Thursday, 27 August 2009

حضرت شفاء بنت عبد اللہ رضی اللہ تعالٰی عنھا

0 comments
یہ ہجرت سے پہلے ہی مسلمان ہو ئی تھیں بہت ہی عقل مند اور فضل و کمال والی عورت تھیں حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ان پر بہت زیادہ شفقت و کرم فرماتے تھے انہوں نے حضور علیہ الصلواۃ والسلام کے لیے ایک مخصوص بستر بنا رکھا تھا کہ جب آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم دوپہر میں کبھی کبھی ان کے مکان پر قیلولہ فرماتے تھے تو وہ اس بستر کو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے لئے بچھا دیتی تھیں دوسرا کوئی شخص بھی نہ اس بستر پر سو سکتا تھا نہ بیٹھ سکتا تھا
( الاستیعاب ،باب النساء ،باب الشین 3432، الشفاء اُم سلیمان ج4ص423)

تبصرہ !
سبحان اللہ عزوجل! ان کے قلب میں کس قدرحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور کتنا نبوت کا احترام تھا کہ جس بستر پر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے آرام فرمالیا انہوں نے دوسرے کسی شخص کو بھی اس پر بیٹھنے نہیں دیایہ بستر حضرت شفاء رضی اللہ تعالٰی عنھا کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت سلیمان بن ابی حشمہ کے پاس ایک یادگاری تبرک ہونے کی حیثیت سے محفوظ رہا مگر حاکم مدینہ مروان بن حکم اموی نے اس مقدس بچھونے کو ان سے چھین لیا اس طرح تبرک لاپتا ہو کر ضائع ہوگیا ۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت شفاء رضی اللہ تعالٰی عنھا کو جاگیر میں ایک گھر بھی عطا فرمایا تھا جس میں یہ اپنے بیٹے سلیمان کے ساتھ رہا کرتی تھیں حضرت امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ ان کی بہت قدر کیا کرتے تھے بلکہ بہت سے معاملات میں ان سے مشورہ طلب کیا کرتے تھے ان کو بچھو کے ڈنک کا زہر اتارنے والا ایک عمل بھی یاد تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ تم یہ عمل میری بیوی حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کو بھی سکھا دو الغرض یہ بارگاہ نبوت میں مقرب تھیں اور حضور علیہ الصلواۃ والسلام کے عشق و محبت کی دولت سے مالامال تھیں ۔
( الاستیعاب ،باب النساء ،باب الشین 3432، الشفاء اُم سلیمان ج4ص424، 423)
یہی مائیں ہیں جن کی گود میں اسلام پلتا تھا
حیا سے انکی انساں نور کے سانچے میں ڈھلتا تھا

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔