Wednesday, 26 August 2009

ڈیرہ مراد جمالی کا بگٹی

0 comments


بلوچستان کے ضلع ڈیرہ مراد جمالی کے ایک گاؤں میں رہائش پذیر یار محمد جتک نامی یہ شخص انگلش ہیٹ یعنی ٹوپی، چشمہ اور چھڑی اٹھائے بالکل نواب اکبر بگٹی کی چال ڈھال سے چلتے پھرتے ہیں۔

ان کی جسامت، داڑھی اور مونچھیں وغیرہ بھی نواب اکبر بگٹی جیسی ہی ہیں۔ اگر وہ بات نہ کریں تو کم ہی لوگوں کو پتہ چلے گا کہ وہ نواب اکبر بگٹی نہیں بلکہ ان کے ہم شکل ہیں۔

ڈیرہ مراد جمالی میں فرضی نواب اکبر بگٹی جو ذات کے بروہی ہیں، ان سے ملاقات میں جب دریافت کیا کہ نواب اکبر بگٹی کا روپ دھار کر چلنے سے کبھی انہیں کوئی مشکل پیش آئی تو انہوں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ’سائیں کئی بار فوج اور پولیس نے پکڑا اور میں نے انہیں بتایا کہ بھئی میں بروہی ہوں، بگٹی نہیں ہوں ۔۔ بس اللہ نے حلیہ ایسا بنایا کہ میں بھی مزے لیتا ہوں‘۔

انہوں نے اپنی عارضی گرفتاریوں کی طویل تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ’ایک بار نواب اکبر بگٹی جب سیکورٹی فورسز سے لڑ رہے تھے اور پہاڑوں میں چلے گئے تو میں جیکب آباد جا رہا تھا اور راستے میں فوجیوں نے پکڑ لیا۔ کہا کہ ہم تو تمہیں کئی ہفتوں سے ڈھونڈ رہے ہیں اور تم آج ادھر مل گئے ہو‘۔

’میں نے کہا کہ بھئی میں شغل کرتا ہوں نواب تو نواب ہے میں غریب بروہی ہوں، ان پڑھ۔ میں نے انہیں کارڈ دکھایا اور انہوں نے تسلی کے بعد چھوڑ دیا۔ ایسا ہی ایک بار قلندر شہباز کے مزار پر اور ایک بار شاہ عبدالطیف بھٹائی کے مزار پر جاتے بھی پکڑا گیا۔ لیکن وہ پولیس والے تھے۔ کچھ تنگ کیا اور شغل کے بعد چھوڑ دیا‘۔

جب ان سے پوچھا کہ کبھی کسی نے انہیں نواب اکبر بگٹی سمجھ کر احترام دیا ہو یا کبھی کوئی تحفہ پیش کیا ہو تو انہوں نے بتایا ویسے تو لوگ ڈیرہ مراد جمالی میں ہوٹل پر چائے پلاتے ہیں یا مٹھائی بھی کھلاتے ہیں لیکن کبھی کسی نے تحفہ وغیرہ نہیں دیا۔

انہوں نےبتایا کہ جب نواب بگٹی قتل ہوگئے تو کچھ دنوں بعد یہ افواہ چلی کہ وہ زندہ ہیں۔ ’کسی دوست نے مذاق کیا اور کہا کہ بگٹیوں کا ایک گاؤں ہے اور ہم نے ان کو بتایا ہے کہ تمہارا نواب زندہ ہے۔ دوست مجھے وہاں لے گئے۔ کچھ بگٹیوں نے شک کیا تو میں نے دائیں ٹانگ سے شلوار گھنٹنے تک اٹھائی اور انہیں دکھایا کہ یہ دیکھو یہ میری ٹانگ پر نشانی ہے۔اس سے اس گاؤں کے بگٹیوں کو سو فیصد یقین ہوگیا کہ میں نواب اکبر بگٹی ہوں‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’اتفاق سے نواب بگٹی کو اُسی ٹانگ میں زخم تھا جس میں مجھے تھا کیونکہ بچپن میں مجھے گولی لگی تھی اور قدرت خدا کی کہ زحم بھی ایک ہی جیسا تھا‘۔

بلوچستان کے مقتول قوم پرست رہنما اکبر بگٹی کے ہم شکل یار محمد جتک سے جب دریافت کیا کہ انہیں یہ خیال کیسے آیا کہ وہ نواب بگٹی کا روپ دھاریں تو انہوں نے بتایا کہ ’میرے ایک کزن ہیں جس نے مجھے انگریزوں والا ہیٹ لاکر دیا اور چشمہ بھی لے کر دیا۔ جب میں نے پہنا تو انہوں نے کہا کہ تم نواب لگتے ہو اور اب ہمیشہ یہ پہنے رکھا کرو اور بعد میں مجھے بھی مزا آنے لگا‘۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔