Thursday, 27 August 2009

حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ تعالیٰ عنہ

0 comments


عمرو بن جموح کا شمار دور جاہلیت میں یثرب کے زعماء میں ہوتا تھا وہ قبلہ بنوسلمہ کے ہر دلعزیز سردار، مدینے کے مشہور صاحب جودو سخا اور ارباب ثروت میں سے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں اشراف کی یہ امتیازی شان سمجھی جاتی تھی کہ ان میں سے ہر ایک اپنے لیے خاص طور سے الگ الگ بت اپنے گھر میں رکھتا تھا تاکہ ہر صبح و شام اس سے برکت حاصل کرے۔ موسم حج میں اس کی خوشنودی حاصل کرے اور اظہار عقیدت کے طور پر اس کے لیے جانور ذبح کرے اور مصیبت اور پریشانی کی کٹھن گھڑیوں مں اس سے امان و پناہ کی درخواست کرے۔ اس وقت کے رواج کے مطابق عمر بن جموح کے پاس بھی ایک بت تھا جس کانام" مناۃ " تھا۔ اس کو انہوں نے بہت قیمتی اور نفیس لکڑی سے بنایا تھا۔ عمر بن جموح اس سےغیر معمولی عقیدت رکھتے۔ اس کے رکھ رکھاو کا بڑا اہتمام کرتے اس کی دیکھ بھال کے لیے برابر فکر مند رہتے اور ہمیشہ اس کو نفیس ترین خوشبو سے معطر کیے رہتے تھے۔
آفتاب اسلام کی شعائیں جس وقت مبشر اول حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کےذریعہ یثرب کے ایک ایک گھر پر ضوفگن ہورہی تھیں۔ عمروبن جموح کی عمر ساٹھ سال سے متجاوز ہوچکی تھی اور اس وقت ان کے تینوں بیٹے معاذ رضی اللہ عنہ ، معوذ رضی اللہ عنہ،خلاد رضی اللہ عنہ اور ان کے ایک ہمجولی معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہو چکے تھے۔ اس کےعلاوہ ان تینوں بیٹوں کے ساتھ ان کی ماں ہند بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوچکی تھیں لیکن عمروبن جموح اس سےبالکل بے خبر تھے۔
عمروبن جموح کی بیوی نےدیکھاکہ اہل یثرب کی بڑی اکثریت نے اسلام قبول کرلیا ہے اور ان کے شوہر اور معدودے چند لوگوں کے قبائل کے سربرآوردہ سرداروں میں سے کوئی بھی اب شرک پر باقی نہیں رہ گیا ہے۔ ہند اپنے شوہر سے بہت زیادہ محبت کرتی اور ان کا غیر معمولی احترام کرتی تھیں اور ان کے متعلق اس بات سے ڈرتی تھیں کہ اگر انہوں نے کفر کو نہیں چھوڑا اور اسی حال میں ان کو موت آگئی تو وہ جہنم کے مستحق قرار پائیں گے۔ادھرعمرو بن جموح اپنے لڑکوں کے متعلق یہ خطرہ محسوس کرر ہے تھے کہ کہیں یہ لوگ آباو اجداد کے دین کو چھوڑ کراس داعی اسلام مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی پیروی نہ اختیار کر لیں،جس نے قلیل مدت میں بہت سے لوگوں کو ان کے دین سےپھیر کر محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں داخل کرلیا ہے۔ اس خطرے کو محسوس کرتے ہوئے انہوں نےاپنی بیوی سے کہا”ہند!دیکھو اس بات کا خیال رکھنا کہ جب تک ہم کسی فیصلے پر نہ پہنچ جائیں تمہارے لڑکے اس شخص سے ملنے نہ پائیں"
"میں اس کا خیال رکھوں گی"ہند نے کہا۔"لیکن کیا آپ پسند کریں گے کہ اپنے بیٹے معاذ رضی اللہ عنہ سے وہ باتیں سن لیں جواس شخص سے سن کر بیان کررہا ہے"
"تمہارا بھلا ہو" کیا وہ میری لاعلمی میں اپنے دین سے پھر گیا ہے؟"عمر بن جموح نے پوچھا۔ نیک بیوی کو ان کے اوپر ترس آیا اور انہوں نے جواب دیا۔
"نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ وہ اس داعی کی مجلس میں شامل ہوا تھا اور وہاں اس نے اس کی کچھ باتیں سن لی ہیں"
عمرو نے کہا"اس کو میرے پاس لاو"
اور جب معاذ ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا کہ " یہ شخص جو کچھ کہتا ہے اس میں سے کچھ باتیں مجھے سناو" یہ سن کر بیٹے نے باپ کو کلام الٰہی کے یہ دل نشین بول پڑھ کر سنائے۔
بسم اللہ الرحمن الرحمن الرحیم
" ساری تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام عالم کا رب ہے جو رحمٰن ورحیم اور روز جزاکا مالک ہے۔خدایا! صراط مستقیم کی طرف ہماری رہنمائی فرما۔ ان لوگوں کے راستے کی طرف جن پر تونے انعام فرمایا جو نہ تیرے غضب کے مستحق ہیں نہ گم کردہ راہ"(سورۃ الفاتحۃ
عمرو بن جموح بڑے غورو انہماک کے ساتھ اپنے بیٹے کی زبان سے ادا ہونے والے ان دل نشین بولوں کو سنتے رہے پھر انہوں نے سراٹھایا اور بیٹے سے مخاطب ہوئے" کتنا خوبصورت اور حسین ہے یہ کلام، کیا اس کاسارا کلام ایسا ہی ہے؟"
اس کاکلام اس سے بھی خوبصورت ہے" معاذ نے کہا۔ "اباجان کیا آپ اس کی بیعت کرنا پسند کریں گے؟آپ کا پورا قبیلہ اس کی بیعت کرچکا ہے
یہ سن کر بڑے میاں تھوڑی دیر تک خاموش رہے پھر بولے "مناۃ" سے مشورہ کیے بغیر میں ایسا نہیں کرسکتا۔ دیکھتا ہوں وہ مجھے کیارائے دیتا ہے"۔
ابا جان مناۃ اس سلسلے میں آپ کو کیا مشورہ دے گا وہ تو لکڑی کا بے جان ٹکڑا ہے۔ سننے ،بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم" نوجوان معاذ نے حقیقت کی نشاندہی کی۔
"میں کہہ چکا ہوں کہ اس سے رائے لیے بغیر میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا" بڑے میاں نے غصے سے تیز ہوتے ہوئے کہا۔
اس کے بعد عمرو بن جموح وہاں سے اٹھ کر مناۃ کے پاس پہنچے(اہل جاہلیت کا معمول تھا کہ جب وہ کسی بت سے بات کرنا چاہتے تو اس کے پیچھے کسی بوڑی عورت کو کھڑا کردیتے اور وہ ان کے زعم باطل کے مطابق جوبات اس بڑھیا کے دل میں ڈالتا وہی کہتی تھی) اور اس کے سامنے اپنے سیدھے اور تندرست پاوں کے بل کھڑے ہوگئے۔ ان کا ایک پاوں لنگڑا تھا۔ پہلے تو انہوں نے بت کی بہترین حمدو ثنا کی پھربولے۔
"مناۃ!تجھے یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ داعی جو مکہ سے ہمارے یہاں پہنچا ہے وہ تیرے علاوہ کسی اور کو نقصان نہیں پہنچاناچاہتا۔ وہ صرف اس لیے یہاں آیا ہے کہ ہم کو تیری عبادت سے روک دے اور میں اس کی اچھی باتیں سن چکنے کے باوجود ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ جب تک تم سے مشورہ نہ کرلوں تو تم مجھے اس سلسلے میں مناسب مشورہ دو"۔
لیکن جب مناۃ نے ان کی بات کا کوئی جواب نہ دیا تو عمرو نے کہا کہ " شاید تم ناراض ہوگئے ہو اور میں کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جو تمھارے لیے باعث اذیت ہو۔ خیر کوئی بات نہیں، میں تم کو چند روز کی مہلت دیتا ہوں تاکہ تمہارا غصہ فرو ہوجائے"۔


عمروبن جموح کے لڑکے مناۃ کے اپنے باپ کے غیر معمولی تعلق خاطر کواچھی طرح جانتے تھے۔ ان کو یہ بات بھی خوب معلوم تھی کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ان کے لیے ایک جزو لازم بن چکا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ان کو اس بات کااندازہ بھی ہوگیا تھا کہ ان کے دل میں اس کی عقیدت ونیامندی کی بنیاد متزلزل ہورہی ہے۔ اب یہ ان کاکام ہے کہ اس کی عقیدت کو ان کے دل سے پورے طور پر نکال دیں۔ ان کو ایمان کی طرف لانے کی یہی ایک شکل تھی۔
عمروبن جموح کے لڑکے رات کی تاریکی میں اپنےدوست معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مناۃ کےپاس پہنچے اور اس کو اس کی جگہ سے اٹھا کر بنوسلمہ کے اس گڑھے پر لے گئے جس میں وہ کوڑا کرکٹ اور گندگی ڈالتے تھے۔ لڑکے اس کو گڑھے میں پھینک گھر لوٹ آئے اور اس کاروائی کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ صبح کو جب عمرو بن جموح اپنے بت کے پاس اظہار عقیدت کے لیے پہنچے تو اسے اپنی جگہ سے غائب پایا۔ یہ دیکھ کر انہوں نے گھر والوں سے کہا"کہ تم لوگوں کا برا ہو۔ آج رات میرے معبود کے ساتھ کس نے زیادتی کی ہے؟ لیکن کسی نے ان کی اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ گھر کے اندر اور باہر اس کو تلاش کرتے پھرے۔وہ شدت غضب میں گھر والوں کو دھمکی دیتے رہے اور آخرکافی تلاش کے بعد وہ ان کو گڑھے میں منہ کے بل اوندھا پڑاہوا مل گیا۔ انہوں نے اسے وہاں سے نکالا اسے دھو کر صاف کیا اور خوشبو لگا کر دوبارہ اس کی جگہ پر رکھتے ہوئے بولے۔
"خدا کی قسم اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ تمہارے ساتھ کس نے یہ حرکت کی ہے تو میں اسے سخت سزا دوں گا"
دوسری رات بھی لڑکوں نے مناۃ کے ساتھ وہی حرکت کی جو پچھلے رات کر چکے تھے۔ صبح کو جب بڑےمیاں نے اسے تلاش کیا تو اسی گڑھے میں گندگی میں ملوث پایا۔ آج بھی انہوں نے اس کو وہاں سے باہر نکلا کر دھویا اور خوشبو لگا کر اس کی جگہ پر رکھ دیا۔
لڑکے ہر رات اس کے ساتھ یہی سلوک کرتے رہے یہاں تک کہ جب عمرو بن جموح ان کی اس حرکت سے بالکل تنگ آگئے تو رات سونے سے پہلے اس کے پاس گئے اور اپنی تلوار اس کی گردن میں لٹکاتے ہوئے بولے۔
"اے مناۃ!خدا کی قسم مجھے نہیں معلوم کہ تیرے ساتھ یہ حرکت کون کرتا ہے اگر تیرے اندر ذرا بھی خیر ہوتو اپنا دفاع کر۔یہ تلوار تیرے پاس ہے"۔ یہ کہہ کر وہ اپنی خواب گاہ میں چلے گئے اور جب لڑکوں کو اس بات کا اندازہ ہوگیا کہ بڑےمیاں گہری نیند سو چکے ہیں تو وہ جھٹ بُت کے پاس پہنچے۔ انہوں نے اس کی گردن میں پڑ ی ہوئی تلوار نکال لی اور اس کو گھر سے باہر لے گئے۔اب کی بار انہوں نے ایک مردہ کتے کو اس کے ساتھ باندھ دیا۔اور دونوں کو بنوسلمہ کے اسی گڑھے میں پھینک دیا جس میں گندگی اور غلاظت بھری ہوئی تھی۔ صبح کو جب بڑےمیاں سوکر اٹھے اور بت کواپنی جگہ موجود نہں پایا تو اس کی تلاش میں نکلے اور حسب معمول اس کو اسی گڑھے میں اس حال میں منہ کے بل پڑا ہوا پایا کہ اس کے ساتھ ایک مردہ کتا بندھا ہوا تھا اور تلوار اس سے چھین لی گئی تھی۔ اب کی بار انہوں نے اس کو گڑھے سے نہیں نکالا بلکہ جہاں لڑکوں نے اسے پھینکا تھا وہیں چھوڑ دیا اور بولے
"خدا کی قسم اگر تو واقعی معبود ہوتا تو کتے کے ساتھ بندھا ہوا گڑھے میں نہ پڑا ہوتا"
پھر اس کے بعد انہیں خدا کے دین میں داخل ہوتے دیر نہ لگی۔
جب حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ نے حلاوت ایمان کا مزہ چکھ لیاتو اپنی عمر کے اس ایک ایک لمحہ پریشانی اور ندامت کا اظہار کرنے لگے جو شرک کی حالت میں گزرا تھا۔ ایمان لانے کے بعد وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ نئے دین کی طرف متوجہ ہوگئے اور اپنے نفس، اپنے مال اور اپنی اولاد کو خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے لیے وقف کردیا۔
حضرت عمروبن جموح کے مشرف بہ اسلام ہونے کے کچھ عرصہ کے بعد احد کا معرکہ پیش آیا۔ انہوں نے اپنے تینوں بیٹوں کودشمنان خدا سے مقابلہ کی تیاریاں کرتے ہوئے دیکھا ، وہ انہیں صبح و شام بپھرے ہوئے شیروں کی طرح آتےجاتے دیکھتے۔ ان کے چہرے دولت شہادت اور رضائے الٰہی کے حصول کے شوق میں جگمگا رہے تھے۔ اس صورتحال نے ان کے اندر بھی جوش و حمیت کوبرانگیختہ کردیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر قیادت اپنے بیٹوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہونے کا تہیہ کرلیا۔ لیکن ان کے لڑکے ان کو اس ارادے سے باز رکھنےپر متفق الرائے ہوگئے۔ کیونکہ وہ ایک سن رسیدہ بوڑھے تھے۔ اس کے علاوہ ان کے پاوں میں شدید لنگ تھا اورایسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے انہیں شرکت جہادسے معذور قراردیاتھا۔ ان کے بیٹوں نے ان سے کہا کہ" ابا جان! اللہ تعالیٰ نے آپ کو معذور قراردیا ہے۔ آپ خود کو ایسی بات کا مکلف کیوں قرار دے رہے ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کردیاہے" حضرت عمرو بن جموح ان کی اس بات سے سخت ناراض ہوئے اور ان کی شکایت کرنے کے لیے بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔
" اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے بیٹے مجھے اس خیر سے باز رکھنا چاہتے ہیں یہ کہتے ہیں کہ میں لنگڑا ہوں اور معذور ہونے کی وجہ سے جہاد میں شریک ہونا میرے لیے ضروری نہیں ہے۔ خدا کی قسم مجھے امید ہے کہ میں اپنی اس ٹانگ سے جنت میں داخل ہوں گا"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا یہ ذوق شوق دیکھا تو ان کے لڑکوں سے فرمایا کہ: ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ ان کو شہادت عطافرمائے"۔ چنانچہ لڑکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق خاموش ہوگئے۔
جب مجاہدین کی روانگی کا وقت آیا تو حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ سے ملے اور ان سے اس طرح رخصت ہوئے جیسے انہیں لوٹ کر واپس نہیں آنا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے قبلہ رو ہوکر اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دیئے اور دعا کی۔
خدایا مجھے شہادت کی دولت نصیب فرما۔ خدایا! مجھے ناکام اور نامراد اور شہادت سے محروم کر کے واپس نہ لوٹا"۔
پھر وہ اس شان سے میدان جہاد کی طرف روانہ ہوئے کہ ان کے تینوں لڑکے اور ان کے قبیلہ بنو سلمہ کی ایک کثیرتعداد نے انہیں اپنے گھیرے میں لے رکھا تھا اور جب معرکہ کارزار گرم ہوا اور مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھرڑ کر منتشر ہوگئے تو عجیب منظر دیکھنے مں آیا کہ حضرت عمروبن جموح اپنی تندرست ٹانگ سے کودتے ہوئے مسلمانوں کی اس اگلی جماعت میں شامل ہوگئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے آگے بڑھی تھی اوراس وقت تمنائے شہادت لفظوں کی شکل میں انکے لبوں پر مچل رہی تھی۔ " میں جنت کا مشتاق ہوں، میں جنت کا مشتاق ہوں
اس وقت ان کے ایک صاحبزادے حضرت خلاد عقب سے ان کی حفاظت کر رہے تھے وہ دونوں باپ بیٹے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتےہوئے مشرکین سے برابر لڑتے رہے۔ یہاں تک کہ دونوں میدان جنگ میں شہید ہوکر گرپڑے اور دونوں کی شہادت کے درمیان چند لمحات سے زیادہ کاوقفہ حائل نہیں تھا۔
جب جنگ ختم ہوگئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد کی تجہیز و تکفین کے لیے کھڑے ہوئے اور صحابہ کرام سے فرمایا کہ " انہیں ان کے خون اور زخموں سمیت ہی دفن کردو میں ان کا گواہ ہوں" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان راہ خدا میں زخمی ہوگا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ زخموں سے اس کا خون جاری ہوگا۔ اس خون کا رنگ زعفرانی اور اس کی خوشبو مشک کی خوشبو کی طرح ہوگی" پھر فرمایا": عمروبن جموح کو عبداللہ کے ساتھ دفن کرنا۔یہ دونوں اس دنیا میں ایک دوسرے کے نہایت گہرے اور مخلص دوست تھے۔
اللہ تعالیٰ حضرت عمرو بن جموح اور ان کے ساتھی شہدا احد سے راضی ہو اور ان کی قبروں کو نور سے بھردے۔آمین


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔