Monday, 24 August 2009

نواسے کو بچانے کے لیے قازقستان کے مصور کی تصاویر فروخت کے لیے پیش کر دی گئیں

0 comments
فودور پوتیخن کی تصویر۔ (تصویر بہ شکریہ اولگا پوتخینا)

قازقستان — جنوبی قازقستان کے مایہ ناز مصور فودور پوتیخن (1996-1928) جو کہ سابقہ یو ایس ایس آر کی مصور یونین کے رکن بھی تھے، کی 20 تصاویر کی فروخت تین جولائی کو شائے مکنت میں شروع ہوئی۔ مصور کی وفات کے تیرہ سال بعد یہ پہلا موقعہ ہے کہ اُس کے خاندان نے اُس کی تصاویر کو فروخت کرنے کے لیے پیش کیا ہے۔

ان کی بیٹی اولگا پوتیخنا نے وضاحت کی کہ اُن کی کچھ تصاویر کو لازمی طور پر فروخت ہونا چاہیے جس میں اُن کے کئی مشہور ترین تصاویر بھی شامل ہیں، تاکہ مصور کے نواسے نیکیتا پوتیخن کی مدد کی جا سکے، "جس کے لیے ہم اپنے خاندان کے غرور کی قربانی دینے کو تیار ہیں"۔

21 سالہ نیکیتا شدید بیمار ہیں اور ان کے دماغی سرطان کو نکالنے کے لیے فوری طور پر آپریشن کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ورنہ ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے صرف ایک سال سے کم کا عرصہ ہے۔ خاندان نے اپنے اپارٹمنٹ پر مارگیج حاصل کی ہے تاکہ اُسے سینٹ پیٹرز برگ میں آپریشن کے لیے بھیجا جا سکے اس کے علاوہ اس کے علاج کو جاری رکھنے کے لیے بڑی مقدار میں سرمایے کو اکٹھا کرنے کی ضرورت ہے۔ خاندان کے پاس کوئی بچت یا قیمتی چیزیں نہیں ہیں سوائے پوتیخن کی تصاویر کے۔

فودور پوتیخن کی تصویر سرخ جہاز1985  (تصویر بہ شکریہ اولگا پوتخینا)

مصور کے سٹوڈیو کو بھی مرمت کی ضرورت ہے۔ خاندان نے مصور کے ورثہ کو قائم رکھنے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ماضی میں مصور کی زندگی کے دوران انفرادی طور پر تصاویر فروخت کی تھیں۔ پوتیخن نے فن کے قدر دانوں اور محبت کرنے والوں، جمع کرنے والوں، میوزیم کے ڈائریکٹروں اور قازقستان اور روس کی ثقافت کی وزارتوں کے نام ایک پیغام میں کہا کہ "ہمارا خیال ہے کہ ہم نے اپنے باپ کے لیے اپنا فرض پور اکر دیا ہے۔۔۔ ہم نے تیرہ سال میں سات نمائشیں کی ہیں، پوسٹ کارڈوں کے سات سیٹ چھاپے ہیں اور اس کے کام کی ایک معنوی گیلری کا آغاز کیا ہے۔۔۔ مگر اب ہم مجموعے اور سٹوڈیو کو محفوظ کرنے، تصاویر کو اچھی حالت میں رکھنے اور فن کار کے کام کو حکومت کی مدد کے بغیر مشتہر کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں"۔

فودور پوتیخن کو قازقستان کی آرٹ کی تاریخ میں خصوصی مقام حاصل ہے۔ وہ جنوبی قازقستان میں مصوری کے یورپین مکتب کے پہلے نمائندہ تھے۔ آرٹ کے تاریخ دانوں نے ان کے کام کو دو ادوار میں تقسیم کیا ہے جو کہ حقیقت پسندی اور پھر تاثیریت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔