Monday, 31 August 2009

ماں

0 comments
موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں

تب کہیں جا کر تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں

روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھئے

چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں

پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے؟

کوئی ان بچوں سے پوچھے جن کی مر جاتی ہے ماں

زندگانی کے سفر میں گردشوں کی دھوپ میں

جب کوئی سایہ نہیں ملتا تو یاد آتی ہے ماں

کب ضرورت ہو مری بچے کو، اتنا سوچ کر

جاگتی رہتی ہیں آنکھیں اور سو جاتی ہے ماں

بھوک سے مجبور ہو کر مہماں کے سامنے

مانگتے ہیں بچے جب روٹی تو شرماتی ہے ماں
جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول

آنسوؤں کے ساز پر بچے کو بہلاتی ہے ماں

لوٹ کر واپس سفر سے جب بھی گھر آتے ہیں ہم

ڈال کر بانہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں

ایسا لگتا ہے جیسے آگئے فردوس میں

کھینچ کر بانہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں

دیر ہو جاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب کبھی

ریت پر مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں

شکر ہو ہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دئے جاتی ہے ماں

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔