Monday, 31 August 2009

آخر مونا لیزا بول پڑی

0 comments
تحریر: محمد الطاف گوہر
mrgohar@yahoo.com

ایک صاحب جو کہ ایک مشہور شاعر ہیں اور ماضی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں ، گلہ شکواہ کر رہے تھے کہ دیکھو آج کل کے شعراءجو ہیں انکو تو شعر کہنا بھی نہیں آتا مگر ہر جگہ انکا چرچا ہوتا ہے ، بے وزن شعر شاعری ہے مگر انکا نام چلتا ہے۔ دوسرے صاحب فرما رہے تھے کہ نئے نئے لوگ آرہے ہیں آتا جاتا کچھ نہیں مگر چرچے دکھو۔
سیاست پہ بات شروع ہوئی تو ایک صاحب بولے یار کون مخلص ہے اس وطن کا؟ جس کو دیکھو کھا رہا ہے اور قرضے معاف کروا رہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا ہی نہیں، اور دوسرے صاحب بولے ڈیئر اب تو مل کر کھانے کا طریقہ کار چل رہا ہے یا پھر باری باری ۔ ایک صاحب کا تو موقف یہ بھی تھا کہ پاکستان بھی تو نوابوں نے بنوایا تھا کہ ان کی جاگیریں محفوط رہیں وغیرہ وغیرہ ۔ اور ایک صاحب ملائزم اور ہیپو کریسی پہ تبصرہ پیش کر رہے تھے جبکہ میزبان چائے صرف کرنے کے ساتھ ساتھ الفاظ کے لقمے بھی دے رہے تھے کہ گفتگو کا مزاج گرم رہے۔
آج مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ ہماری پیش رفت کن عوامل میں ہے ، اور گم سم بیٹھا اس ادبی نشست میں اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک میری نظر میزبان کی کرسی سے زرا اوپر دیوار پر پڑی جہاں مونا لیزا کی ایک بڑی سی تصویر آویزاں تھی ۔ مونا لیزا کی مسکراہٹ مجھے شدید چبھتی محسوس ہوئی ۔ میں تو یہی سوچ رہا تھا کہ میری جگہ پہ اب مونالیزا ہی بول پڑے گی کہ تم کیسی قوم ہیں کی صرف ٹانگیں کھنچنے اور وقت ضائع کرنے کے سوا کچھ نہیں آتا ،انسانیت کی فلاح کیلئے کونسے کام کر رہے ہو؟ آج اگر ترقی یافتہ قومیں مسلمان ہو گیں ( جو کہ حقیقت بھی نظرآرہی اسلام کا یورپ اور امریکہ میں تیزی سے پھلاو) تو تمہارے قدریں Values کیا رہ جائیں گی؟
آج جب نیٹ پر نئی ٹیکنالوجی کا مشاہدہ کر رہا تھا کہ جہاں Interactive Art کی انقلابی پیش رفت کے باعث یہ ممکن ہو گیا ہے کہ 2D دو رخی شہہ پارے بھی محو گفتگو ہو سکیں گے اور ماڈل کے طور پر پہلی فلم میں مونا لیزا کو بولتے دیکھا تو مجھے اپنی قومی اوقات یاد آگئی اور خوف بھی کہ کہیں مونا لیزا ہماری حالت کو دیکھ کر رہ نہ سکی ہو کہ بس کرو اب مجھے بولنا ہے تم اس قابل نہیں کہ تمہاری بات سنی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر تصویریں بولیں گی اور ہم تماشائی بن کر سنتے رہیں گے ۔۔۔۔۔ شکرہے مونا لیزا تو کسی اور ہی زبان میں بات تھی ورنہ اس نے کتنوں کے پول کھول دینے تھے ۔۔۔۔اگر آپ چاہیں تو میری فیس بک میں ملاحظہ کریں نئی ٹیکنالوجی اور گفتگو کرتی مونا لیزا کی تصویر ۔۔۔ہم کہاں کھڑے ہیں اور دنیا کہاں پہنچ چکی ہے؟
چند روز قبل ایک دوست کے دفتر میں کچھ ادبی شخصیات کی نشست میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ شر یک گفتگو حضرات میں زیادہ تر لوگ ماضی کی شخصیات تھیں اور گرما گرم بحث جاری تھی۔ گفتگو کا مو ضوع بھی دلچسپ معلوم ہو رہا تھا لہذا میں نے بھی شمولت اختیار کر لی۔
آیئے دیکھیں مونا لیزاکیا بول رہی ہے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔