Thursday, 13 August 2009

دجال کون ہے اور یہ کب اور کس طرح ظاہر ہوگا

0 comments
دجال کا ساتھی اور دجال کا قتل
حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے دیکھا تو میں رو رہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیوںرو رہی ہو میں نے عرض کیا یا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر اس طرح فرمایا کہ اس غم میں مجھ کو بے ساختہ رونا آگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ نکلا اور میں اس وقت موجود ہوا تو تمھاری طرف سے میں اس سے نمٹ لونگا اور اگر وہ میرے بعد نکلاتو پھر یہ بات یاد رکھنا کہ تمھارا پرورد گار کانا نہیں ہے (اور وہ کانا ہو گا) جب وہ نکلے گا تو اس کے ساتھی اصفہان کے یہود ہوںگے یہاں تک کہ جب مدینہ آئے گا تووہاں ایک طرف آ کر اترے گا اس وقت مدینہ کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازہ پر دو دو فرشتے نگران ہوں گے ( جو اس کے اندر آنے سے مانع ہوںگے ) مدینہ میں جو بداعمال آباد ہیں وہ نکل کر خود اس کے پاس چلے جائیں گے اس کے بعد وہ فلسطین میں باب لد پر آئے گا ۔عیسیٰ علیہ السلام نزول فرما چکے ہوں گے اوریہاں وہ اسکوقتل کریں گے پھر عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک ایک منصف امام کی حیثیت سے زمین پر زندہ رہیں گے۔( مسند احمد )


آگ پانی اور پانی آگ
ربعی بن حراش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عقبہ بن عمرو نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نے دجال کے متعلق جو بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی وہ ہم کو بھی سنا دیجئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے خود سنا ہے کہ دجال جب ظاہر ہو گا تو اس کے ساتھ پانی ا ور آگ دونوں ہوں گے مگر لوگوں کو جو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہو گا اور جس کو لوگ ٹھنڈا پانی سمجھیں گے وہ جھلسا دینے والی آگ ہو گی لہٰذا تم میں جس کو بھی یہ زمانہ ملے اس کو چاہئے کہ جو آگ معلوم ہو رہی ہو اس میں داخل ہو جائے کیونکہ درحقیقت وہ آب خنک ہو گا۔( بخاری شریف) یہاں مسلم کی روایت میں اتنا اضافہ اور ہے کہ دجال کی ایک آنکھ میں موٹا سا ناخونہ ہو گا اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر کے حروف علیحدہ علیحدہ لکھے ہوئے ہوں گے جس کو ہر مومن پڑھ لے گا چاہے وہ خواندہ ہو یا ناخواندہ اور ایک روایت میں ہے کہ اس کی آنکھوں کے درمیان ک، ف، ر اور ایک روایت میں کاف، الف، را ہو گا۔


حضرت مہدی اور حضرت عیسیٰ کامل کر
دجال کی فوج سے لڑنا اور دجال کو قتل کرنا
پھر حضرت عیسیٰ سے کہیں گے یا نبی اللہ اب لشکر کا انتظام آپ کے سپرد ہے جس طرح چاہیں انجام دیں وہ فرمائیں گے نہیں یہ کام بدستور آپ ہی کے تحت میں رہے گا میں تو صرف قتل دجال کے واسطے آیا ہوں جس کا مارا جانا میرے ہی ہاتھ سے مقدر ہے رات امن و امان کے ساتھ بسر کرکے امام مہدی فوج ظفر موج کو لے کر میدان کارزار میں تشریف لائیں گے ۔حضرت عیسیٰ فرمائیں گے کہ میرے لئے گھوڑا اور نیزہ لا تاکہ اس ملعون کے شر سے زمین کو پاک کر دوں پس حضرت عیسیٰ دجال پر اور اسلامی فوج اس کے لشکر پر حملہ آور ہو گی نہایت خوفناک اورگھمسان کی لڑائی شروع ہو جائے گی اس وقت دم عیسوی کی یہ خاصیت ہو گی کہ جہاں تک آپ کی نظر کی رسائی ہو گی وہیں تک یہ بھی پہنچے گا اورجس کافر تک آپ کا سانس پہنچے گا تو وہ نیست و نابود ہوجایا کرے گا۔


دجال کافرار
دجال آپ کے مقابلہ سے بھاگے گا آپ اس کا تعاقب کرتے کرتے مقام لد میں جالیں گے اور نیزے سے اس کا کام تمام کرکے لوگوں پر اس کی ہلاکت کا اظہار کریں گے کہتے ہیں کہ اگر حضرت عیسیٰ اس کے قتل میں عجلت نہ کرتے تو بھی وہ آپ کے سانس سے اس طرح پگھل جاتا جیسے پانی میں نمک ۔ اسلامی فوج دجال کے لشکر کے قتل و غارت کرنے میں مشغول ہو جائے گی یہودیوں کو جو اسکے لشکر میں ہونگے کوئی چیز پناہ نہ دیگی یہاں تک کہ اگر بوقت شب کسی پتھر یا درخت کی آڑ میں ان میں سے کوئی پناہ گزین ہو تو وہ بھی آواز دیگا اے خدا کے بندے دیکھ اس یہودی کو پکڑ اور قتل کر ۔مگر درخت غر قدان کو پناہ دیکر اخفائے حال کریگا۔


دجالی فتنہ کے چالیس روز
زمین پر دجال کے شر و فساد کا زمانہ چالیس روز تک رہے گا کہ جن میں سے ایک دن ایک سال کے ایک ایک مہینہ کے اور ایک ایک ہفتہ کے برابر ہو گا باقی ماندہ ایام معمولی دنوں کے برابر ہوں گے بعض روایتوں میں ہے کہ دنوں کی درازی بھی دجال کے استدراج کی وجہ سے ہوگی کیونکہ وہ ملعون آفتاب کوحبس کرنا چاہے گا خداوند کریم اپنی قدرت کاملہ سے اس کی حسب مرضی آفتاب کو روک دے گا اصحاب کرامؓ نے جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جو روز ایک سال کے برابر ہو گا اس میں ایک دن کی نماز پڑھنی چاہئے یا سال بھر کی؟آپ نے فرمایا ہ اندازہ و تخمینہ کرکے ایک سال ہی کی نماز ادا کرنی چاہئے شیخ محی الدین ابن عربی ؒجو ارباب کشف و شہود کے محققین میں سے ہیں فرماتے ہیں کہ اس دن کی تصویر دل میں یوں آتی ہے کہ آسمان پر ایک ابر محیط طاری ہو گا اور ضعیف و خفیف روشنی جو عموماًایسے ایام میں ہوا کرتی ہے تاریکی محض سے مبدل نہ ہو گی او رآفتاب بھی نمایاں نہ ہو گا پس لوگ بموجب شرع اندازہ تخمینہ سے اوقات نماز کے مکلف ہوںگے ۔واللہ اعلم بالصواب


دجالی شرانگیزیوں سے متاثرہ شہروں کی تعمیر نو اور روئے زمین پر انصاف کا قیام
دجال کے فتنہ کے خاتمہ پر حضرت امام مہدی و حضرت عیسیٰ ان شہروں میں کہ جن کو دجال نے تاخت و تاراج کر دیا ہو گادورہ فرمائیںگے دجال سے تکلیف اٹھائے ہوئے لوگوں کو خدا کے یہاں اجر عظیم ملنے کی خوشخبری دیکر دلاسا و تسلی دیں گے اور اپنی عنایات و نوازشات عامہ سے ان کے دنیاوی نقصانات کی تلافی کریں گے ۔حضرت عیسیٰ قتل خنزیر شکست صلیب اور کفار سے جزیہ قبول کرنے کے احکام صادر فرما کر تمام کفار کو اسلام کی طرف مدعو کریںگے خدا کے فضل و کرم سے کوئی کافر بلاد اسلام میں نہ رہے گا تمام زمین حضرت مہدی کے عدل و انصاف کے چمکاروں سے منور وروشن ہو جائے گی ظلم و بے انصافی کی بیخ کنی ہو گی تمام لوگ عبادت و اطاعت الہٰی میں سرگرم و مشغول ہوںگے آپ کی خلافت کی میعاد سات ،آٹھ یا نو سال ہو گی
واضح رہے کہ سات سال عیسائیوں کے فتنہ اور ملک کے انتظام میں آٹھواں سال دجال کے ساتھ جنگ و جدال میں اور نواں سال حضرت عیسیٰ کی معیت میں گزرے گا اس حساب سے آپ کی عمر49 سال ہو گی۔


دجالی فتنہ اور سورہ کہف
اب رہا یہ سوال کہ پھر سورہ کہف کے اور اس فتنہ سے تحفظ کے درمیان ربط کیا ہے کہ اسی کی تلاوت کو اس سے تحفظ کو سبب قرار دیا گیا ہے تو اولاً اصولاً یہ سمجھ لیجئے کہ خوارق جس طرح خود سببیت اور مسببیت کے علاقہ سے باہر نظر آتے ہیں اسی طرح جو افعال ان کے قابل ہیں وہ بھی سببیت کے علاقہ سے بالاتر ہوتے ہیں مثلاً نظر کا لگنا سب جانتے ہیں کہ یہ صحیح حقیقت ہے اور گو علماءنے اس کی معقولیت کے اسباب بھی لکھے ہیں مگر بظاہر اس کا کوئی سبب معلوم نہیں ہوتا اس لئے بہت سے اشخاص تو اب تک اس کے قائل ہی نہیں اور اس کو صرف ایک وہم پرستی اور تخیل سمجھتے ہیں لیکن اس کے دفعیہ کے لئے جو صورتیں مجرب ہیں وہ بھی اکثر اسی طرح غیر قیاسی ہیں اسی طرح سمی جانوروں کے کاٹنے کے جومنتر اور افسوں ہیں وہ اکثر یا تو بے معنی ہیں اور جن کے معنی کچھ مفہوم ہیں بھی ان میں سمیت دفع کرنے کا کوئی سبب ظاہر نہیں ہوتا۔ حدیثوں میں بہت سی سورتوں کے خواص مذکور ہیں مثلاً سورہ فاتحہ کہ وہ بہت سے لا علاج امراض کے لئے شفاہے اب یہاں ہر جگہ اس مرض اور اس سورت کے مضامین میں مناسبت پیدا کرنے کیلئے زمین و آسمان کے قلابے ملانا بیکار کی سعی ہے۔ پھر اس قسم کی ذہنی مناسبات انسانی دماغ ہر جگہ نکال سکتا ہے اس لئے ہمارے نزدیک اس کاوش میں پڑنا مفت کی درد سری ہے۔ لیکن باایں ہمہ اگر سورہ � کہف اور دجالی فتنہ کے درمیان کوئی تناسب معلوم کرنا ہی ناگزیر ہو تو پھر بالکل صاف اور سیدھی بات یہ ہے کہ اصحاب کہف بھی کفروارتداد کے ایک زبردست فتنہ میں مبتلا ہوئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ان کے دل مضبوط رکھے اور اسلام پر ان کو ثابت قدم رکھا جیسا کہ اس سورت کے شروع ہی میں ارشاد ہے۔
وربطنا علیٰ قلوبھم اذقاموا فقالواربنا رب السمٰوات والارض لن ندعو من دونہ الٰھاً لقد قلنا اذًا شططاً
پس جس طرح صرف اللہ تعالیٰ کی مدد سے وہ محفوظ رہے تھے اسی طرح جب دجال کا سب سے زبردست ارتداد کفر کا فتنہ نمودار ہو گا تو اس وقت بھی صرف امداد الٰہی ہی سے لوگوں کے ایمان مضبوط رہیں گے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔