Wednesday, 19 August 2009

جشن آزادی پر مال روڈ پر پاک فوج کا مذاق

0 comments
گزشتہ دنوں 14اگست کو پورے لاہور میں جشن آزادی روایتی جوش جذبے سے منایا گیا۔ اس موقع پر مال روڈ لاہور پر ٹریلرز پر لگے فلوٹس پر پر بہت عجیب وغریب مناظر دیکھنے کو ملے ۔ یہ مناظر دیکھنے پر عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا تھا کہ آیا یہ لوگ پاکستان کی نظریاتی جغرافیائی دفاعی اور اسلامی اقدار کے حق میں مظاہرے کر رہے ہیں یا خلاف۔ ٹرالرز پر لگائے گئے بینرز پر نعرے تو پاکستان اور افواج پاکستان کے حق میں لگائے گئے تھے لیکن اس پر بپا کئے گئے مناظر میں عریانی، فحاشی، ہیجڑا پن کا بول بالا تھا۔ ایک فلوٹ پر ”سپورٹس برائے طلباءوطالبات “ کا فلیکس لگایا گیا تھا لیکن جوان طالبات دلہن کا میک اپ کئے سولہ سنگار سے آراستہ راہگیروں کو مختلف ناچنے کے پوز بنا بنا کر دکھا رہی تھیں اور آنکھوں سے اشارے کر رہی تھیں جبکہ بیک میں اسی فلوٹ پر سپیکر میں نعرہ لگا ہو ا تھا۔
ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں۔
دوسرے فلوٹ پر گورنمنٹ کینئرڈ گرلزہائی سکول کا فلیکس آویزاں تھا لیکن بے پردہ جوان لڑکیاں میوزک کے قدآور آلات اور ڈھولوں کو گھیرے ڈھول کی تھاپ اور میوزک کی دھنوں میں نیم رقص کناں تھیں۔ ”متوالے آزادی کے “ بھی اس فلوٹ کے گرداگرد خوب جھمگٹا کیے ہوئے تھے اور اپنے اپنے موبائل سے ان کے ”فن“ کی مووی فلم بنا رہے تھے۔ اس کے بعد لیڈی میکلین گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کا فلوٹ بھی لیڈی ٹیچرز اور جوان طالبات سے بھرا تھاجو آنے جانے والے جوانوں کو عجب انداز میں منہ چڑا رہی تھیں اور ہاتھوں سے عجیب اشارے کرنے میں مصروف تھیں۔ ایک جوان لڑکی مسلسل موبائل کیمرے سے گرداگرد جمع ہونے والے لڑکوں کی فلم بنا رہی تھی جبکہ قوم کی معمار اور ان ”ہونہار طالبات“ کی ٹیچرز یہ مناظر دیکھ کر خوش ہو رہی تھیں اور اپنے بناﺅ سنگار کو برقرار رکھنے کی کوشش میں ہمہ تن مصروف تھیں جبکہ لڑکے ان کے گرد طرح طرح کی مستیاں کر رہے تھے۔
اس کے ساتھ ”داتا گنج بخش ٹاﺅن“ کا فلوٹ بھی رینگ رہا تھا کہ جس پر دربار کے مختلف حصوں کو بڑا کر کے دکھایا گیا تھا ۔ وہ اعلان کر رہے تھے کہ اذان ہو رہی ہے اس لئے ہم نے رقص روک رکھا ہے اذان کے بعد اگلے چوک میں خوب ناچ ہو گا ۔
ان فلوٹس کے ساتھ ہی ایک گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کا فلوٹس حرکت میں تھا جس میں طلبا کو پاک فوج کی وردیاں پہنا کر ہاتھوں میں لکڑی کی بندوقیں پکڑائی ہوئی تھیں ساتھ سپیکر پر فوج کے حق میں ترانہ لگایا گیا تھا لیکن طلباءمسلسل ہیجڑوں کا ناچ ناچ رہے تھے۔ پاک فوج کے ایک جوان کی حیثیت سے اپنے کولھے اور کمر ہیجڑوں کی طرح ہلا اور گھما رہے تھے۔ ایک طالبعلم نے پاک فوج کی وردی پہن کر پینٹ کے اوپر گھگرا پہنا ہوا تھا اور فلمی ڈانس کر رہا تھا۔ ایک طالبعلم فوج کی وردی میں ملی نغمے پر ٹھمکا لگا رہا تھا۔ یوں پاک فوج کی جو تصویر پیش کی جا رہی تھی وہ بہت تکلیف دہ اور توہین آمیز تھی۔ اس سے بھی فوج کی توہین اور تضحیک پر مبنی مناظر پر ترانہ گونج رہا تھا .... ہم زندہ قوم ہیں .... ہم سب کی ہے پہچان پاکسان جبکہ لڑکیاں ڈانس کررہی تھیں فوج کی وردیوں میں۔
انتظامیہ میں سے کسی نے یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان اور افواج پاکستان کی توہین کا نوٹس نہ لیا۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔