Monday, 24 August 2009

لازوال موسیقار نصرت فتح علی خان

0 comments
بارہ سال بعد بھی پاکستان اپنی لازوال شخصیت کو یاد کر رہا ہے



سولہ اگست کو لازوال موسیقار نصرت فتح علی خان کی بارہویں برسی منائی گئی۔ (تصویر آئی پی ڈی)

سولہ اگست کو لازوال موسیقار نصرت فتح علی خان کی برسی منائی گئی۔

لازوال موسیقار نصرت فتح علی خان کی بارہویں برسی کے موقعہ پر ملک بھر میں اور خصوصی طور پر ان کے آبائی شہر فیصل آباد اور لاہور میں، جہاں انہوں نے بطور فن کار شہرت حاصل کی تھی، یادگاری تقریبات، تعزیتی پیغامات اور خصوصی پروگرام منعقد کیے گئے۔

موسیقی اور فلم کی نمایاں ملکی شخصیات نے اس ممتاز گلوکار کو، جیسے شہنشاہ قوالی (قوالی کا بادشاہ) بھی کہا جاتا ہے، زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔

گلوکارہ حمیرا چنا نے کہا کہ "ہم نے فلم "پل دو پل" اور ایک اور ہندوستانی فلم کی موسیقی کے لیے مل کر کام کیا۔۔۔ فتح نے بین الاقوامی مقام حاصل کر لیا اور ان کی دُھنیں موسیقی کے چارٹس پر سپرہٹ قرار پائیں۔ پاکستانی فنکار ان کی غیر موجودگی محسوس کرتے ہیں۔۔۔ وہ ایک انتہائی ذہین شخص تھے اور ان کی انفرادیت نے قوالی(موسیقی کی ایک عارفانہ قسم) کو جدید بنا دیا اور موسیقی کے مشرقی اور مغربی آلات کو خوبصورتی سے اکٹھا کیا"۔

انہیں جاپان میں "گاتا ہوا بدھا"، تیونس میں "انسانی گلوکاری کا عرق" فرانس میں "مشرق کا پاواراتی" اور امریکہ میں "جنت کی آواز" کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی ناقابلِ فراموش قوالی اور صوفیانہ دھنوں کی آواز کو پھیلایا اور دنیا بھر میں مداحوں کی بڑی تعداد پیدا کی۔

ٹائمز میگزین نے انہیں 2006 کے "ایشیائی ہیروز" کی اپنی فہرست میں شامل کیا تھا۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز نے فتح کو قوالی کے گلوکاروں میں، 2001 تک کل 125 البمز کے ساتھ، سب سے زیادہ گانے ریکارڈ کروانے والے فن کار کا درجہ دیا تھا۔

مصنف، پروڈیوسر اور ہدایت کار سید نور نے کہا کہ "فتح کی قوت غیر معمولی ہے۔ وہ اس دنیا میں غیر معمولی ہیں اور اس دنیا میں کوئی ان کا ثانی نہیں ہے"۔

گلوکار ابرارالحق نے کہا کہ " وہ ایک بہترین گلوکار تھے اور ان کے پاس سکس آکٹیو ووکل رینج تھی جس کے باعث وہ اونچے سروں میں کئی گھنٹوں تک گا سکتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کی صوفی موسیقی کو بین الاقوامی سامعین کی بڑی تعداد تک پہنچایا"۔

اگرچہ ان کی وفات کو دس سال سے زیادہ عرصہ کا وقت گزر چکا ہے مگر خان آج بھی دنیا بھر میں موسیقی سے پیار کرنے والوں کے دلوں اور دماغوں میں رہتے ہیں اور انہیں بہت سے لوگ نہایت عقیدت سے یاد کرتے ہیں۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔