Monday, 31 August 2009

اےماں۔۔۔!!

0 comments

بڑا محروم موسم ہےتمہاری یاد کا اے ماں
نجانےکس نگر کو چھوڑ کر چل دی ہو مجھ کو ماں!
شفق چہروں میں اکثر ڈھونڈتی رہتی ہوں ، میں تم کو
کسی کا ہاتھ سر پہ ہو ،تو لگتا ہےتم آئی ہو
کوئی تو ہو ، جو پوچھے،کیوں ترےاندر اداسی ہے
مرےدل کےگھروندےکی صراحی کتنی پیاسی ہے
مجھےجادوئی لگتی ہیں تمہاری، قربتیں اب تو
مری یادوں میں رہتی ہیں تمہاری شفقتیں اب تو
کبھی لگتا ہے،خوشبو کی طرح مجھ سےلپٹتی ہو
کبھی لگتا ہےیوں، ماتھے پہ بوسےثبت کر تی ہو
کوئی لہجہ، ترےجیسا، مرےمن میں اتر جائے
کوئی آواز، میری تشنگی کی گود ،بھر جائے
کوئی ایسےدعائیں دےکہ جیسےتان لہرائے
کسی کی آنکھ میں ، آنسو لرزتےہوں ، مری خاطر
مجھےپردیس بھی بھیجے، لڑے بھی وہ مری خاطر
مگر جب لوٹتی ہوں ساری یادیں لےکےآنچل میں
تو سایہ تک نہیں ملتا کسی گنجان بادل میں
کوئی لوری نہیں سنتی ہوں میں اب دل کی ہلچل میں
تمہاری فرقتوں کا درد بھرلیتی ہوں کاجل میں
کہیں سےبھی دعاؤں کی نہیں آتی مجھےخوشبو
مری خاطر کسی کی آنکھ میں، اترےنہیں آنسو
محبت پاش نظروں سےمجھےتم بھی تکا کرتیں
مدرز ڈے پر کسی تحفےکی مجھ سےآرزو کرتیں
سجاکر طشت میں چاندی کےتم کو ناشتہ دیتی
بہت سےپھول گلدا نوں میں،لا کر میں سجادیتی
کوئی موہوم سا بھی سلسلہ، باقی کہاں باہم
کہ اب برسیں مرےنیناں تمہاری دید کو چھم چھم
دلاؤں ایک ٹوٹےدل سےچاہت کا یقیں کیسے
مری ماں آسمانوں سےتجھےلاؤں یہاں کیسے
نجانےکون سی دنیا میں جا کےبس گئی ہو ماں
بڑا محروم موسم ہےتمہاری یاد کا،
اےماں۔۔۔!!

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔