِ جمہور کی نوید دینے والوں کی طرح نہ ہم قریب المرگ ہیں۔ ہم دنیا میں سب سے تیزی کے ساتھ اٹھنے والی قوت ہیں، اس وقت میں جب تہذیبیں اور نظریے دھڑا دھڑ وفات پا رہے ہیں۔ ہمیں ’راستے‘ کی کچھ دھول ہٹانا ہوگی، یہاں چلنے والے بھی ہیں جو اپنی شدتِ طلب سے اس بار تو شاید ہمیں حیران ہی کر جائیں اور چلنے کی صلاحیت بھی کمال درجے کی ہے، اور شاید بہت زیادہ ہمیں چلنا بھی نہ پڑے۔۔۔۔ البتہ ”چلنے“ کا فیصلہ ہمیں ہی کرنا ہے۔

(ایک طویل مضمون سے اقتباس، بہ عنوان ”اسلامی قیادتیں اب یا کبھی نہیں“، ایقاظ شمارہ اکتوبر تا دسمبر 2008)

٭٭٭٭٭

از ”دعوت کا منہج کیا ہو؟“ مؤلفہ محمد قطب

یہ واضح کر دینے کے بعد کہ وہ”الہ واحد تنہا لائق بندگی ہے“ لوگوں کے سامنے یہ مطالبہ رکھا گیا کہ وہ اللہ کی بلا شرکت غیرے بندگی کریں کیونکہ انکی یہ بندگی صرف ایک اسی کا حق ہے ، نیز یہ کہ وہ اس کے ساتھ جن جھوٹے خداوءں کا دم بھرتے ہیں ان کو اب ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں اب وہ صرف اس شریعت کی پیروی کریں جو ان کے لیے ان کے رب کی جانب سے اتاری گئی اور اپنے سب قانون ساز خداؤں کی اتباع ترک کردیں۔

اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء (الاءعراف ۔3)

لوگو جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو

چنانچہ اس مطالبے کی بنا پر لوگ دو گروہوں میں بٹ گئے ۔ ایک وہ فریق جو اس بات پرا یمان لے آیا کہ وہ الہ واحد تنہا لائقِ بندگی ہے معاً وہ اللہ کی بلا شرکت غیرے بندگی کرنے لگے اور اپنے رب کی جانب سے اترآنے والی شریعت پر کار بند ہوگئے اور دوسرا مجرموں کا فریق جو اس پر ایمان لانے سے انکاری ہوا اور اس بات پر آمادہ نہ ہوا کہ وہ تنہا اللہ کی عبادت کرنے لگے اور ایک اسی کی اتاری ہوئی شریعت پر کاربند ہو جائے۔
چنانچہ انسانی گروہوں کی یہ تقسیم جو شرعاً مطلوب تھی جب پوری طرح عمل میں آگئی تو بھلا اب قریش کی پوزیشن کیا تھی؟

آیات کے ”کھول کھول کر“ بیان کئے جانے سے پہلے قریش اپنی قوم کے ’معتبر‘ اور ’بزرگ‘ تھے اور اس ناطے سے صاحبِ اختیار و اقتدار بھی۔ اور جہاں تک اہل ایمان کا تعلق تھا تو قریش کی نظر میں، بلکہ عام لوگوں تک کی نظرمیں، وہ اس ’صاحبِ اختیار‘ کے خلاف بغاوت کرنے والے تھے۔ مگر آیات کے ”کھول کھول کر“ بیان کردیے جانے کے بعد اور قریش کی جانب سے اس بات کا پے درپے انکار ہوجانے کے بعد کہ وہ الٰہِ واحد پر ایمان کی صورت میں اللہ کی تنہا بندگی اور اس کی شریعت کی اتباع کرنے لگیں آیات یوں کھول کھول کے بیان ہوجانے اور قریش کی جانب سے مسلسل انکار ہوتے رہنے کے بعد بھلا اب کیا صورتحال تھی؟ کیا اب بھی قریش ویسا ہی جوازِ اقتدار رکھتے تھے؟ اور کیا اہل ایمان الگ تھلگ راستہ اورایک بالکل نئی قیادت کی اتباع کرنے کی بنیاد پر کیا اب بھی ویسے ہی باغی قرار دیے جاسکتے تھے جو آیات ”کھول کھول کر“ بیان نہ کئے جاسکنے کی صورت میں قرار پاتے؟ یا صورتحال اب کم از کم منصف مزاج لوگوں کے دیکھنے کی حدتک بدل چکی تھی؟ ظاہری بات ہے کہ اب معاملہ بالکل ایک نئی صورت اختیار کرچکا تھا۔ قریش جیسے مانے تانے صاحبِ اختیار، اب مجرم بن چکے تھے اور ہاتھ اٹھانے کا حق اب اہل ایمان کو حاصل ہوچلا تھا!

دعوت کے سفر میں یہ ایک بہت بڑی تبدیلی تھی اور ہر حال میں مطلوب ۔ یعنی یہ کہ دیکھنے والے لوگ بھی یہ جاننے لگیں کہ مجرم دراصل کون ہے اور ان کا طریق کار اور ان کے کرتوت کیا ہیں، پھر دوسری جانب وہ یہ بھی دیکھ لیں کہ حق پر کون کھڑا ہے اور حق کا راستہ کونسا ہے۔

قریش کا معاملہ خصوصاً عام ’صاحبِ اختیار‘ لوگوں سے بڑھ کر تھا۔ ان کے بارے میں لوگ اس وجہ سے بھی اشکال کا شکار تھے کہ قریش بیت اللہ کے رکھوالے تھے جس کی عرب حد سے زیادہ تعظیم کرتے تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ قریش ہی اس وقت صاحبِ ثروت اور جاہ و حشمت کے مالک تھے اور عربوں میں سب سے اونچا حسب و نسب بھی انہی کا سمجھا جاتا تھا۔

چنانچہ جاہلی پیمانوں کی رو سے قریش کو سب اعزاز حاصل تھے جو انہیں جوازِ اقتدار فراہم کئے رکھنے کےلئے کافی ہوں۔ پھر وہ اس تحریف شدہ دین کے بچے کچھے حصے کے علمبردار بھی تھے جسے وہ فخر سے ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام سے منسوب کیا کرتے تھے۔ اتنے اعزازات کے ہوتے ہوئے قریش کے ہاتھ سے ”اختیارات کا جواز“ چھین لینا ہرگز کوئی آسان کام یا دنوں میں طے پا جانے والا عمل نہ تھا۔ خاص طور پر جبکہ یہ مٹھی بھر لوگ جو ان’ جائز اختیارات کے مالک‘ کے کہے سے باہر ہوئے دیکھے جا رہے تھے، وہ کمزور و ناتواں تھے جن کے پاس کوئی بڑی قوت تھی اورنہ سوائے اللہ کے کسی اور بڑی طاقت کی پشت پناہی۔

ایسی صورت حال میں صرف اورصرف صحیح عقیدہ کی دعوت اور اس پر ڈٹ رہنا ہی وہ چیز تھی جوقریش کے پاس اختیار کا جوا ز نہ رہنے دے اور ان کو پوری طرح بے نقاب کردے تا کہ دیکھنے والے جان لیں کہ دراصل یہ اختیار رکھنے کے حقدار نہیں بلکہ مجرم ہیں اوراالٰہِ واحد پر ایمان لانے سے انکاری اور تنہا اس کی بندگی کرنے اور اسکی شریعت پر چلنے سے منکر۔

یہاں اب ہم یہ سوال کرسکتے ہیں کہ مکہ میں اہل ایمان اگر کہیں اسی مرحلہ میں قریش سے کوئی مسلح معرکہ کرلیتے تو کیا تب بھی یہ ممکن تھا کہ سبیل المجرمین اس انداز سے واضح ہوجاتا؟ اس وقت اگر وہ کوئی لڑائی چھیڑ لیتے جبکہ لوگوں کے ذہن پر ابھی قریش ہی کے مرتبے اور بزرگی کا بھرم قائم تھا اور ان کی نظر میں ابھی قریش ہی کو اختیارات رکھنے کا جواز حاصل تھا اور جبکہ لوگوں کی نظر میں ابھی اہل ایمان کی پوزیشن یہی تھی کہ وہ کچھ نوجوان ہیں جو اپنے بڑوں اورسرداروں کے کہنے میں نہیں تو کیا ایسی حالت میں معرکہ آرائی ہوجانے کی صورت میں کسی کے ذہن میں یہ بات سما سکتی تھی____ جیسا کہ انصار کے ذہن میں بالآخر سما گئی ____ کہ اس مسئلے کو جانچنے کا معیار دراصل کوئی اور ہے!؟ اس مسئلے کو جانچنے اور اس جھگڑے کی حقیقت جاننے کےلئے معیار محض یہ نہیں کہ بیت اللہ کے رکھوالے کون ہیں؟مال ودولت اور جاہ وحشمت زیادہ کس کے پاس ہے؟ قوت زیادہ کون رکھتا ہے!؟ عرف میں کس کی کیا حیثیت ہے !؟ اور تاریخی طور پر آج تک کس کو کیا مرتبہ حاصل رہا ہے؟ بلکہ یہ کہ اس مسئلے کو جانچنے کا معیار لا الہ الاللہ ہے !؟ایک اللہ وحد ہ لا شریک کی الوہیت پر ایمان ہے !؟ اور یہ کہ یہ ساری رسہ کشی کسی اور مقصد کے لیے نہیں ہورہی بلکہ یہ سارا جھگڑا اللہ تعالی کے ہاں سے اترنے والی ہدایت اور شریعت کی پیروی کا جھگڑا ہے!؟ اور یہ کہ فریقین میں اصل تنازعہ یہی ہے کہ دنیا میں بندگی کس کی ہو اور یہ کہ جب تک اس اصل جھگڑے کا فیصلہ نہیں ہوجاتا تب تک فریقین کے مابین اختلافات تھم جانا ممکن نہیں۔ گویا اب سب باتوں کا انحصار بس اسی ایک بات اور اسی ایک مسئلے پر ہے!؟

کیا ایسی صورت میں، یعنی قبل از وقت لڑائی بھڑائی کی صورت میں، یہ ممکن تھا کہ جس حق کو اہل ایمان نے گلے لگا رکھا تھا اور جس انداز سے گلے لگا رکھا تھا وہی حق اسی انداز کے ساتھ آس پڑوس کے کچھ اورلوگوں کے دلو ں تک بھی ویسے ہی راستہ پالیتا اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ تماشائیوں کے دل میں ویسی ہی جگہ کرلیتا جیسا کہ وہ انصار کے دلوں تک راہ پانے میں بالآخر کامیاب ہو ہی گیا قریش کے ساتھ معرکہ چھیڑلینے کی صورت میں کیا یہ سب کچھ اسی انداز سے ہوجاتا؟ فریقین میں اس وقت اگر جنگ ہوجاتی تو کیا ایسا نہ ہوتا کہ اس جنگ کی ساری گرد خوداسی مسئلے پر آپڑتی جس کے لیے یہ جنگ کی جانا تھی!؟ حقیقتِ توحید جو کہ اس تنازعہ کی بنیاد تھی ، وہ کہیں بیچ میں ہی چھپ کر نہ رہ جاتی !؟ تب یقینا لا الہ الا اللہ کا یہ جھگڑا دیکھنے والوں کی نگاہ سے روپوش ہوجاتا اورکچھ دیر بعد اس لڑائی میں دیکھنے والوں کے لیے دیکھنے کی بس یہی بات رہ جاتی کہ کون مرا اور کس نے مارا؟ کون جیتا اور کون ہارا؟ جس لا الہ الااللہ کی حقیقت کے لیے جنگ کی جانا تھی وہ لوگوں کی نظر میں کسی کونے کھدرے میں جا پڑی ہوتی اور ایک بالکل ثانوی اور حاشیائی حیثیت اختیار کر چکی ہوتی بلکہ بیشتر لوگو ں کی توجہ تو اس طرف کو جا ہی نہ سکتی !

میرے خیال میں معاملہ واضح ہے کہ اس صورت میں کیا ہوتا

اس سارے معاملے کاراز بس یہی تھا كُفُّواْ أَيْدِيَكُمْ یعنی ”ہاتھ روکے رہو“

اس کی بدولت یہ ممکن ہوا کہ فریقین میں لاالہ الا اللہ ہی اصل جھگڑا بنا رہے____ کہ آدم علیہ السلام سے لے کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک ہررسول نے اپنی قوم سے یہی جھگڑا کیا تھا____ اسی کفوا اءیدیکم کی بدولت یہ ممکن ہوا کہ لا الہ الا اللہ کی حقیقت اپنی صاف ستھری اور اجلی نکھری صورت میں اور یہ تنازعہ اتنا نمایاں ہو کے رہے کہ اس کے ہوتے ہوئے فریقین میں اور گویا کوئی جھگڑا ہی وجود نہ رکھتا ہو۔ پھر اس مسئلے اور اس تنازعے کو اتنا وقت ملے کہ یہ ہر ایسے دل تک اپنا راستہ بنالے جسے اللہ تعالی نے اس مرحلے میں اپنی ہدایت سے سرفراز کرنا ہو۔

پھر یہ دلوں تک راستہ ہی نہ بنائے بلکہ اسے اتنا وقت ملے کہ یہ دلوں میں گھر کر جائے اور اس پر ایمان ان میں پوری طرح راسخ ہو جائے ۔ اتنا ہی نہیں بلکہ یہ ان دلوں کے بند کواڑ بھی باربار کھٹکھٹا لے جن کے لئے اللہ نے ہدایت نہیں لکھ رکھی ۔ ایسے ہٹ دھرموں تک بھی یہ لا الہ الا اللہ ہر شبہے ، ہر ابہام او ہر غموض سے پاک اور اجلی نکھری حالت میں پہنچ لے ۔ پھر وہ پورے دھڑلے کے ساتھ اس سے کفر کرلیں جبکہ ان کے پاس کوئی شک و شبہے کی گنجائش تک باقی نہ ہو ۔ یہ اتنا کھلا کفر ہو کہ اس میں کوئی ایسا شبہہ تک باقی نہ ہوکہ اس شخص نے یہ کفر کا راستہ شاید اپنی جان بچانے کے لئے اختیار کیا ہے ۔ یا یہ کہ اس نے یہ کفر اپنا مال و اسباب بچانے کےلئے اختیار کر رکھا ہے ۔ یا یہ کفر اس نے اپنے امن و امان کے خطرے کے پیش نظر کیا ہے۔ یا اس کفر کا سبب وہ عام سی ضد بازی یا اس کا کسی سے زچ ہوجانا ہے، جو لڑائی بھڑائی کے عمل میں ایک معمول کی بات ہوا کرتی ہے بلکہ ان سب باتوں کے برعکس یہ کفر ایسا ہو کہ بس لا الہ اللہ کا صریح اور کھلا انکار ہو، تاکہ اللہ کی تقدیر میں اس سے آگے جومرحلہ آرہا ہے اس کے لیے سٹیج طبعی طور پر اور پور ی طرح تیار ہو وہ مرحلہ جو کہ اللہ کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے:

لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ (الانفال 42)

تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیلِ روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیلِ روشن کے ساتھ زندہ رہے

چنانچہ لا الہ الا اللہ کا مسئلہ یوں واضح انداز میں فریقین کے مابین جو اصل تنازعہ بن گیا تو یہ کفو ا اَیدیکم ہی کا مرہونِ منت تھا۔ چنانچہ یہ ہاتھ روک رکھنا دعوت کے لوازمات میں شامل ہے کیونکہ دعوت کو جس جماعت اور جتھے کی ضرورت ہوا کرتی ہے وہ جتھا مناسب حد تک اور مناسب اندازمیں اور مناسب دورانیے میں اس وقت تک وسعت نہیں پا سکتا جب تک :

٭ لا الہ الا اللہ کی بنا پر سبیل المجرمین واضح نہ ہوجائے۔

٭ اور جب تک دوسری طرف اس لا الہ الا اللہ کی بنا پر سبیل الموءمنین بھی واضح نہ ہوجائے۔

بلکہ یہ دونوں کام ہوئے بغیر آگے بڑھنے کی صورت میں دعوت کی بات ابتدا میں جن لوگوں کو سمجھ آگئی بس وہ انہی لوگوں تک محدود رہتی ہے اور اس دعوت کو نئے لوگ ملنا بند ہوجاتے ہیں، وہ بھی اس صورت میں اگر یہ ابتدائی لوگ ویسے ہی اس معرکے اور معرکے کے ہنگاموں کی نذر نہ ہوجائیں۔

چنانچہ جب مناسب وقت اور مناسب محنت صرف کرنے کے نتیجے میں فریقین میں جاری تنازعہ واضح ہوگیا اور کفوا اَیدیکم کی بدولت لوگوں کو سمجھ آنے لگ گیا تب اس دین کو مدد دینے کےلئے کہیں سے ’انصار‘ بھی آگئے!

پھر جب’ انصار‘ آئے تو اس بنیادی جتھے کی توسیع عمل میں آئی، اب جو جتھا بڑا ہوا تو لمحوں میں تاریخ کا دھارا بد ل گیا!

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔