Wednesday, 26 August 2009

تراویح کے احکام و متعلقہ مسائل ۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رح)

0 comments


تراویح کے احکام و متعلقہ مسائل اور تراویح کی بابت علماء کا باہمی اختلاف۔

بعض علماء تراویح کو نفل، بعض مستحب اور بعض سنت کہتے ہیں۔ اور تراویح کو سنت کہنے والے ہی صحیح راہ پر ہیں۔ اور یہی صحیح ہے کہ مرد و زن کے لیے تراویح پڑھنا سنت مؤکدہ ہے۔ یہ وہ مسنون طریقہ ہے جو بزرگوں سے لے کر اب تک جاری ہے۔ اور مندرجہ ذیل روایت کے پیشِ نظر کوئی اختلاف باقی نہیں رہا ہے۔

امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے امام حسن ابن علی رضی اللہ عنہ کی زبانی بیان کیا ہے کہ تراویح پڑھنا سنت ہے اور اسے کسی حال میں ترک کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایام رمضان میں نماز تراویح پڑھی اور گاہے ترک کرتے ہوئے فرمایا میں اس خوف سے مسلسل نہیں پڑھتا کہ کہیں یہ فرض نہ ہو جائے۔

احادیث میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر خلفاء راشدین ہمیشہ تراویح پڑھتے تھے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے لوگو! میرے اور میرے بعد خلفاء راشدین کی سنت پر سختی کے ساتھ عمل کرو۔ فقہ کی بعض کتابوں میں مرقوم ہے اگر شہر کے باشندے تراویح پڑھنا چھوڑ دیں تو حاکم وقت کے لیے لازمی ہے کہ وہ تارکین تراویح کو قتل کر دے۔

روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا اپنے غلام زکوان کے پیچھے تراویح پڑھتی تھیں اور یہی عمل ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کا تھا کہ وہ دیگر خواتین کے ساتھ جماعت کے طور پر اپنے غلام امام حسن بصری کی امامت میں تراویح پڑھتی تھیں، جسے ہم تفصیل کے ساتھ چند عنوانات میں بیان کرتے ہیں۔

رکعات تراویح

ہمارے مسلک شریعت اسلامیہ میں (20) رکعات تراویح پڑھنا ہی سنت ہے۔ بیہقی نے صحیح اسناد کے ساتھ لکھا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں صحابہ (20) رکعات تراویح پڑھتے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ و علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بھی (20) رکعات ہی پڑھتے تھے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ رمضان میں (3) وتر پڑھتے تھے۔

بعض محدثین کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے لیکن حنفیوں کے نزدیک حدیث مذکورہ بالا مقبول و معتمد علیہ ہے اس لیے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ تراویح کی (20) رکعات ہی پڑھتے تھے۔

بعض لوگ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی روایت کو صحیح کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی شب بیداری کی عادت طیبہ کے موافق (11) رکعات ہی پڑھتے تھے۔

ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں بعض لوگ (11) رکعات پڑھتے تھے تاکہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت ہو جائے لیکن صحابہ و تابعین اور بعد کے بزرگوں کے عمل سے یہ امر تصفیہ شدہ ہے کہ تراویح کی (20) رکعات ہی پڑھی گئی ہیں اور اب بھی (20) رکعات ہی پڑھتے ہیں جو مشہور و معروف ہے۔

ایک روایت میں (23) رکعات پڑھنا تحریر ہے جس میں (3) وتر بھی جمع کر لیے گئے ہیں۔

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک تراویح کی (36) رکعات ہیں اور دوسری روایت میں (39) رکعات مزکور ہیں جن میں وتر بھی شامل ہیں۔ یہ عمل صرف باشندگان مدینہ منورہ کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ باشندگان مکہ معظمہ کا دستور رہا ہے کہ وہ خانہ کعبہ کے ساتھ چکر لگاتے اور طواف کی دو دو رکعتیں ہر دو رکعات تراویح اور وتر کے درمیان ادا کرتے اور باشندگان مدینہ خانہ کعبہ کے اطراف طواف کرنے کی فضیلت سے دور رہنے کے سبب (20) رکعات تراویح کے بعد چار چار رکعات مزید پڑھتے ہیں اور اپنی ان اضافہ کردہ (16) رکعات کو (ستّہ عشریہ) کہتے ہیں اور ان کی یہ عادت آج تک جاری و ساری ہے۔ اس طرح (36) رکعات تراویح کے نام سے کہی جا سکتی ہیں۔ نیز اسی طرح (36) رکعات پڑھنے کی روایت حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی منسوب کی جاتی ہے جو مشہور نہیں ہے۔

بحالت موجودہ اگر آج بھی (20) رکعات تراویح پر مزید اضافہ کے ساتھ نماز پڑھی جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اور ممانعت نہیں۔ اور اس میں امام و مقتدی کی کوئی خصوصیت نہیں بلکہ سب برابر ہیں۔ ستہ عشریہ کو علیحدہ پڑھنا مناسب ہے کیونکہ سوائے تراویح کے کوئی اور نماز باجماعت پڑھنا ہمارے نزدیک مکروہ ہے۔ اور باشندگان مدینہ جو ستہ عشریہ کو باجماعت ادا کرتے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے نزدیک نفل باجمعات پڑھنا مکروہ نہیں ہے۔

متاخرین علماء مصر شیخ قاسم حنفی کا بیان ہے کہ باجماعت نفل ادا کرنا عمل مکروہ ہے کیونکہ نفل پڑھنا اگر مستحب ہوتے تو دوسری نمازوں کی مانند ان کا باجماعت پڑھنا افضل ہوتا۔ اور اگر نماز نفل باجماعت پڑھنے کا حکم ہوتا تو شب بیداری نماز تہجد باجماعت ادا کر کے طالب فضیلت پاتے اور اس سورت میں نماز نفل باجماعت ادا کرنا افضل ہو سکتی تھی۔ اور جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنھم کے طرز عمل و عبادت سے نفل باجماعت ادا کرنے کی کوئی روایت نہیں ہے تو اس صورت میں بھی معلوم ہوا کہ نفل باجماعت ادا کرنے میں کوئی فضیلت و برتری نہیں ہے۔

تراویح میں نشست

مستحب یہ ہے کہ چار رکعات تراویح پڑھنے کے بعد جتنے وقفہ میں ایک ترویحہ (چار رکعت) پڑھتے ہیں اتنی مدت نشست کرے یعنی (20) رکعات تراویح میں ہر چار رکعت کے بعد (5) مرتبہ بیٹھنا مستحب ہے۔ امام اعظم حضرت ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے بھی یہی مروی ہے۔ اور باشندگان حرمین شریفین کا بھی یہی طرز عمل اور یہی طریقہ ہے اور چونکہ لفظ تراویح راحت سے ماخوذ ہے اس لیے چار رکعات کے بعد ترویحہ (ایک رکعت کے وقفہ کے برابر آرام کرنا) ضروری ہے اور آرام کرنے ہی کی وجہ سے ترویحہ کا محاورہ مشہور ہے جو اپنے نام کے سبب کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ باشندگان حرمین شریف اور تمام بزرگوں کا یہی قول و عمل ہے کہ ترویحہ کرتے ہیں۔ باشندگان مکہ معظمہ کا قاعدہ یہ ہے کہ تراویح پڑھنے کے درمیان میں وہ خانہ کعبہ کا (7) مرتبہ طواف کرتے ہیں اور باشندگان مدینہ منورہ ستہ عشریہ کی چار چار رکعات پڑھتے اور اسی طرح تمام ممالک اسلامیہ میں ہر چار رکعت کے بعد آرام سے بیٹھتے ہیں۔

نشست ترویحہ

ہر چار رکعات کے بعد نشست ترویحہ میں اختیار ہے کہ سبحان اﷲ کی تسبیح پڑھے چاہے ’’لا الہ الا اﷲ‘‘ کی خواہ تلاوت قرآن کریم کرے یا خاموش بیٹھا رہے۔

گر چار رکعات کے بعد ترویحہ نہ کیا جائے یعنی آرام سے نہ بیٹھیں تو بعض کے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں اور اکثر علماء و محدثین کے نزدیک ترویحہ ترک کرنا فعل غیر مستحب ہے اور باشندگان حرمین شریفین کے عمل کا مغائر ہے۔

مستحب قرات

میری (عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی) اللہ تعالیٰ اصلاح حال کرے اور جس طرح آغاز و حال اچھا کیا ہے ویسے ہی بلکہ اس سے زیادہ انجام اچھا کرے۔ رائے یہ ہے کہ بزمانہ موجودہ ترویحہ ندارد ہے۔ نمازیوں پر بھار بن جاتی ہے، بلکہ اکثر اوقات چند رکعات میں پوری رات کٹ جاتی ہے۔ آہستہ پڑھنے کا عمل مستحب ہے جو بزرگوں سے بطور ورہ چلا رہا ہے وہ ترک کر کے حافظ صاحبان طویل قرات کے ذریعہ عمل مستحب کو فعل غیر مستحب بنا رہے ہیں، حالانکہ مستحب یہ ہے کہ قرات میں میانہ روی سے کام لیا جائے اور جس طرح چار رکعات کے بعد ترویحہ کرتے ہیں ویسے ہی قرات کو کوتاہ کیا جائے اور لمبی قرات نہ کی جائے جو زیادہ مستحسن ہے تاکہ امر مستحب ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے اور بآسانی ترویحہ کے عمل استحباب کا ثواب ملتا رہے۔ تراویح کی مقدار قرات کو آئندہ بیان کیا جاتا ہے، چار رکعتوں پر معتدل مقدر قرات کے ساتھ جو مدت ہوتی ہے اگر اس کی ایک رکعت سے کم وقفہ کا ترویحہ کیا جائے تو جو مدت ہوتی ہے اگر اس کے ایک رکعت سے کم وقفہ بھی کیا جائے تو ان شاء اللہ کافی ہو گا اور ہم سب اپنے اعمال کی بارگاہ الٰہی میں قبولیت کے خواستگار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اعمال قبول فرمائے۔ (آمین)۔

نیت تراویح

نماز تراویح، سنت الوقتہ یا نفل پڑھنے کی ماہ رمضان میں نیت تو ایسی نیت کرنا جائز ہے۔

البتہ مطلق نماز یا نفل کی نیت کرنے میں مشائخ کا باہمی اختلاف وہی ہے جو سنت مؤکدہ کی نیت کرنے میں اختلاف رائے ہے۔

بعض متقدمین کا بیان ہے کہ نماز تراویح پڑھنے کے لیے نیت کرنا اس لیے جائز ہے کہ تراویح سنت ہے اور نفل کی نیت یا مطلق نماز کی نیت کرنے سے سنت نماز کی ادائیگی نہیں ہوتی ہے۔ جس کا ثبوت وہ روایت ہے جو امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے امام حسن سے دو رکعات نماز فجر کے بارے میں بیان کی ہے اس سے بھی ثابت ہے کہ تراویح کی نماز بھی فرض نمازوں کی مانند ایک مخصوص نماز ہے جس میں فرض نماز کی خصوصیات کی رعیات رکھنا واجب ہے۔ البتہ ان تمام حالات و احکام کی موجودگی میں مطلق نیت ٹھیک نہیں بلکہ نماز تراویح کی نیت کرنا واجب ہے۔

اور اکثر متاخرین کی رائے ہے کہ نماز تراویح اور تمام دیگر سنت نمازیں مطلق نیت نماز کرنے سے ادا ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ نماز تراویح نفل ہے اور نماز نفل مطلق نیت نماز سے ادا ہوتی ہے۔

احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ نماز تراویح، سنت موقتی نفل ماہ رمضان اور تمام دیگر سنتوں میں نیت کرنا ضروری سنت ہے، نیز وہ نماز جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متابعت میں پڑھی جائے اس کی بھی نیت کی جائے تاکہ کوئی اختلاف باقی نہ رہے۔ اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ نماز تراویح میں ہر دوگانہ کی علیحدہ علیحدہ نیت کی جائے۔ یہ قول درست نہیں ہے، اس لیے کہ نماز تراویح پوری کی پوری ایک نماز کی مانند ہے جس کی پہلی مرتبہ نیت کرنا واجب ہے اور ہر دوگانہ پڑھنے کی علیحدہ نیت کرنے کی لازماً ضرورت نہیں ہے۔

مقدار قرات

نماز تراویح میں کس قدر قرآن کریم پڑھا جائے اس میں لوگ باہم مختلف الرائے ہیں۔

بعض کہتے ہیں نماز تراویح میں اتنا قرآن کریم پڑھا جائے جتنا نماز مغرب میں پڑھتے ہیں، کیونکہ نماز تراویح دیگر فرض نمازوں کی بہ نسبت اخف ہے یعنی فرض نماز سے زیادہ اعلیٰ نہیں ہے۔

میں عبدالحق کہتا ہوں کہ ان لوگوں کا یہ قول درست و صحیح اس لیے بھی نہیں کہ اتنی کم مقدار میں تلاوت کرنے سے ماہ رمضان میں قرآن کریم ختم نہیں ہو سکتا۔

بعض کہتے ہیں کہ نماز تراویح کی رکعات میں اتنا قرآن پڑھا جائے جتنا کہ نماز عشاء میں پڑھتے ہیں اس لیے کہ تراویح کی نماز وقت کے لحاظ سے نماز عشاء کے تابع ہے۔

نماز تراویح سنت اور عشاء فرض ہے۔ تابع ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عشاء پڑھنے کے بعد تراویح نہ پڑھی جائے۔ اور وقت کے لحاظ سے ایک نماز کا دوسری کے تابع ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ تابع و متبوع کے لحاظ سے متبوع کی ادائیگی کوئی ضروری نہیں ہوتی، حالانکہ تراویح پڑھنے کا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود حکم دیا ہے اور عمل کر کے سبق بھی دیا ہے، البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وقت کی بچت کیلئے اتنی کم تر تلاوت کی جائے کہ قرآن حکیم ختم ہو سکے اور اس نعمت غیر مترقیہ کو نہ کھویا جائے۔ جو رمضان کی راتوں میں شب بیداری سے حاصل ہوتی ہے۔ از مترجم 12، 2 بالکل درست کہ چھ ہزار آیات قرآنی کو روزانہ بیس آیات کے حساب سے تیس دن میں پورا کیا جا سکتا ہے، لیکن 29 کا چاند ہونے پر کچھ آیات باقی رہیں گی، اس لیے مناسب ہے کہ بڑی آیات بیس اور چھوٹی آیات بیس سے زیادہ پڑھی جائیں، تاکہ بسہولت 27 سے پہلے ہی ایک قرآن شریف کا ختم ہو سکے۔ یعنی شب قدر کی برکتیں بھی 27 کو حاصل ہو جائیں۔

حسن بن زیاد رحمۃ اللہ علیہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی بیان کیا ہے کہ ہر رکعت میں تقریباً دس آیات تلاوت کی جائیں اس طرح ماہ رمضان میں ایک مرتبہ قرآن کریم ختم ہو جائے گا۔ اس لیے کہ نماز تراویح کی روزانہ بیس کے لحاظ سے ایک ماہ میں چھ سو رکعات ہوتی ہیں اور قرآن کریم کی چھ ہزار آیات ہیں۔ اس حساب سے روزانہ تقریباً دس آیتیں پڑھنا مناسب ہے۔

بعض کہتے ہیں کہ بیس سے لے کر تیس آیات تلاوت کی جائیں جیسا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تین اماموں کو طلب کر کے فرمایا تم میں سے ایک امام ہر ایک رکعت میں (30) آیات اور دوسرا (25) آیات اور تیسرا (20) آیات تلاوت کرے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ حکم بربناء فضیلت ہے اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا حکم بربناء سنت ہے اور جمہور کا مذہب بھی یہی ہے کہ ماہ رمضان میں ایک قرآن ختم کرنا سنت ہے اور دو مرتبہ میں قرآن ختم کرنا بہتر ہے اور تین مرتبہ ختم کرنا افضل ہے۔

امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ ختم ایک مرتبہ ہی میں ہوتا ہے دو اور تین مرتبہ میں ختم کرنے کا حکم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہے۔

بعض فقہاء و علماء کا مسلک وقول ہے کہ ستائیسواں رمضان کو قرآن ختم کرنا مستحسن ہے تاکہ شب قدر کی برکتیں بھی حاصل ہو جائیں۔ کیونکہ اکثر محدثین نے احادیث بیان کی ہیں کہ ستائیسویں ہی شب قدر ہے۔

مشائخ بخارا نے قرآن کریم کے (540) رکوع قرار دیئے ہیں اور قرآن کریم میں اس کے نمبر بھی لکھے ہیں تاکہ ستائیسویں شب کو بآسانی قرآن ختم کیا جا سکے۔

ہمارے بعض متقدمین مشائخ نے لکھا ہے افضل یہ ہے کہ ہر رکعت میں (30) آیات پڑھی جائیں تاکہ ہر دسویں شب میں ایک قرآن کریم ختم ہو سکے۔ اور ہر دس دن کو متمیز و مخصوص کر لینا آسان کام ہے اور احادیث میں بھی وارد ہے کہ رمضان کے پہلے دہے (10) میں مسلمانوں کو آتش دوزخ سے چھٹکارا دیا جاتا ہے۔

امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ ماہ رمضان میں وہ (61) قرآن کریم ختم کرتے تھے، جس کی تفصیل یہ کہ (30) قرآن کریم دن میں (30) قرآن کریم رات میں اور ایک قرآن کریم نماز تراویح میں پڑھا کرتے تھے۔

امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے مواہب اللدنیہ میں بھی یہی لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہ ماہ رمضان میں (61) قرآن کریم ختم کرتے تھے (جس کی تفصیل لکھی گئی ہے)۔

فقہاء کرام کا بیان ہے کہ تراویح کی ہر دو رکعات میں تلاوت قرآن کریم کرنے میں میانہ روی افضل ہے یعنی پہلی رکعت میں زیادہ پڑھا جائے اور دوسری میں پہلی سے کم۔ جیسا کہ حسن بن زیاد نے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زبانی روایت کی ہے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پہلی رکعت سے دوسری رکعت میں کم تلاوت کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

اور تراویح کی دوسری رکعت میں پہلی رکعت سے زیادہ تلاوت کرنا غیر مستحب ہے اور اسی پر تمام محدثین و علماء فقہاء کا اتفاق ہے۔ اور دوسری نمازوں میں بھی مستحب یہی ہے کہ پہلی رکعت کی بہ نسبت دوسری رکعت کے اندر کم مقدار میں تلاوت کی جائے اور اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

رکعات میں مقدار قرات

دونوں رکعتوں میں مساوی طور پر قرآن کریم پڑھا جائے یا کم و بیش اس پر تمام علماء متفق نہیں ہیں۔

امام اعظم و امام ابو یوسف کے نزدیک مذہب مختار یہ ہے کہ دونوں رکعات میں مساوی طور پر تلاوت کی جائے۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مذہب مختار یہ ہے کہ دوسری نمازون کی مانند تراویح کی رکعات میں بھی دوسری رکعت کی بہ نسبت پہلی رکعت میں زیادہ تلاوت کی جائے۔

مسئلہ تلاوت غیر مرتّبہ

نماز تراویح کے اندر دوران ختم قرآن میں اگر بعد والی سورۃ یا آیتیں پہلے پڑھ لی گئی ہوں تو اب جبکہ ان کے پڑھنے کی نوبت آئی ہے انہیں دوبارہ پڑھا جائے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مستحب یہی ہے کہ جن آیات و سورۃ کو پہلے پڑھ لیا ہے ان کو پڑھنے کی نوبت پر دوبارہ پڑھے تاکہ ترتیب تلاوت باقی رہے، بعض کہتے ہیں کہ دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ترتیب و تلاوت قرآن پورا ہو چکا ہے جس میں کوئی فساد بھی واقع نہیں ہوا تھا اور صحیح قول یہی ہے کہ دوبارہ پڑھے تاکہ نماز صحیح ترتیب قرآن کے ساتھ ہو اور تلاوت قرآن کی ترتیب باقی و برقرار رہے۔

لُقمہ کا حکم

نماز تراویح میں لقمہ دینے کے بارے میں علماء کا باہمی اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ دوسری فرض نمازوں کی مانند ہے، اس لیے لقمہ نہ دیا جائے۔ بعض کہتے ہیں کہ نماز تراویح میں لقمہ دینا اس لیے ضروری ہے تاکہ قرآن کریم کی ترتیب چھوٹنے نہ پائے اور ترتیب کے ساتھ صحیح تلاوت قرآن کی جائے۔ اور فتویٰ اس پر ہے کہ لقمہ دیا جائے جس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔

امامت خوش الحان

بعض فقہاء کہتے ہیں کہ نماز تراویح میں لوگوں کو چاہیے کہ خوش گلو کو امام تراویح نہ بنائیں بلکہ ایسے صحیح پڑھنے والے کو آگے بڑھائیں جو صحیح مخارج کے ساتھ تلاوت کرتا ہو اس لیے کہ جو امام خوش آوازی سے پڑھے گا وہ خشوع و خضوع اور آیات الٰہی میں غور و فکر کرنے سے اکثر بے نیاز ہو جاتا ہے۔

اسی طرح جو شخص راگ والے سے بحیثیت امام تلاوت کرتا ہو تو اسے لازم ہے کہ وہ امامت نہ کرے اور جو امام کہ اعراب و حرکات میں غلطی کرتا ہو وہ بھی امامت سے پرہیز کرے اور لوگوں کو چاہیے کہ ایسے اشخاس کو امام نہ بنائیں۔ (سنن اُلہدیٰ)

لازماتِ امام

جو امام کہ فقیہ و قاری ہو اس کیلئے بہتر یہ ہے کہ وہ کسی دوسرے قاری کی اقتداء میں قرات نہ پڑھے بلکہ خود بذاتہ خوش الحانی کے ساتھ تلاوت قرآن کریم کرے۔ امام کو چاہیے کہ رکوع و سجود میں تین تین تسبیحات سے کم نہ پڑھے۔ اور ثناء یعنی سبحانک اللھم پوری پڑھے اور درود شریف پڑھنے کو بھی ترک نہ کرے کیونکہ یہ سب چیزیں نماز میں پڑھنا مسنون ہیں۔ اگرچہ فقہ کی بعض کتابوں میں اس کے خلاف بھی تحریر ہے لیکن صحیح یہی ہے جو ہم نے اوپر لکھا ہے۔

دعائے ماثورہ

امام کو معلوم کر لینا چاہیے کہ دعائے ماثورہ کے پڑھنے میں اگر مقتدی گراں بار ہوتے ہیں تو دعائے ماثورہ اور مقررہ دعائیں نہ پڑھے، ورنہ دعائے ماثورہ پڑھنا ضروری ہے۔

ترتیب تلاوت

نمازی جب آخری دو رکعات پڑھ رہا ہو اور اس نے پہلی رکعت میں معوذ تین پڑھ لی ہو تو دوسری رکعت میں تلاوت قرآن کے بارے میں دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورہ بقر کی چند آیات تلاوت کرے گویا منزل پر پہنچنے کے بعد سفر کی دوسری منزل شروع کر دی ہے۔

1۔ بعض کہتے ہیں کہ اس دوسری رکعت میں سورۂ قل اعوذ برب الناس مکرر پڑھنا چاہیے۔ اور کوئی دوسری سورۃ یا آیات نہ پڑھی جائیں تاکہ قرآن کریم کی سورتوں کی ترتیب برقرار رہے۔

حرمین شریفین اور دیگر بلاد عرب میں طریقہ یہ ہے کہ والضحیٰ سے لے کر آخر تک قرآن کریم کی سورتیں نماز تراویح میں پڑھتے رہیں اور تراویح پڑھنے کے بعد لا الہ الا اﷲ پڑھتے ہیں۔ یہی مذہب مختار اور صحیح طریقہ ہے۔ اور اگر صرف اللہ اکبر پڑھا جائے تب بھی درست ہے، اگر امام حافظ قرآن نہ ہو تو افضل یہ ہے کہ تراویح کی ہر رکعت میں سورۂ اخلاص پڑھے۔

بعض کہتے ہیں کہ نماز تراویح پڑھنے میں افضل یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھے تاکہ تعداد رکعات میں اسے شبہ نہ رہے اور وہ اپنے دل میں رکعات شمار نہ کرتا رہے اور اس صورت میں قرآن کریم میں غور و فکر کرنے سے بے نیاز نہ ہو سکے گا۔

بزمانہ موجودہ حرمین شریفین اور عرب کے دوسرے شہروں میں یہ معمول ہے کہ نماز تراویح کی پہلی دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں سورۂ الفیل اور دوسری رکعت میں سورۂ اخلاص۔ اور دوسری دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں سورۂ لایلاف اور دوسری میں سورۂ اخلاص۔ اور نویں دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں قل ہو اﷲ اور دوسری میں قل اعوذ برب الفلق اور دسویں دو رکعتوں میں سے پہلی رکعت میں قل ہو اﷲ اور دوسری میں قُل اعوذ برب الناس پڑھتے ہیں۔

تراویح باجماعت

باجماعت تراویح ترک کر کے اپنے گھر میں تراویح پڑھنے کے بارے میں علماء کا اختلاف باہمی ہے۔ بعض کہتے ہیں جس نے باجماعت تراویح پڑھنا ترک کی، اس نے سنت نبوی کو ترک کر دیا۔ اور برا اقدام کیا۔ کیونکہ مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تراویح ہمیشہ باجماعت پڑھی ہے اور اسی طرح صحابہ کرام ث کا عمل رہا ہے۔ اور اسی پر تمام علماء و فقہاء کا اتفاق ہے۔

بعض دوسرے کہتے ہیں کہ ترک تراویح باجماعت نے فضیلت ترک کی جس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور یہ دلیل لاتے ہیں کہ جس زمانہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے باجماعت تراویح پڑھنا ملتوی کی تھی اس زمانہ میں صحابہ رضی اللہ عنھم کو یونہی چھوڑ دیا کہ وہ اپنے گھروں میں جس طرح چاہیں تراویح پڑھیں اور یہی کیفیت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں رہی کہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں منفرداً تراویح پڑھتے تھے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں باجماعت تراویح ادا کرنے کا انتظام کیا گیا اور سب لوگوں نے اسی پر اتفاق کیا اور درحقیقت باجماعت تراویح پڑھنا ہی افضل ہے۔

شیخ قاسم الحنفی کا بیان ہے کہ صحیح طریقہ یہی ہے کہ باجماعت تراویح پڑھنا سنتِ کفایہ ہے یعنی اگر اہل مسجد نے باجماعت تراویح پڑھنا ترک کر دی تو محلہ والے سب کے سب ترک سنت کی وجہ سے گنہگار ہوئے۔

مسجد میں باجماعت تراویح ہونے کے باوجود کوئی شخص باجماعت تراویح نہ پڑھ کر صرف اپنے گھر میں تراویح پڑھ لے تو یہ تاریک فضیلت ہوا اور خطاوار و گنہگار نہیں ہوا۔

گھر میں جماعت

گھر میں جماعت کے ساتھ تراویح پڑھنے کے بارے میں علماء کا باہمی اختلاف رائے ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جماعت کی بھی فضیلت ہے لیکن مسجد میں جماعت تراویح پڑھنے کی افضلیت و فضیلت زیادہ ہے۔ اور جس نے گھر میں جماعت سے تراویح پڑھی اس نے ایک فضیلت حاصل کی اور دوسری بڑی فضیلت ترک کر دی۔ اور یہی احکام فرض نمازوں کے ہیں۔

بعض دوسرے کہتے ہیں کہ تراویح سنتوں کی طرح ہے جو علیحدہ علیحدہ پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ طرزِ عمل خلوص و اخلاص سے قریب اور فریب و ریاکاری کے بعید ہے اور حدیث میں ہے کہ مردوں کیلئے فرض نمازوں کے علاوہ دیگر تمام نمازیں گھر میں پڑھنا افضل ہیں۔

میں (شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ ) کہتا ہوں کہ حدیث مذکورہ بالا میں فضیلت ان نمازوں کے بارے میں وارد ہے جو باجماعت ادا نہیں کی جاتی ہیں اور تراویح وہ نماز ہے جو باجماعت ہی پڑھی جاتی ہے۔ نیز باجماعت تراویح پڑھنے کے احکام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہیں، جیسا کہ پہلے بھی لکھ چکے ہیں۔

امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے جو شخص زبردست فقیہ و حاکم ہو اور لوگ اس کی پیروی کرتے ہوں نیز اس کی وجہ سے لوگ بکثرت جماعت میں شریک ہوتے ہوں تو ایسے شخص کو جائز نہیں کہ وہ تراویح باجماعت مسجد میں ادا نہ کرے۔ یعنی ایسے شخص کو تراویح باجماعت ترک کرنا نہیں چاہیے البتہ جس شخص میں یہ صفات مذکورہ نہ ہوں اور وہ مسنون قرات وغیرہ کے ساتھ اپنے گھر میں نماز پڑھ سکتا ہو تو ایسا شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ سکتا ہے، بشرطیکہ مجبوریاں لاحق ہوں۔

امامت بہ اُجرت

لوگوں کا کسی شخص کو اُجرت دے کر امام بنانا مکروہ ہے اور امامت کے فرائض کرنے کیلئے اجرت لینا بھی مکروہ ہے کیونکہ اُجرت مقرر کرنا فاسد ہے اور بناء فاسدعلیٰ الفاسد، فاسد ہی ہے۔

دو امام

اگر نماز تراویح پڑھانے کیلئے دو امام مقرر کیے جائیں اور ہر ایک امام دو دو رکعات پڑھائے تو یہ فعل غیر مستحب ہے اور مستحب یہ ہے کہ ہر امام چار چار رکعات پڑھائے اور یہی عمل صحیح روایت سے ثابت بھی ہے۔

اس طرح یہ امر بھی جائز ہے کہ ایک امام فرض نماز پڑھائے اور دوسرا تراویح۔

ایک امام دو مساجد

اگر کوئی امام، دو مساجد میں مکمل طور سے تراویح پڑھائے تو اس کے جواب میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ دونوں مسجد والوں کی نماز جائز طور پر ادا ہو گی۔ اس کی مثال بالکل ویسی ہے جیسے کوئی مؤذن اذان دے کر اقامت کہے اور نماز پڑھے پھر دوسری مسجد میں اذان دے کر وہاں بھی نماز پڑھے تو یہ مکروہ نہیں ہے۔

بیٹھ کر تراویح پڑھنا

بیٹھ کر نماز تراویح پڑھنے کے بارے میں اختلاف ہے، بیٹھ کر تراویح پڑھنا کسی حال میں بھی مستحب نہیں ہے۔ البتہ بعض جائز اور بعض ناجائز کہتے ہیں۔

اور صحیح مسئلہ یہ ہے کہ تراویح بیٹھ کر پڑھنا بھی جائز ہے۔ حسن بن زیاد نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے بھی روایت کی ہے اور لکھا ہے کہ اس کے برعکس تمام کا متفق علیہ فیصلہ ہے کہ فجر کی دو سنتیں بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر پڑھنا جائز نہیں ہے۔ اور جو لوگ بیٹھ کر تراویح پڑھنا جائز کہتے ہیں وہ یہ دلیل لاتے ہیں کہ تراویح اسی طرح سنت ہے جیسے فجر کی سنتیں اور بیٹھ کر تراویح پڑھنے کو جائز کہنے والے جواب دیتے ہیں کہ یہ نفل ہیں جن کو فجر کی سنتوں سے خصوسی مشابہت دینا درست نہیں ہے، اس لیے دیگر تمام سنتوں اور نفسل کی طرح اس کا حکم ہے کہ بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے۔ اور مکرر ثبوت پیش کرتے ہیں کہ امام اعظم، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین نے عذر و بلا عذر میں کوئی فرق نہیں کیا ہے اور یہ روایت ابو سلیمان نے بیان کی ہے۔ واقعہ حقیقی یہ ہے کہ بیٹھ کر تراویح پڑھنا کسی صورت بھی مستحب نہیں ہے کیونکہ یہ سلف صالحین کے عمل مسلسل کے خلاف ہے۔

بیٹھ کر تراویح پڑھنا

عذر یا بغیر عذر کے امام کے بیٹھ کر تراویح پڑھانے میں بھی جائز و ناجائز اور استحباب کے اقوال ہیں۔

جائز کہنے والے کہتے ہیں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ ، ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سب کے نزدیک بیٹھ کر تراویح پڑھنا جائز ہے اور اگر مقتدی بھی بیٹھ کر پڑھتے تب بھی جائز ہوتا لیکن جب مقتدیوں نے کھڑے ہو کر پڑھی تو بدرجہ اولیٰ جائز ہے۔

بعض لوگ بیٹھ کر تراویح پڑھانے کو ناجائز کہتے ہیں اور دلیل لاتے ہیں کہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے بیٹھ کر تراویح پڑھانے کو ناجائز قرار دیا ہے۔ بیٹھ کر تراویح پڑھانا مستحب کہنے والے کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مستحب ہے۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مقتدی بعذر بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں اور بیٹھنے کی بہ نسبت کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مستحب یہ ہے کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھائے اور جس طرح بیٹھ کر فرض پڑھنا جائز نہیں بالکل اسی طرح نفل بھی بیٹھ کر پڑھنا مستحب نہیں ہے۔

تراویح میں بیٹھے رہنا

نماز تراویح میں جبکہ امام تراویح پڑھا رہا ہو کسی مقتدی کو جائز نہیں کہ وہ رکوع کے انتظار میں بیٹھا رہے اور جب امام رکوع کرے تو جھٹ اٹھ کر رکوع میں شامل ہو جائے اس طریقہ عمل سے نماز پڑھنے میں سستی کا اظہار ہوتا اور منافقین سے مشابہت پیدا ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اس طرح عکاسی کرتے ہیں کہ جب نماز پڑھنے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی و کاہلی کا مطاہرہ کرتے ہیں۔ نیز جب نیند کا غلبہ ہو تو نیند کی حالت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، بلکہ اس وقت نماز پڑھنا چاہیے جبکہ نیند بالکل غائب ہو جائے اور انسان اچھی طرح بیدار ہو۔ نیند کی حالت میں نماز پڑھنے سے گور و فکر کی قوت فوت ہو جاتی ہے اور سستی و کاہلی کا اظہار ہوتا ہے اور یہی حکم موسم گرما میں کھلی جگہ نماز پڑھنے کا ہے کہ موسم گرما میں کھلی جگہ میں نماز نہ پڑھی جائے بلکہ سایہ میں ادا کی جائے تاکہ آیاتِ قرآن کریم میں غور و فکر کیا جا سکے اور کسی قسم کا تکدر نہ رہے (خلاصۃ) غرضیکہ احکامِ الٰہی کی پابندی کی جائے جیسا کہ حکم الٰہی ہے اے محبوب رب العالمین فرما دیجئے آتش دوزخ کی گری بہت زیادہ ہے کاش لوگ اسے سمجھتے۔ (آیت قرآن کریم)

مسائل وتر باجماعت

تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ وتر مہ رمضان میں باجماعت پڑھنا افضل ہے۔ اور اس افضلیت کے بارے میں علماء باہم مختلف الخیال ہیں، بعض کہتے ہیں کہ جماعت افضل ہے اور دوسرے کہتے ہیں کہ اپنے گھر میں تن تنہا وتر پڑھنا افضل ہے کیونکہ تراویح باجماعت کی طرح سے صحابہ رضی اللہ عنہ نے باجماعت وتر نہیں پڑھے۔ (تفصیل کیلئے دیکھئے تبیین، عنایۃ وشرح ہدایۃ از ابن ہمّام)۔

اک روایت یہ ہے کہ تراویح کے بعد باجماعت وتر وہ پڑھیں جو تہجد گزار نہ ہوں اور تہجد گزاروں کے لیے لازمی ہے کہ نماز تہجد کے بعد وہ وتر پڑھیں۔

تمام صلحاء، علماء و فقہاء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ماہ رمضان میں وتر کی تینوں رکعات میں امام بآواز قرات کرے اور منفرد کو اختیار ہے کہ بآواز پڑھے یا آہستہ دل میں پڑھے۔

دعائے قنوت

دعائے قنوت بآواز یا آہستہ پڑھنے اور دعائے قنوت ہاتھ باندھ کر پڑھنے یا ہاتھ چھوڑ دینے اور مقتدی کے وتر میں دعائے قنوت پڑھنے یا خاموش رہنے کے مسائل میں علماء کا باہمی اختلاف ہے۔ چنانچہ ایک قول یہ ہے کہ مقتدی وتر میں دعائے قنوت کو بالکفار ملحق کے الفاط تک پڑھے اور اس کے بعد خاموش رہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مقتدی وتر کو آمین آمین کہنا چاہیے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ مقتدری وتر کو اختیار حاصل ہے خواہ وہ دعائے قنوت پڑھے خواہ آمین کہے۔ کتاب تبیین میں ہے مقتدی کو چاہیے کہ دعائے قنوت پڑھنے والے امام کا اتباع کرتے ہوئے آہستہ آہستہ دعائے قنوت پڑھتا رہے اس لیے کہ دعائے قنوت دراصل ایک دعا ہے۔

بعض کہتے ہیں کہ قونت بآواز پڑھی جائے۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول یہ ہے کہ امام دعائے قنوت پڑھے اور مقتدی نہ پڑھے۔

اور صحیح مسئلہ یہ ہے کہ دعائے قنوت بآواز پڑھی جائے اور وتر کی آخری رکعت میں الحمد و سورۃ پڑھنے کے بعد کانوں تک ہاتھ اٹھا کر پھر باندھ لینے اور دعائے قنوت پڑھنے کے احکام صلحاء و علماء کے حق بجانب ہیں۔

جماعت نوافل

نفل نمازوں کو جماعت سے نہ پڑھا جائے اور نفل نمازوں کی جماعت بنانے سے پرہیز کیا جائے۔

ایک ترویحہ دو امام

دو اماموں کے ایک ترویحہ یعنی ایک دوگانہ پڑھانے کے مسئلہ کے بارے میں علماء باہم مختلف الرائے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ دو اماموں کی موجودگی کی صورت میں ایک امام ایک دوگانہ یعنی صرف دو رکعت پڑھائے تو اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ جائز ہے۔ ۔ ۔ اور بعض اسے ناجائز کہتے ہیں۔ اور صحیح مسئلہ یہ ہے کہ اس طرح ایک ایک امام کا دو دو رکعات پڑھانا غیر مستحب ہے۔ نیز علماء حرمین شریفین کا عمل یہی ہے کہ ایک ایک امام ایک ایک ترویحہ یعنی چار چار رکعات پڑھاتے ہیں اور اس عمل کی صورت میں امام کی تبدیلی سے آرام کی سہولت میسر ہوتی ہے اور ایک دوسرے کے انتظار میں نماز پڑھانے کے لیے بالکل مستعد و چست رہتا ہے۔

وقت تراویح

نماز تراویح پڑھنے کے وقت کے بارے میں علماء باہمی مختلف رائے رکھتے ہیں۔ علماء احناف اور شیخ اسمٰعیل زاہد رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ طلوع فجر تک پوری رات نماز تراویح پڑھی جا سکتی ہے، عام اس سے کہ لوگوں کے مقرر کردہ وقت عشاء سے پہلے یا بعد سے تراویح پڑھنے کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ خواہ وتر پڑھنے کے وقت سے پہلے آغاز کی جائے یا بعد کو۔ کیونکہ دراصل رات کے وقت تراویح پڑھنے کے احکام ہیں۔

عام علماء بخارا کا بیان ہے کہ نماز تراویح کا وقت عشاء وتر کے درمیان کا وقت ہے۔ اگر قبل عشاء یا وقت وتر کے بعد نماز تراویح پڑھی تو نماز تراویح بروقت ادا نہ ہو گی اس لیے کہ روایات اسی کے موافق ہیں۔ اور روایات کی پیروی کرتے ہوئے ہی تراویح پڑھی جاتی ہے۔

صحیح مسئلہ یہ ہے کہ وقت عشاء کے بعد سے طلوع فجر تک پوری رات تراویح پڑھنے کا وقت ہے۔ اگر لوگوں کے مقرر کردہ وقت عشاء سے پہلے آغاز کی جائے یا طلوع کے بعد تک پڑھی جاتی رہے تب بھی جائز ہے۔ البتہ نماز عشاء کی سنتوں سے پہلے تراویح پڑھنا جائز نہیں ہے، کیونکہ سنن مؤکدہ کے بعد میں تراویح پڑھنا مسنون ہے۔ اس لیے کہ تراویح رمضان کے علاوہ عشاء کے بعد دیگر مسنون، دراصل نوافل کے مشابہ ہیں۔ اور وتر پڑھنے کے بعد بھی نماز پڑھنا جائز ہے۔ اور ثابت شدہ ہے کہ پچھلی رات میں وتر پڑھنا افضل ہے اور ایک تہائی یا نصف شب تک میں تراویح پڑھنا مستحب ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ نصف شب کے بعد نماز تراویح شروع کرنا اسی طرح مکروہ ہے جس طرح نماز عشاء میں اتنے زیادہ وقت تک تاخیر کرنا مکروہ ہے۔

صحیح مسئلہ یہ ہے کہ نماز تراویح تاخیر سے پڑھنا مکروہ نہیں ہے، کیونکہ یہ رات کی نماز ہے اور آخر وقت تک میں اس کا پڑھنا افضل ہے۔ فتاویٰ قاضی خاں میں مذکور ہے کہ آدھی رات تک تراویح پڑھنے میں تاخیر کرنا مستحب ہے اور اکثر لوگوں کا یہی قول ہے اور یہی صحیح ہے۔

خلاصہ میں مرقوم ہے کہ رات کے زیادہ سے زیادہ حصہ میں آرام و انتظار کے ساتھ نماز تراویح ادا کرنا افضل ہے اور رات کے پچھلے پہر تک نماز تراویح پڑھتے رہنا بغیر کسی کراہت کے بالکل جائز ہے اور یہی درست ہے۔

چند ترویحہ چھوٹ جانے پر وتر

اگر کسی کی چند رکعات نماز تراویح چھوٹ جائیں اور وہ امام کے ساتھ نہ پڑھ سکا ہو اور بعد از تراویح امام وتر پڑھنے کھڑا ہو۔ اس صورت میں بعض کہتے ہیں کہ چند رکعات چھوٹ جانے والے شخص کو چاہیے کہ وہ امام کے ساتھ نماز وتر پڑھ لے اور اس کے بعد اپنی چھوٹی ہوئی رکعات تراویح پڑھ لے اور بعض دوسرے کہتے ہیں کہ امام کے ساتھ وتر نہ پڑھے بلکہ اولاً اپنی چھوٹی ہوئی رکعات تراویح کو مکمل کرے۔

رکوع قبل قنوت

مقتدی کے دعائے قنوت مکمل کرنے سے پہلے اگر امام رکوع میں جائے تو مقتدی کو چاہیے کہ امام کی پیروی میں رکوع کرے اس لیے کہ دعائے قنوت پڑھنا فرض نہیں ہے۔

مسبوق اور وتر

دوران نماز تراویح میں اگر یہ شبہ ہو کہ نودوگانہ پڑھے ہیں یا دس تو اس بارے میں بعض علماء کا بیان ہے کہ احتیاطاً جماعت کے ساتھ ایک دوگانہ اور پڑھ لیں اور شک و شبہ دور کر لیں۔

بعض کہتے ہیں کہ مزید دوگانہ نہ پڑھا جائے۔ کیونکہ بربناء شک و شبہ، نماز تراویح کی رکعات میں اضافہ کرنا جائز نہیں ہے۔ اور عمدہ صورت یہ ہے کہ سب لوگ علیحدہ علیحدہ منفرداً احتیاطاً ایک ایک دوگانہ پڑھ لیں تاکہ (20) رکعات کی تکمیل سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہو جائے۔

تراویح کی قضا

پوچھا جاتا ہے کہ اگر نماز تراویح فوت ہو جائے تو اس کی قضا جماعت کے ساتھ کی جائے یا بغیر جماعت کے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کوئی قضاء نماز جماعت سے نہ پڑھی جائے۔ البتہ انفرادی طور پر اس قضاء کو ادا کرنے کے بارے میں علماء باہم مختلف الرائے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ دوسرے دن تراویح پڑھنے سے پہلے یہ قضاء تراویح پڑھ لی جائے۔ بعض کہتے ہیں کہ ماہ رمضان ختم ہونے کے بعد کو قضا تراویح پڑھی جائے، بعض کہتے ہیں کہ فوت شدہ تراویح بصورت قضاء مطلقاً نہ پڑھی جائے کیونکہ یہ سنت موکدہ کی بہ نسبت غیر مؤکدہ ہے اور مؤکدہ سنتیں جو قضا ہوتی ہیں وہ بعد کو نہیں پڑھی جاتی ہیں۔ یعنی ہمارے اصحاب کے نزدیک قضا سنتیں ادا نہیں ہوتی ہیں۔ اسی طرح قضا تراویح کو کسی دوسرے وقت نہیں پڑھتے ہیں۔ یہی اس کی دلیل ہے کہ قضا تراویح کو جماعت کے ساتھ نہیں پڑھتے اور یہی مسئلہ سب کے نزدیک اجماعی طور پر صحیح ہے کہ جو نماز تراویح قضا ہو چکی ہے اسے انفرادی طور پر پڑھنا مستحب ہے۔

شیخ قاسم حنفی نے لکھا ہے جس طرح نماز مغرب کی سنتوں کی قضا نہیں پڑھتے اسی طرح تراویح کی قضا نماز کا حال ہے کہ انہیں کسی دوسرے وقت نہیں پڑھا جاتا۔

سنن ھدیٰ میں سراجیہ سے منقول ہے کہ قضا نماز تراویح کو انفرادی طور پر پڑھنا بہتر و مستحسن ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔