Thursday, 20 August 2009

روزہ اور بندگی کے معانی

0 comments


رمضان کی خوش بو فضا یوں تو کئی ایک پہلو سے عبارت ہے۔ روزہ، قیام، تہجد، ”مستغفرین بالاسحار“، دُعا، قرآن، سجود، افطار، آخری عشرہ، طاق راتیں، لیلۃ القدر، اعتکاف، مساجد کی آبادی، راتوں کی مناجات، تاریک گوشوں کی سرگوشی، صدقۃ الفطر، عید، عبادت گزاروں کی خوش لباسی، سجدے کرنے والوں کی خندہ روئی، موحدین کی تکبیر اور تہلیل، اجر کیلئے پر امیدی ۔۔۔۔ یہ سب کچھ اس پرلطف موسم کاحصہ ہے اور ہماری خواہش ہوگی کہ ان میں سے ہر پہلو پر ہی ہم کچھ بات کریں مگر اس بار ہم صرف ’روزہ‘ پر ہی کچھ گفتگو کر سکیں گے۔

٭٭٭٭٭٭٭

روزہ صبر کی ایک خاص کیفیت کانام ہے۔

روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس پر صبر کا ایک خاص اطلاق ہوتا ہے۔ رکے رہنا، برداشت کرنا، ڈٹ جانا، منتظر ہونا، کمال انداز میں سہہ جانا ۔۔۔۔ جس کے پیچھے ایک عظیم ہستی کی چاہت ہو اور جس کی پشت پر کوئی اعلیٰ مقصد کارفرما ہو، صبر کہلاتا ہے۔ روزہ صبر ہی کی ایک صورت ہے یہاں تک کہ متعدد احادیث میں رسول اللہ ﷺ رمضان کا ذکر ہی شھر الصبر (صبر کا مہینہ) (1) کے نام سے کرتے ہیں۔ چنانچہ روزہ اور صبر قریب قریب ہم معنی ہوجاتے ہیں۔

اور جہاں تک صبر کی بات ہے تو وہ عبادت کی ایک بہترین صورت ہے۔ کسی نے ’بندگی‘ کی تعریف یہ کی ہے:

”نفس انسانی کا معبود برحق کی طلب میں زندگی زندگی یوں چاہت اور رغبت اور دلجمعی سے بڑھتے جانا کہ ایک قدم صبر ہو تو ایک قدم شکر“

روزہ صبر بھی ہے اور شکر بھی۔ پس آدمی کو چاہیے کہ عبادت کے ہر عمل میں بندگی کی اسی کیفیت کو ٹٹولتا رہے۔

صبر کی دو صورتیں ہیں۔ اضطراری اور اختیاری۔ روزہ کا شمار دوسری صنف میں ہوتا ہے۔

اضطراری صبر جانور بھی کرتے ہیں۔ کافر بھی کر لیتے ہیں۔ یعنی جہاں آدمی کا بس ہی نہ چلے وہاں ’صبر‘۔ یہ عبادت نہیں مجبوری ہے۔ صبر جو عبادت ہے وہ ایک اختیاری فعل ہے۔ مومن کے پاس ایک ایسی چیز ہے جو اضطراری صبر کو بھی اختیاری بنا لیتی ہے۔ جہاں آدمی کا بس نہ چلے وہاں بھی دِل سے راضی ہونا اور مالک کی خوشی کو اپنی خوشی جاننا آدمی کا بہرحال اپنا اختیار ہے۔ پس صبر جہاں ایک جانور یا ایک کافر کیلئے مجبوری کی ایک صورت ہو مومن کیلئے وہاں بھی وہ ایک مجبوری نہیں رہتا بلکہ اختیاری فعل بن جاتا ہے۔ اسی لئے وہ اپنے اس فعل سے مالک کو خوش کرتا ہے۔ صبر دراصل یہ ہے کہ آدمی کواپنی حدود اور خدا کے اختیارات معلوم ہوں۔ قدرتی اضطراری امور میں کچھ کر سکنا تو کافر کا بس ہے اور نہ مومن کا۔ دونوں اس معنی میں صبر کرتے ہیں۔ مگر کافر کا صبر کوئی بہادری نہیں۔ البتہ مومن اپنے مالک سے اس پر خوب خوب داد پاتا ہے۔ توحید کا سراغ پا لینے سے انسان میں دراصل یہی فرق آجاتا ہے۔

رہ گئی صبر کی اختیاری صورت، یعنی جہاں انسان کا بس چلتا ہو اور کچھ کرنے یانہ کرنے پر اس کا پورا اِختیار ہو وہاں انسان کا آپ اپنی مرضی سے اپنے آپ کو خدا کا محدود اورپابند کر لینا اور اس پابندی کو خوشی سے قبول کرنا اور پورے اعتماد سے سہہ جانا اور یہ کرکے اس ذات کبریائی کی نگاہ میں جچ جانا۔ تو یہ صبر کی ایک اعلیٰ اور برگزیدہ صورت ہے۔

صبر کا یہ مفہوم اگر واضح ہو جائے تو آپ دیکھتے ہیں کہ صبر دراصل عبادت اور بندگی کا ہی دوسرا نام ہے۔ پس صبر عبادت ہے اور عبادت صبر۔

فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ (مریم: 65)

”پس تم اس کی بندگی کرو اور اسی کی بندگی میں صبر وثابت قدمی اختیار کر“۔

یہ ایک ادا ہے جس کا بدلہ حساب رکھے بغیر دیا جاتا ہے:

إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ (الزمر: 10)

”یہ صبر کرنے والے ہی ہیں جو اپنا اجر بلا حساب پائیں گے“۔

کل عمل ابن آدم یضاعف: الحسنۃ عشر امثالھا الی سبعمائۃ ضعف، قال اللّٰہ عزوجل: اِلا الصوم، فانہ لی و اَنا اَجزی بہ، یدع شھوتہ وطعامہ من اَجلی ۔۔۔۔ (2)

”آدم کا بیٹا اپنے ہر عمل کا کئی کئی گنا پاتا ہے۔ ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک جا پہنچتی ہے خدا تعالیٰ کہتا ہے: سوائے البتہ روزے کے۔ یہ میرے لئے ہوا اور اس کا بدلہ بھی بس میرے ہی دینے کا ہے۔ بندہ اپنی لذت و مزہ اور اپنا کھانا پینا میری خاطر چھوڑ لیتا ہے“۔

یوں بندگی صبر اور صلوة سے عبارت ہے۔ سورة البقرہ جس میں پانچوں ارکان اسلام کا خوب خوب ذکر ہے اور اس انداز کی جامعیت رکھنے میں قرآن کی یہ ایک منفرد ترین سورت ہے، صبر اور صلوة کا دوبار اکٹھا ذکر کرتی ہے:

وَاسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلاَّ عَلَى الْخَاشِعِينَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلاَقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرۃ: 46، 45)

”اور صبر اور نماز کے۔ ساتھ مدد طلب کرو۔ یہ چیز شاق ہے، مگر ڈر رکھنے والوں پر۔ جو سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے رب سے ضرور ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے“۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَعِينُواْ بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (البقرہ: 153)

”اے ایمان والو! صبر (ثابت قدمی) اور نمازکے ذریعے مدد چاہو۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے“۔

چنانچہ صبر اختیاری کی ایک بہترین صورت روزہ ہے۔ بلکہ روزہ صبر اختیاری کی ایک بہترین مشق بھی ہے۔ سب کچھ انسان کے پاس ہے۔ نفس میں اس کی طلب بھی خوب ہے۔ ضرورت بھی ہے۔ مگر انسان آپ ہی اپنے اختیار سے اور خدا کی محبت میں اس سے یوں پرہیز کئے ہوئے ہے گویا یہ کوئی فرشتہ ہے۔ کیونکہ یہ بندگی کے ایک خاص مفہوم کا مجسم عکس بننا چاہتا ہے اور بھوک پیاس کی اسی کیفیت میں خوشی خوشی دن پار کر دیتا ہے۔ مگر اس کا یہ فعل رزق سے بے رغبتی نہیں بلکہ رازق سے اپنی رغبت بتانے کا ایک طریقہ ہے اور ایک مشروع طریقہ ہے۔ رزق سے بے رغبتی ہوتی تو یہ صبح پو پھٹنے سے بھی پہلے اٹھ بیٹھنے کا روادار نہ ہوتا اور رات کے اس آخری پہر میں خدا کا رزق کھانا اور اس پر اس کا شکر کرنا یہ اپنے حق میں باعثِ برکت نہ جانتا اور نہ سورج چھپتے ہی ایک لمحہ تاخیر کئے بغیر خدا کا نام لے کر خدا کا رزق کھانے اور اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کا اس کو حکم ہوتا۔

یہ رزق سے بے اعتنائی نہیں ہے۔ یہ کوئی منفی رویہ نہیں۔ یہ دراصل رازق کی طمع اور چاہت ہے۔ یہ کھانے پینے سے بے نیازی نہیں بلکہ کھلانے والے کو کھانے پر ترجیح دینے کا ایک اظہار ہے۔ کھانا پینا اگر ایک زبانی بات نہیں بلکہ ایک باقاعدہ عمل ہے تو رازق کو رزق پر مقدم جاننا بھی پھر زبانی بات نہیں بلکہ ایک باقاعدہ عمل ہونا چاہیے اور عمل سے ہی ثابت کر دی جانے والی بات۔ رازق کو رزق پر ترجیح دینے کی ایک عملی صورت اگر زکوٰة اور صدقہ ایسی مالی قربانی ہے تو اس کی ایک دوسری صورت روزہ رکھ کر۔۔۔۔ طویل ساعتیں آپ اپنی مرضی سے بھوکا اور پیاسا رہ کر مالک کیلئے اپنے لطف اور لذت کی قربانی ہے۔

ان سب جہتوں سے انسان اپنے آپ کو رضاکارانہ خدا کا پابند کرتا ہے اور اپنی بندگی کا یہ پیغام دے کر اس سے اس کے فضل کا خواستگار ہوتا ہے حالانکہ یہ پابندی اختیار نہ کرنے کی اس کو زندگی زندگی پوری آزادی ہے۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ روزہ صبر اختیاری کی ایک کامل ترین عکاسی ہے اور صبر اختیاری کی ایک زبردست مشق۔

٭٭٭٭٭٭٭

شکر ایک دوسری بڑی عبادت ہے، روزہ جس کا ایک اظہار بنتا ہے۔ دیکھا جائے تو شکر بندوں کے ہاں پایا جانے والا ایک نادر ترین عمل ہے۔ انسان صبرکر لینے پر تیار ہو جاتا ہے مگر شکر کی جانب بہت کم متوجہ ہوتا ہے۔ کہنے کو صبر مشکل ہے اور شکر آسان مگر عملاً صورتحال اس کے برعکس ہے۔

شکر بنیادی طور پر نعمت کی قدردانی ہے اور منعم کی احسان مندی۔ نعمت سے انسان کی لطف اندوزی عموماً اس کو نعمت کی قدردانی اور منعم کی احسان مندی کی جانب متوجہ نہیں ہونے دیتی۔ اس کی نوبت عموماً تب آتی ہے جب وہ نعمت ہی سرے سے جاتی رہے۔ مگر یہ صبر کا موقعہ ہوتا ہے۔ البتہ اگر آپ کے اور ان نعمتوں میں سے کسی ایک کے مابین جو آپ کو لا تعداد حاصل ہیں محض ایک وقتی فاصلہ آجائے تو آپ نعمتوں کی قدر بھی کر لیتے ہیں اورمنعم کے فضل کا اعتراف بھی خوب کرتے ہیں جبکہ اس نعمت سے بھی آپ محروم نہیں ہوئے ہوتے۔ ایک چیز آپ کے پاس بھی رہی اور آپ اسے کھو کر دوبارہ پا لینے کی کیفیت سے بھی گزر گئے۔

اس لحاظ سے روزہ صبر ہی نہیں روزہ شکر بھی ہے۔ آپ کی یہ بھوک اور پیاس جو آپ نے خود اپنی مرضی سے مالک کی خاطر اختیار کی اس کے شکر واحسان مندی کی بھی یاد دہانی بن جاتی ہے۔کسی نعمت کے یاد آنے کیلئے اس سے کچھ فاصلہ ہو جانا بسا اوقات ضروری ہو جاتا ہے۔ روزہ اس بات کا ایک قدرتی انتظام ہے بلکہ اس طرز احساس کی ایک زبردست مشق بھی۔ آپ کا روزہ رکھنا اگر ایک مشینی عمل نہیں تو کچھ گھنٹوںکی بھوک اور پیاس آپ کے حق میں ایک بہت ہی بامعنی چیز ہے۔ یہ آپ کو بار بار کچھ پیغام دیتی ہے اور آپ کو بندگی کے کچھ ایسے نفیس معانی بیان کرکے دیتی ہے جس کا بیان کرنا کسی اور چیزکے بس میں نہیں۔

٭٭٭٭٭٭٭

تیسری چیز فقر ہے۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ (فاطر: 15)

”لوگو!تم ہی خدا کے محتاج ہو، خدا ہی ہے جو بے نیاز ہے اور آپ اپنی ذات میں حمد کے لائق“۔

فقر بندگی کا ایک زبردست موضوع ہے۔ بلکہ فقر ہی بندگی ہے۔ انسان کیا ہے؟ محتاجیوں اور ضرورت مندیوں کا مجموعہ۔ اپنی یہ حقیقت پہچاننا، اس کا اعتراف اور احساس کرنا بندگی کا ایک زبردست عمل ہے۔ دوسری طرف خدا کو ہر ضرورت سے بے نیاز اور ہر نقص سے مبرا جاننا اور یوں خدا کو خود اس کی ذات میں قابل ستائش مان کر اس کی حمد کرنا عبادت کی ایک اعلیٰ صورت ہے۔

ان دونوں باتوں میں براہ راست تعلق ہے۔ جس قدر انسان اپنے فقر اور احتیاج کا احساس کرتا ہے اتنا ہی وہ خدا کی بے نیازی کا معترف ہوتا اور اس کی مطلق حمد کا دم بھرتا ہے۔ جس قدر وہ خدا کے غنی اور بے نیاز ہونے کی حقیقت سے آشنا ہوتا ہے اتنا ہی وہ اپنی اور سب مخلوق کی خدا کے آگے محتاجی اور ضرورت مندی کا معترف ہوتا ہے اور اسی قدر اس پر خالق اور مخلوق کی حقیقت کا یہ فرق واضح ہو جاتا ہے۔ نہ صرف خالق اور مخلوق کا یہ فرق ظاہر ہوتا ہے بلکہ خالق اور مخلوق کا یہ تعلق بھی واضح ہوتا ہے۔ ایک بے نیاز اور دوسرا اس کامحتاج۔ ایک غنی اور دوسرا اس کے در کا فقیر۔

چنانچہ آدمی کا اپنے آپ کو فقیر اور محتاج جاننا اور خدا کے غنی اور بے نیاز ہونے کا معترف ہونا ایک محنت طلب کام ہے اور دل کا ایک مسلسل عمل۔

البتہ انسان بہت جلد بھول جانے والا ہے۔ اِس کی ضرورت پوری ہو تو یہ اپنا فقر بھول جاتا ہے۔ اس کی مراد برآئے تو اِس کی یہ حقیقت کہ یہ محتاجیوں کا مجموعہ ہے اس کی نگاہ سے ہی روپوش ہو جاتی ہے۔ ایک شکم سیر کو ’بھوک‘ کا تصور کرنا بہت ہی دشوار ہو جاتا ہے۔ پیٹ بھرا نہیں کہ ضرورت مندی کا تصور ہی چلا گیا! اب جب تک دوبارہ بھوک نہیں لگتی یہ بھلا چنگا ہے! یہ لمحۂ حاضر کا اسیر جاہلِ محض ہے۔ ظلوم اور جہول۔ تب اس میں تونگری اور بے نیازی آتی ہے جو کہ دراصل خدا کی صفت ہے اور صفتِ بندگی کے سراسر منافی۔ انسان کا بے نیاز ہونا اور اپنے آپ کو غیر ضرورت مند جاننا دراصل اپنی اوقات بھول جانا ہے۔ یہ دہری جہالت ہے۔ ایک اس کا اپنے آپ کو محتاج نہ جاننا او دوسرا کسی مہربان کے ہاتھوں اپنی ضرورت پوری ہو جانے کو بے نیازی کے مترادف جان لینا۔ جو اپنی صفت سے ناآشنا رہے وہ خدا کی معرفت بھی کبھی نہیں پاتا۔ اپنی ’بندگی‘ اور ’عاجزی‘ سے ناواقف، خدا کی ’خدائی‘ اور ’بے نیازی‘ کا کیونکر معترف ہوگا! ایسے آدمی کی نگاہ میں ’بندگی‘ اور ’خدائی‘ کے مابین بہت ہی تھوڑا فرق رہ جائے گا جو ممکن ہے کہ پلک جھپکنے میں جاتا رہے۔ شرک کر لینا بھی لوگوں کیلئے تبھی آسان ہو جاتا ہے۔

اسلامی عبادات ساری کی ساری دراصل اسی فقر کا اظہار ہیں۔ مخلوق کی اسی صفت کا اقرار ہیں۔ بندگی کا ہر عمل خدا کے غنیِ مطلق اور لائقِ حمد ہونے کا اعتراف ہے۔ نماز ہے تو تب دُعا ہے تو تب۔ تسبیح ہے تو تب اور ذکر ہے تو تب۔ سب اسی حقیقت کا اعادہ ہے۔ البتہ روزہ اس حقیقت کا ایک بہت ہی منفرد اظہار ہے۔ روزہ ایک موحد کی زبان پر اس کے اس فقر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ روزہ کی صورت میں ایک موحد کا رُواں رُواں یہ بولتا ہے کہ وہ مجسم احتیاج ہے اور اس ذات کا سدا محتاج جو ہر عیب سے پاک، ہر ضرورت سے بے نیاز، غنیِ مطلق، لائق حمد اور احد اور صمد ہے اور جس کے آگے ہر مخلوق اپنی ضرورت کیلئے دستِ سوال درازکرتی اور ایک اسی کے فضل کے سہارے جیتی ہے اور جس کے در کا یوں محتاج ہونا کہ اس کی محتاجی اس کے ماسوا ہر ہستی سے اس کو بے نیاز کردے نہ صرف فضیلت کی بات ہے بلکہ انسان کی اصل دولت اور سرمایہ ہے۔ پس روزہ ایک انداز کی تسبیح ہے۔ یہ اپنے فقر کا بیان ہے اور خداکے بے عیب اور بے نیاز ہونے کا اقرار اور اس کے فضل کا اعتراف اور اس کی احسان مندی کا اظہار اور اس کی دین پر قناعت اور اس سے مانگنے کا ایک اسلوب۔

چنانچہ روزہ اس صفتِ بندگی کا اقرار ہے۔ یہ انسان کے فقر کا بیان ہے۔ اس کا مدعا یہ ہے کہ بندہ بھوکا ہے ___ اور بھوک بندے کی صفت ہے ___ جب تک کہ خدا اس کو نہ کھلائے اور یہ کہ پاکی اور تعریف اس کی جو اس کی اس بھوک کا علاج اپنے پاکیزہ رزق سے کرتا ہے اور یہ کہ تعریف اس کی تب بھی جب بندہ بھوکا ہو اور تعریف اس کی تب بھی جب بندہ اس کا رزق کھائے اور اس رزق سے اپنی بھوک اور پیاس بجھائے۔ سو یہ ایک بے لوث تعلق ہے۔ گو یہ ایک محتاج اور ایک غنی کا تعلق ہے اور گو یہ اس کے فضل کا ہر دم سوالی ہے مگر اس کو یہ ظرف بھی نصیب ہوا ہے کہ اِس کیلئے اُس کی تعریف کرنا کچھ پیٹ بھرنے پر موقوف نہیں! سبحان اللہ روزہ کیسی خوبصورت عبادت ہے! خدا کی تسبیح، خدا کی بندگی، خدا کی حمد اور خدا کی فرمانبرداری کچھ اِس کی شکم سیری پر منحصرنہیں۔ یہ بھوکا رہ کر بھی اس کی ویسی ہی حمد اور تعریف کرے گا جیسی کہ شکم سیر ہو کر۔ اس لئے کہ وہ آپ اپنی ذات میں قابل ستائش ہے اور لائق حمد اور یہ آپ اپنی ذات میں احسان مند اور اُس کا ثنا خوان! وہ دے تو اُس کے دینے پر اُس کی تعریف وہ کبھی کسی وقت نہ بھی دے تو اُس کی حکمت پر پیشگی اعتماد اور اُس کی دانائی پر اُس کی تعریف اور اُس کے فیصلے پر کامل اطمینان اور اِس سے بھی بہتر صلہ پانے کی اُس سے امید اور آس۔ وہ دے کر کھانے سے روک دے تب بھی اُسی کی تعریف اور اُس کا حکم بسروچشم! لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ وَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۔

پس یہ ایک غیر مشروط بندگی ہے۔ ہر حال میں خدا کی تعریف اور خدا کی احسان مندی ہے اور خدا کی طلب میں سچا ہونے کی ایک عاجزانہ مگر ایک عملی تعبیر۔

روزہ اگر میکانکی عمل نہیں بلکہ ایک شعوری عمل ہے اور ایمان اور احتساب کا پیدا کردہ ہے تو انسان کی بھوک اور پیاس ان سب احساسات کی ایک خاموش مگر خوبصورت زبان بن جاتی ہے۔ انسان سارا دن ان احساسات کو پالتا اور بڑھاتا ہے اور اسی کیفیت میں صبح سے شام کر لیتا ہے۔ یوں ایک مہینہ وہ یوں گزارتا ہے کہ صبح چڑھتے ہی ایمان کا یہ سبق بیک وقت شعور اور عمل کی زبان میں یاد کرنے لگتا ہے اور شام ڈھلنے تک اسی سبق کو یاد کئے چلا جاتا ہے۔ یہ سبق ایک بار ذہن نشین ہوجائے تو بھوک اور پیاس میں خدا نے کچھ ایسی خاصیت رکھی ہے کہ یہ خود ہی اس سبق کی یاددہانی بنتی ہے۔ یہ ایک قدرتی انتظام ہے کہ دن کا زیادہ سے زیادہ حصہ انسان اس سبق کے یاد کرنے میں گزارے۔ جیسے جیسے بھوک پیاس میں شدت آتی ہے ویسے ویسے ہی یہ سبق یاد ہونے لگتا ہے اور اسی نسبت سے ایمان کی یہ غذا اس کی روح میں اترتی ہے۔ جس شخص کی بھوک اور پیاس کو ایسی خوبصورت زبان مل جائے اور وہ اس کیلئے اتنے سارے پیغام نشر کرے وہ مالک کی نگاہ میں بھلا کیوں نہ جچے گا۔ اب حال یہ ہوتا ہے کہ اس کے منہ کی ناخوشگوار بو خدا کے ہاں مشک کی خوشبو سے بڑھ جاتی ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭

اب ہمارے پاس تین چیزیں ہو گئیں جو اس عبادت -روزہ - کی تہہ میں کام کرتی ہیں: صبر، شکر اور فقر۔ چوتھا عنصر اس میں ایک اور شامل ہونا ہے اور وہ ہے ذکر۔

آدمی ایمان کا مفہوم نہ جان پایا ہو تو ’ذکر‘ اس کیلئے بڑی حد تک ایک ناقابل فہم چیزہے اور یا پھر ایک بناوٹی عمل۔ ’ضربوں‘ کی نوبت عموماً تبھی آتی ہے۔ خدا کا درست تعارف ہو جانا۔ خدائی کی حقیقت سے آگاہ ہو جانا۔ بندگی کا مطلب جان لینا۔ خدا سے ایک عہدِ بندگی استوار کرلینا۔ دُنیا وآخرت کی حدود جان لینا اور اپنے آپ کو خدا کی عبادت میں دے کر اس کی تعظیم وتسبیح اور اس کی کبریائی کرنے لگنا۔ اس کو اس کی نشانیوں سے پا لینے کا سلیقہ جاننا۔ اس کی صفات کا علم پانا۔ اس کی خدمت اور اطاعت پر ہمہ دم تیار رہنا۔ عبادت اور اطاعت پر ایک اس کا حق جاننا اور طاغوت سے کھلا کفر کرنا۔ الوہیت اور کبریائی میں اس کی احدیت کے بار بار ذکر سے ایک خوشی اور ایک اطمینان محسوس کرنا اور نفس میں اس پر اعتماد پانا۔ غرض رسولوں کی دعوت کو اپنا ایک بے ساختہ مقدمہ بنا لینا اور قرآن کے بنیادی مضامین کو اپنا باقاعدہ مدعا بنا لینا۔ یہ ہے ایمان اور یہ ہے اسلام کی حقیقت۔ سب سے پہلے آدمی کو اسی پر محنت کرنا ہے اور اپنے نفس کی گہرائی میں اس کو قبول کرنا ہے ”وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ “ پھر جب قرآن سے اور رسول اللہ ﷺ کے مقدمۂ دعوت سے ایک بار یہ سبق پڑھ لیا جائے تو پھر باقی زندگی اس سبق کا اعادہ کیا جائے گا۔ قول سے، عمل سے، شعور سے، احساس سے اور ہر انداز سے۔ جس کثرت سے ہو سکے اس کا اعادہ کیاجائے گا۔ اس ’اعادہ‘ کو ہی ذکر کہا جاتا ہے۔

جس نے اصل سبق ہی نہیں پڑھااور اس کا مفہوم ہی نہیں سمجھاوہ سبق کا ’اعادہ‘ کیا کرے گا؟ ’ذکر‘ اس کیلئے ایک تکلف ہے۔ وہ ضرور اس کی کوئی غیر طبعی صورت اختیار کرے گااور بہتوں کے ساتھ عملاً اور واقعتا یہی ہوتا ہے۔ پس اس کا طریقہ یہی ہے کہ آدمی بہت پیچھے چلا جائے اور اپنی محنت کا آغاز ایمان کے مفہوم، اسلام کے مطلب، توحید کی حقیقت، خدا کی پہچان، صفات کے علم اور بندگی کا معنی جاننے سے کرے اور پھر ذکر کی صورت میں اپنے اس ایمان اور بندگی میں ساری زندگی اس رنگ کو گہرا کرتا رہے۔

اب یہ ذکر کیا ہے؟ یعنی بندگی کے اس سبق کا اعادہ اورتذکرہ کیونکر ہوگا؟ دُعا، مناجات، تسبیح، حمد، تعظیم، تکبیر، تہلیل، قیام، رکوع، سجود، تحیات، خدا کے خوبصورت نام لینا اور اس کی صفات کا تذکرہ کرنا۔ علم، فکر، توبہ، انابت، استغفار، خشوع، امید، آس، خشیت، خوف، استعاذہ، آہ، بکا، تسلیم، رضا ۔۔۔۔ یہ سب افعال اور یہ سب احساسات ذکر ہیں اور اس اصل حقیقت کی تذکیر جو ایمان کے مفہوم میں پہلے جان لی گئی اور لَآ اِلٰہَ اِلاَّاللہ کی صورت میں تسلیم کی گئی ۔۔۔۔

کوئی اگر ایمان کا پورا سبق دہرانا چاہے اور اپنے معبود کا ایک بہترین ذکر کرنا چاہے اور بندگی کی یہ حقیقت اپنے اوپر طاری کر رکھنے میں پوری طرح راغب ہو تو اس کو چاہیے قرآن پڑھے۔ یہ بہترین ذکر ہے۔ ایمان کا ہر مفہوم اس میں بار بار اور آپ سے آپ دہرایا جاتا ہے اور نئے سے نئے پیرائے میں بیان ہوتاہے۔

چونکہ نماز ایک ایسا عمل ہے جس میں ’ذکر‘ کے بے شمار افعال ایک بے مثال انداز میں یکجا کر دیئے گئے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ ذکر کے قریب قریب سب افعال ہی ملا جلا کر ایک عمل میں سمو دیئے گئے ہیں اور جس سے کہ یہ ایک ایسا سماں بنتا ہے کہ انسان کا پورا وجود ہی دُنیا ومافیہا سے رخ پھیر کر ایک خدائے وحدہ لاشریک کی جانب متوجہ ہوتا ہے۔ اس میں انسان کا انگ انگ خدا کا ذکر کرتاہے۔ انسان کا دل، انسان کی زبان، ہونٹ، ہاتھ، پیر، حتی کہ ہاتھوں پیروں کی انگلیاں، گھٹنے، ناک، پیشانی، سر، کمر، زانو، غرض سب اعضا خدا کا ذکر کرتے ہیں۔ حتی کہ نگاہیں جھک جاتی ہیں اور ادب اور خضوع میں آکر خدا کی تعظیم کرتی ہیں۔ انسان کے کان تک دُنیا کی ہر بات سننے سے انکاری ہو کر ایک خدا کا کلام اور ذکر سننے کے ہی روادار رہ جاتے ہیں۔ خدا کی بار بار تعظیم ہوتی ہے۔ خدا کی بڑائی بیان کی جاتی ہے۔ حمد وثنا ہوتی ہے۔ خداکے کلام کی تلاوت ہوتی ہے۔ نماز خدا کے آگے قیام ہے۔ رکوع ہے۔ سجود ہے۔ انسان خداکے آگے بار بار ماتھادھرتا اور اس کی عظمت کو سلام کرتا ہے۔ تحیات اور کورنش ہے۔ تسبیح ہے۔ تہلیل ہے۔ دُعا ہے۔ مناجات ہے۔ خدا کے ناموں کا ورد ہے۔ استغفار، انابت، توبہ، خشوع، اذعان، تسلیم، امید، آس، درخواست، منت، سماجت، خوف، خشیت، استعاذہ حتی کہ بسا اوقات آہ، بکا اور گریہ ۔۔۔۔ غرض انسان ہر پہلو سے اور ہر شکل میں خدا کا ذکرکرتا اور اس کے آگے اپنی بندگی بیان کرتا ہے۔ اس لئے نماز ذکر کی بہترین حالت ہے۔ حتی کہ قرآن جو کہ بہترین ذکر ہے، کا بھی بہترین مقام نمازہے۔ پس نماز علی الاطلاق ذکر کی بہترین حالت ہے۔

وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي (طہ: 14)

”اور میری یاد کیلئے نماز قائم رکھ“۔

اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُونَ (العنکبوت: 45)

”تلاوت کرو اس کتاب سے جو تم پر وحی کی گئی اور نماز کی اقامت کرو یقینا نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی ہے۔ البتہ اللہ کا ذکر اس سے بھی بڑی چیز ہے“۔

پس روزہ جو کہ صبر کی بہترین حالتوں میں سے ایک حالت ہے اور نماز جو کہ ذکر کی ایک بہترین صورت ہے جب مجتمع ہوں ۔۔۔۔ اور رمضان ان دو عبادتوں کے اجتماع کی بہترین صورت ہے۔۔۔۔ تو یوں رمضان کے دن اور رمضان کی راتیں بہت بامعنی ہو جاتی ہیں اور واستعینوا بالصبر والصلوة کی ایک عملی تفسیر۔

ذکر کی بہترین حالت گو نماز ہے مگر روزہ بھی ذکر ہی کا ایک ذریعہ ہے بشرطیکہ روزہ سے آدمی وہ پیغام لینے کا شعور پائے جو کہ روزہ سے اس کا اصل مقصود ہے۔ اس بات کا اب یہاں کچھ بیان کیا جاتا ہے۔

بھوک اور پیاس انسان کے محسوسات میں قوی ترین ہیں۔ جنسی خواہش ایک مضبوط ترین جبلت ہے۔ پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ انسان کے اندرونی محسوسات ہیں نہ کہ خارجی عوامل۔ خارج سے انسان کو کرائی جانے والی یاد دہانی ہرگز اس قدر موثر نہ ہوگی جس قدر کہ یاد دہانی کے اندرونی اسباب۔ انتڑیاں خالی ہوں تو وہ بہرحال انسان سے کھانا مانگتی ہیں اور جب تک کھانا مل نہ جائے تب تک بولتی ہیں۔ بھوک کی بہرحال ایک کھنیچ پڑتی ہے۔ پیاس بار بار اپنا آپ یاد دلاتی ہے۔ اس کے جواب میں آدمی جب اپنے آپ کو یہ بتاتا ہے کہ اُس کی اس بھوک پیاس کا سبب یہ نہیں کہ وہ کھانے پینے کیلئے کچھ پاس نہیں رکھتا بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ خدا کی بندگی پر مامور ہے۔۔۔۔ اور یہ کہ خدا کا اس نے یہ مرتبہ اور مقام جان رکھا ہے کہ وہ جب چاہے اس کے اور اس کے مرغوباتِ نفس کے مابین حائل ہو جائے چاہے نفس کے وہ مرغوبات اس کی پوری دسترس میں ہوں اور یہ کہ خدا کے اس حق کو وہ اپنے لئے سعادت سمجھ کر اور خوشی خوشی قبول کرے ۔۔۔۔ اور یہ کہ اس کی نگاہ میں معبود کی خواہش اس کی اپنی خواہش پر کہیں بڑھ کر مقدم ہے اور اس کا یہ روزہ دراصل اسی بات کا ہی عملی ثبوت ہے۔۔۔۔ اور یہ کہ مالک کے پاس جو کچھ ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو اس کے اپنے پاس ہے بلکہ اِس کا اور اُس کا میل ہی کیا! یوں روزہ اور روزہ کا ہر ہر لمحہ آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے اور پورا دن اس بات کی مشق کرتا اور اس سبق کا اعادہ کرتا ہے: وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَى

سو یہ ایک ذکر ہے جو انسان لب ہلائے بغیر کرتا ہے اور پورا دن اس میں گزار دیتا ہے!

سبحان اللہ! بھوک اور پیاس کا ایسا استعمال کسی دین اور کسی اخلاق فلسفہ نے نہ کرایا ہوگا جیسا کہ شریعت اسلام نے کرایا: كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ۔ بھوک اور پیاس اور جنسی تسکین کی خواہش جس انداز سے ایک قدرتی عمل ہے اور اس کی بابت انسان کو کسی کے ’یاد‘ کروانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ انسان کو آپ اپنی طرف متوجہ کرتی اور آپ اپنی یاد دلاتی ہے، اس کے اسی قدرتی زور کو اسلام اپنے رخ پر لے آتا ہے اور اس کی تمام تر شدت کو بہت خوبصورتی سے اپنے حق میں ا ستعمال کرتا ہے۔ جیسے ہی انسان کی حیوانی خواہشات نے زور مارا ویسے ہی انسان کی روحانی قوت اور فکری مزاحمت حرکت میں آگئی! جونہی جسم کی کسی جبلت نے اپنا قدرتی عمل کیا ویسے ہی دل ودماغ نے ایک شعوری عمل کا آغاز کردیا۔ جسم انسان کو اپنی وقتی ضرورت بتائے گا اور انسان اس کو اپنی ابدی ضرورت اور اپنی بندگانہ حیثیت بتا کر خاموش کرائے گا۔ نہ جسم اپنا کام کرنے اور اپنی خواہش بتانے سے رکے اور نہ قلب وذہن کو اپنے اس شعور اور روحانی عمل سے فراغت ہو۔ یوں دن کی طویل ساعتیں انسان کے ملکوتی خصائص اس کے بہیمی خصائص پر پوری طرح حاوی رہتے ہیں اور اسی کیفیت میں انسان صبح سے شام کر لیتا ہے ۔۔۔۔

تاآنکہ افطار کا وقت آتا ہے۔ افطار وہ منفرد ’کھانا‘ ہے جو انسان اپنی مرضی سے موخر نہیں کر سکتا۔ گویا اب یہ اس کی ضرورت نہیں! یہ بھی اس کو مالک ہی کا حکم ہے! یہ شخص جو پورا دن صبر اور استقامت اور عفت اور وقار کا نمونہ بنا رہا، افطار کیلئے اس کی رغبت اور عجلت بھی اب دیدنی ہے! پورے دن کے اس طویل تربیتی عمل کے بعد کم از کم اس وقت یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ اس کا کھانا اور پینا محض جسم کے مطالبہ کی تنفیذ نہ ہو بلکہ اس بار یہ حکم اس کو اوپر سے ہی ملے! کیوں!؟

تاکہ واضح ہو کہ مسئلہ دراصل ’حکم‘ کا ہے ۔۔۔۔

تاکہ واضح ہو کہ یہ ایک بھرپور انسان ہے اور کھانا اس نے کسی بے دلی یا بے رغبتی یا دنیا بیزاری کے باعث نہیں چھوڑ رکھا تھا بلکہ معاملہ یہ ہے کہ اس کی رغبت ’دنیا‘ سے بڑی ہے اور وہ رغبت اب بھی کہیں نہیں گئی ہے ۔۔۔۔

تاکہ واضح ہو کہ یہ کوئی ترکِ دُنیا کا مظاہرہ نہ تھا بلکہ کسبِ آخرت کا عمل تھا ۔۔۔۔

اور تاکہ اس کو یا کسی اور کو یہ غلط فہمی نہ ہو جائے کہ ’بھوک‘ میں خود اپنے اندر کوئی خوبی ہے ۔۔۔۔

بھوکا رہنا فی نفسہ کوئی بہادری نہیں۔ پیاسا رہنے کی خود اپنے آپ میں کوئی فضیلت نہیں۔ وہ اخلاقی فلسفے جو بھوک اور پیاس کی کچھ فی ذاتہ فضیلت بتاتے ہیں وہ دراصل فضیلت کی کوئی بنیاد بھوک اور پیاس کے سوا اپنے پاس نہیں رکھتے۔ یہ مفلس ادیان ہیں۔ بھوک کو فضیلت بخش دینے والی کوئی چیز ہے تو وہ رب العالمین کی بندگی ہے۔ اور جب فضیلت کی اصل بنیاد یہ بندگی ہے تو پھر یہ جہاں بھی پائی جائے۔ یہ بھوک پر صادق آئے تو بھوک عبادت اور کھانے پینے پر صادق آئے تو کھانا پینا عبادت!

سبحان اللہ! ضرورت آدمی کی اپنی اور حکم خدا کا! تاکہ واضح ہو: مالک اپنے بندے کی ضرورت سے غافل نہیں بلکہ بندے کی ضرورت کا اس کو بندے سے بڑھ کر پاس ہے ۔۔۔۔ اور جو آج اپنے بندے کی ضرورت سے غافل نہیں وہ کل اپنے بندے کیلئے اپنے پاس کیا کچھ نہ رکھتا ہوگا جب بندہ محض ایک دن کا روزہ نہیں بلکہ عبادت کی پوری زندگی گزار کر اس کے روبرو ہوگا اور جس کو کہ اس نے نام ہی ’صلے کا دن‘ دیا ہے اور جو کہ ہمیشگی کا دن ہے! یہی وجہ ہے کہ ’روزہ کھلنے‘ اور ’خدا سے ملنے‘ کا ایک ساتھ ذکر ہوتا ہے:

للصائم فرحتان: فرحة عند فطرہ وفرحة عند لقاءربہ (3)

”روزہ دار کے نصیب میں دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی اس کی روزہ کھولنے کے وقت اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت“۔

چنانچہ افطار کی محض ’اجازت‘ نہیں بلکہ ’ہدایت‘ ہوتی ہے! تاکہ بندہ اپنی بندگی کو کسی ایک ہی صورت میں محصور نہ سمجھ لے ۔۔۔۔ اور تاکہ بندگی کا ایک خوبصورت مضمون محض اپنے ایک پیرائے کی اوٹ میں نہ چلا جائے ۔۔۔۔ اور تاکہ بندہ اپنے مالک کا صحیح تعارف بھی کر لے جو صرف ’پابندیاں‘ نہیں لگاتا بلکہ فضل بھی کرتا ہے۔ بلکہ اس کی عائد کردہ ’پابندیاں‘ سب کی سب اس کے لامتناہی فضل کا ہی پیش خیمہ ہیں۔۔۔۔ اور تاکہ اس پر ایمان اور بندگی کا ایک اور لطیف معنی بھی واضح ہو اور وہ یہ کہ خدا کو پانا ’عمل‘ کے زور پرنہیں بلکہ خدا کے آگے عاجزی اور انکساری اختیار کرنے میں ہے اورمطلق اس کے فضل اور رحمت کا سہارا چاہنے میں:

واعلموا اَنہ لن ینجوا اَحدمنکم بعملہ۔ قالوا: یا رسول اللّٰہ ولا اَنت! قال: ولا اَنا الا اَن یتغمدن ¸ اللّٰہ برحمة منہ وفضل (4)

”خوب جان لو! تم میں سے کوئی بھی محض اپنے عمل سے پار نہ لگے گا“ صحابہ نے عرض کی: یا رسول اللہ کیا آپ بھی؟ فرمایا: ہاں میں بھی۔ سوائے یہ کہ خدا ہی اپنی رحمت اور فضل سے مجھ کو اپنی لپیٹ میں لے لے“۔

پس روزہ عاجزی ہے اور ’بندگی‘ کی ایک منفرد یاد دہانی۔ سحری میں تاخیر اورافطار میں عجلتروزہ کے اندر بندگی کا رنگ بھر دینے اور بندگی کی اس تصویر کو مکمل کردینے میںبے حد اہمیت کی حامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی ایک ایک بات میں بندگی کے بے شمار مضامین پوشیدہ ہیں۔

۔۔۔۔ وخیر الھدی ھدی محمد

وشر الامور محدثاتہا ۔۔۔۔

٭٭٭٭٭٭٭


(1) دیکھیے مسند احمد: حدیث 19435، حدیث 19811، سنن النسائی: حدیث 2366، سنن ابن ماجۃ: حدیث 1731، سنن ابی داود: حدیث 2073)

(2) صحیح بخاری: کتاب الصیام، باب فضل الصیام، حدیث 1945)

(3) صحیح بخاری: حدیث 1945)

(4) صحیح مسلم: حدیث 5041)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔