Thursday, 13 August 2009

Yehi Dunya hai

0 comments

یہ دنیا ہے،یہاں اس طرح کے الٹے کھیل معمول کا حصہ ہیں اس لئے حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہاں خواتین کے بیوپاری حقوق خواتین کی تحریکیں چلاتے ہیں، غامدی جیسے جاہل اورلامذہب مذہبی سکالر کہلاتے ہیں۔ بے حساب دولت رکھنے والے غریبوں کے حقوق کی این جی اوز کے ڈائریکٹر ہوتے ہیں، مجاہدین اور ان کی تنظیموں کی الف ب تک نہ جاننے والے جہادی امور کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ شراب میں ڈوبے ، انگریزی اخبارات کی جھوٹی رپورٹیں چاٹ کر اخبار کالے کرنے والوں کو ماہر اور معروف تجزیہ نگار کہا جاتا ہے۔ فحاشی، عریانی پھیلا کر ایڈز جیسی گندی بیماری کو فروغ دینے والے اداکار اور اداکارائیں ایڈز کیخلاف مہمات کی سربراہی کرتے ہیں۔ برگر اور پیزا کھا کر بھوکوں کے حق میں دکاردار تقریریں جھاڑنا ایک مستقل فیشن ہے۔ اعجاز الحق اور حامد سعید کاظمی جیسے لوگ مذہبی امور کے وزیربنا دیئے جاتے ہیں اورزرداری صاحب ملک کے صدر ہوتے ہیں تو ایسے میں اگر امریکہ نے طالبان کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا طعنہ دے دیا تو ہنسنے کی کون سی بات ہے؟ طالبان نے تین دن قبل ایک نوجوان امریکی فوجی بوبر گدھال کی ویڈیو جاری کی ہے۔ امریکی فوجی کے آگے روٹی اور قہوے کا کپ رکھا ہے اور وہ ایک شخص کے سوالات کے جواب میں کہتا ہے کہ میں بہت خوفزدہ ہوں۔ لوگ حکومت کو مجبور کرنے کیلئے سڑکوں پر نکلیں، امریکہ افغانستان میں اپنی جانیں اور قیمتی وقت ضائع کررہا ہے۔ اسے افغانستان سے نکلنا چاہئے، ہم سب کی گھر واپسی یقینی بنائی جائے وغیرہ وغیرہ۔ امریکہ کی وزارت دفاع پینٹاگون نے ویڈیو کواصلی تسلیم کرلیا ہے مگر طالبان کی شدید مذمت کی ہے کہ انہوں نے عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی اور قیدی کے حقوق پامال کئے ہیں۔ مجھے بذات خود یہ ویڈیو اور تصویر دیکھ کر کافی صدمہ ہوا۔ طالبان کو علم ہی نہیں ہے کہ آج کل انسانی حقوق کیا ہیں اور قیدیوں کی تصاویر کس طرح کی ریلیز کی جاتی ہیں؟ بیچارے قدیم زمانے کے لوگ ہیں کم ازکم چودہ سو سال پرانے، وہ کیا جانیں کہ جدید زمانے نے قیدیوں کیلئے کیا خوبصورت انسانی حقوق وضع کئے ہیں۔ طالبان نہ ٹی وی دیکھتے ہیں اور نہ اخبارات سے زیادہ شغل رکھتے ہیں، نہ انہیں کمپیوٹر پر انگلیاں گھمانے اور سکرین پر نظریں جمانے کی فرصت ہے۔ قیدی کو مکمل لباس میں ملبوس کرنا، کھانے کیلئے روٹی دینا، زنجیروں اور ہتھکڑیوں کے بغیر بٹھانا انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی اور پامالی کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس لئے امریکہ کا احتجاج بجا ہے۔ غصہ آنا فطری ہے اور بیان بازی حق ہے۔ جدید عالمی قوانین کے مطابق اگر یہ تصویر کچھ یوں ہوتی کہ قیدی تنگ لباس میں یا بالکل بے لباس ہوتا، اس کے جسم کو کوئی کتا بھنبھوڑ رہا ہوتا یا کوئی انسانی درندہ ضربیں لگا رہا ہوتا، اردگرد کئی لوگ اس کی حالت پر قہقہے لگا رہے ہوتے، کوئی اس کے سر پر مکے برسا کر انگلیوں سے وکٹری کا نشان بنا رہا ہوتا، اس کے برہنہ جسم پر کئی لوگ سوار ہوتے، اسے تاروں سے کرنٹ دیا جا رہا ہوتا یا جسم پر نجاست اور گندگی مل دی گئی ہوتی، اس کے گلے میں پٹہ ڈال کر گھسیٹا جا رہا ہوتا، اس کے نازک اعضاء کھینچے جارہے ہوتے تو آپ دیکھتے، امریکہ طالبان کو شاباش دیتا، خراج تحسین پیش کرتا، انہیں مبارکباد کا پیغام بھیجتا کہ پتھر کے زمانے میں رہنے والے ان قدامت پسندوں کو جدید دنیا کے قوانین کا کچھ علم وادراک تو ہوا۔ انہوں نے بھی کسی کام میں ’’مہذب‘‘ دنیا کا اتباع تو کیا۔ انہیں بھی روشن خیالی کی کچھ سمجھ تو آئی۔ مگر افسوس طالبان وہی کے وہی رہے۔ گوانتاناموبے، ابوغریب اور بگرام کے عقوبت خانوں میں انسانی حقوق کے نگہبان امریکہ نے قیدیوں کے ساتھ جو کچھ کیا اور پھر اس حسن سلوک کی تصویر کشی کرکے جس طرح دنیا بھر میں بانٹی یہ اس بات کا اعلان تھا کہ آج کے بعد دنیا میں قیدیوں کے یہ حقوق ہیں اور ان کے ساتھ عالمی قوانین کے مطابق یہ سلوک کیا جانا چاہئے، امریکہ کے غلاموں یعنی اتحادیوں کے ممالک میں بھی عرصہ ہوا قیدی کے حقوق کا یہی جدید چارٹر نافذ العمل ہے۔ یہ ممالک خواہ کفریہ ہوں یا اسلامی، ہر کسی نے اپنے قیدیوں کو مکمل طور پر یہ حقوق مہیا کر رکھے ہیں، ان ممالک کے قیدخانوں سے رہا ہوکر آنے والا ہر شخص اسی ’’حسن سلوک‘‘ کی داستان سناتا ہے اور روتا رلاتا ہے۔ امریکہ نے بہت اچھا کیا کہ طالبان کی اس پر ’’بدسلوکی‘‘ پر احتجاج کرکے دنیا کو بتا دیا کہ وہ ان ’’درندوں‘‘ کیخلاف جو جنگ لڑ رہا ہے وہ اس کا بالکل صحیح اقدام ہے۔ جو لوگ زمانے میں ’’مہذب‘‘ اقدار کے فروغ میں رکاوٹ نہیں، زمانے بھر سے الگ روش اختیار کریں۔ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کریں اور ہر کام اپنی مرضی سے کریں ان کا یہی علاج ہونا چاہئے۔ پینٹاگون کی یہ پریس کانفرنس میرے ذہن کو کئی صدیاں پیچھے لے گئی۔ مکہ کے ان ’’مہذب‘‘ روشن خیال اور ’’نیک صفت‘‘ مشرکین کا واویلا مجھے سنائی دینے لگا ’’یسئلونک عن الشہر الحرام قتال فیہ ‘‘(الآیہ) نبی اکرمﷺ اور صحابہ کرامؓ پر بدترین مظالم کے پہاڑ توڑنے والے مشرکین، بیت اللہ مرکزِ توحید کو شرک کا گڑھ بنا دینے والے مجرمین، اللہ کے گھر کے سامنے ننگے طواف کرنے والے بے حیا، بے گناہ قیدیوں کو زنجیروں میں جکڑ کر رکھنے والے درندے، مظلوم ومجبور اہلِ ایمان کو ہجرت سے روکنے والے ظالمین، شرابی، زانی، ڈاکو،بدکار اس بات پر چیخ رہے تھے کہ مسلمانوں نے رجب کی پہلی تاریخ کو ان کے دو افراد کیوں قتل کر دیئے ۔ مسلمانوں نے اشہر حرم کی حرمت پامال کر دی۔ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کردی، اہل ایمان نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرلیا۔ ہائے ہائے ہائے تمثیل کی زبان میں اسے کہتے ہیں چھلنی کا لوٹے کو دو سوراخوں کا طعنہ دینا ’’ارے لوٹے تیرے اندر تو دو سوراخ ہیں‘‘۔ مگرخبردارلوٹا چھلنی کو یاد نہ دلائے کہ محترمہ آپ تو ہیں ہی سراپا سوراخ، کیونکہ چھلنی امریکہ ہے، یاد دلانے کا نتیجہ ہوسکتا ہے آپ برداشت نہ کرسکیں۔ مجھے یوں لگا جیسے پینٹاگون اور مکہ کے دارالندوہ کے درمیانی فاصلے سمٹ گئے ہیں۔ابوجہل اور بارک اوبامہ ایک ہی زمانے میں آگئے ہیں، رابرٹ گیٹس اور امیہ بن خلف ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں۔ ایک جیسا عمل ، ایک جیسی زبانیں، ایک جیسی باتیں ،ایک جیسا کردار اور پھر ایک معطر احساس نے میری روح کو مہکا دیا۔ طالبان بھی تو مدینہ والوں کے قریب ہوگئے ہیں، قندھار اور طیبہ کے فاصلے بھی تو سمٹ رہے ہیں۔ قرآن کی یہ جوابی آیت طالبان کو بھی تو تسلی دے رہی ہے۔ ان الذین آمنو والذین ہاجرو وجاہدو افی سبیل اللہ اولئک یرجون رحمۃ اللہ واللہ غفوررحیم۔ (البقرہ۲۱۸) بے شک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہی اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔ سریہ عبداللہ بن حجش رضی اللہ عنہ اور آپریشن خنجر کے غازیوں میں کتنی مماثلت ہے۔ مبارک ہو مبارک ہو۔ صحابہ کرام جیسے مراتب تو اب تاقیامت کسی کو نہ مل سکیں گے۔ ان کی خاکِ پا کو بھی کوئی نہ پہنچ سکے گا مگر ان کے ایمانی مظاہر کی جھلک ہر زمانے میں دکھائی دیتی رہے گی۔ قرآن زندہ ہے اس کے کردار زندہ رہتے ہیں۔ قرآن میں بیان فرمودہ مومن ہر زمانے میں دکھائی دیتا رہے گا اور روشنی کی راہ دکھاتا رہے گا۔ قرآن میں بیان ہونے والا کافر ہر زمانے میں نظر آتا رہے گا اور ظلمت میں گرتا رہے گا۔ قرآن میں بیان ہونے والا منافق ہر دور میں موجود رہے گا اور ذلت ورسوائی پاتا رہے گا۔ میں کچھ سنجیدہ ہوگیا ہوں حالانکہ امریکی ترجمان کا بیان سننے کے بعد تین دن سے مسلسل ہنس رہا ہوں۔ مگر یہ دنیا ہے یہاں دونوں حالات چلتے ہیں۔ کبھی ہنسی اور کبھی آنکھ نم، امریکہ کی بات سنیں تو گدگدی ہونے لگتی ہے اور اچانک ملا عمرمجاہد حفظہ اللہ یاد آجائیں اور بات ان تک جا پہنچے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ ہاں یہ دنیا ہے یہاں سب چلتا رہتاہے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔