Wednesday, 26 August 2009

’شجر ممنوعہ کی طرف ہاتھ بڑھانے کی قیمت‘

0 comments


محمد علی جناح

ہندوستان کی نصابی اور تاریخ کی کتابوں میں ہندوستان کی تقسیم کے لیے قطعی طور پر جناح کو ہی ذمےدار قرار دیا جاتا ہے

’محمد علی جناح ایک عظیم انسان تھے اور تقسیم کے ذمہ دار جناح نہیں بلکہ نہرو، پٹیل اور کانگریس پارٹی تھی۔‘

جسونت سنگھ کے ان خیالات سے بی جے پی ہی نہیں ہندوستان کا شاید ہی کوئی حلقہ متفق نظر آئے گا۔ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ جسونت سنگھ غلطی پر ہیں بلکہ اس کی بنیادی وجہ ہندوستان میں بانی پاکستان کے بارے میں مروجہ تصورات ہیں۔

ہندوستان کی نصابی اور تاریخ کی کتابوں میں ہندوستان کی تقسیم کے لیے قطعی طور پر جناح کو ہی ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

مرکزی بورڈ کی تاریخ کی نصابی کتابوں میں تقسیم کے سوال کو بہت حساس طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ اس میں تقسیم کے ضمن میں جناح کے ساتھ ساتھ کانگریس کے اس وقت کے رہنماؤں کی بعض پالیسیوں کا بھی ذکر ہے اور عمومی طور پر تقسیم پر بہت زیادہ زور نہیں ہے۔

لیکن ریاستوں میں جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ان میں جناح کو ایک ’ولین‘ اور تاریخ کے ایک برے کردار کے طور پر دکھایا گیا ہے جو تقسیم کے لیے مضر تھے۔

یہ تصورات بچپن سے ہی ذہن میں نقش ہو جاتے ہیں اور کوئی دوسرا یا مخالف تصور نہ ہونے کے سبب یہ تصورات حرف آخر بن جاتے ہیں اور ان سے انحراف کسی سنگین جرم کے مانند نظر آتا ہے۔

جسونت سنگھ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے ’ہندوستان میں جناح کے بارے میں بےپناہ غلط فہمیاں ہیں۔ تقسیم ہند ایک بڑا واقعہ تھا اور اس کے لیے ہمیں ایک برے کردار (’ڈیمن‘) کی ضرورت تھی۔ جناح کی شکل میں ہم نے یہ ’ولین‘ تخلیق کر لیا۔‘

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جناح کی پہلی بار ستائش ملک کی اس سخت گیر جماعت کے رہنماؤں کی طرف سے ہوئی ہے جو پاکستان کے تصور کے سب سے زیادہ مخالف رہے ہیں۔ پہلی بار 2005 میں بی جے پی کے اس وقت کے صدر ایل کے اڈوانی نے جناح کو ایک سیکیولر رہنما بتا کر ہندوستان اور بالخصوص اپنی جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس میں ہلچل مچا دی۔ ان کی جماعت کے اندر ان کے بیان پر زبردست واویلہ مچا تھا۔

جناح کے بارے میں بی جے پی اور آر ایس ایس اپنا جو بھی موقف ظاہر کریں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ خود بھی تقسیم ہند کے لیے نہرو اور کانگریس کو ذمہ دار مانتی رہی ہیں اور مختلف شکلوں میں اس کا اظہار بھی کرتی رہی ہیں۔ لیکن ملک کی تقسیم قبول کرنے میں ہندو نظریاتی تنظیموں کو ایک طویل عرصہ لگا ہے اس لیے جناح اور پاکستان دونوں ہی ان کی نظر میں ایک منفی تصور ٹھہرے۔

کانگریس چونکہ خود تقسیم کی ایک فریق تھی اس لیے جناح کو ’ولین‘ قرار دینا اس کے لیے ایک فطری عمل تھا۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جناح کی پہلی بار ستائش ملک کی اس سخت گیر جماعت کے رہنماؤں کی طرف سے ہوئی ہے جو پاکستان کے تصور کے سب سے زیادہ مخالف رہے ہیں۔ پہلی بار 2005 میں بی جے پی کے اس وقت کے صدر ایل کے اڈوانی نے جناح کو ایک ’سیکیولر‘ رہنما بتا کر ہندوستان اور بالخصوص اپنی جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس میں ہلچل مچا دی۔ ان کی جماعت کے اندر ان کے بیان پر زبردست واویلہ مچا تھا۔

جسونت سنگھ نے تو جناح پر پوری کتاب ہی لکھ دی ہے۔ انہوں نے شجر ممنوعہ کی طرف ہاتھ بڑھانے کی قیمت ادا کر دی ہے ۔

انہیں جناح کی ستائش کی پاداش میں، وضاحت کا موقع دئیے بغیر پارٹی سے انتہائی اہانت کے ساتھ نکال دیا گیا ہے۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔ کانگریس بھی یہی کرتی اور مارکسی کمیونسٹ پارٹی بھی۔

ہندوستان میں محمد علی جناح اب بھی ایک شجر ممنوعہ ہیں۔ ملک کی غالب اکثریت نوجوان نسل کی ہے جس کا تقسیم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس کے بارے میں اتنے جذباتی ہیں جتنا بر صغیر کے ستر اور اسی برس کی عمر کے سیاست دان۔ تاریخ کا مختلف زاویوں سے مطالعہ نئی نسل کا بنیادی حق ہے۔

بی جے پی نے اپنے خیالات کے اظہار کے لیے جسونت سنگھ کے ساتھ جو کیا وہ جمہوریت کے منافی ہے لیکن جسونت نے جو کیا وہ عمل صحت مند جمہوریت کا مستقبل ہے۔ جسونت سنگھ نے ہندوستان میں ایک ذہنی جمود کو توڑا ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔