Monday, 31 August 2009

حروفِ ابجد

0 comments
حروف تہجی سے مراد وہ علامتیں ہیں جنہیں لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اکثر زبانوں میں یہ مختلف آوازوں کی علامات ہیں مگر کچھ زبانوں میں یہ مختلف تصاویر کی صورت میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ بعض ماہرینِ لسانیات کے خیال میں سب سے پہلے سامی النسل یا فنیقی لوگوں نے انہیں استعمال کیا۔ بعض ماہرین ان کی ابتداء کو قدیم مصر سے جوڑتے ہیں۔ اردو میں جو حروف استعمال ہوتے ہیں وہ عربی سے لیے گئے ہیں۔ جنہیں حروف ابجد بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی پرانی عربی ترتیب کچھ یوں ہے۔ ابجد ھوز حطی کلمن سعفص قرشت ثخذ ضظغ۔ انہیں حروفِ ابجد بھی کہتے ہیں۔


علمِ جفر میں ان کے ساتھ کچھ اعداد کو بھی منسلک کیا جاتا ہے۔ جو کچھ یوں ہیں۔

ا = 1
ب = 2
ج = 3
د = 4
ھ = 5
و = 6
ز = 7
ح = 8
ط = 9
ی = 10
ک = 20
ل = 30
م = 40
ن = 50
س = 60
ع = 70
ف = 80
ص = 90
ق = 100
ر = 200
ش = 300
ت = 400
ث = 500
خ = 600
ذ = 700
ض=800
ظ =900
غ=1000

اس طریقہ سے اگر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے اعداد شمار کیے جائیں تو786 بنتے ہیں۔ بعض اھلِ علم ء کو بھی ایک الگ حرف مانتے ہیں۔


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔