Monday, 31 August 2009

عام معلومات

0 comments

لہسن کا ایک اور نام الیم ستیئم بھی ہے۔
شکر خندی کھانے کی ابتداء ساؤتھ امریکہ سے ہوئی۔وہاں کے جنمی باشندے اسے بٹاٹا بھی کہتے تھے۔
فلوریڈا میں پہلی بار آم ١٨٣٣ میں متعارف ہوا لیکن نا پسند کیا گیا۔لیکن دوسری مرتبہ ١٨٦١ میں اس پھل کو پسند کیا گیا۔
انناس انڈیا میں ١٥٤٨ میں،فلپین میں ١٥٥٨ اور ساؤتھ افریقہ میں ١٦٦٠ میں متعارف کرایا گیا۔
لیموں میں شکر کی مقدار چیری سے زیادہ ہوتی ہے۔
پیاز ایک لاطینی نام ہے جسکا مطلب ہے بڑا موتی۔
پوری زندگی میں ایک عام آدمی اوسط ٣٥ ٹن کھانا کھاتا ہے۔
دنیا کی آدھی آبادی چاول کھا کر زندہ ہے۔
آئسکریم ایک چائینیز ڈش ہے۔جب مارکوپولو اپنے وطن اٹلی واپس ہوا ،چائنا سے ١٢٩٥ میں، تو اپنے ساتھ آئسکریم کی ترکیب بھی اور چیزوں کے ساتھ لیکر گیا۔
آئسکریم ایک چائنیز میٹھا ہے۔چائنا میں اسے آئس ملک کہا جاتا تھا۔
میکڈونالڈ کے خالق کے پاس بیچلر ڈگری تھی ہمبرگرولوجی میں۔
فرانس میں تقریبا ٥٠٠،٠٠٠،٠٠٠ اسنیلس کھائے جاتے ہیں۔
گاجر مدد کر سکتی ہے اندھیرے میں دیکھنے میں بھی۔اس میں وٹامن A ہوتا ہے جو کہ رات کے اندھے پن سے بچاتا ہے۔
ایک لیٹر پینے کے پانی میں ١٠٠،٠٠٠ بیکٹیریا پائے جاتے ہیں۔
سالٹ(نمک) کا لفظ سیلری (تنخواہ) سے نکلا ہے۔ایک دور میں نمک کمیاب ہوا کرتا تھا۔یہاں تک کے یہ عموما تنخواہ کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا۔تصور کریں کچھ چمچے نمک کے لیے کئی دنوں کی مشقت۔آج نمک اتنا عام ہے کہ ریسٹورینٹس میں یہ فری میں کھانے کے ساتھ دیا جاتا ہے۔
نمک کو سوڈیم بھی کہتے ہیں۔
کریم دودھ سے ہلکی ہوتی ہے۔
کبھی کبھی فروزن پھل اور سبزیاں زیادہ نٹریشئس ہوتے ہیں بہ نسبت تازہ کے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ پھل ،سبزیاں جو فریز کرنے کے لیے اگائی جاتی ہیں وہ کٹتے ہی فریز کر دی جاتی ہیں۔اس کے برعکس تازہ سبزیوں کے بکنے کے انتظار میں ان کے نیوٹرنٹس ضائو ہو جاتے ہیں۔
درجہ حرارت بھوک پر اثر انداز ہوتا ہے۔سردیوں میں بھوک زیادہ لگتی ہے۔
وٹامن سی کی کوئی سی بھی قسم لیموں،نارنگی،گریپ فروٹ،ٹماٹر،اسٹرابیری یا آلو وغیرہ،اگر گوشت یا دالوں کے ساتھ پکائے یا کھائے جایئں تو یہ جسم میں آئرن کے استعمال کو فعال کرتے ہیں۔
موم پھلی ڈائنامائٹ بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔

سیب کا تعلق گلاب کے خاندان سے ہے۔
سیب اور کیلے سارے سال ملتے ہیں۔
سیب جب تیار ہو جاتے ہیں تب توڑے جاتے ہیں۔
واشنگٹن اسٹیٹ میں1996میں ١٣٣ ملین باکسس سیب کاشت کیے گئے۔
سیب میں فایئبر کی مقدار عام پھلوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔
ہر صبح کا آغاز ناشہ سے کرنا چاہیے ہے۔ناشتہ آپکے خالی ٹینک کو جو کہ پچھلی رات سے خالی ہوتا ہے بھرتا ہے ۔ناشتہ نہ کرنے والوں کو عموما تیزابیت کی شکایت بھی رہتی ہے۔
صرف تیس منٹ چوبیس گھنٹوں میں سے اگر آپ اپنے نارمل روٹین میں اپنی فٹنس کے لیے صرف کریں تو جسمانی طور پر آپ چست و چالاک رہ سکتے ہیں۔لفٹ کی بجائے سیڑھیوں کا استعمال کریں۔اپنے قریب رہنے والے دوستوں یا قریبی اسٹورز تک سودا لینے کے لیے کار کا استعمال نہ کریں۔ہر ایک گھنٹے میں ١٠ منٹ کا وقفہ لیں ،پڑھتے ،کمپیوٹر پر کام کرتے یا ٹی وی دیکھتے ہوئے۔
اپنے وزن کو کم کرنے یا متوازن رکھنے کے لیے کھانے کو چھوڑنے سے صحت کے اور خراب ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔جسم کو پروٹین،کاربوہایئڈریٹس ،نمکیات اور وٹامن صحت مند رہنے کے لیے چایہئے ہوتے ہیں۔کوشش یہ کریں کہ ہر ایسے کھانے جیسے برگر اور فاسٹ فوڈ کی مقدار کم کر دیں۔
جسم میں پانی جسم کے آدھے وزن سے بھی کچھ زیادہ ہوتا ہے۔یہ ہاضمہ میں مدد کرتا ہے۔جسم میں موجود نیوٹرینٹس کو خلیوں تک پہنچاتا ہے۔مختلف سبزیوں،پھلوں ،سوپ اور رس بھی ہمارے جسم میں پانی کی کمی کو پورا کرتے ہیں۔


پاکستان کے پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح تھے۔
پاکستان کا قومی ترانہ حفیظ جالندھری نے لکھا تھا۔
پاکستان کا قومی پھول چنبیلی ہے۔
عبدالسلام پہلے پاکستانی تھے جنہیں نوبل پرائز ملا۔
مجیب الرحمان بنگلہ دیش کے سب سے پہلے پرائم منسٹر تھے۔
دریائے نیل دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے۔
ٹرانس کینیڈا دنیا کا سب سے لمبا ہائی وے ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے ہائی وے کی لمبائی تقریبا ٨٠٠٠ ک م ہے۔
صحارہ دنیا کا سب سے بڑا صحرا ہے۔
دنیا کی سب سے زیادہ کافی کاشت کرنے والا ملک برازیل ہے۔
“تانبے کا ملک“زیمبیا کا دوسرا نام ہے۔
دنیا کی سب سے سرد جگہ ورکویانسک سایئبیریا ہے۔
کینیڈا رقبہ کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک ہے۔
بحیرہ مردار دریائے اردن میں جا کر گرتا ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا ڈیلٹا (دو شاخہ) سندربن ہے۔
دمشق کو دنیا کا سب سے پرانا شہر مانا جاتا ہے۔
وینس کو نہروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ گرین لینڈ ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا آٹو موبایئلز کا مرکز ڈیٹروئڈ (Detroid ,USA)ہے ۔
امریکہ کو دنیا میں مینگنیز کی پیداوار کا سب سے بڑا مرکز مانا جاتا ہے۔
“ممنوعہ شہر“ پیکنگ کو اس نام سے بھی ایک وقت میں پکارا جاتا تھا۔
جاپان کو “طلوع سورج کی زمین “ بھی کہا جاتا ہے۔
کیوبا کو “شوگر بول“ کے نام سے بھی پہچانا جاتا ہے۔
پیسیفیک اوشن دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے۔
آسٹریلیا کو جیمس کوک نے دریافت کیا تھا۔
نیو یارک کا پہلا نام “نیو ایمسٹرڈم “تھا۔ویسے اسے بگ ایپل بھی کہتے ہیں۔
ایفل ٹاور “الیگذینڈر ایفل نے بنایا تھا۔
ریڈ کراس جین (یین ) ہنری ڈورانٹ نے بنائی تھی۔
گلاب برطانیہ کا قومی پھول ہے۔
نیاگرا فالز لوئس ہینیپن نے دریافت کیا تھا۔
اٹلی کا قومی پھول للی ہے۔
چین کا قومی پھول نارکیسس Narcisses ہے۔
سارک کا مستقل سیکریٹیریٹ کھٹمنڈو میں ہے۔
پانچ جون کو ماحولیات کا دن پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔
امریکہ کہ پہلے ری پبلیکن صدر ابراہم لنکن تھے۔
برازیل سامبا ڈانس کے لیے مشہور ہے۔
سر تھامس اسٹیمفورڈ ریفلز نے سنگاپور کی بنیاد رکھی تھی۔
سری لنکا کا پرانا نام سیلون تھا۔
اقوام متحدہ ١٩٤٥ مین قائم ہوئی۔
ساؤتھ کوریا کا یوم آزادی ١٥ اگست کو منایا جاتا ہے۔

“پیراڈایئز ری گین“ جان ملٹن نے لکھی۔
مصر کے پہلے صدر محمد نقیب تھے۔
“رئیر پیری“وہ پہلے آدمی تھے جو نارتھ پول تک پہنچ سکے تھے۔
بیبلو پکاسو کی مشہور پینٹنگ کا نام “جرمیکا “ ہے۔
٨ ستمبر کو خواندگی کا دن پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔
“لینڈ کو مڈ نایئٹ“ ناروے کو کہا جاتا ہے۔
تبت کو دنیا کی چھت کہا جاتا ہے۔
مارگریٹ تھیچر برطانیہ کی پہلے خاتون وزیر اعظم تھیں۔
اسٹیچو آف لبرٹی کو مجسمہ ساز فریڈرک ایگیسےبرتھولڈی نے بنایا تھا۔
رالف جانسن بنچ وہ پہلے نیگرو تھے جنہیں نوبل پرائز سے نوازہ گیا تھا۔
لندن یونیورسٹی برطانیہ کی پہلی یونیورسٹی ہے جہاں خواتین کو ڈگری کورسس میں ایڈمیشن دیا گیا تھا۔
جمیکا کی مین ایکسپورٹ شکر ہے۔
نیویارک اسکائی کریپرز(پلک بوس عمارات) کا شہر بھی کہلاتا ہے۔
مڈغاسکر کو لونگوں کا جزیرہ بھی کہا جاتا ہے۔
تھائی لینڈ کو سفید ہاتھیوں کی زمین بھی کہا جاتا ہے۔
دنیا کے بلند ترین آبشار “سالٹو اینجل آبشار ،وینیزویلا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی لائبریری واشنگٹن ڈی سی میں یونائیٹیڈ اسٹیٹ لائیبریری آف کانگریس ہے۔
نیوزی لینڈ دنیا کا وہ پہلا ملک ہے جہاں خواتین کو ووٹ کا حق سے سے پہلے ملا۔
(بی)ہمنگ برڈ (دو انچ) دنیا کا سب سے چھوٹا اور سب سے زیادہ کھانے والا(پندہ کلو) پرندہ ہے۔
دنیا کا سب سے عام مادہ ہائیڈروجن ہے۔
کینیڈا کے جھنڈے پر میپل لیو ہے۔
دنیا کی سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانیں،ہندی،انگلش اور چائنیز ہیں۔
استنبول دنیا کا وہ واحد شہر ہے جو دو براعظموں یورپ اور ایشیا کے بیچ میں ہے۔

تشریح الاعضاء


دل اوسط ١٠١،٠٠٠ مرتبہ ایک دن میں دھڑکتا ہے۔تین بلین مرتبہ پوری زندگی میں اور تقریبا چارسو ملین لیٹرز (آٹھ سو پنٹس(پنٹ =ڈیڑھ پاؤ کا ایک پیمانہ) خون کو پمپ کرتا ہے۔

منہ میں ایک دن میں ایک لیٹر (٨۔١ پنٹ) تھوک بنتا ہے۔

کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ آنکھیں پیدائش سے لیکر اس دنیا سے جانے تک ایک ہی سائز کی رہتی ہیں۔

اگر آپ کے جسم سے صرف ایک فیصد پانی بھی کم ہو جائے تو آپ کو پیاس محسوس ہوتی ہے۔

اوسط آپ دن میں تقریبا ٢٣٠٠٠ مرتبہ سانس لیتے ہیں۔

آٹھ ملین خون کے خلیے ہر ایک سیکنڈ میں بنتے ہیں۔یہ جگہ لیتے ہیں ان خلیوں کی جو ہر ایک سیکنڈ میں مردہ ہو جاتے ہیں۔

اوسط ایک جوان انسان کی آئی بال کا وزن تقریبا ایک اونس ہوتا ہے۔

اوسط ایک انسان ٣۔٠ سیکنڈ میں ایک بار اپنی پلکیں جھپکاتاہے۔

اوسط ایک انسانی پلک تقریبا ڈیڑھ سو دن زندہ رہتی ہے۔

انسانی انگوٹھے کا کنٹرول سیکشن دماغ میں بقیہ انگلیوں سے الگ ہوتا ہے۔

اوسط ایک انسانی کھوپڑی پر تقریبا ١٢٠،٠٠٠ اور ١٥٠،٠٠٠ بال ہوتے ہیں۔

انسانی جسم میں دو سو تیس جوڑ ہوتے ہیں۔

ایک عام انسان کے بال اوسط پچاس فٹ بڑھتے ہیں پوری زندگی میں۔یا تقریبا ٥٩٠ انچس (نو انچ یا تیئس سینٹی میٹر ایک سال میں،لیکن عمر کے ساتھ ساتھ بالوں کے بڑھنے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔)

سب سے عام بلڈ گروپ O ہوتا ہے اور کمیاب Ab..

جس طرح ہر انسان کے انگلیوں کے نشان ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں ،بلکل اسی طرح زبان کے بھی مختلف ہوتے ہیں۔

بچے بہار کے موسم میں تیزی سے بڑھتے ہیں بہ نسبت دوسرے موسموں کے۔

قریبا پچاس فیصد بیکٹیریا جو منہ کے اندر ہوتے ہیں وہ زبان کی سطح پر زندہ رہتے ہیں۔

مسکرانے میں صرف چودہ مسلز استعمال ہوتے ہیں اور رونے میں تینتالیس۔

اگر آپ آٹھ سال،سات مہینےاور چھ دن تک چیختے رہیں تب بھی صرف اتنی ہی ساؤنڈ انرجی(صوتی طاقت) پیدا کر سکیں گے جس سے ایک کپ کافی کو گرم کیا جا سکے۔

سایئنسدانوں نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ آپ کے دونوں نتھنے ایک ہی چیز کو سونگھتے ہوئے دو مختلف نتیجے دے سکتے ہیں کیونکہ الٹے نتھنے کو دماغ کا سیدھا حصہ کنٹرول کرتا ہے اور سیدھے نتھنے کو الٹا حصہ۔

جسم کی سب سے بڑی شریان اورٹا ہے.

بچوں کے پہلے دانت صرف بیس ہوتے ہیں اور بڑوں کے بتیس۔

تقریبا چار سو گیلن خون روزانہ گردوں سے گذرتا ہے۔

معلومات عامہ

ایمپائیر اسٹیٹ بلڈنگ جو نیو یارک شہر میں ہے ۔اس میں ٦،٤٠٠ کھڑکیاں ہیں۔
سنگاپور کے تمام ہسپتالوں میں صرف پیمپرز کے ڈائپرز استعمال ہوتے ہیں۔
چارلس ڈکن، جو اولیور ٹوسٹ، آ ٹیل آف ٹو سٹیز اور آ کرسمس کیرول کا مصنف تھا، ہمیشہ شمال کی طرف چہرہ کرکے سوتا اور لکھتا تھا ۔اسکا یقین تھا کہ اس طرح اسکے تخیلات کو جلا ملتی ہے اور اسکے لکھنے کی صلاحیت نکھرتی ہے۔
دنیا کا سب سے لمبا اسٹیل ٹاور یامشٹا پارک میں ہے ،یوکوہاما۔یہ ایک سو چھ میٹر(تین سو اڑتالیس فیٹ) اونچا ہے۔
پہلی ای میل ١٩٧١ میں بھیجی گئی۔
جوڈو ڈاکٹر جیگارو کانو نے ١٨٨٢ میں شروع کیا تھا۔
لیننگ ٹاور آف پیسا میں دو سو چھیانوے سیڑھیاں ہیں۔
جان اسمیتھن کو “فادر آف سول انجیئرنگ “ کہا جاتا ہے۔جان اسمیتھن نے دنیا کا سب سے پہلا پتھر کا لائیٹ ہاؤس بنایا تھا اور اس میں صرف چوبیس موم بتیاں روشن ہوتی تھیں۔
ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ میں تقریبا دس ملین اینٹیں لگی ہوئی ہیں۔
ڈونالڈ ڈک کامکس کو فن لینڈ کی لائبریریز میں صر اس لیے بینڈ کر دیا گیا تھا کہ اس میں بطخ پینٹ نہیں پہنتی ہے۔
ملکہ الزیبتھ کے کے ڈاکٹر ولیم گلبرٹ نے ١٦٠٠ میں پہلی بار لفظ “الیکٹرک“ استعمال کیا تھا۔
البرٹ آئن اسٹائن کے آخری الفاظ جرمن زبان میں تھے لیکن چونکہ نرس یہ زبان نہیں جانتی تھی اس لیے آج تک اسکے آخری الفاظ ک بارے میں کوئی نہیں جانتا ہے کہ وہ کیا تھے۔
لاس ویگاس کے کسی بھی کیسینو میں گھڑی نہیں ہوتی ہے۔
تھامس ایڈیسن نے جو پہلا لفظ فونوگرام پر بولا تھا وہ “““میری ہیڈ آ لیٹل لیمب“““ تھا۔
پینہارڈ نے ١٩٠١ میں پہلی چار پہیوں کی سواری بنائی تھی۔
ائیر مفس(۔ کن پوشوں کی جوڑی جو موسم سرما میں کانوں کی حفاظت کے لیے استعمال کی جاتی ہے ) ١٨٧٣ میں چیسٹر گرین وڈ نے ایجاد کیئے تھے۔
یویو پیڈرو فلورز نے فلپین میں ایجاد کی تھی۔
دنیا کی سب سے پہلی کلر فوٹو جیمس میکسویل نے ١٨٦١ میں بنائی۔
پہلی الیکٹرک چیئر ایک امریکن دندان ساز ڈاکٹر البرٹ ساؤتھ وک نے ١٨٨١ میں بنائی تھی۔
پہلی اسٹریٹ لائٹ فلاڈیلفیہ میں ١٧٥٧ میں نصب کی گئی۔
١٩٢٨ میں سر جارج ہیوبرٹ وکنز نے اینٹارکٹیکا پر سب سے پہلی پرواز کی تھی۔
شطرنج ٥٧٠ قریب قریب انڈیا میں ایجاد ہوئی تھی۔
سب سے پہلے نفسیاتی اسپتال بغداد اور قاہرہ میں ٩١٨ میں بنے تھے۔

حرارے یا کیلوریز جسم میں موجود ہیٹ انرجی کا نام ہے۔غذا میں موجود حرارے ہمارے جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔آپ کو روز کتنی کیلوریز کی ضرورت ہے یہ عمر،جنس اور آپکے روزمرہ کے معمولات پر منحصر ہے ۔اب دیکھتے ہیں کہ کس عمر میں کتنے حراروں کی ضرورت ہوتی ہے۔

عمر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حرارے ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میل۔۔۔۔۔ ۔۔۔فیمل-
1 - 3 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1300۔۔۔۔۔۔1300۔۔
4 -6 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1700۔۔۔۔۔۔1700۔
7-10۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2400۔۔۔۔۔۔2400۔
11-14۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2700۔۔۔۔۔۔2200۔
15-18۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2800۔۔۔۔۔۔2100۔
19-22۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2900۔۔۔۔۔۔2100۔
23-50۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2700۔۔۔۔۔۔2000۔
51۔؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2400۔۔۔۔۔۔18 00۔




اگر آپ اپنی عمر کے حساب سے زیادہ کیلوریز لیتے ہیں اپنی معمول کی ڈائیٹ میں تو یہ آپکے جسم میں فاضل چربی کی صورت میں اسٹور ہوتی ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔