Monday, 31 August 2009

بلاگنگ

0 comments
بلاگنگ کا تاریخی پس منظر
بلاگ انگریزی کے دو لفظوں web and log سے مل کر بنا ہے جو ایسی ویب سائٹس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس میں معلومات کو تاریخ وار رکھا جاتا ہے۔
ویب لاگ ( weblog) کا لفظ جان بارگر Jorn Barger نے پہلی دفعہ 1997ءمیں استعمال کیا تھا جو robotwisdom.com نامی ویب لاگ سائٹ چلا رہے ہیں۔ اس کے بعد لفظ بلاگ کو پیٹر مرہولز (Peter Merholz) نے مزاحیہ انداز میں لفظ ویب لاگ کو توڑ کر we blog کے طور پر استعمال کیا اور یہیں سے پھر لفظ بلاگ مشہور ہوگیا۔
Xanga نامی سائٹ، جو بلاگنگ میں ایک بڑا نام ہے 1998 ءتک صرف 100 بلاگ تھے مگر 2005ءتک 20 ملین سے تجاوز کر چکے تھے۔ اس کے بعد تعداد دوسرے بلاگ ہوسٹنگ ٹولز میدان میں آئے اور بلاگنگ کو بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ اوپن ڈائری بلاگنگ نے سب سے پہلے صارفین کو کسی بھی بلاگ پر تبصرہ کرنے کی سہولت فراہم کی جو بہت کامیاب رہی۔
لائیو جرنل ایک اور مفت اور مشہور بلاگنگ سروس ہے جو پرائیوٹ جرنل ، بلاگ ، ڈسکشن فورم اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ بنانے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ 1999ءسے اب تک ایک کروڑ چالیس لاکھ سے زائد بلاگز اور کمیونٹیاں بن چکی ہیں۔ لائیو جرنل پر آپ کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ آپ اپنے موبائل فون سے بھی بلاگ پوسٹ کر سکتے ہیں۔
ایک دو سال پہلے تک بلاگز صرف تحاریر پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مگر اب بلاگنگ صرف تحریر تک محدود نہیں رہی بلکہ فوٹو بلا گ ، اسکیچ بلاگ، ویڈیو بلاگ ، میوزک بلاگ، آڈیو (پوڈ کاسٹ) کے منظر عام پر آنے کے بعد اس کا دائرہ کار بہت وسیع ہوچکا ہے۔ اور یہ سب اب انٹرنیٹ کا ایک بڑا حصہ بن چکے ہیں۔


بلاگنگ کیوں؟
بلاگنگ بلاشبہ اس وقت انٹرنیٹ کی اہم ترین سرگرمی شمار کی جاتی ہے۔ لاکھوں لوگ اپنے بلاگز لکھتے یا دوسروں کے بلاگ پڑھتے ہیں اور یہ ایک جنون کی طرح انٹرنیٹ پر پھیلاتا ہی چلا جارہا ہے۔ سینکڑوں بلاگنگ ٹولز کی بدولت یہ کام ازحد آسان ہوچکا ہے۔ مزید براں، مختلف ڈیوائسس کے استعمال سے بلاگنگ کو بھی بڑے پیمانے پر فروغ حاصل ہورہا ہے۔ لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر بلاگنگ کی ہی کیوں جاتی ہے؟
اس سے پہلے آئیے دیکھتے ہیں کہ بلاگز کے بارے میں مختلف رائے کیا ہیں۔
گوگل بلاگر جو اس وقت شاید بلاگنگ کا سب سے بڑا مرکز ہے کہ مطابق ” بلاگ آپ کی ذاتی ڈائری ہے، آپ کے دن بھر کی مصروفیت کی ڈائری، ایک جگہ جہاں آپ رابطے پیدا کرتے ہیں، ایک ماخذجہاں سے اہم ترین خبریں نکلتی ہیں، روابط کا ذخیرہ اور آپ کے ذاتی خیالات ۔“
یہ انسانی فطر ت ہے کہ وہ اپنی دریافت، ایجاد اور خیالات دوسروں بتانا چاہتا ہے۔ وہ اپنے سوچ دوسرے کو سوچتے دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی وہ خصلت ہے جو لوگوں کو بلاگز لکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ کیوں کہ بلاگ ہی وہ جگہ ہے جہاں وہ اپنے خیالات، اپنی دریافتیں، اپنے منصوبے کھل کر بیان کرسکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں انہیں بلاگ کی صورت میں ایک دنیا مل جاتی ہے جہاں وہ حکومت کرتے ہیں۔
بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کو بلاگز لکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ مائیکروسافٹ کے سینکڑوں ملازمین باقاعدگی سے بلاگ لکھتے ہیں۔ یہی حال دیگر اہم کمپنیوں کا ہے جن کے ملازمین اپنے بلاگز میں اپنے اہم تجربات اور مشاہدات بیان کرکے اپنے قارئین کی رہنمائی کرتے ہیں۔
بلاگز کے بارے میں یہ بھی کہاجاتا ہے کہ یہ سیاست کا ایک اہم اوزار بن چکا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ ترقی یافتہ اقوام کی بہت سی سیاسی شخصیتیں اپنے بلاگز لکھتی ہیں۔ بلاگز کی سیاسی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں بھی ایک مشہور بلاگنگ سروس © ”بلاگر“ پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اسی طرح دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی یہ صورت حال دیکھنے میں آتی رہتی ہے۔
اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیدران ہوں یا کسی یونی ورسٹی کے محققین، فلمی ستارے ہوں یا ذرائع ابلاغ سے منسلک لوگ، بلاگز سب کی ضرورت بن چکے ہیں۔
بلاگز اتنے مشہور ہوچکے ہیں کہ اب یہ پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ بھی بن چکے ہیں۔ شاید ہی کوئی ایسا مشہور بلاگ ہو جسے آپ اشتہارات سے پاک دیکھیں۔ لوگوں میں دوسروں کے بلاگ پڑھنے کا رجحان، اپنے بلاگ لکھنے سے بھی زیادہ ہے۔ اس لئے بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ پوری ویب سائٹ کے مقابلے میں اسی سائٹ پر موجود کسی مخصوص بلاگ کے ملاحظہ کرنے والے زیادہ ہوتی ہیں۔ اس لئے ایسے بلاگز پر اشتہارات لگا کر ان کی شہرت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ جبکہ گوگل ایڈسنس کے اشتہارات تو آپ کو تقریباً ہر چھوٹے بڑے بلاگ پر نظر آتے ہی رہتے ہیں۔

بلاگ کیسے بنائے جاتے ہیں؟
بلاگ دو طرح سے بنائے جاسکتے ہیں۔ اول یا تو آپ کسی بلاگ ہوسٹنگ فراہم کرنے والے ویب سائٹ پر رجسٹریشن کروا کر اپنے بلاگ وہ لکھیں۔ جبکہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ آپ اپنا ڈومین نیم اور ویب ہوسٹنگ خریدیں اور پھر کسی بلاگنگ ٹول کو ویب سائٹ پر انسٹال کرکے اپنا بلاگ بنا لیں۔
مشہور بلاگ ہوسٹنگ پروائیڈرز میں سب سے آگے گوگل کا بلاگر (Blogger) یا بلاگ اسپاٹ (Blogspot) نظر آتا ہے۔ یہ بات بھی یقینا دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ گوگل نے بلاگز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر بلاگر کو خرید لیا تھا۔ بلاگر بہت مقبول سروس ہے۔ یہ بلاگز کے لئے بہت سے مفت ٹیمپلیٹس فراہم کرتی ہے جنھیں اپنی ضرورت کے حساب سے تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے۔
مفت اردو بلاگ فراہم کرنے والی سروسز کا ذکر آگے چل کر آئے گا۔

ورڈپریس(Wordpress)

ورڈپریس کو دنیا کی ہر تحریری زبان میں باآسانی ڈھالا جا سکتا ہے۔ آزاد مصدر ہونے کے سبب اس کے مسائل کے لیے مناسب سپورٹ بالکل مفت ورڈپریس کی سائٹ پر دستیاب ہے، جہاں دنیا بھر سے ورڈپریس کے صارفین باہمی تعاون سے منٹوں میں آپکے مسائل حل کر دیتے ہیں۔
ورڈ پریس کا بلاگنگ ٹول جو پی ایچ پی میں بنایا گیا ایک آزاد مصدر پروگرام ہے، بہ آسانی کسی بھی ویب سائٹ پر انسٹال کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ اپنی ویب سائٹ بلاگ بنانا چاہتے ہیں تو ورڈ پریس ہی آپ کا اولین انتخاب ہونا چاہئے۔ پی ایچ پی میں بنائے جانے کی وجہ سے یہ ونڈوز اور لینکس دونوں طرح کی ہوسٹنگ پر چلایا جاسکتاہے۔

ورڈ پریس ایک اور بہت مشہور سروس ہے اور بلاشبہ اس وقت بلاگنگ کی دنیا میں مقبول ترین بلاگنگ سروسز میں شمار کی جاتی ہے۔ اپنے بے شمار دلکش تھیمز اور پلگ اِنز کی مدد سے آپ اپنی سائٹ کو بلاگ سے لے کر کسی خبروں کی ویب سائٹ یا پھر کوئی اور شکل دے سکتے ہیں۔ مووایبل ٹائپ کی طرح ورڈپریس بھی دو طرح کی بلاگنگ کا انتخاب دیتی ہے۔ ورڈپریس کی سب سے بڑی خوبی اس کی لچکدار ساخت ہے۔
بلاگنگ سرچ انجن
ٹیکنو ریٹی بلاگنگ کا سب سے بڑا سرچ انجن ہے اور اس پر بلاگز کی رینکنگ کے ساتھ ساتھ ہر بلاگ کو پسند کرنے والوں کے شماریات بھی رکھے جاتے ہیں۔ ٹیکنو ریٹی کو بیسٹ ٹیکنیکل اچیومنٹ ایوارڈ اور بیسٹ آف شو 2006ءمل چکا ہے۔ اپریل دو ہزار سات کی بلاگ شماری جو ٹیکنو ریٹی نے کی اس کے مطابق 75ملین کے قریب بلاگ موجود ہیں۔ بلاگنگ کے دوسرے بڑے سرچ انجن مندرجہ ذیل ہیں۔
گوگل بلاگ سرچ blogsearch.google.com

www.blogsearchengine.com

آسک بلاگ سرچ blog.ask.com بلاگ سرچ انجن بلاگ شماریات
امریکہ ، کینیڈا، یوکے، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے بلاگز تقریباً چھتیس ملین ہیں اور یہی ممالک بلاگرز کا سب سے بڑا مرکز ہیں۔
ایشیا کے بلاگز کی تعداد تقریبا پچیس ملین ہے۔
یورپ کی تقریباً تین ملین ۔
مشرق وسطیٰ کے دس ہزار۔
بھارت کے ایک لاکھ اور پاکستان کے لگ بھگ دو ہزار۔

بلاگنگ کی اس تیز رفتار ترقی نے اُردو کو بھی متاثر کیا، دیر سے سہی مگر اردو کمیونٹی نے اس بات کا ادراک کیا کہ بلاگنگ کی دنیا میں ان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ سال 2005ءمیں اردو بلاگرز سامنے آنا شروع ہوئے اور پھر انہی اردو بلاگرز کی بدولت انٹرنیٹ پر تحریری اردو کی مکمل ویب سائٹس منظرِ عام پر آئیں۔ جن میں اردو ویب محفل ایک مشہور و مقبول ویب سائٹ بن کر سامنے آئی اور بہت ساری دوسری تحریری اردو ویب سائٹس کی بنیاد بنی۔
اردو بلاگنگ کی سروس شروع کرنے میں تین ویب سائٹس نمایاں ہیں:
اردو پوائنٹ بلاگز
اردو ہوم بلاگز
اردو ٹیک بلاگز
اس کے علاوہ بڑے اخبارات جو اردو بلاگ چلاتے ہیں ان میں بی بی سی اردو اور جنگ شامل ہیں۔

Click this bar to view the small image.



انسٹالیشن کی درستگی جانچنے کے لئے انٹرنیٹ ایکسپلورر کھولئے اور اس کے ایڈریس بار میں مندرجہ ذیل ایڈریس لکھئے۔

http://localhost




اگر ایسا ہی ہے تو آپ نے کامیابی کے ساتھ آئی آئی ایس کی انسٹالیشن مکمل کرلی ہے۔
انسٹالیشن کے بعد اب آپ اپنے کمپیوٹر پر ایکٹیو سرور پیجز بھی رن کرسکتے ہیں اور اگر آپ ڈاٹ نیٹ فریم ورک بھی انسٹال کرلیں تو آئی آئی ایس پر ASP.net میں بنے ہوئے ویب پیجز بھی چلائے جاسکتے ہیں۔ لیکن ہمیں بنیادی کام کرنے کے لیے بس آئی ایس ایس ہی درکار تھا جو کہ آپ نے کامیابی سے انسٹال کر لیا ہے تو آپ نے لوکل ویب سرور بنانے کی طرف پہلا قدم اٹھا لیا ہے۔

مائی کمپیوٹر پر رائٹ کلک کر کے Manage پر کلک کریں۔ کھلنے والی ونڈو میں سب سے آخر میں دیکھیں تو Internet Information Services (IIS) Manager لکھا ہو گا۔ اس کے ساتھ موجود پلس کے نشان پر کلک کریں۔ اس کے ذیلی آپشنز نیچے آجائیں گے۔ ان میں سے Web sites کے ساتھ موجود پلس کے نشان پر کلک کر کے نیچے ظاہر ہونے والے آپشن Default Web Site پر رائٹ کلک کر کے اس کی پراپرٹیز سلیکٹ کر لیں۔
پراپرٹیز کی ایپلٹ کھل جائے گی اس میں Directory Security پر کلک کریں۔ پہلے ہی موجود آپشن Authentication and access control کے سامنے موجود Edit کے بٹن پر کلک کریں۔ یہاں آپ کو اپنا یوزر نیم اور پاس ورڈ ڈالنا ہے۔ Enable Anonymouse access کے ساتھ چیک لگائیں اور برائوز کے بٹن پر کلک کریں، نئی کھلنے والی ونڈوز میں ایڈوانس کے بٹن پر کلک کریں، نئی کھلنے والی ایپلٹ میں Find Now کے بٹن پر کلک کریں۔ آپ کے سسٹم میں موجود تمام یوزرز یہاں ظاہر ہو جائیں گے۔ آپ اپنا ایڈمنسٹریٹر حقوق کا حامل یوزر منتخب کر لیں۔ اب بس اوکے کرتے جائیں۔ آپ سے دو دفعہ پاس ورڈ مانگا جائے گا۔ اپنے سسٹم کا پاس ورڈ درستگی سے انٹر کر دیجیے۔
یہ سارا کام کرنے کے بعد آپ دوبارہ برائوز میں http://localhost لکھ کر دیکھیں۔ امید ہے اب کی بار رزلٹ ٹھیک نکلے گا۔

ایک بات ذہن میں رکھیں کہ یہ کام بہت آسان ہے۔ اگر آپ کو دیکھ کر الجھن یا مشکل لگے تو اسے چھوڑنا نہیں ہے۔ ایک دفعہ شروع کر دیں گے تو آگے سب ہوتا جائے گا ان شا اللہ۔





آئی ایس ایس بتائے ہو طریقے سے انسٹال کریں اور اپنا یوزر نیم اور پاس ورڈ ڈالنے کے بعد بھی اگر تصویر جیسا پیج نہیں کھل رہا تو پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔ آپ سسٹم کی سی ڈرائیو دیکھیں تو وہاں Inetpub کے نام سے ایک فولڈر بن چکا ہو گا اس میں wwwroot نام کا فولڈر موجود ہو گا۔ اس میں آپ یہ دی گئی چند کے بی کی فائل پیسٹ کر دیں:
اس فائل پر کلک مت کیجیے گا۔ ورنہ یہ یہیں کھل جائے گی، اس پر رائٹ کلک کر سیو ٹارگٹ ایز کر کے اپنے پاس محفوظ کر لیں۔
http://www.fileden.com/files/2008/12...45632/test.htm


http://localhost/test.htm


http://www.youtube.com/watch?v=lmqq3_oFp2s&eurl=http%3A%2F%2Fwww.urduvb.com%2Fforum%2Fshowthread.php%3Ft%3D6746%26page%3D2&feature=player_embedded

install wordpress blog on localhost
ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد اب آپ OKکے بٹن پر کلک کرسکتے ہیں۔ سب کمپونینٹس کی ونڈو بند ہوجائے گی۔ آپ Next کے بٹن پر کلک کریں۔ اس کے ساتھ ہی ونڈوز ایکس پی کا سیٹ اپ آئی آئی ایس کی انسٹالیشن کی تیاریاں شروع کردے گا۔ کچھ ہی دیر میں آپ سے کہا جائے گا کہ سی ڈی ڈرائیو میں ونڈوز ایکس پی کی انسٹالیشن سی ڈی لگائیے۔ آپ سی ڈی داخل کرنے کے بعد ڈائیلاگ باکس میں OKکے بٹن پر کلک کریں۔ اگر انسٹالیشن ڈسک درست ہوئی تو انسٹالیشن کا عمل آگے بڑھ جائے گا ۔ بصورت دیگر آپ سے درست سی ڈی لگانے کا تقاضہ کیا جائے گا۔ کچھ ہی دیر میں انسٹالیشن مکمل ہوجائے گی اور وزارڈ آپ کو مبارک باد کے پیغام کے ساتھ Finish کے بٹن پر کلک کرنے کی ہدایت کرے گا۔ آپ کو براؤزر میں تصویر جیسا منظر نظر آنا چاہئے۔ اس کے بعد برائوزر میں یہ لکھ کر انٹر پریس کر دیں: اگر آپ کا آئی ایس ایس صحیح انسٹال ہوا ہو گا تو آپ کو پیغام مل جائے گا۔
YouTube




0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔