Thursday, 13 August 2009

Dear Sir I Salute You..

0 comments

ڈیئر سر

آپ نے اپنے بہت سے بہت ہی اچھے اچھے ساتھیوں کے ساتھ مل کر آزادی کی جو شمعیں روشن کی تھیں انھی میں سے ایک روشن شمع بزرگوں نے مجھ تک بھی پہنچائی ہے اوراب میں اس شمع کو تھامے ہوئی ہوں اس شمع کی روشنی میں مجھے محبت نظر آتی ہے اور احترام نظر آتا ہے اپنے ملک کے ہر گوشے کے لیے اور اپنے وطن کے ہر شہری کے لیے اور مجھے نفرت ، تمسخر اور طنزیہ لب و لہجہ جو خود سے مختلف دوسری زبان کے بولنے والوں کے لیے یا اپنے مسلک سے مختلف دوسرے مسالک کے لیے اختیار کیا جائے بالکل بھی اچھا نہیں لگتا اور مجھے وہ لوگ بہت اچھے لگتے ہیں جو اپنی ذات کو نظر انداز کر کے کسی بھی تفریق کو اور کسی بھی تقسیم کو مٹانے کی اور جڑ سےختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

میں جب چھوٹی تھی تو مجھے دکھ ہوتا تھا یہ سوچ کر کہ اگر میں اس وقت دنیا میں آ چکی ہوتی جب آپ سب آزادی کے لیے کوشش کر رہے تھے تو میں بھی تب آپ سب کا ساتھ دیتی آپ سب کے ساتھ کھڑی ہو سکتی تھی ۔ ۔ ۔ لیکن اب میرا یہ دکھ ختم ہو چکا ہے کیونکہ ہر دور میں کچھ ایسے ناموں کی بھی ضرورت رہے گی ہمیشہ جو ان آزادی کی شمعوں کو اپنے بزرگوں سے روشن وصول کریں اور جب تک انہیں تھامے رکھیں انہیں بجھنے نہ دیں اور پھر اپنے بعد آنے والوں کو یہی روشن شمعیں سونپ دیں تو مجھے خوشی ہے کہ میں اس قطار میں شامل ہوں جس کے ایک مقام پر آپ کھڑے ہیں اور آپ کے ساتھ بہت سے لوگ ہیں اور اسی قطار کے ایک مقام پر میں کھڑی ہوں ، میں اپنی جگہ پر کھڑے جب آپ کی جانب مڑ کے دیکھوں تو مجھے آپ اور آپ کے سب پرخلوص ساتھی روشنی پھیلاتے نظر آتے ہیں پھر وہی روشنی آزادی کے ساتھ اس قطار میں سفر کرتے مجھے اپنے آپ تک پہنچتی نظر آتی ہے اور اب مجھے اس روشنی کو آگے بھی سونپنا ہے تاکہ آزادی کی روشنی کا یہ سفر جاری رہ سکے۔ ۔۔ کہتے ہیں کہ آزادی بہت مشکل سے ملتی ہے، نسلوں کو بہت کچھ قربان کرنا پڑتا ہے جان بھی ، مال بھی اور عزت تک اور یہ بھی کہ آزادی کو برقرار رکھنا اس سے بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ ۔ ۔ کل میں دکھی تھی لیکن آج میں خوش ہوں کیونکہ میں بھی اس قطار میں شامل ہوں آزادی کا سفر جاری رکھنے کے لیے ۔ ۔ ۔

Sir ! I salute you

یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان

ہر سمت مسلمانوں پہ چھائی تھی تباہی
ملک اپنا تھا اور غیروں کے ہاتھوں میں تھی شاہی
ایسے میں اٹھا دین محمد کا سپاہی
اور نعرہ تکبیر سے دی تو نے گواہی
اسلام کا جھنڈا لیے آیا سر میدان

اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان

دیکھا تھا جو اقبال نے اک خواب سہانا
اس خواب کو اک روز حقیقت ہے بنانا
یہ سوچا جو تو نے تو ہنسا تجھ پہ زمانہ
ہر چال سے چاہا تجھے دشمن نے ہرانا
مارا وہ تو نے داؤ کہ دشمن بھی گئے مان

اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان

لڑنے کا دشمنوں سے عجب ڈھنگ نکالا
نہ توپ نہ بندوق نہ تلوار نہ پھالا
سچائی کے انمول اصولوں کو سنبھالا
پنہاں تیرے پیغام میں جادو تھا نرالا
ایمان والے چل پڑے سن کر تیرا فرمان

اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان

پنجاب سے بنگال سے جوان چل پڑے
سندھی ، بلوچی ، سرحدی پٹھان چل پڑے
گھر بار چھوڑ بے سرو سامان چل پڑے
ساتھ اپنے مہاجر لیے قرآن چل پڑے
اور قائد ملت بھی چلے ہونے کو قربان

اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان

نقشہ بدل کے رکھ دیا اس ملک کا تو نے
سایہ تھا محمد کا ، علی کا تیرے سر پہ
دنیا سے کہا تو نے کوئی ہم سے نہ الجھے
لکھا ہے اس زمیں پہ شہیدوں نے لہو سے
آزاد ہیں آزاد رہیں گے یہ مسلمان

اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان

ہے آج تک ہمیں وہ قیامت کی گھڑی یاد
میت پہ تیری چیخ کے ہم نے جو کی فریاد
بولی یہ تیری روح نہ سمجھو اسے بیداد
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
گر وقت پڑے ملک پہ ہو جائیے قربان

اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔