Thursday, 27 August 2009

مہنگائی کا بازار

0 comments

پاکستانی عوام ایک بار پھر رمضان کی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ ساتھ ایک امتحان سے بھی گزر رہے ہیں اور وہ امتحان ہے مہنگائی کا۔ حکومت وقت نے پاکستانیوں کی اتنی تذلیل کی ہے جتنی اس سے پہلے کی حکومتیں بھی نہ کر سکیں تھیں۔ لوگ چینی اور آٹا لینے کے لئے لائنوں میں ایسے لگے ہوتے ہیں جیسے کہ مفت بٹ رہا ہے۔ حالانکہ ایسا ہے نہیں ۔ عوام کو تھوڑا سا ریلیف بھی بہت احسان جتا جتا کر دیا جا رہا ہے اور یہ ریلیف بھی ہر کسی کو میسر نہیں ہے ۔ موجودہ دور حکومت میں مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ روٹی ، کپڑا ، مکان دینے کی دعوے دار حکومت نے عوام کو دانے دانے کا محتاج کر دیا ہے۔
حسب حال کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیے۔

اب میں راشن کی دکانوں پہ نظر آتا ہوں
اپنے کھیتوں سے بچھڑنے کی سزا پاتا ہوں

کتنی مہنگائی کے بازار سے کچھ لاتا ہوں
اپنے بچوں میں اُسے بانٹ کر شرماتا ہوں

اپنی نیندوں کا لہو پونچھنے کی کوشش میں
جاگتے جاگتے تھک جاتا ہوں، سو جاتا ہوں

کوئی چادر سمجھ کے نہ کھینچ لے پھر سے خلیل
میں کفن اوڑھ کے فٹ پاتھ پہ سو جاتا ہوں

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔