Thursday, 13 August 2009

اقبال کا خواب پاکستان

0 comments


کتنا اچھا ہے کتنا پیارا ہے
اِک چمکتا ہوا ، ستارا ہے
ہم ہیں اِس کے تو یہ ہمارا ہے
جان میں اس کی جان ہے اپنی
اِس کی ہر شان ، شان ہے اپنی

یہ بڑا مُلک ہے کہ چھوٹا ہے
اُس طرح کا کہ اِس طرح کا ہے
یہ بڑی بات ہے کہ اپنا ہے
دیس میں اپنے اپنا راج تو ہے
اپنے ہاتھوں میں اپنی لاج تو ہے

کِس نے پہلے پہل یہ بات بتائی
کِس نے پہلے پہل یہ راہ دکھائی
کِس نے خوشخبری ہم کو آکے سنائی
جانتے ہو یہ کام کِس کا تھا
ڈاکٹر اقبال نام جس کا تھا

چاہتے ہو کہ تُم بھی ہو آباد
چاہتے ہو کہ تُم بھی ہو آزاد
چاہتے …

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔