Thursday, 27 August 2009

دنیا میں ہی جنت کے مزے لوٹو

0 comments
ماہ صیام برکتوں اور عبادتوں کا مہینہ ہے ۔ اس مہینے نیکیاں کمانے میں کوئی پیچھے رہنا نہیں چاہتا۔ اس لئے روزے بھی رکھے جاتے ہیں اور نمازیں بھی پڑھی جاتی ہیں۔ مسجدوں میں رمضان شریف کے مہینے میں جتنا ہجوم ہوتا ہے اتنا عام دنوں میں نہیں ہوتا۔ خلق خدا اپنے رب کی رحمتیں سمیٹنے میں لگی ہوتی ہے اور بڑھ چڑھ کر خیراتیں ، زکواتیں دی جاتی ہیں ، افطاریاں کرائی جاتی ہیں ، روزے رکھوائے جاتے ہیں۔ کیوں ناں کریں اس ماہ میں ہر نیک کام کا صلہ سات سے ستر گنا بڑھا کر دیا جائے گا۔ خدا نے خود کہا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ خدا پر یقین رکھنے والے لوگ عبادتیں کرتے ، نمازیں پڑھتے رہتے ہیں اور اس دوران ہمارے معاشرے، ملک کا ایک اور طبقہ جسے ہم منافع خور اور ذخیرہ اندوز جیسے پیارے ناموں سے پکارتے ہیں۔ وہ بھی اپنی نوعیت کی سرگرمیوں میں مشغول رہتا ہے۔ اصل میں وہ تو رمضان کی آمد سے ایک دو ماہ پہلے ہی سے تیاری شروع کر دیتاہے۔ رمضان کی آمد کی جتنی خوشی اس طبقے کو ہوتی ہے اس کا اندازہ عام بندہ کیسے لگا سکتا ہے۔ عام انسان تو عبادت کرنے ، روزے رکھنے اور دوسرے نیکی کے کاموں کی کھوج میں رہتا ہے اور یہ طبقہ ملاوٹ کرنے ، ذخیرہ اندوزی کرنے اور زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی جدوجہد میں مصروف۔ مسلمان آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور عمل کرکے اس کا اجر حاصل کرنے کا انتظار نہیں کرتا کیونکہ اس کو یقین ہے کہ تمام اجر تو اس دنیا میں ملنا ممکن نہیں ہے ۔ آخرت میں جو تمام کاموں کی اخیر ہو گی اور جب سب کا رزلٹ سنایا جائے گا تب یہ عمل کام آئیں گے۔ لیکن منافع خور اور ذخیرہ اندوز ایسا نہیں سوچتا۔ ٹھیک ہے رمضان میں کئے گئے ہر نیکی کے عمل کا اجر سات سے ستر گنا ملے گا اور وہ بھی قیامت کے روز تو اس میں اتنا انتظار کرنے کی کیا ضرورت ہے اور وہ بھی قیامت تک کا انتظار۔ تھوڑی سی محنت کرکے اس دنیا میں بھی ایک گنا کو سات سے ستر گنا تک کر سکتے ہیں ۔ ضرورت ہے ذخیرہ اندوزی کی ۔ جو چیزیں لوگوں نے رمضان کے دوران زیادہ استعمال کرنی ہیں ان کو پہلے اپنے گوداموں میں روک کے چھپا کر رکھو ، ان کا مصنوعی بحران پیدا کرو اور پھر جب قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں تو پھر ان کو اپنی من چاہی قیمت پر فروخت کرو ، کتنا آسان ہے۔ رہ گئی بات حکومت کی تو حکومت کی معاونت ناں ہو تو یہ کام کیسے ہو سکتا ہے ۔ ان میں سے بھی کچھ کو اپنے ساتھ ملا لو۔ پہلے وہ اعلان کریں کہ ہم اس سال یہ جنس امپورٹ نہیں کریں گے ۔ ساری عوام اطیمنان سے بیٹھ جائے ، جب سب مطمئن ہو جائیں تو ٹھیک وقت آنے پر ( اور وہ وقت رمضان شریف سے پہلے کے علاوہ کوئی ہو نہیں سکتا) ۔ چیزوں کا مصنوعی بحران پیدا کردو ۔ کہو کہ فلاں جنس کی قلت ہو گئی ہے۔ چھاپے وغیرہ پڑیں تو شور مچا دوکہ ہمارے مزدور پکڑے گئے ہیں ، غریب بندے پر ظلم ہو رہا ہے (ہمیں ہی کرنے دیں ناں غریب بندے پر ظلم ، حکومت کیوں اس میں ساجھے دار بنتی ہے۔ اس کو ظلم کرنے کے کئی اور موقعے مل سکتے ہیں)۔ عوام شور مچائے تو حکومت دکھاوے کے لئے مذاکرات بھی کرے گی وہاں پر بھی ذخیرہ اندوزوں کا نمائندہ (وفاقی وزیر) پہنچ کر ذخیرہ اندوزوں کے حق میں فیصلہ کروا دے گا اور اس طرح بڑھی ہوئی قیمتوں کو حکومت کا تحفظ بھی حاصل ہو جائے گا اور حق میں فیصلہ ہو گا ذخیرہ اندوزوں کے۔ یہ ہے دنیا میں ہی ایک گنا کا سات سے ستر گنا کرنےکا فارمولہ۔ ایسے ہی لوگ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی کرو ، زیادہ منافع سمیٹو اسی منافع سے اور ملیں خریدوں اور اگلے سال اور زیادہ منافع کماو اور دنیا میں ہی جنت کے مزے لوٹو۔
ایک احتیاط ضروری ہے کہ باہر کے ملک میں اکاونٹ اور گھر ہونا ضروری ہے۔ کیا پتہ کب بھاگنا پڑ جائے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔