Monday, 24 August 2009

شذی حسون نے بغداد کے لیے گایا

0 comments

شذی حسون (شذی حسون کی ویب سائٹ)

ایک ایسے ملک میں، جہاں بہت کم قابلِ توجہ خواتین گلوکارائیں موجود ہے، نوجوان شذی حسین، یا جیسا کہ عراقی انہیں کہنا پسند کرتے ہیں، "بین النہرین کی لڑکی"، کی آواز ایسی ہے جو بغداد کے لوگوں کو دلوں کو گرما دیتی ہے۔ عفیفہ اسکندر، سیتا حاقوبین، فریدہ اور دوسروں کی طرح، اُس نے اپنے ملک کا نام اور جھنڈا یورپ اور مشرقِ وسطیٰ بھر میں ایک ایسے ملک کے لیے گاتے ہوئے سٹیج پر لہرایا ہے، جسے اس نے ابھی دیکھنا ہے۔

وہ دو دفعہ عراق کے لوگوں کے لیے فخر کا باعث بنی ہیں۔ جب انہوں نے لبنان کی سٹار اکیڈمی فور کے ٹیلنٹ شو 2007 کو جیتا، تو انہوں نے اپنے ہم وطنوں کی کچھ لمحوں کے لیے عراق کی سڑکوں پر ہونے والے قتل و خون کو بھلانے میں مدد کی تھی۔ جولائی میں وہ آخر کار بغداد میں الالوایا کلب، جو کہ دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر واقعہ ہے اور مشہورِ زمانہ نادی ال سعید کنسرٹ ہال میں دو جذباتی لائیو کنسرٹ کرنے کے لیے آئیں۔ موخرالذکر شو کے بعد ایک پریس کانفرنس بھی منعقد ہوئی جس میں فنکارہ، ان کے دورے کو منظم کرنے والے، حکیم الخوباسی اور ان کے لبنانی عملے نے شرکت کی۔

جب انہیں بغداد میں گانے کی پیشکش کی گئی تو شذی نے کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کے ایجنٹ نے پریس کانفرنس کو بتایا کہ "جب ان کا جہاز شہر کے قریب پہنچا اور انہوں نے اسے پہلی بار دیکھا تو انہیں ایک جذباتی لمحے کا سامنا کرنا پڑا"۔

جاں تک شذی کا تعلق ہے انہوں نے کہا کہ "میں اپنے شہر اور اپنے محبت کرنے والے لوگوں کے درمیان آ کر خوش ہوں۔ گزشتہ دو سالوں کے درمیان، میں نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا کہ "شذی کب آ رہی ہے؟ میں بغداد آنے کے لیے کسی موقعہ کا انتظار کر رہی تھی۔ اور اب میں دوستوں، رشتہ داروں اور پرستاروں کے درمیان موجود ہوں"۔

شذی نے کہا کہ دورے سے دوسرے عرب فنکاروں کی بھی حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ بھی بغداد آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایسا کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کریں گی۔

اس وقت ان کا منصوبہ اپنی ایک ویڈیو کی عکس بندی بغداد میں کرنے کا ہے اور وہ عراقی موسیقاروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی امید کر رہی ہیں جن میں محمد جواد اموری بھی شامل ہیں، جن کے ساتھ وہ پہلے ہی کئی دفعہ ملاقات کر چکی ہیں۔ اموری کے ساتھ کیا جانے والا اُن کا کام، منی سیریز "ایک مرے ہوئے آدمی کی طرف سے خطوط" کی عکس بندی کے باعث تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ شذی عراقی موسیقار خادم السہیر کے ساتھ کام کرنے کی امید بھی کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا "خود گلوکارہ بننے سے پہلے میں ان کی بہت بڑی پرستار تھی"۔

مسکراتی ہوئی شذی پریس کانفرنس سے رخصت ہوئیں تاکہ اپنے پرستاروں کو کئی قسم کے محبت کے نغمے اور وطن پرستی کے نغمے سنائیں، جن میں نزاکت سے ادا کردہ "بغداد" بھی شامل ہے جس کو سامعین کی طرف سے بہت زیادہ جذباتی ردِ عمل ملا۔ بہت سے سیاست دان، میڈیا کی شخصیات اور مقامی نمایاں شخصیات اسے سننے کے لیے موجود تھیں، اس کے علاوہ سفیر اور غیر ملکی شخصیات بھی موجود تھیں۔

شذی حسون 1982 میں کاسابلانکا، مراکو میں پیدا ہوئیں تھیں، ان کے والد عراقی ہیں اور ان کا تعلق ہیلا سے ہے جبکہ ان کی والدہ کا تعلق مراکو سے ہے۔ بہت سالوں سے انہوں نے اپنا وقت مراکو اور فرانس میں تقسیم کر رکھا ہے۔ 2007 میں انہوں نے سٹار اکیڈمی فور کا مقابلہ جیتا اور وہ عرب ٹیلنٹ شو جیتنے والی پہلی خاتون گلوکارہ بن گئیں۔

ذرائع: الفا / الموتامار الوطنی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔