Thursday, 20 August 2009

عبرت نگاہ!۔

0 comments


تاریخ ایک کھلی کتاب ہے یہ ہمیشہ ہی کھلی رہتی ہے۔ مگر پڑھی بہت کم جاتی ہے۔ اسے بس کوئی خوش قسمت ہی پڑھتا ہے۔ آپ کے خیال میں اس کی کیا وجہ ہوگی؟ غالباً یہی کہ کتاب کھلی ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے جب تک آنکھیں کھلی نہ ہوں۔ ویسے قرآن بھی تقریباً یہی بات کہتا ہے، یہ ضرور ہے کہ قرآن کا انداز اس مسئلے پر بہت سخت ہو جاتا ہے....:

أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ (الحج 46)

”کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل سمجھنے والے اور کان سننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں آندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں؟

قرآن تو ایک اور کتاب کی جانب بھی ہر لمحہ انسان کی توجہ مبذول کراتا ہے۔ یہ کتاب بھی ہر دم کھلی رہتی ہے۔ جو اِسے پڑھتا ہے، جو اِس کے خوبصورت اور دیدہ زیب صفحات الٹتا ہے، سبحان ربی العظیم کہنے کا لطف بھی بس وہی پاتا ہے۔ یہ کھلی کتاب اُس کی کائنات ہے۔ پڑھنے والے اِسے ہر دم پڑھتے ہیں۔ انسان خودبھی اِسی کتاب کا ایک ورق ہے۔ اِسے پڑھنے والے ہی اپنے اندر بھی جھانکتے ہیں۔ تب انہیں اپنے اندر و باہر، وجود کے ہر افق پر، اللہ کی آیات اور نشانیاں ہی نشانیاں دکھتی ہیں۔ ہر طرف انہیں خالق کی عظمت اور کبریائی کے دلائل نظر آتے ہیں۔ یہ اس کی قدرت کے کمالات کا مشاہدہ کرنے میں صبح شام لگتے رہتے ہیں۔ اس کی تخلیق کے لطیف دقائق اور اس بے تحاشا کائناتی جمال سے لاکھوں پیغام پاتے ہیں۔ تب کائنات کا سارا حسن ان کے سجدوں میں آرہتا ہے۔ ان کی تکبیروں میں ایک بصیرت جھلکتی ہے۔ ان کے قرآن پڑھنے میں ایک سوز ہوتا ہے اور ان کی عبادت میں ایک لطافت اور شیرینی۔ یہ قرآن کی نظر سے کائنات کو پڑھنے کا لطف ہے، جو مومن کے لئے دنیا میں نقد انعام ہے۔

کائنات کی کتاب پڑھنا ہر کسی کے بس میں نہیں۔ اس کو اٹھتے بیٹھتے پڑھتے رہنا، کھڑے اور پڑے اس کے اسباق ذہن نشین کرتے رہنا، ہر کسی کا کام نہیں۔ اس کے لئے قرآن نے ایک نہایت خوبصورت مگر کڑی شرط لگا دی ہے.... یہ ہوشمندی کی شرط ہے:

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لآيَاتٍ لِّأُوْلِي الألْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىَ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلاً سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران: 191، 190)

”زمین اور آسمان کی تخلیق میں اور رات دن کے باری باری آنے میں ان (اولی الالباب) ہوشمند لوگوں کے لئے تو بہت نشانیاں ہیں جو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کی ساخت میں غور وفکر کرتے ہیں (تب وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں) ”پروردگار یہ سب کچھ تو نے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے۔ پس اے رب! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے“۔

یہ ’اولی الالباب‘ ہونے کی شرط پوری کرنا گو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے مگر اس نعمت سے محروم رہنا انسان کا اپنا ہی فیصلہ ہے۔ ورنہ لوگ اس بارے میں اگر اتنے بے بس ہوتے تو ’ہدایت‘ پانے کا تقاضا اللہ تعالیٰ صرف خاص لوگوں سے بلکہ فارغ لوگوں سے کرتا اور عام لوگوں کو اس تکلیف سے معاف ہی رکھتا، جو بیچارے دیکھنے میں لگتے ہیں کہ بس ’تاریخ کا جبر سہنے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ ملک وقوم کی خدمت کے عوض اپنے وڈیروں اور طاغوتوں کا ستم جھیلنے کو وجود میں آئے ہیں۔ جو بیچارے پانچ مرلے کے مکان کا خواب دیکھتے زندگی بتا دیتے ہیں اور روٹی کپڑا اور مکان کی مثلث میں پوری عمر طواف کرتے ہیں۔

ان کو اس چھوٹی سی مثلث سے نکال کر آفاق اور انفس کی نشانیاں دکھانا عجیب سا معلوم ہوتا ہے۔ مگر پھر بھی قرآن اسی پر مصر ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ ان کو چھوٹی چھوٹی اور حقیر مخلوقات بڑی اسی وجہ سے تو لگتی ہیں کہ ان کو کائنات کا خدا نظر نہیں آتا۔ مٹی سے بنے ہوئے انسانوں کو لوگ تبھی تو سیلوٹ کرتے ہیں جب انہیں مالک الملک کو سجدہ کرنے کا شعور نہیں رہتا۔ لوگ دنیا کی حسرتیں تبھی تو پالتے ہیں جب وہ آخرت کی وسعت سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ لوگ زمین پر تبھی تو مرتے ہیں جب وہ آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھتے۔ جس ذلت آمیز زندگی کو لوگ اپنے لئے ہدایت نہ پانے کا عذر سمجھتے ہیں وہی تو ان کا جرم ہے۔ انسان اپنا مرتبہ اور مقام پہچاننا چھوڑ دے، اپنی عقل اور خرد کی سب مہارت روٹی اور کپڑے پر جھونک دے، اپنی سوچ کا وہ استعمال نہ کرے جو اس سے کائنات میں مطلوب ہے، اپنی آنکھوں سے وہ حقائق دیکھنے کا کام نہ لے جو کائنات کا منصوبہ ساز اسے دکھانا چاہتا ہے، اپنے کان اس آواز پر لگانے سے احتراز کرے جو وہ اسے سنانا چاہتا ہے۔ اپنے دل میں کائنات کی سب سے بڑی ہستی کی چاہت اور خوف نہ رکھے تو پھر زندگی بھر وہ چھوٹی چھوٹی ہستیوں کی چاہت اور خوف کی ذلت سے کبھی چھٹکارا نہ پا سکے گا۔ پھر یہ اشرف المخلوقات چند مرلوں کے لئے اپنے آپ کو فنا کر لینے پر ہی تیار رہے گا۔ جو انسان اپنا معاملہ انسانوں کے ہاتھ میں سمجھنے لگے اسے حسرت اور نامرادی کے سوا بھلا کیا ہاتھ آسکتا ہے؟ اس پستی میں جاگرنے کی نوبت تبھی تو آتی ہے جب انسان اللہ کی تخلیق پر غور کرنا چھوڑ دے اور کائنات کے پیچھے ایک بہت بڑے ہاتھ اور طاقتور ہستی کو محسوس کرنے کا لطف کھو دے!

’کائنات‘ کے علاوہ، قرآن ’تاریخ‘ کی کتاب پڑھنے پر بھی بہت زور دیتا ہے۔ قرآن تو ہمیں حقائق کی اور بے شمار دستاویزات پڑھاتا ہے۔ یقینا یہ دستاویزات اور یہ کتابیں قرآن آنے سے پہلے بھی کھلی تھیں مگر، جیسا کہ ہم نے کہا، پڑھی نہیں جاتی تھیں۔ دیکھنے کے لئے آنکھوں کی شرط ہے۔ بینائی کی ضرورت ہے۔ کیا یہ آنکھیں اور یہ بینائی ایک دم کہیں سے آجاتی ہے؟ آنکھیں ہوتی تو پہلے سے ہیں۔ یہ اللہ کی فطرت کا حصہ ہے جو اپنی اصل حالت میں پیدا کی گئی ہے۔ ہر مولود اس فطرت کے ساتھ دنیا میں قدم رکھتا ہے۔ مگر رفتہ رفتہ اس آنکھ پر ’معاشرے‘ کا پردہ آجاتا ہے۔ تب وہ سب حقائق اپنے ’معاشرے‘ کی آنکھ سے دیکھنے لگتا ہے۔ اسکے لئے دنیا وہی ہوتی ہے جو ’بڑے‘ سمجھیں۔ جو اخباروں میں چھپے۔ جو ٹی وی میں نشر ہو۔ جو درسی کتابوں میں لکھا ہو۔ قرآن اس کی نظر ٹھیک کر دیتا ہے تو اس کی نگاہ دور دور تک دیکھنے لگتی ہے۔ حقائق اسے بہت صاف نظر آتے ہیں۔ تب ’بڑوں‘ سے اس کی لڑائی ہو جاتی ہے۔ ’معاشرے‘ سے جنگ ہو جاتی ہے۔ معاشرہ اسے حقائق جس طرح دکھانے پر ضد کرتا ہے یہ اس سے مختلف دیکھتا ہے۔ معاشرہ تو خود اندھا ہے جو اسے بھی کھینچ کر جہنم میں لے جا رہا ہے۔ اسے سامنے دہکتی آگ کا گڑھا نظر آتا ہے یہ اس میں کودنے کے لئے تیار نہیں۔ معاشرہ جسے سیلوٹ کرتا ہے یہ اسے پاؤں سے مسل دینے کے قابل سمجھتا ہے۔ کوئی اس کی نظر میں اونچا ہو تو یہ اسے سلیوٹ کرے۔ تعظیم سے سر اس کے آگے جھکائے۔ مگر اسے تو یہ سب کیڑے مکوڑے لگتے ہیں۔ اس کرسی پر تو روز نیا چہرہ ہوتا ہے۔ سلامی کے اس چبوترے پر تو روز نئی صورت ہوتی ہے۔ اسے تو اس سے غرض نہیں کہ اس وقت اس چبوترے پر کون کھڑا ہے۔ یہ تو پوچھتا ہے کہ وہ پچھلا کہاں ہے؟؟؟1 جس انسان کو پچھلے سال اسی میدان میں اسی دن اسی گھڑی تنے ہوئے سینے اور توانا بازو سلام کر رہے تھے، قوم کے چنے ہوئے گبھرو سلامی کی صورت میں جسے اپنی جوانی کا خراج پیش کر رہے تھے، جس کے لئے پچھلے سال اسی میدان میں، اسی دن، اسی گھڑی ہزاروں بوٹوں کی دھمک سے دھرتی ہل رہی تھی وہ اب کہاں ہے؟ وہ کس حال میں ہے؟ وہ کس جیل میں ہے؟ کیا اسے وقت پر روٹی ملتی ہے؟ اس کی کوٹھڑی کتنے ’مرلے‘ کی ہے؟ کیا اسے مچھر تو نہیں کاٹتے؟ پسو تو نہیں لڑتے؟ چارپائی پر سونے کی اجازت ہے؟ اس کی قضائے حاجت کا کیا بندوبست ہے؟ تب اسے اکیس توپوں کی سلامی نہیں سنتی۔ قومی ترانے کی دھن بھول جاتی ہے۔ گارڈ آف آنر کا شور پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ پچھلے سال بھی یہی ٹی وی تھا۔ شاید اناؤنسر بھی یہی ہو۔ باچھیں کھلا کر آنکھوں دیکھا حال بیان کرنے والے صاحب بھی شاید یہی ہوں ورنہ اسی دفتر کے کوئی آدمی ہونگے۔ مارچ پاسٹ کرنے والے دستے بھی شاید وہی ہیں وردیاں بھی وہی ہیں۔ بس ’وہ‘ نہیں ہے۔ باقی سب کچھ وہی ہے۔ باقی تو سب کچھ وہی رہتا ہے۔ بس وہ اوپر والا بدل جاتا ہے۔ دنیا کے ’اوپر والے‘ اور اس کے ’اوپر والے‘ میں بس یہی فرق ہے۔ یہ جسے ’اوپر والا‘ مانتا ہے وہ ہمیشہ اوپر ہی رہتا ہے۔ اس کے نیچے آنے کا سوال نہیں۔ وہی حی القیوم ہے۔ قائم ودائم ہے۔ زندہ اور پائندہ ہے۔ تب اسے یہ پاگل نظر آتے ہیں جو گوشت پوست کے ایک انسان کو سلامی دینے میں لگے ہیں۔ اکیس توپوں کی گھن گرج سے اس کی تعظیم بیان کرتے ہیں۔ اس کے لئے زندہ و پائندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ یہیں اسی میدان میں کل کوئی دوسرا زندہ اور پائندہ ہوگا۔ یہی توپیں کل کسی اور کی عظمت کا اعلان کریں گی۔ یہی کیمرے کل کسی اور چہرے پر نصب ہونگے۔ اور سب سے بڑا پاگل اسے وہ نظر آتا ہے جو چبوترے پر کھڑا سلامی وصول فرما رہا ہے۔ جسے بت بنا ٹی وی سکرینوں پر پورا ملک دیکھ رہا ہے تو اسے اپنی قسمت پر یقین نہیں آتا۔ یہ اپنے بخت پر بار بار ناز کرتا ہے۔ کل جو یہاں کھڑا تھا وہ بھی ایسے ہی جم کر کھڑا تھا۔ جو بھی یہاں آتا ہے بس جم کر ہی کھڑا ہوتا ہے، پر جم نہیں سکتا۔ انسان زیادہ سے زیادہ بس اتنا ہی ’اوپر‘ جا سکتا ہے! نیچے کی چیز ’اوپر‘ جا ہی کیسے سکتی ہے!؟ زمین کو پیدا کرنے والے نے کشش ثقل میں بڑا سبق رکھا ہے۔ نیچے سے اوپر جانے میں بڑا زور اور وقت لگتا ہے اور تیزی سے نیچے آنے کا تماشا دنیا کو بہت بھلا لگتا ہے!!!

یہ توپیں، یہ دستے، یہ سلامیاں، یہ کیمرے آخر ہرجائی کیوں ہیں؟ یہ کسی کے وفادار کیوں نہیں؟ ان بے وفاؤں سے سلام کروانے میں کیا نشہ ہے؟ اگر سامنے کھڑے انسان کی یہی وقعت ہے، تخت اور تختے میں اتنا ہی کم فرق ہے، اِس چبوترے اور اُس کوٹھڑی میں فاصلہ اگر اتنا ہی کم ہے تو یہ سلامی اور سیلوٹ کسے کرتے ہیں؟یہ تو ان بیچاروں کو بھی معلوم نہیں! یہ بات تو خیر بتا ہی کون سکتا ہے! قرآن پڑھے بغیر یہ کسے سمجھ میں آسکتی ہے؟ چیز سامنے پڑی ہو تو بھی اندھیرے میں کہاں نظر آتی ہے؟ دیکھنے کے لئے آنکھیں ہوں بھی تو روشنی کی ضرورت سدا رہتی ہے۔ روشنی زمین پر نہیں، آسمان سے آتی ہے۔

قَدْ جَاءكُم مِّنَ اللّهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ يَهْدِي بِهِ اللّهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلاَمِ وَيُخْرِجُهُم مِّنِ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (المائدہ: 16۔15)

”تمہارے پاس تو اللہ کی طرف سے ایک روشنی آگئی ہے اور ایک ایسی حق کو دکھلا دینے والی کتاب جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کی راہیں بتلاتا ہے اور اپنی توفیق سے ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے اور راہ راست کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے“۔

قرآن ایک دل کو روشن کرتا ہے تو اسے حساس اور لطیف بنا دیتا ہے۔ یہ دل پھر ہر خبر اور ہر واقعے سے درست سبق لیتا ہے۔ دنیا ظاہر کو دیکھتی ہے تو اس کی نظر باطن تک جا پہنچتی ہے۔ یہ امروز کا بندہ نہیں رہتا۔ یہ امروز کو دیروز اور فرد اسے ملا کر دیکھتا ہے تو اسے حقائق دنیا کی نگاہ سے یکسر مختلف نظر آتے ہیں۔ ’آنے والے‘ ہی نہیں ’جانے والے‘ بھی اس کی نگاہ میں رہتے ہیں۔ یہ جانتا ہے کہ لوگ دراصل یہاں جانے کے لئے آتے ہیں اور ہر آنے والا اصل میں تو جانے والا ہے۔ اور یہ ’آنے‘ اور ’جانے‘ کا سارا چکر تو محض اس لئے ہے کہ دنیا میں ہر انسان کو اپنی اوقات دکھانے کا آزادانہ موقع ملے۔ مالک اس کے اپنے ہی عمل کا بدلہ دے اور دنیا بھی اس کی نیکیاں یا اس کے کرتوت دیکھ لے۔ یہ سوچ کر اسے جھرجھری آجاتی ہے۔ اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لوگ یہاں کس کام سے آئے ہیں اور کس کام میں لگے ہیں۔ یہ اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہے کہ وہ دنیا میں کسی فساد کا حصہ بنے یا اپنے پیچھے انسانیت کے لئے کوئی بری یادگار چھوڑ جائے۔

قَالَ رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَيَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِّلْمُجْرِمِينَ (القصص: 17)

”موسی علیہ السلام نے کہا: اے میرے رب تو نے جو مجھ پر احسان کیا میں بھی اب ہرگز بدمعاشوں کا مددگار نہ بنوں گا“۔

قرآن تاریخ کا ایسا سبق پڑھاتا ہے کہ مستقبل بینی کا سلیقہ بھی ساتھ آتا ہے کیونکہ قرآن ذہن کو نہیں دل کو خطاب کرتا ہے۔ قرآن کا پیدا کردہ انسان بہت لطیف اور حساس ہوتا ہے۔ دنیا والوں کے لئے جو واقعہ معمولی حیثیت رکھتا ہے اس کے لئے اس میں بے شمار پیغام پڑے ہوتے ہیں۔ علمِ آثار پڑھنا بس اسی کو آتا ہے۔ کسی بستی کا پن گھٹ اجاڑ پڑا ہو، کنویں کے منڈیر ٹوٹے ہوں، اس پر پانی بھرنے والیاں ساتھ کے قبرستان میں سوئی پڑئی ہوں تو یہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔ آخر ان کو کونسا سانپ سونگھ گیا؟ کوئی عالیشان محل ویران پڑا ہو، کسی بادشاہ کے گھر کو سیرگاہ بنا دیا گیا ہو، کسی ملکہ کی آرام گاہ پر ٹکٹ لگا دیا گیا ہو تو اس کے دماغ پر گویا ہتھوڑے برسنے لگتے ہیں۔ اسے ماضی کے متکبروں میں آج کے جباروں کا چہرہ صاف نظر آتا ہے۔ اسے زمین پر انسان کی بڑائی کی حقیقت اسی اجاڑ بستی کے ویران پن گھٹ کی طرح اور کنویں کے ٹوٹے منڈیر کی طرح نظر آتی ہے جس کے اندر پانی بدبودار اور سڑاند بن چکا ہو۔ کوئی اب اس میں ڈول ڈالے تو کیونکر!

فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ َأَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِِ (الحج 46۔ 45)

”کتنی ہی خطاکار بستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر الٹی پڑی ہیں۔ کتنے ہی کنویں ویران پڑے ہیں اور کتنے ہی قصر کھنڈر بنے ہوئے ہیں۔ کیا یہ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کے دل سمجھنے والے اور ان کے کان سننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں آندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینے میں ہیں“۔

مادے کے ایک پجاری کو زمانے سے یہ عمدہ اور بامعنی سبق کیوں ملیں گے جو اتنی بڑی کائنات کو اور اتنی معنی خیز تخلیق کو محض کسی حادثے کا نتیجہ جانے!؟ اندھی قوتوں کی کارفرمائی سمجھے؟! جو ظالم اپنے خیال میں خود کسی حادثے کا نتیجہ ہو اسے تاریخ اور انسانی وجود میں بھلا کیا سبق ملیں گے!؟ اور وہ بدبخت جو کائنات کو خرد اور حکمت سے عاری بہت سے خداؤں کا بٹوارہ سمجھے، اس میں عبرت کا پہلو کہاں پائے گا؟! یہ سبق تو صرف ایک موحد کو ملیں گے جس کا مالک تنہا اور یکتا ہے! علیم اور حکیم ہے! عزیز اور خبیر ہے! عظیم اور رحیم ہے! لطیف اور جمیل ہے! جس نے انسان کو دنیا میں حالات کے دھکے کھانے اور مخلوق کی ذلت سہنے کے لئے نہیں بنایا بلکہ اپنی کبریائی بیان کرنے کے لئے پیدا کیا ہے! جس مہربان نے انسان کو کسی اور کی خدمت کے لئے نہیں خاص اپنے لئے بنایا ہے! جس نے زندگی اور موت کا سلسلہ انسان کے سبق پانے کے لئے پیدا کر رکھا ہے! جس کا کوئی فعل بھی حادثہ نہیں ہو سکتا! اس کی فرمانروائی میں جو ہوتا ہے حکمت اور دانائی سے پر ہوتا ہے!!!

جس انسان کا خالق کی حکمت پر یقین ہوگا اور جو جانے کہ واقعات کے پیچھے کوئی اندھی اور بے رحم قوتیں نہیں بلکہ حکمت پر مبنی اصول کار فرما ہیں، وہی ہر واقعے کے پیچھے حکمت تلاش کرے گا اور ہر بات سے عبرت لے گا۔ یہ مومن تو اتنا حساس ہوتا ہے کہ ایک حدیث کے مطابق کچھ دنوں کے لئے بیمار بھی پڑے تو سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ مالک کی حکمتوں پر غور کرتا ہے۔ اپنے ایک ایک گناہ کو یاد کرتا ہے۔ اپنے قصور معاف کرواتا ہے۔ کیونکہ جانتا ہے یہ بیماری کچھ اسباب کا نتیجہ نہیں مسبب الاسباب کا فیصلہ ہے جو اسے آزمانا چاہتا ہے اور یا پھر اس کے کسی قصور یا فضول وقتی پر اسے تنبیہہ کر رہا ہے۔ تاآنکہ وہ بیماری سے اٹھتا ہے تو اپنی سب خطائیں معاف کرا چکا ہوتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ایک منافق اور ایمان سے محروم شخص کا حال__ حدیث کے بقول__ ایک گدھے کی طرح ہے جسے نہیں معلوم کہ گھر والوں نے اسے باندھا تھا تو کیوں اور اب چھوڑ دیا ہے تو کیوں؟ ایک چھوٹی سی بیماری سے اتنے بڑے بڑے سبق پانے والا پھر قوموں کی تباہی، امتوں کی بربادی، ملکوں کی ذلت اور بستیوں کی ویرانی میں اسباق لینے سے غافل کیونکر رہ سکتا ہے!؟ قرآن پڑھنے والی امت کو اس پر غور وفکر کرنے کی اشد ضرورت ہے!!!

واقعات میں سبق نہ ہوتا تو قرآن کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہمیں گزری قوموں کے احوال نہ سناتا۔ یہ بھی تو ہو سکتا تھا کہ ان داستانوں سے نکلنے والے اسباق کا قرآن ویسے ہی خلاصہ کر دیتا۔ درسی کتابوں کے انداز میں اور نمبر وار نکات کی صورت میں یہ ہمارے لئے وہ سارے زریں اصول بیان کر دیتا جو قوموں کی تاریخ سے ہمیں سیکھنا تھے۔ پھر قرآن نے کیوں یہ واقعات ہی اس شرح وبسط کے ساتھ بیان کئے؟ قرآن کا کمال یہی ہے کہ یہ اشیاءاور علوم کو اس حد تک آسان کر دیتا ہے جس کے بعد انسان ان کو سمجھنے لگے اور فطرت کی آنکھ سے حقائق کو درست طور پر خود دیکھنے کے قابل ہو۔ چنانچہ یہ اس بات کی گنجائش بھی ساتھ رکھتا ہے کہ انسان اپنی فکر واستنباط کی صلاحیتوں کا بہترین استعمال بھی ضرور کرے اور اللہ نے اس کے اندر جو سوچنے سمجھنے کی خوبی اور کہانی سے نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت ودیعت کی ہے یہ اپنے آپ کو اس خوبی اور صلاحیت کے استعمال سے فارغ نہ سمجھ لے۔ یوں انسان کو اپنی عقل کی اہمیت اور حدود بھی قرآن ہی نے سمجھائی ہیں۔ زندہ ضمیری اور قوتِ احساس کی عظمت سے بھی اسے قرآن ہی آگاہ کرتا ہے۔ قرآن پر آکر ہی انسان اور کائنات کی فطرت یکجا ہوتی ہے۔

قرآن نے قوموں کے عمرانی حقائق اور اصول اسی وجہ سے نمبروارملخص نہیں کئے کہ دراصل یہ انسان کی عقل اور قوتِ استدلال کی بہت قدر کرتا ہے اور اسے ہرگز فضول اور کمتر نہیں جانتا۔ یہ انسان کی ان چھپی ہوئی قوتوں اور صلاحیتوں کو اجاگر کرنے آیا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ انسان کا قلب وذہن اعلیٰ خیالات اور پاکیزہ افکار کی کاشتکاری کے لئے بہترین اور نہایت زرخیز زمین ہے، اس میں معاشرے نے جاہلیت کا جو ھاڑ جھنکار بو رکھا ہے اسے جڑ سے اکھاڑ کر اگر ایمان کے بیج بو دیئے جائیں تو ان سے عمدہ خیالی، بلند فکری، حقائق بینی اور واقعہ شناسی ایسے بے شمار پھل حاصل کئے جا سکتے ہیں جو پوری زمین کو اپنی خوشبو اور مٹھاس سے بہرہ مند کر دیں۔ چنانچہ قرآن کے مخاطب نہ تو مشینیں ہیں اور نہ طوطے بلکہ ایسے لوگ ہیں جو کلام کرنے والے کے مقصد کو پہچانیں۔ اس کی حکمت کی داد دیں۔ واقعے سے سبق لیں۔ کہانی سن لیں تو نتیجہ خود نکالیں اور بات سے بات پانے کا سلیقہ جانیں۔

الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ هَدَاهُمُ اللَّهُ وَأُوْلَئِكَ هُمْ أُوْلُوا الْأَلْبَابِ (الزمر: 18)

”جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی دانش مند ہیں“۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن کبھی ہمیں عاد کی بستی میں لے جا کھڑا کرتا ہے۔ جہاں حدِ نگاہ تک دیوقامت انسانوں کی لاشیں ہی لاشیں بکھری ہیں۔ ایک دراز قامت اور تنومند انسان کی برہنہ لاش میں کتنے پیغام پوشیدہ ہیں! مگر یہاں تو لاشوں کا ڈھیر پڑا ہے۔ آپ ان کے سر پر کھڑے ہیں۔ موت کی سنسنی اور خاموشی ہے۔ تب قرآن ہمیں یہاں چھوڑ دیتا ہے کہ اپنے اپنے قلب وضمیر اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق ہر کوئی اس سے سبق لے اور جو کہانی سنائی گئی اپنی اپنی سمجھ کے مطابق ہر شخص اس سے نتیجہ اخذ کرے۔ یوں کبھی ہمیں یہ ثمود کی ویران بستی کے سرہانے کھڑا کر دیتا ہے۔ کبھی مدین کے کھنڈر دکھانے لے جاتا ہے اور کبھی قوم لوط علیہ السلام کی بستیوں پر پتھر برستے دکھاتا ہے۔ جابجا ان مناظر میں قومیں اپنی نبیوں سے تکرار کرتی نظر آتی ہیں۔ اصلاح کرنے والوں کو اپنے شہروں اور بستیوں سے نکال رہی ہیں۔ کہیں پاکیزگی پسندوں کو پتھر پڑ رہے ہیں۔ کہیں کوئی نبی اپنی اقوام میں گھرا کھڑا ہے۔ ہر طرف ٹھٹھہ اور مذاق ہو رہا ہے۔ شور میں اس کی آواز نہیں سنی جا رہی۔ مگر قرآن کی مدد سے آپ اس کی آواز سن لیتے ہیں۔ وہ نبی آسمان کی طرف بار بار نگاہ اٹھاتا ہے اور اپنی بے بسی کا اعتراف کرتا ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ اس ہجوم کو چیر کر اس کے ساتھ جا کھڑے ہوں اور اس کے ساتھ ملکر آپ بھی چیخنے لگیں اور لوگوں سے پوچھیں کہ تمہیں بھلی بات ہی تو بتائی جا رہی ہے تم اپنا بھلا چاہنے والوں کو رسوا کیوں کرتے ہو اور تم نے اس بہترین انسان کی بات کو تماشا کیوں بنا لیا ہے؟ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی یہاں شدید ضرورت ہے اور یہاں خاموش تماشائی بن کر کھڑے رہنا بے ضمیری کی علامت ہے۔ تب قرآن اچانک موضوع بدل دیتا ہے اور آپ کو آپ کے اپنے معاشرے کی طرف دھکیل دیتا ہے، کہ قرآن کی نظر میں ایسے مناظر کی تو ہر دور میں اور ہر ملک میں ہی ضرورت رہی ہے!

قرآن کا یہ مقصد بھی نہیں کہ آدمی قرآن میں مذکور واقعات کی بس تعداد کو شمار کرے اور ان کی تفصیلات کو ہی ازبر کرلے۔ ہزاروں سال پہلے کے واقعات سے قیامت تک آنے والے انسانوں کا کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ یہ سب کچھ تو ماضی کے آئینے میں حال اور مستقبل کا چہرہ دکھانے کے لئے بیان ہوا ہے۔ اصل میں تو اپنے دور اور اپنے وقت کو سمجھنے کی قابلیت درکار ہے۔ یہ تو مسلمان کے اندر ایک ایسی شخصیت کی تعمیر کے لئے ہے جو روزمرہ واقعات کے پس منظر میں جھانک سکے۔ یہ سب کچھ اس کی اپنی تربیت کے لئے آیا ہے۔ حقائق بینی اور واقعہ شناسی تربیت کا بہت بڑا حصہ ہیں۔ سطحیت اور سادگی مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔ ایک ’اللہ لوک‘ اور ’بھلا مانس‘ آدمی تیار کردینا قرآن کی منشا نہیں.... جسے دنیا کے بدمعاش اپنے اپنے مقاصد کے لئے حسب ضرورت استعمال کرلیا کریں۔ جس کی نیکی اور جذبہء شہادت کو دین کے نام پر ورغلایا جا سکے۔ جس کی ایمانداری اور دیانت داری اور جذبہء بے لوثی سے جاہلی معاشروں کو ترقی ملے اور باطل نظاموں کی عمر میں اضافہ ہو۔

لا یلدغ المؤمن من حجر واجد مرتین (متفق علیہ)

”مومن تو ایک بل سے کبھی دوبار نہیں ڈسا جاتا“

جی ہاں قرآن اتنی ہی سمجھدار قوم کی پرورش کرتا ہے، جو کسی کے سدھانے اور سجھانے کی نہیں۔ جو کسی کے سنبھالنے کی نہیں رہتی۔ نہ یہ کسی سے ڈرے، نہ جھکے اور نہ کسی کے استعمال میں آئے۔ کیونکہ اس نے واقعہ شناسی کا سبق ایمان سے پایا ہے۔ قرآن جس قوم کا استاد ہو، انبیاءجس کے اتالیق ہوں، وہ کسی کے قابو میں کیونکر آسکتی ہے! واقعات کو پڑھنا اور حالات کے بین السطور کو جاننا اسلامی تربیت کا بہت بڑا حصہ ہے

یہ دین صرف لوگوں کو مروجہ معنوں میں ”دیندار‘ بنانے نہیں آیا۔ یہ محض ذکر و تسبیحات کروانے نہیں آیا۔ یہ چند اعمال پر محنت کروانے بھی نہیں آیا۔ بس دل پر ضربیں لگوانا بھی اس کا مقصد نہیں۔ محض چلے کٹوانا اس کے پیش نظر نہیں۔ علم کو علم کے لئے پڑھنا بھی اس کا مقصود نہیں۔ یہ انسان کی فطرت سے خطاب کرتا ہے۔ قلبِ سلیم کو ٹٹولتا ہے۔ اس کی عقل اور ضمیر کو حاضر کرتا ہے۔ اس کی معقولیت کو جلا دیتا ہے۔ اسے اپنا گرد وبیش دیکھنا سکھا دیتا ہے۔ اسے کائنات میں ہر دم اللہ کی عظمت اور قدرت کے آثار اور نشانات پڑھنا سجھاتا ہے۔ اسے خود اپنی حقیقت پر بار بار غور کرنا سکھاتا ہے۔ اللہ کی بندگی کا سادہ اور آسان ترین مطلوب سمجھاتا ہے۔ اس کے اندر بندگی کی بے ساختہ حقیقت پیدا کرتا ہے جو اسے اپنے ہی اندر کی صدا معلوم ہو۔ اسے بھاری بھر کم رسوم اور تکلفات اور بدعات کے بوجھ سے آزاد کرتا ہے۔ اس کی فطرت کو نکھارتا ہے اور اس کی فطری صلاحیتوں کو بلند مقاصد کے لئے زیر استعمال لاتا ہے۔ اسے اس کے اپنے آپ سے آگاہ کرتا ہے اور اس کی چھپی خوبیاں تک برآمد کر لاتا ہے۔ یہ اسے خالق کی پہچان کرا دیتا ہے تو مخلوق کی پہچان اس کو خود بخود ہونے لگتی ہے۔ تب یہ دنیا کے واقعات میں بھی پوری دلچسپی لیتا ہے۔ مسلمانوں کے حالات ہی نہیں کافروں اور طاغوتوں کے معاملات بھی بغور دیکھتا ہے۔ دنیا کے اہم واقعات پر گہری نظر رکھتا ہے۔ ہر واقعے سے سبق لیتا ہے۔ نئے رحجانات کا تجزیہ کرتا ہے۔ اپنے وقت کے انسان کی نفسیات اور ذہنیت سمجھتا ہے۔ اس کے مسائل سے آگاہی رکھتا ہے۔ اسے خطاب کرنے کا انداز سیکھتا ہے۔ اس کے اچھے اور برے پہلوؤں کو تلاش کرتا ہے.... اور یوں اپنے دین کو اپنے وقت کی ضرورت بناتا ہے۔ اپنے دین کو اپنے دور اور اپنے ملک کا اہم ترین مسئلہ بنانے کے لئے مصروف عمل رہتا ہے۔

قرآنی و اقعات دراصل ایسے ہی انسان کی تربیت کے لئے ہیں۔ یہ محض اس لئے نہیں کہ انسان بس ان کی تلاوت کرے یا ان پر علمی تحقیقات اور پرمغز مقالات قلم بند کیا کرے۔ یہ سب کچھ تو اپنے زمانے کو سمجھنے کیلئے ہے۔ اس لحا ظ سے قرآن تو تباہ شدہ قوموں کو بھی ’اکارت‘ نہیں جانے دیتا۔ ان کو بھی ہوشمندوں کے ’زیر استعمال‘ لا کر کارآمد بناتا ہے۔ مردوں میں بھی زندوں کے لئے سبق رکھتا ہے۔ جانے والوں میں آنے والوں کے لئے پیغام چھوڑتا ہے۔ اس زمین پر رونما ہونے والا کوئی واقعہ بھی ضائع جانے نہیں کے لئے نہیں۔ یہاں ہر واقعہ اپنی قیمت دے کر جاتا ہے۔ یہ قیمت ’ہدایت‘ ہے مگر اسے کوئی کوئی وصول کرتا ہے۔ اوروں کے لئے تاریخ ایک انسانی ’کوڑا‘ ہے جسے ’حالات‘ کی آندھیوں نے بے ہنگم ڈھیر کی شکل دے رکھی ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ان کے لئے وقت گزارنے اور دل لگی کا سامان ہے۔ لوگ اس ’ڈھیر‘ پہ بیٹھ کر گپیں ہانکتے ہیں۔ لوگ اس مضمون کو مشغلے کے طور پر پڑھتے ہیں۔ مگر ایک مومن کے لئے یہ نہایت قیمتی دستاویز ہے او ر اس کی اصل قیمت بس وہی جانتا ہے۔ کیونکہ اسے جاننے کے لئے جس زندہ دل اور جاگتے ضمیر کی ضرورت ہے بس وہ اسی کے پاس ہے۔ یہ خوبی صرف قرآن پڑھنے والوں کو ملتی ہے:

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ (ق: 37)

”اس میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لئے جو دل رکھتا ہو یا جو توجہ سے بات کو سنے“۔

اس مدرسہ میں پڑھ کر حالات و واقعات کو سمجھنے کی ایک خاص صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ اللہ کی مخلوق میں اللہ کی حکمتوں کو پڑھنے کا موقعہ ملتا ہے اور اپنے گرد وپیش سے معاملہ کرنے کا ڈھنگ آتا ہے۔ یہ آدمی میں نصیحت آموزی کی ایک خاص صفت اور نفسیات پیدا کرتا ہے اور انسان کو آنکھیں کھلی رکھنے پر ہر دم تیار رکھتا ہے۔ پھر وہ قرآن کی بتائی ہوئی داستانوں کو عاد وثمود اور فرعون ونمرود تک محدود نہیں رکھتا۔ کفار کے مکر وتدبر کو قصہء پارینہ نہیں جانتا بلکہ ان سب کرداروں کو اپنے زمانے میں تلاش کرتا ہے۔

اِس کے اردگرد میں کسی کی موت واقع ہو جائے تو چونک اٹھتا ہے۔ اِسی جیسے انسان کی موت کی صورت میں اس کے لئے اوپر سے جو پیغام آیا ہے یہ اسے پا لیتا ہے۔ تب یہ دنیا اور زمین جتنی چھوٹی اور مختصر ہے یہ اس کے لئے اور بھی مختصر ہو جاتی ہے۔ پھر اس وقت تو عبرت آموزی کی کوئی حد نہیں رہتی جب دنیا میں کسی طاغوت کا جنازہ اٹھے۔ کوئی محل زمین بوس ہو۔ کسی متکبر کا تاج گرے۔ کوئی فرعون غرق ہو۔ کسی کھاتی پیتی قوم کو زوال آئے۔ کسی سلطنت کا خاتمہ ہو یا کسی ملک کو ذلت اٹھانا پڑے۔ یہ خدائی پیغامات یقینا پوری دنیا کے لئے ہیں مگر ان کو وصول بس یہی کرتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسے پیغامات انسانی دنیا میں ہر وقت نشر ہوتے رہتے ہیں۔

یہاں شاہِ ایران کا تخت کھو کر دنیا میں دربدر پھرنا اور جس امریکہ کو اس نے رب سمجھا اسی کے ہاتھوں دھتکارا جانا اور زمانے میں ہر جگہ رسوا ہونا پوری دنیا نے دیکھا۔ جب اسے قبر کے لئے ’کوئے یار‘ میں تو کیا زمین میں کہیں دو گز جگہ نہ ملتی تھی۔ پھر کیا کسی کو اللہ کی بڑائی یاد آئی؟ دنیا میں جباری کا خواب دیکھنے والے ہٹلر کی کیا پھر کسی کو لاش بھی مل سکی؟ مسولینی، اسٹالن، خروشف، لینن اور چرچل کیا اسی دور کے افسانے نہیں؟ کمیونزم کی قبر کھدے ابھی کتنی دیر ہوئی ہے؟ اپنے یہاں کے سرخوں اور ترقی پسندوں کو کیا سانپ سونگھ گیا؟ رومانیہ کے بچے بچے کو اپنا غلام سمجھ رکھنے والے چاؤسسکو کے سینے اور پیٹ میں یک لخت کتنے درجن گولیاں اتریں؟ انور سادات اسی سلامی کے چبوترے سے تو نیچے گرا تھا! مارکوس کے محلات کا تماشہ کس نے نہیں دیکھا؟ اندرا، سنجے اور راجیو گاندھی کا برا حشر کسے معلوم نہیں؟ نجیب کا تنومند لاشہ کابل کے چوراہے میں کتنے دن تک رسے سے جھولتا رہا؟ پاکستان کے سیاہ وسفید کا مالک بننے کے خواب یہاں کتنوں نے دیکھا؟ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی مضبوط کرسی کیا ہوئی اور اسے پھانسی ہونے کا دن کسے یاد نہیں؟ جنرل ضیا الحق کی لاش کے ٹکڑے کس طرح بکھرے؟ بے نظیر کہاں گئی؟ نہرو اور بھٹو خاندان کے مرد کہاں چلے گئے؟ ہر دو کنبے کے انجام سے سبق کس کس نے لیا؟ بھاری مینڈیٹ پر بھروسہ کرنے والا چشم زدن میں تخت سے اتر کر تختے سے کتنا قریب ہوچکا تھا؟ عشرے بھر کیلئے سیاہ وسفید کا مالک بنے رہنے والے مشرف کو چشم نم کے ساتھ رخصت ہوتا کس کس نے دیکھا؟عراق کی بعث پارٹی جو بغداد کے چوراہوں میں روز اللہ کو چیلنج کیا کرتی تھی، کیونکر بوسیدہ خاک بنی؟ امریکہ کے برج الٹتے دنیا نے کتنی دلچسپی سے دیکھے کہ جس کے بعد اس کا طنطنہ سمٹتے سائے کی طرح دیکھا جانے لگا ہے؟ حضرات اللہ کی یہ سب قدرتیں ہم نے اپنے اسی دور میں اور بہت مختصر عرصے میں اپنی انہی آنکھوں سے دیکھیں۔ کیا پھر بھی اللہ بڑا نہیں؟؟؟

یہ سب کچھ دیکھ کر بس ایک مومن ہی کے سجدوں میں بصیرت آتی ہے۔ اوروں کے لئے تو یہ سب کھیل تماشا ہے۔ اخبار پڑھنا بھی بس اسے ہی زیب دیتا ہے۔ اردگرد پر نگاہ ڈالنا اِسی کو آتا ہے۔

قوموں کے عروج وزوال کے محرکات پر ایک مسلمان ہی غور کرتا ہے۔ سورۃ البقرہ ختم کرکے آل عمران شروع کرلیں۔ پھر نساءاور مائدہ پر پہنچ جائیں۔ سورۃ الاعراف پڑھیں.... بنی اسرائیل کی کہانی ختم ہونے میں نہیں آتی۔ مر کھپ چکی قوم کی اتنی دقیق تفصیلات ہم نماز اور تراویح میں کھڑے ہو کر تلاوت کیوں کرتے ہیں؟ اس میں دراصل ہماری ہی کہانی ہے۔ ذرا غور کریں تو اس میں ہمیں اپنے حکمران، علما، عوام، قائدین اور مصلحین سبھی نظر آئیں گے۔ تب ہمیں تاریخ خود کو دھراتی دکھائی دے گی، تاریخ کے دھرائے جانے کی دلیل تو حدیث میں واضح طور پر موجود ہے۔

عن عبداﷲ بن عمر قال: قال رسول اﷲ لیاتین علی امتی مااتی علی بنی اسرائیل حذو النعل بالنعل، حتی ان کان منھم من یاتی امہ علانیہ لکان فی امتی من یصنع ذلک، وان بنی اسرائیل تفرقت علی اثنیتین وسبعین ملۃ وتتفرق امتی علی ثلاث وسبعین ملۃ کلھم فی النار الاملۃ واحدہ۔ قالو: ومن ھی یا رسول اﷲ؟ قال ما انا علیہ واصحابی 2

”عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت پر بھی وہی کچھ گزرے گا جو بنی اسرائیل پر گزرا ہے، ہو بہو، حتی کہ اگر ان میں سے کوئی کھلے بندوں اپنی ماں سے بدکاری کرتا تھا تو میری امت میں بھی ایسا کرنے والا ضرور ہوگا اور بنی اسرائیل بہتر ملتوں میں متفرق ہوئے ہیں جبکہ میری امت تہتر ملتوں میں متفرق ہوگی سب کی سب دوزخ میں جائیں گے سوائے ایک ملت کے، صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی، وہ کون سی ہوگی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فرمایا: جو میرے اور میرے صحابہ کے طریق پر ہوگی“۔

مسلم امت کا ہزار سالہ عروج اور پھر تین سو سالہ زوال جو سو سال پہلے اپنی آخری حد کو چھو چکا تھا، اسی تاریخ کا حصہ ہے۔ جس کی حقیقت قرآن ہمیں مختلف زاویوں سے دکھاتا ہے۔ تاریخ کی کروٹ میں سستی اسی وجہ سے آرہی ہے کہ مسلمان اپنی تاریخ کے اسباق قرآن سے لینے میں سست رو ہیں۔ یہ اس میں جلدی کرلیں تو تاریخ کی رفتار میں تیزی آسکتی ہے۔ امت کو اپنے سمجھدار اور ہوشمند ذہنوں کی اشد ضرورت ہے۔ قرآن سے تاریخ پڑھنے والی قوم کا پیچھے رہ جانا قطعی ناممکن ہے۔ لوگ اس امت کے حجم کو دیکھ دیکھ کر ڈرتے ہیں۔ اس کے جذبہء شہادت سے ان کے اوسان خطا ہوتے ہیں۔ جس دن قرآنی بصیرت اور ایمانی فراست بھی میدان میں آگئی تب دنیا کے پاس اس سیلِ رواں کو روکنے کی کوئی تدبیر نہ رہے گی، ان شاءاللہ (تحقیقاً لا تعلیقاً)۔ امت کے اہداف درست کرنا اس دور کی بڑی عبادت ہے۔

امت کے اہداف کی بابت ایک بات بہت واضح ہے۔ یہاں بہت ابتدائی اور بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ افراد کی ذہنیت سے لے کر اجتماعی مقاصد تک سب کچھ تبدیل ہونا ہے۔ مسلمان قوموں اور ملکوں کے موجودہ اہداف کسی معنی میں بھی قرآن کے اہداف نہیں ہیں۔ قرآن کی سمت کسی طرف ہے تو ان ملکوں اور قوموں کی سمت کسی اور طرف۔ اس لئے ان ملکوں اور قوموں کے اہداف پر زور لگانا فضول ہے۔ ان ملکوں کی توسیع کرنا اسلام کی خدمت نہیں۔ ان کے وجود میں اپنے وجود کو ملا دینا اور ان پر اپنا آپ لٹا دینا دین کی منشا نہیں۔ اس امت کو تھوک کے حساب سے ملک اور زمین حاصل ہے مگر اسلام کی حقیقت ان مملکتوں سے کوسوں دور۔ کیا تاریخ کے اس اتنے بڑے واقعے میں کوئی عبرت کا پہلو نہیں؟

مسلمانوں کے پاس اتنے ملکوں کا ہونا اور عرصہء دراز سے ان کے پاس رہنا۔ مگر پھر بھی دنیا کو حق اور باطل کا فرق تک معلوم نہ ہونا تاریخ کا ایک خاصا بڑا اور قابل غور واقعہ ہے۔ آنے والی نسلیں ضرور اس پر غور کریں گی۔ پھر کیا یہ ہمارے ہی غور کرنے کی چیز نہیں؟ کیا ہمیں یہ پسند ہے کہ ہم اپنے ملکوں اور معاشروں سمیت آنے والی نسلوں کے لئے تاریخ کا عبرت آمیز سبق بنیں؟ حقیقت یہ ہے کہ جو تاریخ سے سبق نہیں لیتے پھر وہ خود تاریخ کا سبق بنتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی اس تاریخ سے سبق ضرور لیتا ہے۔ یہ دنیا میں ضائع ہونے کی چیز نہیں۔ کاروبار اور بیوی بچوں سے فرصت ملے تو اس پر ذرا سوچ لیجئے گا۔ اپنی دینی اور تحریکی مصروفیات سے وقت نکال کر کچھ اس پر غور کرلینا بھی امید ہے خالی از فائدہ نہ ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ عقیدے کا تاریخ اور حالات سے گہرا تعلق ہے۔ یہ تاریخ قوموں اور ملکوں سے ہوتی ہوئی شہروں اور بستیوں تک آتی ہے، گلی کوچوں اور گھروں تک پہنچتی ہے۔ یہ ہر فرد کو متاثر کرتی اور ہر فرد سے متاثر ہوتی ہے۔ یہ شہر اور بستیاں، گلی کوچے اور محلے اور یہ افراد ہی تاریخ ہیں۔ ہم سب تاریخ ہیں۔ دیکھنے والا اسے دیکھ رہا ہے۔ یہ آنے والوں کے لئے محفوظ کی جا رہی ہے۔ اسی کا ایک نسخہ اگلے جہاں بھیج دیا جاتا ہے۔ دیکھنے والوں کی نظریں لگی ہیں.... کہ ہم کیا کرتے ہیں؟

آئیے یہاں اپنے اپنے کردار کا تعین کرلیں! اپنے فرائض اور امت کی سمت کا تعین بصیرت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ قرآن سے اپنی اور اپنے دور کی حقیقت سمجھ لینا نہایت ضروری ہے۔

1 یہ مضمون ابتداء 2000ءمیں لکھا گیا تھا، جب ایک حکومت کا تختہ الٹے کچھ ہی عرصہ گزرا تھا اور معزول حکمران پر سخت وقت بیان کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں کچھ ردوبدل کر کے یہ مضمون ’ایمان کا سبق‘ میں شامل کیا گیا۔

2 الترمذی، البانی نے اسے صحیح کہا ہے، دیکھئے صحیح وضعیف سنن الترمذی رقم: 1641 ج 6 ص 141

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔