Wednesday, 26 August 2009

روزہ کے اسرار

0 comments


تحریر: امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ

جاننا چاہتے ہیں کہ روزہ کے تین درجے ہیں۔ ایک روزہ عوام کا ہے اور ایک روزہ خواص کا اور ایک اخص خواص کا۔ عوام کا روزہ یہ ہے کہ پیٹ اور شرم گاہ کو ان کی خواہش ادا کرنے سے روکا جاوے جیسا کہ اوپر اس کی تفصیل گزری ہے اور خواص کا روزہ یہ ہے کہ آنکھ، کان، زبان، ہاتھ پاؤں اور تمام اعضاء کو گناہ سے روکا جاوے اور اخص خواص کا روزہ اس طرح ہے کہ دل کو بری ہمتوں اور دنیوی فکروں سے دور رکھا جاوے اور سوائے خدائے تعالیٰ کے اور چیزوں سے مطلقاً اس کو روک دیا جاوے۔ اس قسم کا روزہ خدائے تعالیٰ اور آخرت کے سوا اور چیزوں میں فکر کرنے سے اور دنیا میں فکر کرنے سے ٹوٹ جاتا ہے، ہاں جو دنیا کہ دین کے لیے مقصود ہوتی ہے اس کا فکر اس روزہ کو افطار نہیں کرتا کیونکہ وہ زاد آخرت ہے دنیا میں سے نہیں، یہاں تک کہ اہل دل فرماتے ہیں کہ جس شخص کی ہمت دن کو اسباب میں مصروف ہو کہ افطار کی چیز کی تدبیر کر لینی چاہئے تو اس پر خطا لکھی جاوے گی اس وجہ سے کہ خدائے تعالیٰ کے فضل پر اعتماد کم کیا اور اس کے رزقِ موعود پر یقین تھوڑا ہو، اور یہ رتبہ انبیاء اور صدیقین اور مقربین کا ہے اور ہم اس مرتبہ کی تفصیل میں تقریر قولی کو طول نہیں دیتے مگر عمل کی رو سے اس کی تحقیق بتاتے ہیں کہ وہ روزہ اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ تمام ہمت خدائے تعالیٰ کی طرف آدمی متوجہ ہو، اور خدائے تعالیٰ کے غیر سے منہ پھیر لے اور اس آیت کا مضمون اس پر چھا جاوےقل اﷲ ثم ذرهم فی خوضهم يلعبون اور خواص کا روزہ یعنی نیک بخت لوگوں کا، جو اعضاء کو گناہوں سے باز رکھنے سے ہوتا ہے وہ چھ باتوں سے ہوتا ہے۔ اول نظر کا نیچے رکھنا اور جو باتیں بری اور مکروہ ہیں ان کی طرف ان کو نہ جانے دینا اور جن چیزوں کے دیکھنے سے دل ہٹتا ہو اور خدائے تعالیٰ کی یاد سے غفلت ہوتی ہو، ان سے نظر کو روکنا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ نظر کرنا ایک زہر کا بجھا ہوا تیر ہے، شیطان کے تیروں میں جو کوئی اس خدائے تعالیٰ کے خوف سے ترک کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو ایسا ایمان عنایت فرما دے گا جس کی حلاوت وہ اپنے دل میں پاوے گا۔ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

خمس يفطر الصائم الکذب والغيبة والنميمة واليمين الزور والنظرة بشهوة

دوم زبان کا بند رکھنا اور بے ہودہ بات اور جھوٹ اور غیبت اور چغلی اور فحش اور ظلم اور جھگڑے اور بات کاٹنے سے اور سکوت کو اس پر لازم کرنا اور ذکر الٰہی اور تلاوتِ قرآن میں مصرف رکھنا کہ زبان کا روزہ ہے۔ سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ غیبت روزہ کی مفسد ہے، اس روایت کو ان سے بشیر بن حارث نے روایت کیا ہے اور لیث حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں کہ دو خصلتیں روزے کی مفسد ہیں، غیبت اور جھوٹ۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ روزہ سپر ہے جب تم میں سے کوئی روزہ رکھے تو فحش نہ بکے نہ جہالت کرے اور اگر کوئی ا سے لڑائی کرے یا گالی دے تو چاہئے کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔ اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں دو عورتوں نے روزہ رکھا اور بھوک اور پیاس کی ان کو آخروز میں یہ شدت ہوئی کہ قریب بہ ہلاکت ہو گئیں، انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں افطار کی اجازت کے لیے کسی کو بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پاس ایک پیالہ بھیجا اور آدمی سے ارشاد فرمایا کہ ان دونوں کو کہنا کہ جو کچھ تم نے کھایا ہو اس کو اس پیالہ میں قے کر دو، ایک عورت نے نصف پیالہ خون تازہ اور گوشت تازہ سے بھر دیا اور دوسری نے بھی یہی چیزیں قے کیں، یہاں تک کہ ایک پیالہ لبالب ہو گیا، لوگوں نے اس سے تعجب کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں نے جو چیزیں اللہ کی حلال کی ہوئی تھیں، اس سے روزہ رکھا جو ان پر خدائے تعالیٰ نے حرام کی تھی، اس سے افطار کیا۔ ایک ان میں دوسری کے پاس بیٹھ گئی، ان دونوں نے لوگوں کی غیبت شروع کی۔ یہ گوشت پیالہ میں وہی ہے جو ان دونوں نے لوگوں کا گوشت کھایا تھا۔ سوم بری بات کے سننے سے کانوں کو باز رکھنا اس واسطے کہ جن امور کا کہنا حرام ہے ان کا سننا بھی حرام ہے بہمیں جہت خدائے تعالیٰ نے سننے والوں اور حرام خوروں کو برابر ذکر فرمایا، چنانچہ ارشاد ہے:

سماعون للکذب اکّٰلون للسحت

اور فرمایا:

لولاينهاهم الربانيون والاحبار عن قولهم الاثم واکلهم اسحت

پس غیبت کو سن کر خاموش رہنا حرام ہے اور فرمایا انکم اذا مثلھم اور اسی نظر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا المغتاب والمستمع شریکان فی الاثم چہارم ہاتھ پاؤں اور دوسرے اعضاء کو بری باتوں سے روکنا اور افطار کے وقت شکم کو شبہات سے باز رکھنا، کیونکہ اگر حلال سے دن بھر بند رہے اور حرام پر افطار کیا تو روزہ کچھ نہ ہوا، ایسے روزہ والے کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص ایک محل بنا دے اور اک شہر کو منہدم کر دے اس لیے کہ حلال کھانے کی کثرت بھی مضر ہوتی ہے اور روزہ اس کی کمی کے لیے ہوتا ہے اور جو شخص کہ بہت سی دوا کھانے کے ضرر سے ڈر کر زہر کھانا اختیار کرے وہ بے وقوف ہے اور حرام کھانا ایک زہر ہے جو دین کو ہلاکت کرتا ہے اور حلال ایک دوا ہے کہ اس کو کمتر کھانا مفید اور زیادہ کھانا مضر ہے۔ روزے سے غرض حلال کی کمی سے ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ :

کم من صائم ليس له من صوم الا الجوع والعطش

اس میں بعضوں نے یہ کہا ہے کہ مراد اس شخص سے ہے جو حرام پر افطار کرے اور بعضوں کا یہ خیال ہے کہ وہ شخص مراد ہے جو طعام حلال سے رکا ہے اور افطار لوگوں کے گوشت یعنی غیبت سے کرے جو حرام ہے اور بعض کہتے ہیں کہ وہ شخص مقصود ہے جو اپنے اعضاء کو گناہوں سے نہ بچائے، پنجم یہ کہ افطار کے وقت حلال غذا اتنی بہت نہ کھاوے کہ پیٹ تن جاوے، کیونکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کوئی ظرف اتنا بڑا نہیں جتنا شکم جو حلال سے پر ہے، اور ایک وجہ یہ ہے کہ روزہ سے آدمی شیطان کو کس طرح دبائے گا اور شہوت کو کیسے توڑے گا جس صورت میں کہ تمام دن کی بھوک پیاس کا تدارک افطار کے وقت کرے گا۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کھانے کے اقسام روزہ میں زیادہ ہی ہوتے ہیں چنانچہ عادت ٹھہر گئی ہے کہ سب کھانوں کو رمضان کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں اور رمضان میں اتنا کھا جاتے ہیں کہ ان دنوں میں کئی مہینے میں بھی نہ کھاویں اور ظاہر ہے کہ روزہ سے مقصود پیٹ کا خالی رکھنا اور خواہش کا توڑنا ہے بایں غرض کہ نفس تقویٰ پر قوی ہو جاوے۔ اور جس صورت میں کہ صبح سے شام تک تو معدہ کو ٹالا، یہاں تک کہ اس کی خواہش جوش میں آئی اور رغبت قوی ہوئی پھر لذیزی چیزیں کھائیں اور خوب سیر کر دیا تو صاف بات ہے کہ اس کی لذت اور قوت دوبالا ہو گی اور وہ خواہشیں ابھریں گی۔ اور اگر بالفرض بے روزہ رہتا تو نہ ابھرتیں، غرضکہ روزہ کی روح اور اصل یہ ہے کہ جو قوتیں کہ برائیوں کی طرف کھینچنے کے وسیلے اور شیطان کی دوا ہیں وہ ضعیف ہو جاویں اور یہ بات بدوں کم کھانے کے میسر نہیں ہوتی، یعنی اتنی ہی غذا کھاوے جتنی بدوں روزہ رکھنے کی ہر شب میں معمول تھا اور جس صورت میں کہ دوپہر کی غذا اور شب کی غذا کو ایک ساتھ کھا لیا تو روزہ سے فائدہ نہ ہو گا، بلکہ مستحب یہ ہے کہ دن کو بہت نہ سوئے تاکہ بھوک اور پیاس کو معلوم کرے اور قوتوں کے ضعیف ہونے پر آگاہ ہو اور کچھ ایک ضعیف رات کو بھی بنا رہے تاکہ تہجد اور وظائف پر آسانی ہو اور کیا عجب ہے کہ اس صورت میں شیطان اس کے دل کے گرد نہ پھٹکے اور وہ آسمان کے ملکوت دیکھ لے اور شب قدر اسی رات کا نام ہے جس میں کچھ ملکوت آدمی پر منکشف ہوں اور خدائے تعالیٰ کے قول سے بھی یہی مراد ہے کہ فرمایا:

انا انزلنٰه فی ليلة القدر

جو شخص اپنے دل اور سینہ کے درمیان میں غذا کی آڑ کر لے گا وہ اس سیر ملکوت سے محجوب رہے گا اور جو آدمی اپنا معدہ خالی رکھے گا اس کو بھی حجاب دور ہونے کے لیے اسی قدر کافی نہیں جب تک کہ اپنی ہمت کو غیر اللہ سے خالی نہ کرے کہ تمام بات یہی ہے اور سب کی اصل غذا کی کمی ہے۔ اس کا زیادہ بیان غذاؤں کے باب میں ان شاء اللہ لکھا جاوے گا۔

ششم یہ کہ بعد افطار کے خوف و رجا سے وابستہ اور دور رہنا چاہیے کیونکہ معلوم نہیں کہ اس کا روزہ مقبول ہو کر مقربین کے زمرہ میں اس کا شمار ہو اور یا روزہ نا منظور ہو اور خفگی کے مستحقوں میں متصور ہو اور ہر عبادت کے فارغ ہونے پر اسی طرح کا حال ہونا چاہیے۔ چنانچہ حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عید کے روز ان کا گزر کسی قوم پر ہوا جو ہنس رہی تھی، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان کے مہینے کو اپنی مخلوقات کے لیے دوڑنے کا میدان مقرر فرمایا ہے کہ سب آدمی اس کی اطاعت کے لیے اندر دوڑیں تو کچھ لوگ آگے بڑھ کر اپنے مطلب کو پہنچ گئے اور کچھ لوگ پیچھے رہ کر نا امید ہوئے، پس جس روز میں کہ جلدی کرنے والے اپنے مطلوب کو پہنچے اور باطل والے محروم رہے اس روز میں ہنسی اور کھیل کرنے والے سے بڑا تعجب ہے۔ بخدا اگر حقیقت حال واضح کر دی جاوے تو مقبول آدمی کو اتنا سرور ہو کہ اس کو کھیل سے باز رکھے، اور نامنظور کو اتنا غم ہو کہ اس کو ہنسی سے روک دے۔ اور احنف بن قیس سے کسی نے کہا کہ تم بوڑھے بزرگ شخص ہو اور روزہ تم کو ضعیف کر دیتا ہے، بہتر ہے کہ اس کے لیے کوئی اور سبیل کرو۔ فرمایا روزہ کو ایک بڑے لمبے سفر کے لیے تیار کرتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرنا اس کے عذاب پر صبر کرنے کی نسبت بہت آسان ہے، بالجملہ روزہ میں چھ باتیں باطنی یہ تھیں جو مذکور ہوئیں۔ اب اگر یہ کہو کہ جو شخص شکم اور شرمگاہ کی شہوت سے باز رہنے پر کفایت کرتا ہے اور ان باتوں کو بجا نہیں لاتا تو فقہاء یہ کہتے ہیں کہ اس کا روزہ درست ہے پس اس کے کیا معنی ہیں کہ فقہاء درست بتا دیں اور تم صحیح نہیں بتاتے۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ظاہر کے فقہاء ظاہر کی شرطوں کا اثبات ایسی دلیلوں سے کرتے ہیں جو باطنی شرطوں میں ہماری بیان کی ہوئی دلیلوں سے نہایت ضعیف ہیں۔ خصوصاً غیبت وغیرہ کے باب میں، مگر چونکہ فقہاء ظاہری حکم ایسی چیزوں پر لگاتے ہیں جس میں غافل اور دنیا کے متوجہ لوگ بھی داخل ہو سکیں۔ اس لیے ان کو شروط ظاہری کے بموجب صحیح کہنا پڑا ہے اور علمائے آخرت کی غرض صحت سے قبول ہونا ہے اور قبول ہونے سے ان کی مراد مقصود کو پہنچنا ہے۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ روزہ سے مقصود یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے اخلاق میں جو ایک خلق صمدیت ہے یعنی بھوک اور پیاس وغیرہ کا نہ ہونا اس کو اپنی عادت کریں اور شہوات کے رکنے میں حتی الوسع فرشتوں کی اقتدا کریں کہ وہ شہوات سے پاک ہیں۔ اور انسان کا مرتبہ چوپاؤں کے مرتبہ سے تو اوپر ہے اس لیے کہ نور عقل سے اپنی شہوت کے توڑنے پر قادر ہے اور فرشتوں کے مرتبہ سے نیچے ہے، بایں وجہ کہ اس پر شہوات غالب ہیں اور ان کو دبانے میں مبتلا کیا گیا ہے اس لیے جب کبھی شہوات میں ڈوبتا ہے تو اسفل السافلین میں اتر جاتا ہے اور ابہام کے زمرہ میں لاحق ہو جاتا ہے۔ اور جس وقت کہ شہوات کو اکھاڑتا ہے تو اعلیٰ علیین کی طرف ابھر کر فرشتوں کے کنارہ سے جا لگتا ہے اور فرشتے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہیں اور جو کوئی ان کا اقتدار کرتا ہے اور ان کی سی عادتیں اختیار کرتا ہے وہ بھی ان کی طرح خدائے تعالیٰ سے قریب ہو جاتا ہے کہ قریب ہمشکل بھی قریب ہوتا ہے اور یہ قریب مکان اور فاصلہ کے اعتبار سے نہیں بلکہ صفات کے لحاظ سے ہے۔

پس جب کہ روزہ کی اصل ارباب عقل اور اہل علم کے نزدیک یہ ٹھہری تو ایک خدا کے دیر کر دینے اور شام کو دونوں کو ایک ساتھ کھا لینے اور دن بھر اور شہوات میں ڈوبے رہنے سے کون سا فائدہ ہے۔ اور اگر اس جیسے روزہ سے بھی فائدہ ہوتا ہے تو اس حدیث شریف کے کیا معنی ہیں کہ کم من صائم لي له من صومه الا الجوع والعطش اور اسی وجہ سے حضرت ابو داؤد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ دانا آدمیوں کا سونا اور اطار کرنا کیا خوب ہے۔ بیوقوفوں کے روزہ اور بیداری کو کیا جانتے ہیں۔ اہل یقین اور تقویٰ کا ایک ذرہ مغالطہ والوں کی پہاڑوں کے برابر عبادت سے افضل اور غالب ہے اور اسی وجہ سے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ بہت سے روزہ دار افطار کرنے والے ہیں اور بہت سے افطار کرنے والے روزہ دار ہوتے ہیں، یعنی افطار کرنے والے روزہ دار وہ لوگ ہیں جو اپنے اعضاء کو گناہوں سے محفوظ رکھ کر کھاتے پیتے ہیں اور روزہ دار افطار کرنے والے وہ ہیں کہ بھوکے پیاسے تو رہتے ہیں مگر اپنے اعضاء کو مقید نہیں رکھتے اور روزہ کے معنی اور اس کی اصل کے سمجھنے سے یہ معلوم ہو گیا کہ جو کوئی کھانے اور صحبت سے بچا رہے اور گناہوں کے ارتکاب سے روزہ کو افطار کرے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی وضو میں اپنے کسی عضو پر تین بار مسح کر لے کہ ظاہر میں تو تین بار ہو گیا مگر اصل مقصود جو دھونا تھا وہ چھوڑ دیا تو اس کی نماز بباعث اس کی جہالت کے اسی پر واپس کی جاوے گی۔ اور جو شخص کہ کھانے سے افطار کرے اور اپنے اعضاء کو برائیوں سے باز رکھے تو اس کی مثال ایسی ہے کہ اپنے ہر ایک عضو کو تین بار دھوئے تو اس کی نماز ان شاء اللہ مقبول ہو گی کہ اس نے اصل فرض کو ادا کیا گو کہ فضیلت کا تارک ہو اور جو شخص کھانے پینے سے بھی روزہ رکھے اور اعضاء سے بھی روزہ رکھے یعنی ان کو برائیوں سے روکے، اس کی مثال ایسی ہے کہ اپنے ہر ایک عضو کو تین بار دھو دے تو یہ شخص اصل اور فضیلت دونوں کا جامع ہو گا۔ جو رتبہ کمال ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے:

ان الصوم امانة فليحفظ احدکم امانته

اور جب کہ آپ نے یہ آیت پڑھی:

ان اﷲ يامرکم ان تؤدو الامانات الٰی اهلها

تو اپنے دست مبارک کو اپنے کان اور آنکھ پر رکھ کر ارشاد فرمایا کہ کان سے سننا اور آنکھ سے دیکھنا امانت ہے اور اگر سننا دیکھنا روزہ کی امانتوں میں سے نہ ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ ارشاد نہ فرماتے کہ اگر کوئی لڑائی کرے تو کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں یعنی میں نے اپنی زبان کو امانت رکھا ہے، میں اس کی حفاظت کرتا ہوں، تیرے جواب دینے میں اس کو کیسے چھوڑ دوں اور جب کہ معلوم ہوا کہ ہر عبادت کے لیے ایک ظاہری اور ایک باطن اور ایک پوست ہے اور ایک مغز اور اس کے پوست کے بہت سے درجے ہیں اور ہر درجے کے بہت سے طبقات ہیں تو اب تم کو اختیار ہے، چاہو مغز کو چھوڑ کر پوست پر قناعت کرو یا زمرہ اہل خرد میں داخل ہونا پسند کرو۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔