Monday, 31 August 2009

اسلامی معلومات

0 comments



عشرہ مبشرہ




حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ
حضرت عثمان رضي اللہ تعالی عنہ
حضرت علی رضي اللہ تعالی عنہ
حضرت طلحہ رضي اللہ تعالی عنہ
حضرت زبیر رضي اللہ تعالی عنہ
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالی عنہ
حضرت سعد رضي اللہ تعالی عنہ
حضرت سعید رضی اللہ تعالی عنہ
حضرت ابوعبیدہ رضي اللہ تعالی عنہ


عشرہ مبشرہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صحابہ ہیں جنہیں زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ
خلیفہ اول اور مردوں میں اسلام لانے والے اول عبداللہ المعروف ابوبکر صدیق تھے۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ نشیب و فراز دیکھے۔ ام المومنین اور مشہور محدثہ حضرت عائشہ صدیقہ کے والد تھے۔ بہت کم گو اور صابر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد مسلمانوں کے خلیفہ اول مقرر ہوئے۔ حضرت ابوبکر (رض) کے دور کے شروع میں فتنہ ارتداد زوروں پر تھا لیکن صدیق اکبر کی مستقل مزاجی اور صبر سے اسلام پر خطرناک ترین دور بخیر و عافیت ان کی موجودگی میں ختم ہوا اور مسلمان قوم پر فتوحات کا دروازہ کھل گیا۔

صدیق اکبر قبیلہ قریش کی شاخ تیم سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا پیشہ تجارت تھا۔مکمل نام عبداللہ (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ )،ان کی تاریخ ولادت ٥٧٣ء اور جائے ولادت مکہ مکرمہ ہے۔لقب صدیق اور کنیت ابوبکر تھی۔آپ کی تاریخ وفات ٦٣٤ء ہے ۔آپ کی جائے وفات مدینہ منورہ ہے اور وجہ وفات طبعی تھی۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ
حضرت عمر بن خطاب امیر المومنین کا لقب فاروق اور کنیت ابو حفصہ ہے۔۔ نسبتا وہ عدوی اور قریشی ہیں۔انہوں نے ٦ نبوی میں اسلام قبول کیا اور بعض لوگوں لکھا کہ نبوت کے پانچویں سال اسلام قبول کیا جب کہ چالیس مرد اور گیارہ عورتنیں مسلمان ہو چکی تھیں اور کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ مردوں کی چالیس تعداد حضرت عمر کے اسلام لانے سے پوری ہوئی۔انکے اسلام لانے سے اسلام کو بڑا غلبہ نصیب ہوا۔اسی واسطے ان کو فاروق کہا گیا۔حضرت عمر نبی کریم کے ساتھ تمام جنگوں میں حاضر رہے اور وہ سب سے پہلے خلیفہ ہیں جن کو امیر المومنین کہا گیا۔ان کی خلافت حضرت ابو بکر صدیق کی وفات کے بعد قائم ہوئی۔اس لیے کہ صدیق اکبر نے انہیں کے نام وصیت کی تھی اور انکو مغٰیرہ بن شعبہ کے غلام ابو لولو نے بدھ کے روز شہید کیا۔٢٦ ذولحجہ ٢٣ھ کو اور وہ اتوار کے روز محرم کے عشرہ اولی ٢٤ھ میں دار آخرت کو تشریف لے گئے۔(رضی اللہ عنہ)ِ

حضرت عثمان رضي اللہ تعالی عنہ
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ تھے۔ آپ نے 644ء سے 656ء تک خلافت کی زمہ داریاں سر انجام دیں۔آپ قریش کی ایک شاخ بنو امیہ میں پیدا ہوئے۔ آپ پہلے اسلام قبول کرنے والے لوگوں میں شامل ہیں۔ آپ ایک خدا ترس اور غنی انسان تھے۔ آپ فیاض دلی سے دولت اللہ کی راہ میں خرچ کرتے۔ اسی بنا پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آپ کو غنی کا خطاب دیا۔ آپ نے اسلام کی راہ میں دو ہجرتیں کیں، ایک حبشہ اور دوسری مدینہ منورہ کی طرف۔ آپ کو ذونورين کہاجاتاہےکیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کي دو صاحبزادیاں یکےبعد دیگرے آپ کے نکاح میں آیئں یہ واحد اعزاز ھے جو کسی اور حاصل نہ ھو سکا.

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے پہلے ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں چھ صحابی شامل تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اس کمیٹی میں شامل تھے۔ اس کمیٹی نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کیا۔ آپ نے بارہ سال خلافت کی زمہ داریاں سرانجام دیں۔ آپ کے دور خلافت میں ایران اور شمالی افریقہ کا کافی علاقہ اسلامی سلطنت میں شامل ہوا۔

حضرت علی رضي اللہ تعالی عنہ




حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا ہے۔ آپ حضور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے داماد اور چچا زاد بھائی بھی ہیں۔ نام و کنیت:

آپ کا نام علی (رضی اللہ تعالی عنہ) لقب حیدر جبکہ کنیت ابو الحسن اور ابو تراب ہے۔ آپ کی کنیت ابو تراب حضور نبی کریم علیہ الصلوتہ والسلام نے فرمائی تھی اس ضمن میں روایات میں آتا ہے۔ کہ حضور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے بے حد محبت فرمایا کرتے تھے غزوہ عشیرہ کے سفر کے دوران ایک کھجور کے درخت کے نیچے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ محو خواب تھے اس ریگستانی سر زمین میں آپ کے جسم مبارک پر مٹی لگ گئی حضور نبی کریم علیہ الصلوتہ والسلام وہاں تشریف لاۓ اور آپ کو جگاتے ہوۓ فرمایا اے ابو تراب! اٹھ کھڑا ہو۔ پھر اس کے بعد فرمایا اے علی (رضی اللہ تعالی عنہ)! میں تجھے بتاؤں کہ لوگوں میں سب سے زیادہ بدبخت کون ہے؟ ارشاد فرمایا دو اشخاص۔ ایک وہ شخص جس نے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی کونچیں کاٹیں دوسراوہ شخص جو تیرے چہرہ اور داڑھی کے بالوں کو تیرے خون میں ڈبو دے۔ حضور علیہ الصلوتہ والسلام یہ فرماتے جاتے تھے اور اپنا دست مبارک حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے سر اور چہرہ اقدس پر پھیرتے جاتے تھے۔

آپ کی کنیت ابو تراب کے بارے میں سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنی کنیت ابو تراب بہت پسند تھی اور جب کوئی آپ کو اس نام سے پکارتا تھا تو آپ بہت خوش ہوتے تھے اور آپ کی اس کنیت کا سبب یہ تھا کہ آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کسی بات پر ناراض ہو کر مسجد میں آ کر لیٹ گۓ اور آپ کے بدن پاک پر کچھ مٹی لگ گئی حضور نبی کریم علیہ الصلوتہ والسلام آپ کو بلانے خود مسجد میں تشریف لاۓ آپ کے بدن پاک سے مٹی جھاڑتے ہوۓ حضور علیہ الصلوتہ والسلام فرمانے لگے اے ابو تراب! اٹھو، چنانچہ اسی دن سے آپ کی یہ کنیت مشہور ہو گئی۔

سلسلہ نسب اور والدین:

آپ کا سلسلہ نسب والد کی طرف سے یہ ہے کہ علی ابن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی۔

آپ کی والدہ ماجدہ کا نام فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبد مناف ہے۔

فاطمہ بنت اسد پہلی ہاشمی خاتون ہيں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور ہجرت فرمائی جناب ابو طالب کی چچا کی بیٹی تھیں اس مناسبت سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نجیب الطرفین ہاشمی اور حضور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے حقیقی چچا زاد بھائی تھے۔

حضرت طلحہٰ بن عبید رضی اللہ عنہ

کنیت ؛ ابو محمد قریشی

نسب ؛ طلحہٰ بن عبیداللہ بن عثمان بن کعب بن مرہ۔

۔حضرت سعد بن ابی وقاص الزہری رضی اللہ عنہ ۔

نسب ؛ سعد بن ابھی وقاص بن وہیب بن عبدالمناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ

حضرت ابو عبیدہ ۔

نسب :حضرت ابو عبیدہ بن عبداللہ بن جراح فہری قریشی ہیں

لقب ؛ “امت کے امین“۔



قرآن پاک کے نسخوں کی شہادت
زمین اور آسمان بھی پھٹتے ہوں گے مگر ہماری آنکھیں ایسا کچھ نہیں‌دیکھ پائی ہیں۔۔۔۔۔
میرے آقا محمد عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات گرامی پر اُترنے والی کتاب پاک کو ظالموں‌نے دریوں‌میں لپیٹ کر جلا دیا ہے۔۔۔۔ یہ واقعہ کہیں اور نہیں‌اسلام کے نام پرحاصل کیے گئے ملک کے ایک علاقہ جنڈ کے تین دیہاتوں میں بہ یک وقت ہوا ہے۔۔۔۔ان دیہات کی آٹھ مساجد میں رات کے وقت میں‌گھس کر شر پسندوں‌نے یہ ناپاک جسارت کی۔۔۔۔ اس قدر ظلم اور ایسی گھناونی کارروائی ہمارے لیے دکھ اور اذیت کا باعث تو ہے ہی ساتھ ہی سخت پریشانیوں کا سبب بھی ہے۔۔۔۔ اب ہم اس بربریت کو برداشت نہ کرتے ہوئے نہ جانے کون کون سے حدیں پھلانگ جائیں‌گے ۔۔۔۔۔اگرچہ پولیس نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرچکی ہے۔
میں‌سمجھتا ہوں‌کوئی مسلمان ایسی گھٹیا حرکت نہیں‌کرسکتا۔۔۔۔۔۔
دشمن ہیں‌جو ہمارا اتحاد پارہ پارہ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔۔۔۔ اور ہم ۔۔۔۔ بے دست وپا۔۔۔۔بے فکر وہنر۔۔۔۔۔
اے اللہ ہمارے حال پر رحم فرما۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسماء امہات المومنین


حضرت خدیجۃ بنت خویلد
حضرت سودۃ بنت زمعۃ
حضرت عائشہ بنت ابی بکر
حضرت حفصہ بنت عمر
حضرت زینب بنت خزیمۃ
حضرت امً سلمۃ ھند بنت عتبۃ
حضرت زینب بنت جحش
حضرت جویریۃ بنت الحارث
حضرت صفیۃ بنت حییی بنت اخطب
حضرت ام حبیبۃ رملۃ بنت ابی سفیان
حضرت ماریا بنت شمعون المفتریۃ
حضرت میمونۃ بنت الحارث

حضرت ماریا کے علاوہ تمام امہات کا تعلق عرب سے تھا ۔حضرت ماریا کا تعلق مصر سے تھا۔

حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ کی وفات کے دو سال کے بعد ، حضرت سودۃ‌رضی اللہ عنہ ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح‌میں‌آئیں ۔حضرت سودۃ رضی اللہ عنہ کی عمر اس وقت اسی سال تھی ۔
تمام امہات المومنین میں‌ سب سے کم عمر اور کنواری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ تھیں ۔



وہ تین چیزیں جو کسی رحم مادر میں پیدا نہیں ہوئیں ہوں ؟


1 ۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دنبہ

2 ۔قوم ثمود کی اونٹنی

3 ۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا اژدہا



0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔