Wednesday, 26 August 2009

موم بتیوں کی روشنیوں میں کھانا مضر صحت

0 comments


موم بتی

سائنسدانوں کے مطابق پیرافین سے بننے والا موم زیادہ خطرناک ہے

موم بتیوں کی مدھم روشنی میں رات کا کھانا یا کینڈل ڈنر ایک رومانوی انداز ضرور ہوسکتا ہے تاہم سائنسدانوں نے متنبہ کیا ہے کہ یہ طریقہ کار مضر صحت ہے۔

جنوبی کیرولائنا کی سٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق موم بتیوں کے جلنے سے نکلنے والے بخارات اور گیسز پھیپڑوں کے سرطان اور دمہ کا باعث ہوسکتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایسا سالہا سال موم بتیاں استعمال کرنے کے بعد ہی ممکن ہے۔

سائنسدانوں نے موم بتیوں کے جلنے سے نکلنے والی گیسوں کا لیبارٹری میں تجزیہ کیا ہے۔

برطانوی ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی، شراب اور مٹاپا سرطان کے پھیلنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موم جلنے سے پیدا ہونے والے بخارات اور گیسیں انسانی صحت کے لیے خطرناک ہیں تاہم کبھی کبھار ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

محقق احمد حمیدی کا کہنا ہے کہ موم بتی کا زیادہ استعمال اچھا نہیں ہے جیسا کہ بعض گھروں میں دوران غسل یا کمروں کے اندر موم بتی جلانے کا رواج ہوتا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن میں امریکن کیمیکل سوسائٹی کو بتایا ہے کہ لوگوں کو بند کمروں یا غسل خانوں میں موم بتی کے زیادہ استعمال سے گریز کرنا چاہیے۔

سائنسدانوں کے مطابق پیرافین سے بننے والا موم زیادہ خطرناک ہے اس لیے سویا یا پھر شہد کی مکھی کے موم سے بنی موم بتیاں استعمال کرنا نسبتاً محفوظ ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔