Wednesday, 26 August 2009

جناح، بھارت، تقسیم، آزادی

0 comments
وسعت اللہ خان
جسونت سنگھ  اور ایل کے اڈوانی

جسونت سنگھ کے علاوہ ایل کے اڈوانی بھی جناح کے مداح رہے ہیں

بات ہے یہ جولائی دو ہزار چھ کی جب جسونت سنگھ نے اپنی خودنوشت ’اے کال ٹو آنر: ان سروس آف ایمرجنٹ انڈیا‘ میں تذکرہ کیا کہ نرسمہا راؤ کے دورِ اقتدار میں وزیرِاعظم ہاؤس میں ایک ایسا بھیدی بھی تھا جو امریکیوں کو خفیہ اطلاعات پہنچایا کرتا تھا۔

اس انکشاف پر ایک ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ وزیرِ اعظم منموہن سنگھ نے جسونت سنگھ کو چیلنج کیا کہ وہ اس گھر کے بھیدی کا نام بتائیں۔ جواباً جسونت سنگھ کی جانب سے ایک بلا دستخط خط من موہن سنگھ کو بھیجا گیا۔ جس میں اعتراف کیا گیا کہ انہوں نے وزیرِاعظم ہاؤس میں امریکی جاسوس کی موجودگی کی بات محض شک اور اندازے کی بنیاد پر کی تھی۔ حالانکہ جسونت سنگھ اگر چاہتے تو وہ روائیتی سیاستدان کے طور پر یہ کہہ کر بھی جان چھڑا سکتے تھے کہ وہ جلد ہی یا مناسب وقت آنے پر اس امریکی جاسوس کے نام کا انکشاف کریں گے۔

جسونت سنگھ کا شمار ان گنے چنے سینئر سیاستدانوں میں ہوتا ہے جنہیں ہمیشہ خزانہ ، دفاع اور خارجہ امور جیسی حساس وزارتیں ملتی رہیں۔ سن دو ہزار ایک میں انہیں غیرمعمولی پارلیمینٹیرین کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔

اس پس منظر کا آدمی جب بھارت میں محمد علی جناح جیسی متنازعہ شخصیت کے بارے میں اپنی تازہ کتاب ’جناح، بھارت، تقسیم، آزادی‘ میں عمومی ڈگر سے ہٹ کر کوئی بات کرتا ہے اور جناح کو سیکولر، ایک عظیم ہندوستانی اور تقسیم کی ذمہ داری سے بری کرنے کا اعلان کرتا ہے تو اس پر فوری ردِ عمل کے بجائے کتاب پڑھ کر کوئی مثبت یا منفی رائے قائم کرنا زیادہ مناسب بات ہوتی۔

پاکستان میں آج بھی اگر کوئی ذمہ دار محقق تقسیمِ ہند،گاندھی ، نہرو یا مجیب کو روایتی ذہن سے الگ ہوکر حقائق کی سان پر پرکھنے کی کوشش کرے تو اسے خود کو غدار، ملک دشمن ، بھارتی ایجنٹ یا را کا کارندہ کہلوانے اور مذمتی بیانات و مظاہروں کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

بی جے پی کی جس کمیٹی نے تیس برس سے پارٹی میں شامل جسونت سنگھ جیسے سینئیر آدمی کے اخراج کا فیصلہ کیا ہے کیا یہ حسنِ ظن رکھا جاسکتا ہے کہ اس کمیٹی نے فیصلہ دینے سے پہلے پیر سترہ اگست کو ریلیز ہونے والی یہ کتاب اول تا آخر پڑھی ہوگی؟

جسونت سنگھ نے اپنی تازہ کتاب کی ایڈوانس کاپی جن افراد کو بھیجی ان میں ایل کے اڈوانی بھی شامل ہیں۔یہ بات اس لیے بھی سمجھ میں آتی ہے کیونکہ ایل کے اڈوانی نے دو ہزار پانچ میں کراچی میں محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دینے کے بعد کہا تھا کہ جناح ان شخصیات میں سے ہیں جو نہ صرف سیکولر تھے بلکہ انہوں نے اپنے ہاتھوں تاریخ بنائی۔ اڈوانی نے جناح کی گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کی تقریر کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے ریاست اور ذاتی عقیدے کو الگ الگ خانوں میں رکھنے کی بات کی تھی۔

ہندوتوا کے ستون اور ’جو ہندومت کی بات کرےگا، وہی دیش پے راج کرے گا‘ جیسے نعروں کے سائے میں زندگی بھر آر ایس ایس کا دم بھرنے والے بی جے پی کے صدر کے منہ سے جناح کے سیکولر اور تاریخی شخصیت ہونے کی بات آر ایس ایس کے لیے ایک بم سے کم نہ تھی اور اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ ایل کے اڈوانی نے یہ کہتے ہوئے بی جے پی کی صدارت سے استعفی پیش کردیا کہ جناح کے بارے میں وہ اپنے خیالات پر قائم ہیں۔

بھارتی اکھنڈتا کا پرچم اٹھانے والی آر ایس ایس کی جانب سے تو اڈوانی کے جو لتے لیے گئے وہ تو اپنی جگہ لیکن سیکولر کانگریس بھی اڈوانی کی ذاتی رائے کا بوجھ نہ سہار سکی اور اسکے ترجمان ابھیشیک سنگھوی نے جناح کو سیکولر قرار دینے کے اڈوانی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اڈوانی کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ انکے نزدیک سیکولر کے معنی کیا ہیں؟

کم ازکم بھارت میں علمی و تحقیقی بلوغت اس معیار پر پہنچ رہی ہے کہ انا اور سیاسی مصلحتوں کو ایک جانب رکھ کر اپنی مخالف شخصیات کے ایماندارانہ یا ڈگر سے ہٹ کر تجزیے کی سنجیدگی سے کوشش ہورہی ہے

مزے کی بات تو یہ ہے کہ اڈوانی کو بی جے پی نے لوک سبھا کے حالیہ عام انتخابات کے دوران وزیرِاعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کیا اور بی جے پی کی شکست کے بعد بھی وہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ہیں جبکہ جسونت سنگھ کو پارٹی سے نکال دیا گیا۔ حالانکہ جسونت سنگھ کہتے ہی رہ گئے کہ یہ کتاب ان کی ذاتی رائے اور تحقیق ہے اور اس کا بی جے پی کی پالیسی یا موقف سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔

کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا ہے کہ اڈوانی کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے یا جسونت سنگھ سٹھیا گئے ہیں۔ ان میں سے ایک کی شہرت انتہا پسندانہ خیالات کے سبب ہے اور دوسرے کی شہرت خود بی جے پی کے حلقوں میں بھی ایک لبرل ڈیموکریٹ کی ہے۔ خیالات اور پس منظر کے اتنے زبردست فرق کے باوجود اگر یہ دونوں رہنما محمد علی جناح کے بارے میں ایک جیسے خیالات رکھتے ہیں تو جناح کی زندگی کے کچھ گوشے تو یقیناً ایسے ہوں گے جو چھ عشرے گذرنے کے بعد ایسی گرگِ باراں دیدہ اور کٹر سیاسی خیالات رکھنے والی شخصیات کی رائے بدل رہے ہیں۔

اچھی بات یہ ہے کہ کم ازکم بھارت میں علمی و تحقیقی بلوغت اس معیار پر پہنچ رہی ہے کہ انا اور سیاسی مصلحتوں کو ایک جانب رکھ کر اپنی مخالف شخصیات کے ایماندارانہ یا ڈگر سے ہٹ کر تجزیے کی سنجیدگی سے کوشش ہو رہی ہے۔ جبکہ پاکستان میں آج بھی اگر کوئی ذمہ دار محقق تقسیمِ ہند،گاندھی، نہرو یا مجیب کو روایتی ذہن سے الگ ہوکر حقائق کی سان پر پرکھنے کی کوشش کرے تو اسے خود کو غدار، ملک دشمن، بھارتی ایجنٹ یا را کا کارندہ کہلوانے اور مذمتی بیانات و مظاہروں کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔