Tuesday, 1 September 2009

قرآن اوربائبل سائنس کی روشنی میں(قسط نمبر 1)

0 comments
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم


قرآن اوربائبل سائنس کی روشنی میں(قسط نمبر 1)

ڈاکٹر ذاکر نائیک اور ڈاکٹر ولیم کیمپبل کے درمیان امریکہ میں ایک معرکة الآراء مناظرہ
ولیم کیمپبل نے ہتھیار ڈال دیئے

مترجمین:انجم سلطان شہباز' سیدعلی عمران
اصلاح ونظرثانی: قاضی کاشف نیاز


ڈاکٹرذاکرعبدالکریم نائیک…کسی تعارف کے محتاج نہیں۔وہ عالم اسلام کی متبحرعلمی شخصیت اوربین الاقوامی سطح پر اسلام کے بہت زبردست مناظرہیں۔بے شمار عوامی خطابات کے علاوہ وہ دنیاکے کئی ممالک کے ٹی وی چینل خصوصاً PEACEٹی وی پرباقاعدگی سے لیکچردیتے ہیں۔کچھ عرصہ قبل اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ (ICNA)کے زیراہتمام عیسائیت کے بہت بڑے مبلغ ڈاکٹرولیم کیمپبل کے ساتھ شکاگو میں ان کافیصلہ کن اورمعرکہ آرا مناظرہ ہوا ۔ ڈاکٹرولیم کیمپبل امریکہ کے معروف عیسائی سکالرڈاکٹرگراہم بلی کے شاگرد ہیں۔ انہوں نے 20سال مراکش میں کام کیاجہاں انہوں نے عربی زبان سیکھی۔وہ Dr.Maurice Bucaille کی کتاب بائبل 'قرآن اور سائنس کے جواب میں ''قرآن اوربائبل …تاریخ اور سائنس کی روشنی میں'' لکھ چکے ہیں۔ ڈاکٹرذاکرنائیک کے ساتھ ان کے مناظرے کاموضوع بھی ''قرآن اور بائبل…سائنس کی روشنی میں''تھاجس میںاللہ نے اسلام اور ڈاکٹرذاکرنائیک کوفتح مبین عطاکی جبکہ ڈاکٹرولیم کیمپبل نے ڈاکٹرذاکرنائیک کے دلائل صریحہ کے آگے اپنے لاجواب اور بے بس ہونے کاواضح اعتراف کرتے ہوئے ہتھیار ڈال دئیے۔ مناظرے میں دونوں مقررین کودودوبار خطاب کاموقعہ دیاگیا۔ آخرمیں سوال وجواب کی نشست ہوئی۔اس مناظرے کی دلچسپ روداد کوانجم سلطان شہباز اور سیدعلی عمران نے کتابی صورت میں مرتب کیا جسے ہم اس مناظرے کی وڈیو اورایک اور ترجمے سے تقابل اور ضروری اصلاح ونظرثانی کے بعدقارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔(ادارہ)

ڈاکٹرولیم کیمپبل کاخطاب:
میںڈاکٹرذاکرنائیک کوخوش آمدیدکہتاہوں جویقینا بہت دورسے تشریف لائے۔سبیل احمد'محمدنائیک اورانتظامیہ کمیٹی کوبھی خوش آمدید۔اس مذاکرے کو''حتمی''The Ultimate Dialouge کہناایک طرح سے مبالغہ آرائی ہوگی لیکن یہ ایک عمدہ قسم کی محفل ہے اورجملہ حاضرین آپ کوبھی خوش آمدید۔
میں خالق خداوند عظیم یہوواہ کے نام سے بھی تہنیت پیش کروں گا جو ہم پرنہایت مہربان ہے۔ میں گفتگوکاآغاز الفاظ کی ماہیت ومعنی سے کرناچاہتاہوں۔آج شام ہم بائبل اورقرآن کے الفاظ کے بارے میں بات کریں گے۔ جدید علم لسانیات کے ماہرین ہمیں بتاتے ہیں''ایک لفظ' ایک جزو یا جملہ وہی معنی رکھتاہے جوبولنے والے کے ذہن میں ہوتے ہیں اور جو سننے والے شخص یا مجمع کے ذہن میں سماتے ہیں۔'' قرآن یاانجیل کے حوالے سے کہیں گیکہ جومعنی حضرت محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام یاان کے سامعین کے نزدیک تھے۔ اس امرکی تحقیق کے لئے ہمارے پاس الفاظ کے من جملہ استعمال کا سیاق وسباق بائبل اورقرآن میں موجودہے۔ علاوہ ازیں اس صدی کی شاعری اور خطوط بھی موجودہیں۔ بائبل کے لئے پہلی صدی عیسوی اورقرآن کے لئے پہلی صدی ہجری معین ہیں۔ اگر ہم حق کے متلاشی ہیں توہمیں نئے نئے معانی نہیں اخذ کرنے چاہئیں۔ یہاں دروغِ مصلحت آمیز کی گنجائش نہیں ہے۔ جو بات میں کررہاہوں' اس کی ایک مثال پیش خدمت ہے۔
میرے پاس دوڈکشنریاں ہیں۔ ایک 1951ء کی طبع شدہ ہے اور دوسری 1991ء کی ۔دونوں ڈکشنریوں میں ''PIG''کاپہلا معنی …ایک جوان نر یامادہ سورہے۔ دوسرا معنی ''کوئی سور' جنگلی یا پالتوسور'' ہے۔ تیسرا معنی ''سورکاگوشت'' ''Pork''بھی دونوں لغات میں ہے۔چوتھامعانی ایسا شخص جوبسیارخو ر(پیٹو) ہو اور اس کے بعدپگھلی ہوئی دھات(لوہا) کو pig Iron بنانے کے لئے ایک گڑھے میں ڈالنے کے معانی بھی دونوں لغات میں موجودہیں لیکن یہاں (جدید ڈکشنری میں)ایک نیامعنی بھی ہے یعنی ایک پولیس آفیسر ۔ہم پولیس آفیسرز کو(روز مرہ بول چال میں) ''pigs''کہتے ہیں۔ سوال یہ پیداہوتاہے…تورات میں کہاگیاہے کہ تم سورنہیں کھاسکتے۔ اب اگرمیں اس سے مراد یہ لوں کہ ''تم پولیس آفیسر ز نہیں کھاسکتے '' تویقینا غلط ہوگا۔ قرآن میں اللہ نے کہاہے ''تم خنزیرنہیں کھاسکتے''کیا میں اس کا ترجمہ یہ کرسکتاہوں کہ ''تم پولیس آفیسرز نہیں کھاسکتے؟'' نہیں!یہ غلط ہوگا اور درحقیقت جھوٹ پرمبنی ہوگا۔ حضرت محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) ی مراد 'پولیس آفیسرز' ہرگزنہ تھے'نہ ہی موسیٰuکی مراد پولیس آفیسرز تھے۔ہمیں نئے معانی اختراع نہیں کرنے چاہئیں۔ ہمیں وہی معنی اختیار کرنے چاہئیں جوکہ پہلی صدی عیسوی میں بائبل کے لئے اورپہلی صدی ہجری میں قرآن کے لئے اختیار کئے گئے تھے۔
خ… آئیں دیکھیں قرآن علم جنین (Embryology)کے بارے میں کیا کہتاہے۔ معذرت خواہ ہوں کہ میں کچھ غلط کہہ گیا۔یہ کہاگیاہے کہ جنین کامختلف مرحلوں سے گزرنے کاتخیل جدید دور کاہے اور قرآن نے مختلف مراحل کی عکاسی کرکے جدیدعلم جنین کی پیش بینی کی ہے۔ اپنے کتابچے بعنوان ''انسانی جنین کی نمایاں خصوصیات'' میں ڈاکٹرکیتھ مورنے دعویٰ کیاہے کہ رحمِ مادرمیں جنین کے ارتقاء کے مراحل کی وضاحت15ویں صدی عیسوی سے پہلے نہیں کی گئی تھی۔ہم اس دعوے کاوزن قرآن میں مستعمل عربی الفاظ کے معانی پرغوروفکر کے ذریعے کریں گے اور ثانیاً'نزول قرآن کے عہداورماقبل کے تاریخی شواہد کی روشنی میں کریں گے۔
ہم لفظ''علقہ'' کی حامل آیات سے آغازکریں گے۔ عربی لفظ ''علقہ'' (واحد)یا ''علق'' (جمع)6مرتبہ مستعمل ہوا ہے۔سورہ القیامة 'سورة نمبر75آیت نمبر37تا39 میں ہم پڑھتے ہیں ''کیاانسان ایک قطرۂ مادۂ منویہ نہ تھا جورحم مادر میں ٹپکا یاگیا؟ پھر علقہ (لوتھڑا)بنااوراللہ نے شکل وصورت ترتیب دی اور دوطرح کایعنی مذکر اور مؤنث پیداکیا۔ سورة المؤمن'سورة نمبر40آیت نمبر67میں بیان کیاگیاہے:
'' وہی ہے جس نے تمہیں خاک سے پیداکیا'ایک قطرۂ مادۂ منویہ سے' پھر (جمے ہوئے خون کا)ایک لوتھڑا(علقہ) بنایا اورپھرتمہیں ایک بچے کی شکل میں پیداکیا۔ پھرتمہیں بڑھاتاہے تاکہ تم اپنی جوانی کوپہنچو 'پھراوربڑھاتا ہے تاکہ تم بوڑھے ہوجاؤ اور تم میں سے (کوئی وہ ہے)جوپہلے فوت ہو جاتا ہے اور یہ سب کچھ اس لئے کیاجاتا ہے تاکہ تم سب وقت مقررہ کو پہنچو ۔ شاید تم (اپنی حقیقت کو)سمجھ پاؤ۔''
سورة الحج 'سورة نمبر22 آیت نمبر5میں بیان ہے '' اے بنی نوع انسان!اگرتمہیں مرنے کے بعد دوبارہ (حشر کے دن )زندہ کردئیے جانے کے بارے میں شک ہے توغور کرو کہ ہم نے تمہیں خاک سے پیدا کیا ہے'پھر مادۂ افزائش کے ایک قطرے سے' پھر(جمے ہوئے خون کے)ایک لوتھڑے ''علقہ'' سے 'پھر انسانی گوشت کی ایک چھوٹی سی ڈھیری سے'ہرطرح کی (شکل وصورت اوربغیرشکل کے)جسامت دی۔
اورآخری تذکرہ سورة المؤمنون 'سورة نمبر23آیت نمبر12تا14 میں یوں ہے''فی الواقع ہم نے انسان کو گیلی مٹی سے تخلیق کیا 'پھراسے افزائش نسل کے بیج کی طرح ایک محفوظ مقام پر رکھا' پھرہم نے جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے ''علقہ'' اور پھر لوتھڑے سے گوشت کی بوٹی اور پھرگوشت کی بوٹی میں ہڈیاں بنائیں اور ہڈیوں پر گوشت چڑھایا۔تب ہم نے اسے تخلیق نوعطاکی۔''
قرآن کے مطابق جنین کے ارتقا کے مراحل یہ ہیں … نطفہ (Sperm)'علقہ(لوتھڑا) (Clot)' مضغہ (بوٹی)(piece of meat)عظام(ہڈیاں) (bones) اور پانچواں مرحلہ ہڈیوں پر گوشت کاچڑھایا جانا۔گزشتہ ایک سو سال سے زائد عرصہ سے اس لفظ''علقہ'' کاترجمہ اس طرح کیاجاتارہاہے۔ 10معانی موجود ہیں لیکن میں سب کاتذکرہ نہیں کروں گا۔ 3معانی فرانسیسی زبان میں ہیں'جمے ہوئے خون کے لوتھڑے کے معنی میں 5معانی انگلش میں ہیں جہاں ان کاترجمہ ہے' جمے ہوئے خون کالوتھڑا یا جونک جیساجماہواخون کا ٹکڑا۔ایک معنی انڈونیشیا کی زبان میں ''جمے ہوئے خون کی ڈلی''یاخون کاٹکڑا اورآخری معنی فارسی زبان میں ہے ''خون کاٹکڑا''۔ ہروہ قاری جس نے تخلیق انسانی کے بارے میں مطالعہ کیاہے'جانتاہے کہ جنین کے ارتقاء کے مراحل میںClot(علقہ)کاوجودنہیں ہے۔اس لئے یہ ایک بہت بڑا سائنسی مسئلہ ہے۔ علقہ جوکہ واحدمونث ہے اس کے معنی خون کاٹکڑا یاجونک ہیں۔ شمالی افریقہ میں ''علقہ'' کے یہ دونوں معنی عصرِ حاضر میں بھی مستعمل ہیں۔میرے پاس بہت سے مریض آئے جنہوں نے اپنے گلے سے Clotکے اخراج کے لئے کہااور بہت سی (مسلم)خواتین میرے پاس آئیں جنہیں خونِ حیض جاری نہ ہونے کی شکایت تھی۔ جب میں انہیں یہ کہتاہوں کہ ''معذرت خواہ ہوں کہ میں آپ کوخونِ حیض جاری کرنے کی دوا نہیں دے سکتا اس لئے کہ میرا گمان ہے کہ آپ امیدسے ہیں'' تووہ کہتی ہیں ''Mazaaltem'' یعنی فی الحال توخون ہی ہے۔ پس وہ اس قرآنی مفہوم سے آگاہ ہوتی تھیں۔
آخرمیں ہم پہلی وحی کی آیات پرغورکریں گے جوحضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) پرمکہ میں نازل ہوئیں۔یہ آیات 96ویں سورہ میں پائی جاتی ہیں جس کانام ہی علق(Clot)ہے۔یہی وہ لفظ ہے جو96ویں سورہ کی پہلی اور دوسری آیت میں اس طرح مذکور ہے…''پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا 'انسان کوجمے ہوئے خون کے ٹکڑے سے تخلیق کیا'' یہاں یہ لفظ صیغۂ جمع کے طورپر آیاہے۔ ایسی صورت میں یہ لفظ دوسرے معانی بھی دے سکتاہے کیونکہ ''علق'' لفظ ''علقہ'' سے بھی ماخوذ اسم فعل ہے۔ اسمِ فعل بالعموم انگلش کے The Gerund سے مطابقت رکھتاہے جیسا کہ ''Swimming is fun''(تیراکی تفریح ہے)میںSwimming اسم فعل (gerund)ہے۔اس لئے ہم یہ توقع کر سکتے ہیں کہ اس کے معانی معلق'ملحق یا چسپاں بھی ہوسکتے ہیں لیکن مذکورہ بالا 10تراجم میںسبھی نے یہاں بھی خون کاٹکڑا یا جماہوا خون ہی اس آیت میں بھی مراد لئے ہیں۔ ان مترجمین کی تعداد یا قابلیت کے باوجود جنہوں نے لفظ ''Clot'' مراد لیاہے' فرانس کے موریس بوکائے Dr.Maurice Bucailleنے ان کے لئے تنقیدی الفاظ استعمال کیے ہیں۔وہ لکھتے ہیں …''ایک متجسس قاری کے لئے اس سے زیادہ گمراہ کن بات اور کیا ہوگی کہ ایک بار پھر لغت کامسئلہ درپیش ہے۔ مثال کے طورپر مترجمین کی اکثریت نے تخلیق انسانی کوخون کے ٹکڑے (Clot) ہی سے قرار دیا ہے۔ اس طرح کا بیان اس شعبے کے ماہر سائنس دانوں کے لئے قطعاً ناقابل قبول ہے۔اس بات سے ظاہر ہوتاہے کہ لسانی اور سائنسی علوم میں ربط کی اہمیت کتنی زیادہ ہے بالخصوص جب قرآن کے تخلیق انسانی کے بارے میں بیان کے معانی کو سمجھنا ہو ۔
دوسرے لفظوں میں Dr.Bucailleیہ کہہ رہے ہیں '' مجھ سے پہلے کسی نے قرآن کے اس لفظ کاترجمہ صحیح طورپرنہیں کیا۔''
Dr.Bucailleکے خیال میں اس کاترجمہ کیسے کیا جاناچاہئے؟وہ تجویز کرتے ہیں کہ لفظ ''علقہ'' کا ترجمہ لوتھڑے(Clot) کی بجائے ''چپکنے والی چیز'' کرناچاہئے جوجنین کے رحم میں آنول نال کے ذریعے جڑا ہوتاہے لیکن جیسا کہ وہ تمام خواتین جوحاملہ رہ چکی ہیں'آگاہ ہیں کہ ''چپکنے والی چیز'' اس لئے چپکنا نہیں چھوڑتی کہ جگالی کیا ہوا گوشت بن جائے۔ یہ اپنی اسی خاصیت کے ساتھ آنول نال کے ذریعے ساڑھے 8ماہ تک منسلک رہتی ہے۔
ثالثاً یہ آیات بیان کرتی ہیں۔ ''جگالی کیاہواگوشت ہڈیاں بن جاتاہے اور پھرہڈیاں گوشت پوست یاعضلات سے ڈھانپ دی جاتی ہیں۔'' ان آیات سے یہ تاثر ملتاہے کہ پہلے استخوانی ڈھانچہ بنتاہے اور بعدازاں عضلات سے ملبوس ہوتاہے ۔Dr.Bucaille بخوبی جانتے ہیں کہ یہ درست نہیں۔عضلات اور ہڈیوں کی ابتدائی نرم ساخت بیک وقت Solmiteسے بننا شروع ہوتی ہے۔آٹھویں ہفتے کے آخرمیں کیلشیم سے پختگی کے صرف چند ایک مراکز ہی کام کا آغاز کرتے ہیں تاہم جنین اس سے پہلے عضلاتی حرکت کے قابل ہوجاتاہے۔
Dr.T.W. Sadler جو کہ علم تشریح الاعضا برائے جنین Embryo Anatomyکے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور ''Longman's Medical Embryology'' کے مصنف ہیں'اپنے ایک ذاتی خط میں تحریرکرتے ہیں ''استقرارحمل کے 8ہفتے بعد پسلیاں نازک حالت میں موجودہوں گی لیکن پختہ ہڈیوں کی صورت میں نہ ہوں گی اور عضلات موجودہوں گے اور عین اسی دوران پختگی کے عمل کاآغازبھی ہوگا۔8ہفتے بعدعضلات کس قدر حرکت کے قابل ہوں گے۔''
دوگواہوں کی موجودگی ہمیشہ بہتری کی حامل ہوتی ہے۔ پس ہم جائزہ لیں گے کہ ڈاکٹرکیتھ موراپنی کتاب''ارتقائے انسانی'' میں ہڈیوں اور عضلات کے ارتقاء کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ باب15اور17سے اخذکردہ معلومات حسب ذیل ہیں:
استخوانی نظام عضلات سے بنتاہے۔ اعضاء کے عضلات تخلیق اعضاء کے ابتدائی مرحلے سے ہی بننا شروع ہوجاتے ہیں جوکہ اسی جسمانی حیاتیات سے ماخوذ ہوتے ہیں۔ یہ چیزہم اس سلائیڈ میں دیکھ سکتے ہیں ۔شایداسے واضح طورپر دیکھنا مشکل ہو لیکن عضوکی ابتدائی شکل موجودہے اور اس کے علاوہ ہڈی کی ابتدائی نرم ساخت کچھ عضلات کے ساتھ موجود ہے۔یہاں قدرے زیادہ نرم ہڈی دکھائی دے رہی ہے اور یہ مکمل اکائی ہے۔ ہڈیاں اپنی ساخت اختیارکررہی ہیں لیکن فی الحال یہ نرم آغازہے۔ انہیں ہڈیاں نہیں کہاجاسکتا۔دوسری سلائیڈسے واضح ہوتاہے کہ یہ عمل کیسے سرانجام پاتاہے۔ اس کی شکل ہڈی جیسی ہے لیکن تاحال یہ نرم آغازہے 'انہیں ہڈیاں نہیں کہاجاسکتا۔بعدازاں اس کے ساتھ کچھ کیلشیم جمع ہونے لگتاہے' تب اس میں کچھ سختی آنے لگتی ہے اور اس طرح بتدریج ہڈی بنتی ہے۔ جب ہڈی کاگودابنتاہے…معذرت خواہ ہوں' میں اس کی ابتدا بیان کرناچاہوں گا۔ جب ہڈیوں کاگودا بنتا ہے تو ایک ہلکے سے جھٹکے سے ہرعضو میں عضلات نمایاں طورپر بننے لگتے ہیں اور اس اضطراری عمل کے نتیجے میں وہ مکمل عضلات کی جداگانہ شکل اختیارکرنے لگتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں اعضاء کے عضلات ارتقاپذیرہڈیوں کے گرد بیک وقت بنتے ہیں۔ یہ نرم ہڈیاں ہیں اور یہ ان کے گردبننے والے عضلات ہیں۔
ایک نجی ملاقات کے دوران میں نے ڈاکٹرمور سے Dr. Sadlerکے افکارکاتذکرہ کیاتوانہوں نے اس کی مکمل تائید وحمایت کی۔ نتیجتاً Dr.Sadlerاور ڈاکٹرمور متفق ہیں کہ کوئی ایسا مرحلہ نہیں جس میں سخت ہڈیاں اچانک وجودمیں آتی ہوں اور اس کے گرد عضلات تشکیل پاتے ہوں۔ سخت ہڈیوں کے بننے سے کئی ہفتے قبل ہی عضلات موجود ہوتے ہیں نہ کہ ہڈیاں پہلے بنتی ہیں اورعضلات بعدمیں ان کے گردتشکیل پاتے ہیں جیساکہ قرآن میں بیان کیاگیاہے ۔
یہاں قرآن (نعوذباللہ من ذلک)فاش غلطی کامرتکب ہے۔ مسائل حل ہونے سے گویا ابھی بہت دور ہیں۔ آئیے لفظ''علقہ'' کی طرف دوبارہ رجوع کریں۔ ڈاکٹر مورنے بھی ایک تجویز پیش کی ہے۔قرآن کی ایک اور آیت میں جنین کوجونک (جیسی شکل وشباہت سے) تشبیہہ دی گئی ہے اور ارتقائے انسانی کاجگالی کیے گئے گوشت جیسی کیفیت سے آغاز کاتذکرہ کیاگیاہے۔ ڈاکٹرمور نے اس سے23دن اور30دن عمر کا جنین مراد لیاہے …23دن کاجنین3ملی میٹر لمباہوتاہے جوایک انچ کے آٹھویں حصے کے برابر ہے۔ اتنی جسامت کوانگلیوں کے درمیانی فاصلے سے ظاہر کرتے ہوئے انگلیاں آپس میں چھوجاتی ہیں کیونکہ جسامت بہت ہی چھوٹی ہوتی ہے۔ یہ ڈاکٹر مورکی کتاب کے کورکے اندرونی طرف 10ویں مرحلے کی تصویرہے۔ یہ آغازہے جب کہ مادۂ منویہ بیضے میں داخل ہوتاہے۔ اس لئے یہ پہلا مرحلہ ہے۔ چھٹے مرحلے کی طرف متوجہ ہوں جودوسرے ہفتے کے دوران آتاہے اور تیسرے ہفتے کاعمل ہے اور یہ پہلے مرحلے کے 23ویں دن کی تصویر ہے ۔جسے ڈاکٹر مور جونک جیساقرار دینا چاہتے ہیں۔ اگرہم X-ray کوغور سے دیکھیں تو22ویں دن ریڑھ کی ہڈی تاحال غیرمربوط ہے اور سربالکل کھلاہے۔ یہ جونک جیساہرگز نہیں لگتا اوریہ 20ویں دن کے جنین کی تصویرہے۔ یہ اسی طرح ایک باریک جھلی میں بندہے جیسے انڈے کی زردی۔اس میں ناف بھی ہے'اس کی شباہت جونک جیسی ہرگزنہیں ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لفظ''علقہ'' کے لئے جودو مفہوم اخذکیے جاتے ہیں'عربی زبان مذکورسے ان کی تصدیق کرنے والی مثالیں مہیانہیں کی گئی ہیں۔عہدِ گذشتہ میں لفظ کے معنی متعین کرنے کاواحد ذریعہ لفظ کے استعمال کی کیفیت سے ہوتا تھا۔ ''علقہ'' کامطلب3ملی میٹر لمباجنین ہوسکتاہے۔اس امر کے لئے اتفاق رائے حاصل کرنے کاواحدذریعہ حضرت محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کے عہدکے مکہ اورمدینہ کے عربوں کے خطوط بالخصوص قریش کی زبان عربی سے ممکن ہے۔یہ کوئی آسان کام نہیں ہے کیونکہ قریش کی خالص عربی زبان کے بارے میں کافی تحقیقی کام ہوچکا ہے۔ابتدائی دور کے مسلمان قرآن مجید کے الہامی معنی سمجھتے تھے۔ قرآنی الفاظ کے مفہوم کوٹھیک سمجھنے کے لئے وہ اپنی زبان اورشاعری کاجامع مطالعہ رکھتے ہیں۔بریں بنا ابوبکرجوکہ پیرس کی جامع مسجدکے سابق امام ہیں' انہوں نے ایک خدا کے موضوع پر Munkalia میں منعقدہ 1985ء کی کانفرنس میں اسے موضوعِ سخن بنایا۔انہوں نے یہ سوال سامعین کے سامنے پیش کیا…''کیاحضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے عہد کے قرآنی متن کامفہوم متواتربرقراررہاہے؟''ان کاجواب تھا…''قدیم شاعری سے ثابت ہوتاہے کہ ایساہی ہے۔''ہم صرف یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں'اگرمسلمانوں کے لئے روحانی تسکین اورامید کاباعث بننے والی آیات مستحکم ہیں تو ان آیات میں پائی جانے والی سائنسی توضیحات بھی مستحکم مانی جائیں جب تک کہ نئے شواہدسامنے نہ آئیں۔'' یہ بات بالخصوص اہم ہے کیونکہ یہ آیات ان معلومات کوایک نشانی قرار دیتی ہیں۔ مذکورہ بالاسورہ المومن میں مذکورہے :
'' وہی ہے جس نے تمہیں خاک سے پیداکیا'ایک قطرۂ مادۂ منویہ سے' پھر (جمے ہوئے خون کا)ایک لوتھڑا(علقہ) بنایا اورپھرتمہیں ایک بچے کی شکل میں پیداکیا۔ پھرتمہیں بڑھاتاہے تاکہ تم اپنی جوانی کوپہنچو 'پھراوربڑھاتا ہے تاکہ تم بوڑھے ہوجاؤ اور تم میں سے (کوئی وہ ہے)جوپہلے فوت ہو جاتا ہے اور یہ سب کچھ اس لئے کیاجاتا ہے تاکہ تم سب وقت مقررہ کو پہنچو ۔ شاید تم (اپنی حقیقت کو)سمجھ پاؤ۔''
اورسورہ الحج میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے''اے بنی نوع انسان!اگرتمہیں دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں شک ہے توغورکرو۔''اس لئے یہ سوال پوچھاجاناضروری ہے کہ اگرمکہ اورمدینہ کے مردوں اور عورتوں کے لئے ایک واضح علامت تھی توانہوں نے لفظ ''علقہ'' کا ایسا کونسا مفہوم اخذ کیا جس نے حیات بعدالموت پرایمان لانے کے لئے ان کی رہنمائی کی؟'' ہم حضرت محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کے عہدسے قبل کی تاریخی صورتحال کاجائزہ یہ دیکھنے کے لئے لیتے ہیں کہ حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اوران کے عہد کے لوگ علمِ جنین کے بارے میں کیاعقیدہ رکھتے تھے؟ ہم بقراط(Hippocrates)سے شروع کرتے ہیں۔ مستند شواہد کے حوالے سے پتہ چلتاہے کہ وہ460ء قبل مسیح میں یونان کے جزیرہ Kuss میں پیداہوا۔ وہ (تخلیق انسانی کے)مراحل کا قائل ہے جوکہ حسب ذیل ہیں:
مادہ منویہ وہ جوہرہے جو والدین میں سے ہرایک کے جسم کے ہرحصے سے پیداہوتاہے۔ کمزوراعضاء سے کمزورمادہ اور طاقتور اعضاء سے طاقتور مادہ پیدا ہوتاہے۔ پھروہ آگے چل کرماں کے خون کے نیم منجمد ہونے کاتذکرہ کرتاہے ۔پھرجنین کے ایک جھلی میں ملفوف ہونے کا تذکرہ ہے اوریہ ماں کے اس خون سے افزائش پاتاہے جو رحم مادر میںاترتاہے۔یہی وجہ ہے کہ جوعورت حاملہ ہوتی ہے' اسے خونِ حیض آنابندہوجاتاہے۔ پھرانسانی گوشت پوست کے بارے میں وہ کہتاہے…اس مرحلے پر'ماں کے خون کے نیم منجمد لوتھڑے سے ناف کے ساتھ انسانی گوشت بننا شروع ہوتا ہے اورآخرمیں ہڈیاں ۔گوشت پوست میں اضافے کے ساتھ عملِ تنفس کے ذریعے یہ عمل شروع ہوتاہے اور جب ہڈیاں قدرے سخت ہوجاتی ہیں تودرخت کی شاخوں کی طرح نمودار ہونے لگتی ہیں۔
اس کے بعدہم ارسطو کے افکار کاجائزہ لیتے ہیں۔ اس نے افزائشِ حیوانات کے بارے میں اپنی کتاب (تقریباً 350قبل مسیح)میں علم جنین کے مراحل کاتذکرہ کیاہے۔ پہلے وہ مادۂ منویہ اورخونِ حیض کاذکرکرتاہے۔اس مرحلے میں وہ مردکے خالص مادۂ منویہ کے بارے میں لکھتا ہے۔ بعدازاں عورت کی شرکت اس مادۂ منویہ سے افزائش کے لئے بیان کرتاہے۔ دوسرے لفظوںمیں مادۂ منویہ کو عورت کے خونِ حیض کونیم منجمد کرنے کاباعث قرار دیتاہے۔ پھروہ گوشت کا ذکرکرتاہے کہ قدرت اسے خالص ترین مواد سے بناتی ہے اور بچے کھچے فضلے سے ہڈیاں تشکیل پاتی ہیں۔ پھر گوشت اور ہڈیوں کے درمیان باریک نسوں کے ذریعے ربط اور اعضاء کے گوشت کی افزائش کاتذکرہ ہے ۔واضح طورپر قرآن میں یہی طریق کاربیان کیاگیاہے۔ مادۂ منویہ خونِ حیض کونیم منجمدکرتا ہے جس سے گوشت بنتاہے' پھر ہڈیاں بنتی ہیں اور آخرمیں ہڈیوں کے اردگرد گوشت نموپاتاہے۔
اس کے بعدہم ہندوستانی طب کاتذکرہ کرتے ہیں۔ 123عیسوی میں Sharaka اور Shushruta کا نظریہ یہ تھا کہ ''مرداور عورت دونوں افزائش نسل میں شریک ہوتے ہیں۔'' مرد کا مادہ Sukra (Semen)کہلاتاہے اور عورت کامادہ Artava (Blood)کہلاتاہے۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ قدیم ہندوستانی افکارونظریات بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ بچہ مادۂ منویہ اورخونِ حیض کے اشتراکِ عمل سے وجود میں آتا ہے۔ اب ہم جالینوس(Galen)کے افکارکاتذکرہ کرتے ہیں جو ترکی کے قصبے برگمہ (Bergamum)میں 131عیسوی میں پیداہوا تھا۔ جالینوسکہتاہے ''مادہ منویہ وہ جوہرہے جس سے جنین بنتا ہے نہ کہ محض خونِ حیض سے'جیساکہ ارسطونے بیان کیا۔بلکہ مادۂ منویہ کے ساتھ مل کر ہی خونِ حیض جنین بناتاہے۔ یہاں قرآن Galenکی تائید کرتاہے جیساکہ سورہ دھر'آیت نمبر2میں بیان کیاگیاہے:
''ہم نے انسان کوآمیزشدہ ایک قطرہ مادہ منویہ سے پیدا کیا۔''
اب ہم جالینوس کے مرتب کردہ مراحل پہ غور کرتے ہیں۔ جالینوس نے بھی اس بات کی تعلیم دی کہ جنین مرحلہ وار نشوونماپاتاہے۔ پہلے مرحلے میںمادۂ منویہ کی شباہت غالب رہتی ہے۔ دوسرا مرحلہ تب آتاہے جب مادۂ منویہ خون سے بھر جاتاہے۔ دل ودماغ اورجگراس وقت غیرواضح اور بے شکل ہوتے ہیں یہی وہ مرحلہ ہے جسے بقراط نے جنین (Fetus) کانام دیا۔قرآن کی سورة الحج'آیت نمبر5 اس بات کی عکاسی کرتی ہے۔
''پھرتمہیں پیداکیا'گوشت کے ایک لوتھڑے سے' قدرے تشکیل شدہ اور قدرے غیرتشکیل شدہ صورت میں''
اب حمل کے تیسرے مرحلے کاذکر ہے جیسے بتایاگیاہے کہ فطرتاً ہڈیوں کے اوپراور اردگرد گوشت بنناشروع ہوجاتا ہے۔ ہم قبل ازیں یہ جان چکے ہیں کہ قرآن اس سے اتفاق کرتاہے'سورة المومنون 'آیت نمبر14میں جہاں یہ کہاگیا ہے ''اور ہم ہڈیوں کوگوشت کالباس پہناتے ہیں۔'' چوتھا اورآخری مرحلہ وہ ہے جس میں اعضاء کے تمام حصے شناخت کے قابل ہوجاتے ہیں۔جالینوس کی علم طب میں اتنی اہمیت ہے کہ ہجرت کے زمانۂ قریب میں4ممتاز طبیبوں نے اسکندریہ(مصر)میں ایک طبی مدرسہ قائم کرنے کافیصلہ کیا جس میں مطالعہ کی بنیادکے طورپر جالینوس کی16 کتابوں سے کام لیاگیا۔یہ سلسلہ 13ویں صدی عیسوی تک جاری رہا۔اب ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرناچاہئے اس وقت عرب میں محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کے دور میں سیاسی'معاشی اور طبی صورتحال کیاتھی؟ حضر موت(یمن) سے گرم مسالے کے تجارتی قافلے شمال کی طرف مکہ ومدینہ سے گزرتے ہوئے یورپ بھرمیں جاتے تھے۔ تورات کاعبرانی سے سریانی زبان میں ترجمہ ہو چکاتھا جو آرامی زبان کی ایک قسم ہے اور عربی سے مشابہ ہے۔ 500ء کے بعدعرب کے شمالی صحراؤں میں یہی زبان بولی جاتی تھی۔463 عیسوی سے ہی یہودتورات اور عہدنامہ عتیق کاترجمہ عبرانی سے سریانی میں کرنے لگے تھے۔برطانوی عجائب گھرمیں یہ نسخہ موجودہے۔ پھریہ تراجم Gusciansتک پہنچے جو عیسائی تھے اور عرب کے یہودی قبائل تک بھی پہنچے۔اس دور میںشام کا Sergius جس نے 536 عیسوی میں قسطنطنیہ میں وفات پائی' جویونانی زبان سے سریانی زبان میں ترجمہ کرنے والے عظیم ترین اور قدیم ترین مترجمین میں سے ایک تھا'اس نے علم طب کی کئی کتابوں کا ترجمہ کیا۔ اپنی شہرت کی وجہ سے یہ تراجم کسریٰ اوّل کی سلطنت فارس میں پہنچے اور قبیلہ غسان کے لوگوں تک بھی جن کادائرہ اثرمدینہ کے مضافات تک پھیلاہوا تھا۔ خسرواوّل نوشیرواںجسے عربی میں کسریٰ اوّ ل کہاجاتاہے 'فارس کابادشاہ 'خسروِ اعظم کے نام سے جاناجاتا تھا۔ اس کے لشکر نے یمن جیسے دور درازکے علاقے کوفتح کیا۔ اسے علوم سے گہرا شغف تھا۔اس نے کئی مدارس قائم کئے۔ خسرو کے پہلے 48سالہ طویل دورِ حکومت میں جندی شا پور Jundi Shapur کامدرسہ وجودمیں آیا جوکہ اپنے زمانے کا عظیم ترین علمی مرکز تھا۔ اس کی چاردیواری کے اندر یونانی' یہودی' نسطوری'فارسی اور ہندوافکار وتجربات کے بارے میں آزادانہ تبادلۂ خیال ہوتاتھا۔ تعلیم وتدریس زیادہ ترسریانی زبان میں ہوتی تھی جوکہ یونانی کتابوں کے سریانی تراجم پرمشتمل تھی۔ اس کے عہدِ حکومت میں جب جندی شاپور کا طبی مدرسہ کام کررہاتھا تووہاں ارسطو' بقراط اور جالینوس کی تعلیمات عام تھیں۔ اگلاقدم یہ تھاکہ فاتح عربوں نے نسطوریوں کو مجبور کیا کہ وہ یونانی علم طب کے سریانی تراجم کاعربی زبان میں ترجمہ کریں۔ سریانی سے عربی میں ترجمہ آسان تھا کیونکہ دونوں زبانوں کی گرامرمشترکہ تھی۔ حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے عہدِ حیات کی مقامی طبی صورتحال کاجائزہ لینے سے معلوم ہوتاہے کہ اس زمانے میں عرب میں طبیب موجودتھے۔ حارث بن کلدہ اپنے زمانے کااعلیٰ تعلیم یافتہ طبیب تھا جس نے جڑی بوٹیوں کے استعمال کی تربیت حاصل کی تھی۔ وہ طائف کے قبیلہ بنی ثقیف میں چھٹی صدی عیسوی کے وسط میں پیدا ہوا۔وہ یمن سے ہوتا ہوا فارس پہنچا جہاں اس نے جندی شاپورکے عظیم مدرسہ میں طبی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ اس طرح وہ ارسطو'بقراط اور جالینوس کی طبی تعلیمات سے خوب آگاہ ہوگیا۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعداس نے فارس میں بطورِ طبیب کام شروع کیا اور اسی زمانے میں اُسے خسرونوشیرواںکے دربارتک رسائی ہوئی جہاں اس کے اور بادشاہ وقت خسرو میں طویل مکالمہ ہوا۔وہ آغازِ اسلام کے دنوں میں واپس عرب پہنچااورطائف میں قیام پذیرہوگیا۔ اسی اثنا میں یمن کا بادشاہ ابوخیر اس سے ایک مرض کے سلسلے میں ملنے کے لئے آیااور صحت یاب ہونے پراسے نقدانعام اورایک کنیز تحفے میں دی۔ اگر چہ حارث بن کلدہ نے علم طب پرکوئی کتاب نہیں لکھی ۔ تاہم کئی طبی مسائل کے بارے میں اس کے نظریات خسرو سے مکالمے کی صورت میں محفوظ ہیں۔آنکھوں کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ سفید حصہ''چربی''سے بنا ہواہے جبکہ دوسرا سیاہ حصہ ''پانی'' سے بنا ہے اور بصارت کو ہوا سے تعبیرکیا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ اب یہ ساری باتیں غلط ثابت ہوچکی ہیں لیکن یہ یونانی نظریہ تھا۔ان سب باتوں سے حارث کایونانی طبیبوں سے ربط ظاہر ہوتاہے۔ اس ساری صورتحال کوچندلفظوں میں سمیٹتے ہوئے "Eastward The Elementry Arabs"نامی کتاب میں Dr.Lucaine La Clerk لکھتے ہیں '' حارث نے جندی شاپورکے مدرسے سے علم طب حاصل کیاتھا اور حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی طبی معلومات کے لئے حارث سے متاثرہیں۔''
دونوں حضرات سے ہمیں طب یونانی کے علم کاسراغ بآسانی ملتاہے۔ بعض اوقات حضرت محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) بیماروں کا علاج کرتے تھے لیکن پیچیدہ امراض کے علاج کے لئے وہ مریضوں کو حارث کے پاس بھیجتے تھے اور حضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے قریب دوسرا تعلیم یافتہ شخص لادن بن حارث(نوٹ:یہ نضربن حارث ہے جوکہ بدرمیں لڑنے آیا'گرفتارہوکرقتل ہوا۔ادارہ) تھا جو اگرچہ طبیب حارث کارشتہ دارنہ تھابلکہ حضورeکاابن عم تھا اور اس نے بھی خسروکے دربار میں حاضری دی تھی۔ اس نے فارسی زبان اور موسیقی کی تعلیم حاصل کی جسے اس نے مکہ کے قریش میں متعارف کرایاتاہم وہ حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )سے لگاؤنہ رکھتاتھا۔وہ قرآن کے بعض واقعات کو(طنزوتنقیدکا)نشانہ بنایاکرتاتھا جس کے لئے حضرت محمدeنے اسے کبھی معاف نہ کیااور جب وہ جنگ بدر میں قیدی بن کرآیا توحضورeنے اسے قتل کرنے کاحکم دیا۔مختصراً ہم دیکھتے ہیں کہ:
-1 600عیسوی میں مکہ اور مدینہ کے عربوں کے حبشہ' یمن 'فارس اور بازنطین (رومی سلطنت)کے لوگوں سے سیاسی اور معاشی روابط تھے۔
-2 حضرت محمدeکاایک عم زاد اتنی اچھی فارسی جانتاتھا کہ اس نے فارسی میں علم موسیقی سیکھا۔
-3 غسانی قبیلہ جس کی حکمرانی مدینہ کے نواح تک پھیلے ہوئے شامی صحراؤں پرتھی' سریانی زبان بولتے تھے جوعلم طب کی تعلیم وتدریس کے لئے مستعمل ممتاززبانوں میں سے ایک تھی اوریہ ان کی سرکاری زبان تھی۔
-4 یمن کاایک بیماربادشاہ طبیب حارث بن کلدہ کے پاس طائف آیا جو کہ جندی شاپورسے مہارت حاصل کرکے آیاتھاجوکہ اس خطۂ ارض کی بہترین طبی درسگاہ تھی اور اسی حارث کے پاس حضرت محمدe بعض اوقات مریضوں کوبھیجتے تھے۔
-5 حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے عہدحیات میں اسکندریہ(مصر) میں ایک نئی طبی درسگاہ قائم کی گئی جس کے نصاب میں جالینوس(Galen) کی16تصانیف شامل تھیں۔ ان شواہد سے اس بات کا خاصا امکان پیداہوتاہے کہ حضرت محمدeاوران کے اردگرد کے لوگ ارسطو'بقراط اور جالینوس کے علم جنین کے بارے میں نظریات سے آگاہ تھے جبکہ وہ حارث اور دوسرے مقامی طبیبوں کے پاس جاتے تھے۔ پس جب قرآن آخری مکی سورتوں میں سے ایک سورة المؤمن 'آیت نمبر67میں بیان کرتاہے:
'' وہی ہے جس نے تمہیں خاک سے پیداکیا'ایک قطرۂ مادۂ منویہ سے' پھر (جمے ہوئے خون کا)ایک لوتھڑا(علقہ) بنایا اورپھرتمہیں ایک بچے کی شکل میں پیداکیا۔ پھرتمہیں بڑھاتاہے تاکہ تم اپنی جوانی کوپہنچو 'پھراوربڑھاتا ہے تاکہ تم بوڑھے ہوجاؤ اور تم میں سے (کوئی وہ ہے)جوپہلے فوت ہو جاتا ہے اور یہ سب کچھ اس لئے کیاجاتا ہے تاکہ تم سب وقت مقررہ کو پہنچو ۔ شاید تم (اپنی حقیقت کو)سمجھ پاؤ۔''
اورپھرسورہ حج آیت نمبر5میں بیان ہے۔
''اے بنی نوع انسان!اگرتمہیں دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں شک ہے توغور کرو کہ ہم نے تمہیں خاک سے پیداکیاہے۔''
ہمارے لئے دوبارہ یہ سوال کرنادرست ہوگا کہ ''انہیں کس بات کے سمجھنے کے لئے کہاگیا؟'' کس بات پر غور کرنے کا حکم دیاگیا؟'' (جنین کے)قرآنی مراحل دوبارہ پیشِ خدمت ہیں…نطفہ (Sperm)'علقہ (Clot)' مضغہ (Piece of meat)'عظام (bones)اور ہڈیوں پر عضلات کاچڑھایا جانا۔جواب بہت واضح ہے۔ وہ اس بات کو سمجھتے تھے اور غورکررہے تھے جوکچھ یونانی طبیبوں نے علم جنین کے مراحل کے بارے میں عام فہم نظریات کی تعلیم دی تھی۔ میری مراد یہ نہیں کہ حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )اوران کے صحابہ کرامy یونانی طبیبوں کے نام جانتے تھے لیکن وہ یونانی طبیبوں کے بیان کردہ جنین کے مراحل سے آگاہ تھے۔
-1 وہ اس بات کایقین رکھتے تھے کہ مرد کا مادہ منویہ عورت کے خونِ حیض سے مل کر اس کے نیم منجمدبننے کاباعث بنتاہے اور اسی سے پھر بچہ بنتاہے۔
-2 وہ جانتے تھے کہ جنین پہلے نامکمل اور پھرمکمل ہوتاہے۔
-3 وہ جانتے تھے کہ پہلے ہڈیاں بنتی ہیں اورپھرعضلات چڑھائے جاتے ہیں۔اللہ اس عام فہم علم کوعلامت کے طورپر بیان کررہاتھا تاکہ سامعین اورقارئین کواپنی طرف متوجہ کرسکے(نعوذباللہ من ذالک)؟
مسئلہ یہ ہے کہ یہ عام فہم علم نہ تب درست تھا 'نہ اب ہے۔ہم حضرت محمدe کے عہدکے بعد کے دومعروف طبیبوں کی مثال دیتے ہیں جوقرآن پراثرانداز نہ ہوسکتے تھے۔انہوں نے ثابت کیا کہ عربوں میں16ویں صدی عیسوی تک ارسطو' بقراط اور جالینوس کے جنین سے متعلق نظریات جاری و ساری رہے۔ اگر ''علقہ'' کادرست ترجمہ ''جونک جیسی چیز'' ہے جیسا کہ عصرِ حاضر کے شبیرعلی جیسے مسلمان دعویٰ کرتے ہیں توقرآنی عہدکے بعد کے طبیبوں کاکوئی مقام نہیں جو اس دعوے کے حامل ہوں۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ان یونانی طبیبوں کے نظریات قرآنی تعلیمات کی تشریح کے لئے بیان کیے جارہے تھے اور قرآن یونانی طبیبوں کے افکار پر روشنی ڈال رہاتھا۔
انسان کاماخذ دوچیزوں سے ہے۔ ہم ابن سینا کا ذکر کرتے ہیں۔انسان کاماخذ مردکامادۂ منویہ جوکہ عامل کا کردار ادا کرتاہے اور عورت کا مادۂ منویہ جوکہ خونِ حیض کاپہلا جزوہے ' عمل کے لئے مواد مہیا کرتاہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ابنِ سینا نے عورت کے مادۂ منویہ کو وہی مقام دیا ہے جوکہ ارسطو نے خون حیض کودیاہے۔ یورپ کے ترقی یافتہ دورکے ماہرین سے ماقبل کے زمانے کے حوالے سے ابن سیناکی سائنسی اور فنی مہارت کا انکاربہت مشکل ہے۔
اب ہم ابنقیم الجوزیہ کاتذکرہ کرتے ہیں۔ ابن قیم الجوزیہ نے قرآنی آیات اور یونانی علم طب کی موافقت سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔شاید یہ امر زیادہ واضح نہیں ہے لیکن بقراط ارغوانی ساہے اور قرآن گہرا سبز اور حدیث ارغوانی اور تفسیر سرخ اوراس کے اپنے خیالات نیلگوں سبز…لیجئے عمل شروع ہوتا ہے۔(کتاب الاجنہ کے تیسرے باب میں)وہ کہتا ہے کہ مادۂ منویہ ایک جھلی میں محدود رہتاہے اورماں کے خونِ حیض کے اترنے سے نشوونماپاتاہے۔ کچھ جھلیاں ابتدامیں بنتی ہیں پھرکچھ دوسرے اور تیسرے ماہ کے دوران بنتی ہیں۔
رحم مادرمیں خون حیض کے اترنے والی بات ہم بقراط کے سلائیڈ میں بھی دیکھ چکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خدا نے کہاجیسا کہ قرآن میں مذکور ہے ''وہ تمہیں تمہاری ماں کے رحم میں تخلیق کرتاہے' یکے بعددیگرے مراحل میں'تین تاریکیوں میں۔'' یہ قرآن کی سورہ زمر'آیت نمبر6ہے۔ پھر وہ اپنے افکار بیان کرتاہے…چونکہ ان جھلیوں میں سے ہرایک کی اپنی ایک تاریکی ہوتی ہے۔اسی لئے خدانے بتدریج تخلیق کے مراحل کاتذکرہ کرتے ہوئے جھلیوں کی تاریکیوں کا ذکر بھی کیاہے۔ بہت سے تبصرہ نگاران الفاظ میں تبصرہ کرتے ہیں کہ''یہ پیٹ کی تاریکی'رحم کی تاریکی اورآنول نال کی تاریکی مراد ہیں۔'' ایک دوسری مثال جوکہ ہم پڑھتے ہیں' بقراط نے کہا…منہ جبلی طورپر کھلتاہے اور گوشت سے ناک اور کان بنتے ہیں۔کان کھلتے ہیں اورآنکھیں بھی جوکہ ایک شفاف مائع سے بھری ہوتی ہیں۔'' حضورe کہاکرتے تھے…میں اس کی عبادت کرتاہوں جس نے میرا چہرہ بنایااورمکمل کیا اور میری سماعت کھولی اوربصارت دی…علیٰ ہذا القیاس ۔اب ہم دوبارہ بقراط کی طرف آتے ہیں۔وہ بھی دوسرے مرحلے کے بارے میں وہی کہتاہے جوابھی میں نے پڑھاہے۔ ابن قیم بقراط کاحوالہ دیتے ہوئے کہتاہے کہ ماں کاخون ناف کے گرد اترتا ہے۔
وہ ایسا بھی کرسکتاہے کیونکہ جیساکہ ہم جانتے ہیں حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے عہدکے لوگ طب یونانی سے اچھی طرح واقف تھے۔ البتہ آج یہاں ہمارے لئے جس بات کوسمجھنا ضروری ہے' وہ یہ ہے کہ ایسا کوئی مقام نہیں جہاں قرآن نے طب یونانی کی تصحیح کی ہو۔(نعوذباللہ من ذلک)؟
ابن قیم الجوزیہ کایہ پکارناکہیں موجودنہیںکہ…''تم یونانی لوگ اسے غلط سمجھے ہو۔''علقہ'' کا درست ترجمہ چمٹنے والی ' یا ''جونک'' جیسی چیزہے۔''اس کے برعکس ابن قیم بھی قرآن اورطب یونانی کی موافقت بیان کررہے ہیں۔ان کی موافقت غلط ہے۔بیضاوی کا1200عیسوی میں کیاگیا تبصرہ حرفِ آخر ہے جوکچھ اس طرح ہے۔ وہ ''علقہ'' کو''جمے ہوئے ٹھوس خون کاٹکڑا'' اپنی تفسیر میں قرار دیتاہے جیساکہ قرآن میں بیان کیاگیاہے۔ آگے چل کروہ قرآن کے حوالے سے اسے ایک ''گوشت کاٹکڑا'' قرار دیتاہے۔ ایساٹکڑا جوچبایاجاسکے وعلیٰ ہذاالقیاس۔ جیسا کہ میں نے گفتگوکے آغاز میں بیان کیاہے کہ عام طورپرسمجھاجاتاہے جنین کامختلف مراحل سے گزرتے ہوئے نشوونماپانا ایک جدید نظریہ ہے اور قرآن حنین کے مختلف مراحل کی عکاسی کرتے ہوئے جدیدعلم جنین کی 1400سال پہلے ہی پیش بینی کررہاہے۔ جبکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ ارسطو' بقراط' ہندوستانی ماہرین اورجالینوس( Galen)سبھی جنین کے ارتقاء کے بارے میں قرآن سے ماقبل کے ایک ہزار سال کے دوران بحث کرچکے ہیں اور نزول قرآن کے بعدبھی مختلف مراحل کاذکریونانی طبیبوں 'ابن سینا اور ابن قیم کی تعلیمات میں جاری وساری رہا۔ یہ بات لازم ہے کہ یہ وہی علم ہے جوجالینوس اور اس کے پیش روؤں نے بیان کیا۔ہڈیوں کی ساخت کے مرحلے سے یہ بات واضح ہے جیساکہ ڈاکٹرمور نے کمال مہارت سے اپنی کتاب میں بیان کیاہے کہ نرم ہڈی کی تشکیل کے دوران ہی عضلات بھی بننا شروع ہوجاتے ہیں۔ایساکوئی مرحلہ نہیں ہے کہ پہلے ہڈیوں کا ڈھانچہ مکمل ہوجائے 'تب اس پرعضلات بننے شروع ہوں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ قرآن میں ''علقہ'' سے مراد لوتھڑا (Clot)ہے اورقریش جنہوں نے حضرت محمدeسے یہ بات سنی' وہ اس کامطلب خون حیض (کالوتھڑا)ہی سمجھے کیونکہ یہی افزائش نسل میں عورت کاحصہ ہے۔اس لئے ہم یہ نتیجہ اخذ کرسکتے ہیں کہ ان تمام سالوں کے دوران علم جنین سے متعلق قرآنی آیات جن میں بیان ہے کہ انسان کی تخلیق کی ابتدا ایک قطرۂ منی سے ہوتی ہے جولوتھڑے کی شکل اختیار کرتاہے'پہلی صدی ہجری کی سائنس کی مکمل مطابقت میں ہیں جوکہ نزولِ قرآن کا دورہے لیکن جب20ویں صدی کی جدید سائنس کے ساتھ موازنہ کیاجائے توبقراط غلطی پرہے ' ارسطو غلطی پرہے'جالینوس غلطی پرہے اور قرآن (نعوذباللہ) غلطی پرہے۔ یہ سب سنگین غلطی کے مرتکب ہیں۔
خ… اب ہم چاندنی کے بارے میں کچھ تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔کیا قرآن واقعی یہ کہتاہے؟''چاند سورج کی روشنی کومنعکس کرتاہے۔'' کیا پہلے یہ بات عام فہم تھی؟ سورہ نوح 'آیت نمبر15تا16میں کہاگیاہے ''کیاتم نہیں دیکھتے اللہ نے سات آسمان بنائے ہیں'ایک کے اوپر دوسرا اور چاندکوروشن (نور)بنایا'ان کے درمیان اور سورج کو ایک چراغ (سراج)۔'' بعض مسلمان دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن نے سورج اور چاندکی روشنی کے لئے مختلف الفاظ استعمال کئے ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سورج روشنی کا منبع ہے اور چاندمحض اس کی روشنی کومنعکس کرتاہے۔ شبیرعلی نے اپنی کتاب ''قرآن میں سائنس'' میں بھرپوراستدلال کیاہے اور ڈاکٹرذاکرنائیک نے اپنی وڈیو''کیا قرآن خدا کا کلام ہے'' میں واضح طورپربیان کیاہے جسے آپ ابھی ملاحظہ کریں گے۔
(یہاں پرڈاکٹرذاکرنائیک کاحوالے کے طورپر ایک ویڈیوکلپ دکھایاگیا)
ڈاکٹرذاکرویڈیوکلپ میں کہتے ہیں''وہ روشنی جوچاندکے ذریعے ہم تک پہنچتی ہے'کہاں سے آتی ہے؟ جواب دینے والا کہے گا پہلے ہماراخیال تھا کہ چاندکی روشنی اس کی اپنی ہے لیکن آج سائنس کی ترقی کے باعث ہمیں معلوم ہواہے کہ چاند کی روشنی اس کی اپنی نہیں ہے بلکہ یہ سورج کی روشنی ہے جو منعکس ہوتی ہے۔میں اس سے ایک سوال پوچھوں گا کہ اس کاذکرتوقرآن میں موجودہے۔ سورہ فرقان'سورہ نمبر25آیت نمبر61''پاک ہے وہ جس نے ستاروں کے جھرمٹ بنائے ہیں اوران کے درمیان ایک چراغ (سورج) اورایک چاندکورکھاہے جوروشنی منعکس کرتا ہے۔'' عربی زبان میں چاندکے لئے لفظ ''قمر''ہے اور اس کی روشنی کے لئے ''منیر'' جوکہ مستعارلی ہوئی روشنی ہے یا''نور'' جس کامطلب منعکس شدہ روشنی ہے۔ قرآن بیان کرتاہے کہ چاند کی روشنی منعکس کردہ روشنی ہے۔ آپ لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے یہ بات آج دریافت کی ۔قرآن میں یہ بات 1400سال پہلے کیسے بیان کی گئی؟وہ کچھ دیر کے لئے تامل کرے گا'وہ فوراً جواب نہ دے گااوربعدازاں ممکن ہے' کہے ''شایدیہ ایک حسن اتفاق ہے'' میں اس کے ساتھ بحث نہیں کرتا۔''
ویڈیوکے آخرمیں ہم نے ڈاکٹرنائیک کو یہ وضاحت کرتے ہوئے سناکہ عربی میں چاند کے لئے لفظ''قمر'' ہے اور اس کے ''منیر'' ہونے کاذکرکیاگیاہے' اس کامطلب ہے ''مستعار لی گئی روشنی'' یا''نور''جس کامطلب ہے منعکس کردہ روشنی۔دعویٰ صرف یہی نہیں ہے کہ یہ بیان سائنسی حقیقت کی مطابقت میں ہے بلکہ سائنسی لحاظ سے معجزانہ ہونے کادعویٰ بھی کیا گیاہے۔ اگرچہ ان حقائق کاسراغ حال ہی میں لگایا گیا ہے۔یہ درست ہے کہ چانداپنی روشنی خارج نہیں کرتا بلکہ صرف سورج کی روشنی کومنعکس کرتاہے لیکن یہ بات توحضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) سے تقریباًایک ہزار سال قبل بھی ظاہرتھی۔ ارسطونے قریباً 360قبل مسیح میںزمین کاسایہ چاندپرسے گزرنے کی بات کی۔اس لئے کہ وہ جانتاتھاکہ چاندکی روشنی منعکس کردہ ہے۔ اگر آپ اب بھی اصرارکریں گے کہ یہ سائنسی علوم کاایک معجزہ ہے 'تب ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال ضرورکرناہوگا' کیا خود قرآنی الفاظ اپنے اس دعوے کی تائید کرتے ہیں؟ سب سے پہلے ہم ''سراج'' پرغورکریں گے۔ سورہ نور جوکہ قبل ازیں پڑھی گئی ہے'سورہ فرقان 'سورہ نمبر25آیت نمبر61 میں اس سے سورج کومراد لیاگیاہے۔ سورہ نباء سورہ نمبر78 آیت نمبر13 میں ''سراج'' کامطلب ہے ''خیرہ کن چراغ'' گویادوبارہ سورج ہی مرادہے۔''نور''اور''منیر'' کے الفاظ ایک ہی عربی مصدرسے مشتق ہیں۔ لفظ''منیر'' قرآن میں6دفعہ آیاہے۔ سورہ آل عمران سورہ نمبر3آیت نمبر184' الحج سورہ نمبر22آیت نمبر 8' سورہ لقمان'سورہ نمبر31آیت نمبر20 اورسورہ فاطر'سورہ نمبر35آیت نمبر25۔یہ اصطلاح ''کتاب المنیر'' ہے جس کاعبداللہ یوسف علی یوں ترجمہ کرتے ہیں۔''روشن خیالی کی کتاب '' اورپکتھال اسے''روشنی دینے والی مقدس کتاب'' کہتاہے۔ یہ واضح طورپر اشارہ ہے ' ایک ایسی کتاب کے لئے جوعلم کی روشنی بکھیر رہی ہے'منعکس ہونے کاکوئی ذکرنہیں۔سورہ نور 'سورہ نمبر71آیت نمبر76 اور یونس سورہ نمبر10آیت نمبر5بیان کرتی ہیں کہ ''اللہ نے روشنی بنائی…چاند ایک روشنی ہے۔'' پس ہمیں معلوم ہواکہ قرآن چاند کوایک روشنی قراردیتاہے اوراس نے یہ کبھی نہیں کہاکہ چاند روشنی منعکس کرتاہے۔
علاوہ ازیں دوسری آیات میں قرآن کہتاہے''اللہ نور ہے…ایک روشنی ۔''سورہ نور 'سورہ نمبر24آیت نمبر35 قرآن کے دلنشیں اقتباسات میں سے ایک میں بیان ہے۔'' اللہ روشنی ہے…آسمانوں اور زمین کانور' اس کی روشنی کی مثال اس طرح ہے کہ جیسے ایک طاق اور اس میں رکھاہواایک چراغ' چراغ فانوس کے اندر بند'فانوس ایک چمکدار ستارے کی مانند اورعلیٰ ہذالقیاس ۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ لفظ ''نور'' چاند اور اللہ دونوں کے لئے استعمال کیاگیاہے۔کیاہم یہ کہیں گے کہ اللہ منعکس کردہ روشنی دیتاہے؟ میراخیال ہے کہ نہیں لیکن اگراس بات پر مصررہیں گے کہ چاندکے لئے مستعمل لفظ''نور'' کامطلب مستعار لی گئی یامنعکس کردہ روشنی ہے اورہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ ''اللہ نور(روشنی)ہے'آسمانوں اور زمین کانور' اس روشنی کامنبع کیاہے؟کیا''سراج ''ہے؟اللہ جس کامحض عکس ہے۔اس بارے میں غورکریں۔ اگراللہ''نور'' ہے یعنی''ایک منعکس روشنی'' تو''سراج'' کون ہے یا کیاچیز ہے؟ لیجئے قرآن خود ہمیں بتاتاہے کہ ''سراج'' کیاہے لیکن اس کے جواب سے آپ کو صدمہ پہنچے گا۔ سورہ احزاب 'سورہ نمبر33آیت نمبر 45تا46 میں ہم دیکھتے ہیں''اے نبی!یقیناہم نے تمہیں ایک گواہ (شاہد)کے طورپربھیجا ہے۔ ایک خوشخبری سنانے والا اور ایک ڈرانے والااورایک روشنی پھیلانے والے چراغ کی طرح (بھیجا ہے)۔''یہاں قرآن کہتاہے کہ محمدeروشنی پھیلانے والے چراغ ہیں۔یعنی ''سراجاً منیراً'' ازروئے لسانیات و روحانیات یہ بحث کااختتام ہے۔ لسانی لحاظ سے ''سراج اور صفت چانددونوں اکٹھے ایک ہی چمکنے والی چیز کے لئے استعمال کیے گئے ہیںیعنی حضرت محمدe کی شخصیت کے لئے ۔یہ بات واضح ہے کہ اس آیت میں ''منیر'' کامطلب چمکنے والی چیز نہیں ہے یا کسی اورآیت میں (بھی نہیں ہے)۔ اس کامطلب صرف ''روشن''ہے۔
حضرت محمدeکے عہدکے لوگ سمجھتے تھے کہ چاند روشن ہے اور درست سمجھتے تھے۔بالکل اسی طرح جیساکہ موسیٰuکے عہد کے لوگ سمجھتے تھے کہ سورج ایک عظیم ترروشنی ہے اور چاند کم ترروشنی ہے اور وہ درست کہتے تھے لیکن اگر آپ اصرار کریں کہ عربی الفاظ ''نور''اور''قمر'' یہاں منعکس شدہ روشنی کے معنی میں ہیں توپھرقرآن میں انہی الفاظ کے استعمال کی بنیاد پر محمدe''سورج'' ہیں اور اللہ''چاند'' کی مثل ہے (نعوذباللہ من ذلک)۔
کیاڈاکٹرذاکرنائیک درحقیقت یہ کہناچاہتے ہیں کہ محمدeروشنی(نور)کامنبع ہیں اوراللہ محض انعکاسِ روشنی ہے۔ یہ نام نہادسائنسی دعوے کیوں کئے گئے ہیں جن کی کوئی مسلم تائید نہیں کرتا اگر وہ اپنے قرآن کابغورمطالعہ کرتاہے۔ آج شام کے مذاکرے میں اس موضوع پردیانتداری سے گفتگوبہت مشکل ہورہی ہے۔ تقریباً ناممکن ۔
خ… آئیں آگے چلیں اور پانی کے دوری عمل (Cycle) کو دیکھیں۔ بعض مسلم مصنف دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن نے پانی کادوری عمل سائنس کی ترقی و دریافت سے بہت پہلے بیان کیاہے۔ پانی کا دور ی عمل کیاہے؟ اس سلائیڈ میں آپ4 مرحلے دیکھتے ہیں۔ پہلا عمل بخارات کا ہے۔ پانی سمندروں اور زمین سے بخارات میں تبدیل ہوتا ہے۔ دوسرا عمل بخارات کابادلوں کی شکل میں جمع ہوناہے۔ تیسرا عمل بارش کابرسناہے اور چوتھابارش کاپودوں کی نشوونما کاباعث بنناہے۔یہ سب بہت معقول محسوس ہوتاہے اور ہرکوئی دوسرے' تیسرے اور چوتھے عمل سے واقف ہے۔ حتّٰی کہ دیہات کے رہنے والے لوگ بھی جانتے ہیں کہ بادل آتے ہیں اور بارش برستی ہے اور اس طرح پھول اُگتے ہیں لیکن پہلے عمل ''بخارات'' کے بارے میں کیاکہیں گے۔ ہم انہیں دیکھ نہیںسکتے کیونکہ مشکل ہے اورقرآن میں پہلا عمل موجودنہیں ہے۔ اب ہم بائبل میں700قبل مسیح کے ایک نبی عاموسAMOS کاتذکرہ دیکھتے ہیں۔ وہ لکھتاہے ''وہی ہے جس نے ثریااور روشن ستاروں کے جھرمٹ بنائے جوتاریکی کو صبح میں اور دن کو رات کی تاریکی میں بدلتاہے اور پھرجوسمندر کے پانی کو''بلا بھیجتا'' ہے…(پہلاعمل )اورپانی کوزمین کی تہہ پرانڈیلتاہے… (تیسرا عمل)…آقا(یہوواہ)اس کانام ہے۔'' اورایک دوسرا نبی ایوب ہے۔36:26-28میں جو سنہ ہجری سے کم ازکم ایک ہزارسال پہلے گزراہے۔وہ کہتا ہے… خدا کتنا عظیم ہے۔ہمارے فہم سے بالاتر۔اس کے وجودکی مدت کا تعین ناممکن ہے۔(پہلامرحلہ) وہ پانی کے قطروں کواُوپراٹھاتاہے جو کہر(بخارات)بن کربارش کی شکل اختیارکرتے ہیں۔یہ تیسرا مرحلہ ہے اوراس کے بعدبادلوں کاذکرہے(دوسرا مرحلہ) جو اپنی نمی نیچے انڈیلتے ہیں 'اس طرح بنی نوع انسان پرخوب بارش برستی ہے۔ پس دیکھئے یہ پہلا مشکل مرحلہ قرآن سے ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ قبل بائبل میں موجود ہے۔
خ… آئیں اب پہاڑوں کے بارے میں غورکریں ۔ قرآن کی ایک درجن سے زائد آیات میں یہ بیان کیاگیاہے کہ اللہ تعالیٰ نے مضبوط اور ساکن وجامدپہاڑوں کوزمین میں نصب کیا اوران آیات میں سے کچھ میں ان پہاڑوں کومومنین کے لئے نعمت یاکفارکے لئے ایک ''نشانی'' قراردیاگیاہے۔ اس کی ایک مثال سورہ لقمان 'سورہ نمبر31 آیت نمبر10تا11میں ہے جہاں پہاڑوں کو 5''نشانیوں'' میں سے ایک قراردیاگیاہے۔اس میں بیان ہے کہ
''اس نے آسمان بغیرسہارے کے بنائے ہیں جوکہ تم دیکھ سکتے ہو اور زمین پرپہاڑوں کوگاڑدیاہے تاکہ یہ تمہیں جنبش نہ دے۔'' سورہ الانبیاء 'سورہ نمبر21آیت نمبر31میں7میں سے ایک نشانی ہم پڑھتے ہیں…''اورہم نے زمین پرقائم کیے ہیںمضبوط پہاڑتاکہ وہ مخلوق کوہلانہ سکیں۔ ''سورہ نحل 16:15 کہتی ہے کہ ''اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دئیے ہیں تاکہ تمہیں لے کرہل نہ جائیں۔'' ہم دیکھتے ہیں کہ پھرمومنوں اور کافروں کوبتایاگیاہے کہ یہ عظیم کام اللہ نے کیاہے… یعنی اس نے بذات خود نصب کیے۔اس لئے کہ ان کے باعث زمین شدّت سے نہیں لرزے گی۔ اس لئے ہمیں آپ سے ضرور پوچھنا چاہئے۔''وہ کیا سمجھیں؟'' اگلی2آیات میں ایک اورمنظر بیان کیاگیاہے۔ سورہ النباء سورہ نمبر78آیت نمبر6تا 7…''کیا ہم نے زمین کووسعت نہیں دی اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح (نہیں گاڑاہے)۔''والجبال اوتادا ' جیساکہ ایک خیمے کوزمین پرنصب کرنے کے لئے کھونٹیاں گاڑی جاتی ہیں اورپھرنمایاںترسورہ الغاشیہ سورہ نمبر88 آیت نمبر17 تا19 ''کیاکافرپہاڑوں کونہیں دیکھتے ؟''الجبال''… کس طرح وہ ایک خیمے کی کھونٹی کی طرح گاڑے گئے ہیں۔یہاں لوگوں کوبتایاگیا ہے کہ پہاڑخیمے کی کھونٹیوں کی طرح نصب کیے گئے ہیں۔ کھونٹیاں خیمے کوقائم رکھتی ہیں۔ اس طرح دوبارہ یہ نظر یہ بیان کیاگیاہے کہ کھونٹیاں یعنی پہاڑ زمین کولرزنے سے بچائیں گے۔ پہاڑوں کے لئے استعمال کئے گئے لفظ ''رواسیہ'' سے ایک تیسری تصویر سامنے آتی ہے۔ یہ لفظ عربی مصدر''ارسہ'' سے ماخوذ ہے اور یہی مصدر عربی زبان میں لنگر کے لئے رائج لفظ کا بھی ہے۔''لنگر پھینکنا'' یا''لنگر ڈالنا'' کے لئے آلتہ المرسیٰ یعنی جس طرح جہاز کی حرکت کو روکنے کے لئے لنگرڈالتے ہیں ' اسی طرح ہم نے زمین کے لرزنے کوروکنے کے لئے پہاڑوں کو نصب کیاہے۔ ان وضاحتوں سے ظاہر ہوتاہے کہ حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پیروکار یہی سمجھے کہ جس طرح پہاڑ خیمے کی کھونٹیوں کی طرح نصب کیے گئے ہیں اورکھونٹیاں خیمے کوقائم رکھتی ہیں'ایک لنگر کی طرح جوجہاز کومخصوص جگہ پرقائم رکھتاہے 'اسی طرح پہاڑ زمین کوحرکت کرنے سے روکنے کے لئے یازلزلوں کومحدود کرنے کے لئے نصب کیے گئے ہیں۔
لیکن درحقیقت یہ نظریہ غلط ہے(نعوذباللہ)پہاڑوں کا وجود ہی زلزلوں کاباعث بنتاہے۔اس لئے یہ آیات یقینا ایک مسئلہ پیش کرتی ہیں (نعوذباللہ)Dr.Maurice Bucaile نے اس کی نشاندہی کی اوراپنی کتاب ''بائبل'قرآن اور سائنس'' میں اس پربحث کی۔ پہاڑوں کے بارے میں مذکورہ بالا آیات کاحوالہ دینے کے بعدوہ کہتاہے'' جدید ماہرین ارضیات نے پہاڑوں کے حوالے سے زمین کے نقائص بیان کیے ہیں۔ زمین کے اوپری پرت کے استحکام کاعمل انہی غلطیوں کی نسبت ہے۔ جب ارضیات کے ماہرڈاکٹر ڈیوڈاے ینگ سے اس بارے میں دریافت کیاگیا توانہوں نے جواب دیا…''اگرچہ یہ تودرست ہے کہ بہت سے پہاڑی سلسلے تہہ درتہہ چٹانوں پرمشتمل ہیں اورتہیں بہت بڑے پیمانے پربھی موجود ہوسکتی ہیں'تاہم یہ بات درست نہیں۔تہیں زمین کے اوپری پرت کومستحکم رکھتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں'پہاڑ زمین کولرزنے سے نہیں روکتے۔ ان کی بناوٹ پہلے بھی اوراب بھی زمین کے لرزنے کاباعث ہے۔ عصرِ حاضر کے ارضیاتی نظریات تجویز کرتے ہیں کہ زمین کاسخت اوپری پرت اجزاء اور تہوں سے بنا ہے جوایک دوسرے سے ربط کی نوعیت کی بنیادپرآہستگی سے حرکت کرتے ہیں۔بعض اوقات تہیں جداہو جاتی ہیں جیساکہ شمالی اورجنوبی امریکہ ہیں جوکہ یورپ اور جنوبی افریقہ سے جدا ہوئے اوربعض اوقات تہیں قریب آتی ہیں اورایک دوسرے سے رگڑ کھاتی ہیںاورٹکراتی ہیں۔اس طرح زلزلے پیدا ہوتے ہیں۔اس طرح کی ایک مثال مشرقِ وسطیٰ میں موجودہے جہاںزاگروس (ایران)کاپہاڑی سلسلہ عرب کے ایران کی طرف حرکت کرنے سے بناہے۔ اگرکوئی شاہراہوں پرسفرکرتاجائے تودنیاکے کئی حصوں میں ایسے پہاڑی علاقے دیکھے گا جن پر ریت کے طوفان نے پہلے افقی تہیں جمائی تھیں لیکن اب ترچھی ہوگئی ہیں۔اسی طرح یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ریت کے طوفان کی جمائی ہوئی افقی تہیں اب75درجے تک ترچھی ہوچکی ہیں۔پہاڑوں کے بننے کے عمل کے دوران جوزلزلے آئے' انہی کے باعث یہ افقی تہیں ترچھی ہوگئیں۔ بعض اوقات تہیں ایک دوسری پرچڑھ جاتی ہیں اورپھرپھسلنا شروع کرتی ہیں تواس دوران بہت بڑی طاقت وجودمیں آتی ہے۔جب رگڑ کی قوتیں ماندپڑتی ہیں توتہہ کاجوحصہ جڑا ہوا تھا' ایک دم آگے کھسکتا ہے اور (تہوں کی علیحدگی کے وقت) اچانک دھڑام سے زلزلہ پیدا ہوتاہے۔میکسیکو میں آنے والے ایک حالیہ زلزلے سے یہ حصہ3میٹر اچانک ایک جھٹکے سے آگے بڑھ گیا۔ اگرآپ کاگھر اچانک 3میٹرآگے چھلانگ لگائے توتباہ وبربادہوجائے گا۔ ایک اورطرح کے پہاڑہیں جو آتش فشاں پہاڑوں کے ذریعے وجود میں آتے ہیں۔ لاوا اور راکھ زمین سے ابل کرباہرآتے ہیں اورڈھیر ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ایک اونچاپہاڑ بن جاتاہے حتّٰی کہ سمندرکی تہہ میں بھی ایساہوتاہے۔اس طرح کاعمل ہم اس تصویرمیں دیکھ سکتے ہیں۔مجھے امیدہے آپ اسے دیکھ سکتے ہیں گوواضح نہیں ہے۔ سمندرکااوپری پرت یہ رہا اور براعظم کاپرت اِدھر ہے۔ سمندری پرت براعظم کے پرت کے نیچے جارہاہے اور یہاں پہاڑ پائے گئے ہیں۔یہ آتش فشاں پہاڑ ہے۔ پگھلی ہوئی چٹان کامادہ یہ رہاجوکہ آتش فشاںسے نکل رہاہے اوریہ ایک دوسراآتش فشاں جوسیال مادہ اُگل رہاہے۔ یہی وہ عمل ہے جس سے پہاڑ بنتے ہیں اورزلزلے پید ا ہوتے ہیں ۔ آتش فشانی کے ذریعے وجود میں آنے والے پہاڑوں کے ضمن میں پگھلی ہوئی چٹان جوآتش فشاں کے دہانے میںپھنس کرٹھنڈی ہوتے ہوتے نسبتاً زیادہ اثر پذ یری کے باعث زمین کی تہہ کے نیچے تک دھنس جاتی ہے اوردہانے کوبند کردیتی ہے تویہ ایک پلگ کی طرح ہوں گی تا ہم یہ ایک جڑ نہیں ہے ۔ یہ پہاڑ کابوجھ نہیں اٹھا تی ، یہ توفی الحقیقت ایک پلگ کی مانند ہے ۔اس لیے بعض مواقع پرپلگ کے نیچے پریشر زور پکڑتا ہے اورآتش فشاں پھٹ پڑتا ہے جیسا کہ انڈونیشیاکے سمندر میںکراکاٹواکے مقام پر 1883 عیسوی میں ہواتھا جب پورا جزیرہ بھک سے اڑگیا تھا اورایسا ہیArdase(امریکہ) کے مقام پر Mount Saint Halena میں بھی ہواتھا جب ایک پہاڑ پھٹ گیاتھا ۔ ان معلومات سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ پہاڑ دراصل حرکت کرنے اورلرزنے کاباعث بنتے تھے اوراب اس زمانے میں زلز لے اس پہاڑ بننے کے عمل کے باعث آتے ہیں ۔ جب تہیں ایک دوسرے پرپیوست ہوجاتی ہیں توزلزلے آتے ہیں۔ جب آتش فشاں پھٹتے ہیں تووہ زلز لے کاباعث بن سکتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پیروکار ان آیات کوسمجھ رہے تھے کہ جن میں کہاگیاہے کہ اللہ نے پہاڑ زمین میں پیوست کیے خیمے کی کھونٹی یاجہاز کے لنگر کی طرح تا کہ اسے لرزنے سے روکے ۔پہاڑوں کوزمین کے اندر نصب کرنا شاعری ہوسکتی ہے لیکن یہ کہناکہ پہاڑ زمین کولرزنے سے روکتے ہیں' یہ ایک شدیدمشکل ہے جوجدیدسائنس سے مطابقت نہیں رکھتی۔
خ… اب ہم کچھ تذکرہ اس بات کاکرتے ہیں کہ قرآن سورج کے بارے میں کیاکہتاہے۔ سورہ ٔ کہف سورہ نمبر18 آیت نمبر86میں بیان ہے…''یہاں تک کہ ذوالقرنین'' (یہ سائرس اعظم کاذکرہے)سورج غروب ہونے کے مقام پر پہنچا تو اس نے سورج کو کثیف پانی کے چشمے میں غروب ہوتے دیکھا۔'' میں معذرت خواہ ہوں 20ویں صدی کی سائنس کے مطابق یہ کثیف پانی کے چشمے میں غروب نہیں ہوتا اور پھر سورہ الفرقان سورہ نمبر25آیت نمبر45تا46 میں بیان ہے…''کیا تم نے اپنے رب کی طرف دھیان نہیں کیا کہ وہ کیسے سائے کوطول دیتاہے۔ اگروہ چاہتاتووہ اسے ساکن کردیتا توپھرہم نے سورج کو اس پرایک رہنما بنایا۔'' اس کے بارے میں کیاکہیں گے؟ اگر ہم سورج کواپنے سرپرتصورکریں توآپ کاکوئی سایہ نہ ہوگا یا بہت ہی چھوٹا سایہ ہوگا اور جونہی سورج زوال پذیر ہونے لگتاہے توآپ کاسایہ دوسری طرف درازہونے لگتاہے۔ سورج تو زمین کے مقابلے میں ساکن ہے۔ یہ سائے کی حرکت کا باعث نہیں بنتا۔گھومتی ہوئی زمین سائے کی رہنمائی کرتی ہے۔ تواگرآپ بیسویں صدی جیسی درستی چاہتے ہیں تو سورہ میں بیان ہوناچاہئے…''گھومتی ہوئی زمین سائے کی تبدیلی کاباعث بنتی ہے۔''
خ… میں ایک مختلف موضوع کا تذکرہ کرتا ہوں۔ سلیمانu کی موت۔ وہ اپنے عصاکے سہارے کھڑے ہیں۔ بیان کیاگیاہے' جنّات ان کے لئے کام کرتے تھے'جب سلیمانuچاہتے تھے اورجب ہم نے سلیمانu کو موت دی توانہیں (جنّات کو)سلیمانuکی موت کاپتہ نہ چلا تاآنکہ زمین کی ایک چھوٹی سی رینگنے والی مخلوق ان کے عصا کو (اندر سے)کھاگئی اور جب وہ گرے تب جنّات کوپتہ چلا۔ اگر وہ نظر نہ آنے والی بات کوجان لیتے تووہ سزا کے طورپر کام کرنے کی پریشانی نہ اُٹھاتے۔سلیمانu کے اپنے عصاکے سہارے کھڑے کھڑے گرنے کامنظر ایسے ہی ہے جیسے کوئی بادشاہ مراکش کی ایک ویران سڑک پرکھڑاہو'کوئی باورچی اس سے آکر نہیں پوچھتا کہ وہ رات کے کھانے میں کیاپسند کرے گا اورکوئی جنرل احکام لینے کے لئے نہیں آتااور نہ معززین یہ کہنے کے لئے آتے ہیں کہ ''آئیں شکار کوچلیں'' کوئی دھیان نہیں دیتا۔ معذرت خواہ ہوں کہ اس واقعہ کایقین نہیں کرسکتا۔ یہ 20ویں صدی کی عمرانیات کے لئے قابل قبول نہیں ۔ساتویں صدی کی عمرانیات کے لئے بھی نہیں کہ اس زمانے میں بھی ایک بادشاہ کواس طرح تنہا نہیں چھوڑا جاسکتاتھا۔
خ… اب آئیں آخرمیں دودھ کاتذکرہ کریں۔ سورہ نحل سورہ نمبر16آیت نمبر66 میں کہاگیاہے…
''ہم تمہارے لئے باہرنکالتے ہیں جوان کے (مویشیوں کے)پیٹ میں ہے فضلے اورخون کے درمیان سے دودھ جوکہ پاکیزہ ہے اورپینے والوں کومرغوب ہے۔'' پیٹ میں جہاں آنتیں ہیں… معاف کیجئے گا…20ویں صدی کی میڈیکل سائنس میں…آنتیں تو پیٹ میں ہیں مگردودھ والے غدود جلد کے نیچے ہیں۔ انسانوں میں جلد کے نیچے اس جگہ پرہوتے ہیں ۔جانوروں میں ٹانگوں کے درمیان جلد کے نیچے ہوتے ہیں۔چھاتیوں اور آنتوں کے درمیان کسی طرح کاکوئی ربط نہیں 'نہ ہی ان کی شباہت میں۔ فضلات اگرچہ جسم کے اندرہوتے ہیں لیکن درحقیقت یہ جانور کی بیرون ہے۔اس کادودھ یاکسی اور چیز سے کوئی ربط نہیں ۔ جانور تواسے خارج کرچکا۔
خ… آخر میں سورہ الانعام 'سورہ نمبر6 آیت نمبر38 ''زمین پر ایسا کوئی جانورنہیں نہ ہی کوئی 2پروں سے اُڑنے والی مخلوق جوتمہاری طرح معاشرت نہ رکھتی ہو۔'' کہا گیا ہے کہ نہ ہی کوئی زمین کاجانور 'نہ ہی اڑنے والے جاندار اور پھرکہاگیا ہے کہ سب تمہاری طرح معاشرت رکھتے ہیں۔ میرا گمان ہے کہ قرآن ہم انسانوں سے بات کررہاہے۔ کچھ مکڑے ایسے ہیں کہ جب وہ ملاپ سے فارغ ہوتے ہیںتو ''ماں 'باپ'' کوکھاجاتی ہے۔ میں خوش ہوں کہ میری بیوی نے مجھے نہیں کھایا۔ حتّٰی کہ شہدکی مکھیوں میں (بارآوری کی ضرورت سے) زائدنکھٹونرمرنے کیلئے باہر پھینک دئیے جاتے ہیں۔ میں اس بات پربھی خوش ہوں کہ ہمارے ہاں4بچے پیداہونے کے بعد مجھے گھر سے باہر نہیں پھینکاگیا۔ آخرمیں شیروں کاذکرہے۔ جب شیربوڑھا ہوجاتاہے توایک جوان شیر آکر بوڑھے شیر کواس کی مادہ سے دور دھکیل دیتاہے اور جوان شیر مادہ پر تصرف حاصل کرلیتاہے لیکن وہ بوڑھے شیرکے بچوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے؟وہ ان سب کوماردیتاہے۔اس لئے میرا خیال ہے کہ یہ نقطۂ نظردرست نہیں۔ تمام دوسرے گروہ اور تمام دوسرے جانور ہماری طرح معاشرت نہیں رکھتے۔نتیجے کے طور پر ظاہرہوتاہے کہ قرآن میں کئی سائنسی غلطیاں موجودہیں۔ (نعوذباللہ)۔قرآن اپنے زمانے کی عمومی سائنس سے مطابقت رکھتاہے اوراسی کی عکاسی کرتاہے۔ یعنی ساتویں صدی کی عبوری سائنس ۔ہم یہاں سچ کی تلاش میں آئے ہیں۔ میں نے درست معلومات پہنچانے کی مکمل سعی کی ہے۔اگرآپ تمام حوالہ جات دیکھناچاہتے ہیں تومیری کتاب ''قرآن اور بائبل' تاریخ اور سائنس کی روشنی میں'' اس دروازے کے باہرفروخت کے لئے موجودہے۔ آج رات خاص رعایتی قیمت پردستیاب ہے۔ سچاخدا آپ کی رہنمائی کرے۔شکریہ۔

ڈاکٹرذاکرنائیک کاجوابی خطاب:

محترم ڈاکٹر ولیم کیمپبل' ڈاکٹرمزاقس' ڈاکٹرجمال بدوی' برادرسموئیل نعمان'ڈاکٹر محمدنائیک' میرے محترم بزرگو 'میرے پیارے بھائیو اوربہنو!میں آپ سب کو اسلامی طریقہ سے خوش آمدیدکہتاہوں۔
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ!!
آج کے مباحثے کاموضوع ہے ''قرآن اور بائبل سائنس کی روشنی میں''قرآن عظیم آخری آسمانی کتاب ہے جوکہ آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پرنازل کی گئی۔کسی بھی کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کی وحی ہونے کا دعویٰ ہوتواُسے وقت کے امتحان پرپورا اترناچاہئے۔قبل ازیں عہد قدیم معجزوں کاعہد تھا۔بعدازاں ادب اورشاعری کادورآیا اورمسلم اورغیرمسلم بالاتفاق دعویٰ کرتے ہیں کہ عظمت والاقرآن روئے زمین پردستیاب بہترین ادب ہے لیکن آج سائنس اور ٹیکنالوجی کازمانہ ہے۔ آئیں تجزیہ کریں کہ آیاقرآن جدید سائنس کے ساتھ ہم آہنگ ہے یاغیرہم آہنگ ۔
البرٹ آئن سٹائن نے کہاتھا…''سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے اورمذہب سائنس کے بغیر اندھاہے۔'' میں آپ کو یہ یاددہانی کرادوں کہ قرآن سائنس کی کتاب نہیں ہے۔ یہ علامات کی کتاب ہے۔ یہ نشانیوں کی کتاب ہے۔ اس میں6000سے زائدعلامات یعنی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ہزارسے زیادہ سائنس کے متعلق بیان کرتی ہیں۔ جہاں تک قرآن اورسائنس کے بارے میں میری گفتگوکاتعلق ہے' میں صرف ان سائنسی حقائق کے بارے میں بات کروں گا جوثابت شدہ ہیں۔ میں ایسے سائنسی مفروضوں اورنظریات کے بارے میں بات نہیں کروں گا جوبغیرکسی ثبوت کے قیاس پرمبنی ہیں کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ سائنس کوکئی مرتبہ اپنے آپ کو جھٹلاناپڑاہے۔
ڈاکٹرولیم کیمپبل جنہوں نے Dr. Maurice Bucaille کی کتاب بائبل'قرآن اور سائنس کے جواب میں ''قرآن اوربائبل تاریخ اورسائنس کی روشنی میں'' لکھی ہے' اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ اندازکی دوقسمیںہیں۔ایک مطابقت والاانداز ہے جس کامطلب ہے کہ انسان آسمانی کتاب اورسائنس کے درمیان ہم آہنگی لانے کی کوشش کرتاہے اور دوسرے ٹکرانے والااندازہے جس میں انسان آسمانی کتاب اور سائنس کے درمیان تصادم کی کوشش کرتاہے جیسا کہ ڈاکٹرولیم کیمپبل نے بخوبی ایساکیاہے۔ لیکن جہاں تک قرآن کا تعلق ہے' اس بات سے قطع نظر کہ کوئی انسان ہم آہنگی کی راہ اختیار کرتاہے یاٹکراؤ کاانداز' جب تک آپ منطق پرکاربند ہیں تو ایک منطقی وضاحت کے دئیے جانے کے بعد کوئی ایک شخص بھی قرآن کی کسی ایک آیت کو جدیدسائنس کے ساتھ متصادم ثابت نہیں کرسکتا۔ ڈاکٹرولیم کیمپبل نے کئی مبینہ سائنسی غلطیوں کی قرآن میں نشاندہی کی ہے۔ میری یہ ذمہ داری ہے کہ دلیل کے ساتھ ان کے دعوے کاجواب دوں لیکن چونکہ انہوں نے پہلے خطاب کرنا پسندکیا' میں اپنی گفتگو میں چندنکات کاابطال کروں گا۔ میں ان کی گفتگو کے اہم حصے علم جنین اورعلم ارضیات کے بارے میں زیادہ بات کروں گا۔باقی معاملات کادورانِ گفتگو اپنی معلومات کے مطابق دلائل دوں گا۔مجھے یہ دونوں کام کرنے ہیں۔
میں موضوع کے ساتھ ناانصافی نہیں کرسکتا۔ موضوع ہے''قرآن اور بائبل سائنس کی روشنی میں'' میں صرف ایک ہی آسمانی کتاب کے بارے میں بات محدود نہ رکھوں گا۔ ڈاکٹر ولیم کیمپبل نے بمشکل ایک یادو نکات پربائبل کاحوالہ دیا۔ میں ان شاء اللہ دونوں (آسمانی کتب)کے بارے میںبات کروں گا۔میں موضوع سے انصاف کرناچاہتاہوں۔ جہاں تک قرآن اور جدیدسائنس کاتعلق ہے'فلکیات کے میدان میں سائنس دانوں'ہیئت دانوںنے چند عشرے قبل بیان کیاکہ کائنات کیسے وجودمیں آئی'وہ اسے ایک Big Bang(بڑا دھماکہ) کہتے ہیں اورانہوں نے کہاکائنات''ابتدامیں ایک ہی گیس اور غبارکابادل تھا جوکہ بعدازاں ایک بڑے دھماکے کے باعث جدا ہوگیا جس سے کہکشاؤں 'ستاروں' سورج اور زمین جس پر ہم رہتے ہیں' سب وجودمیں آئے۔یہ معلومات عظمت والے قرآن میں بہت تھوڑے الفاظ میں دی گئی ہیں۔سورہ انبیائ' سورہ21'آیت نمبر30 کہتی ہے
''کیا کافر نہیں دیکھتے کہ آسمان وزمین باہم جڑے ہوئے تھے اورہم نے انہیں توڑ کردولخت کردیا۔'' ان معلومات کی روشنی میں غورکریں جوابھی حال ہی میں منظرِعام پرآئی ہیںجن کا قرآن 1400سال پہلے ذکر کرتاہے۔جب میں سکول میں تھا تومیرے علم میں یہ بات آئی تھی کہ سورج زمین کے حوالے سے ساکن ہے۔ زمین اور چاندمحوری گردش کرتے ہیں لیکن سورج ساکن ہے لیکن جب میں نے سورہ الانبیاء کی یہ آیت پڑھی سورہ نمبر21 آیت نمبر33'
''یہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے ہیں' سورج اورچاند(بھی)ان میں سے ہرایک اپنے مدارمیں اپنی (دوری)حرکت کے ساتھ گردش کررہاہے۔'' اب الحمدللہ جدید سائنس نے اس قرآنی بیان کی تصدیق کردی ہے۔عربی لفظ جو قرآن میں استعمال ہواہے' وہ''یسبحون'' ہے جوکہ ایک حرکت پذیر شے کی حرکت کوبیان کرتاہے اور جب اس سے مراد اجرام فلکی ہوں تواس کامطلب ہے کہ وہ جسم اپنے مرکزکے گرد بھی دوری گردش کررہاہے۔قرآن نے یہی بیان کیاہے کہ سورج اور چاند اپنے محورکے گردگھومتے ہوئے اپنے مدارمیں گردش کررہے ہیں۔آج ہمیں معلوم ہوچکاہے کہ سورج تقریباً25دن میں اپنا ایک چکرپورا کرتاہے۔یہ ایڈون ہبل تھا جس نے دریافت کیا کہ کائنات پھیل رہی ہے۔قرآن سورہ زاریات سورہ نمبر51 آیت نمبر47میں بیان کرتاہے کہ''ہم نے ایک وسعت پذیر کائنات کوتخلیق کیاہے'خلا کی وسعت (کے ساتھ)'' عربی لفظ''موسعون'' وسعت کے مفہوم میں ہے یعنی کائنات وسعت پذیرہے ۔علم فلکیات کے حوالے سے ڈاکٹرولیم کیمپبل نے جن موضوعات کوچھیڑاہے میں ان کاابطال (ردّ)کروں گا۔ ان شاء اللہ
خ… ''پانی کے دور(Cycle)''کے بارے میں ڈاکٹر ولیم کیمپبل نے کچھ امورکی نشاندہی کی ہے۔قرآن نے پانی کے چکر (Cycle)کوبہت تفصیل سے بیان کیاہے ۔ڈاکٹر ولیم کیمپبل نے 4مراحل کاذکرکیاہے۔ اپنی کتاب میں انہوں نے (A)4اور(B)4 کاتذکرہ کیاہے۔ آخرالذکر سلائیڈ بھی نہیں دکھائی گئی'مجھے معلوم نہیں ایساکیوں ہے؟اس میں بیان ہے ''The Driplinition'' ''یعنی پانی کادَوری جدول'' اس کو وہ حذف کرگئے ہیں ۔شایداس لئے کہ بائبل میںاس کاتذکرہ نہیںہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن میں ایک آیت بھی ایسی نہیں جس میں بخارات کاتذکرہ ہو۔ قرآن سورہ الطارق سورہ نمبر 86آیت نمبر11میں بیان کرتاہے' والسماء ذات الرجع ''قسم ہے آسمان کے پلٹنے کی صلاحیت کی'' اورقرآن کی تقریباً تمام تفاسیر میں مفسروں نے کہاہے کہ سورہ الطارق کی آیت نمبر11 آسمان کے بارش کو پلٹانے کی صلاحیت کے بارے میں ہے یعنی'' بخارات'' ۔ ڈاکٹرولیم کیمپبل جو عربی جانتے ہیں'کہہ سکتے ہیں ''اللہ تعالیٰ نے واضح طور پرتذکرہ کیوں نہیںکیا؟''یعنی آسمان کی بارش کوپلٹانے کی صلاحیت کو (کھول کر کیوں بیان نہیں کیا؟)اللہ نے واضح طورپرکیوں نہیں بیان کیا؟ اب ہم یہ جان چکے ہیں کہ اللہ نے ایساکیوں نہیں کیا۔ ربّانی مصلحت کی وجہ سے ایسا ہے کیونکہ آج ہم جان چکے ہیں کہ زمین کے گرد اوزون (Ozone)کی تہہ اور بارش کے پلٹائے جانے کے علاوہ بہت سامفیدمادہ اور توانائی بھی بارش کے ساتھ زمین کوپلٹتے ہیں جن کی بنی نوع انسان کوضرورت ہوتی ہے۔یہ صرف بارش ہی نہیں جو آسمان سے پلٹتی ہے بلکہ آج ہم یہ بھی جان چکے ہیں کہ ریڈیو اور TV کی مواصلاتی لہریں بھی ( آسمان سے زمین کی طرف )پلٹتی ہیں جن کے ذریعے ہم ریڈیو اورTV سے لطف اندوز ہوتے ہیں نیزمواصلاتی رابطے بھی کرتے ہیں۔اس کے علاوہ یہ تہہ بیرونی خلا کی نقصان دہ شعاعوں کوبھی پلٹاتی ہے اورجذب کرتی ہے۔ مثال کے طورپر سورج کی روشنی… سورج کی بالائے بنفشی( Ultraviolet) شعاعیں Ionosphere (کی تہہ) میں جذب ہوجاتی ہیں۔اگرایسانہ ہوتاتوزمین پر حیات معدوم ہوجاتی۔اس لئے اللہ تعالیٰ عظیم ترین اوراس کاقول برحق ' جب وہ کہتاہے''آسمان کی پلٹانے کی صلاحیت کی قسم '' اور باقی جن چیزوں کاتذکرہ قرآن میں ہے'ان کے لئے میری سی ڈیز ملاحظہ فرمائیں۔ جوکچھ انہوں نے بائبل کے بارے میںکہاہے' انہوں نے پہلی سلائیڈ میں پہلا اور تیسرامرحلہ دکھایا ہے'دوسری سلائیڈ میں مرحلہ 3,1 اور پھر2 کہ ''پانی زمین سے اوپر اُٹھایاجاتاہے'' اورپھرکہتے ہیں کہ''پھربارش کاپانی زمین پر برستاہے۔'' یہ Phasofmillitas کافلسفہ ہے' ساتویں صدی قبل مسیح کا۔ اُس کاخیال تھا کہ ہوا سمندر کی پھوار کو اوپر اٹھالیتی ہے اورپھراندرونِ ملک بارش برساتی ہے۔وہاں بادل کاکوئی ذکرنہیں۔دوسرا حوالہ جوکہ ڈاکٹرولیم کیمپبل نے دیا ہے'پہلی چیزان کے قول کے مطابق ہے ''یعنی پانی بخارات میں تبدیل ہوتاہے۔'' ہم اس سے متفق ہیں۔ہم بائبل سے ہم آہنگ ہونے والی توضیحات کابرا نہیں مانتے۔ پھر بارش برستی ہے اور پھربادل بنتے ہیں۔یہ پانی کامکمل دور (Cycle) نہیں ہے۔ الحمدللہ قرآن نے پانی کے دورکابڑی تفصیل کے ساتھ تذکرہ کیاہے۔ پانی کیسے اوپراٹھتا ہے' بخارات بنتاہے' بادل بنتے ہیں' بادل آپس میں جڑتے ہیں'اُن کااتصال ہوتا ہے'گرج اور چمک ہوتی ہے'پانی برستاہے'بادل اندرون خطہ حرکت کرتے ہیں' بارش کی صورت میں برستے ہیں اور پانی کابخارات بننا۔
قرآن میں پانی کے دورکاتذکرہ پوری تفصیل کے ساتھ کئی مقامات پرکیاگیاہے۔ سورہ نور'سورہ نمبر24 آیت نمبر43'سورہ روم'سورہ نمبر30 آیت نمبر48'سورہ الزمر سورہ نمبر39آیت نمبر21'سورہ مومنون سورہ نمبر23 آیت نمبر18'سورہ اعراف سورہ نمبر7 آیت نمبر57' سورہ رعد سورہ نمبر13'آیت نمبر17' سورہ فرقان سورہ نمبر25آیت نمبر 48تا49' سورہ فاطر سورہ نمبر35آیت نمبر9' سورہ یٰسین سورہ نمبر36آیت نمبر34' سورہ جاثیہ سورہ نمبر45آیت نمبر5'سورہ ق سورہ نمبر50 آیت نمبر9' سورہ الواقعہ سورہ نمبر56 آیت نمبر68تا70 اورسورہ ملک 'سورہ نمبر67آیت نمبر30۔
ثابت ہواکہ قرآن عظیم کئی مقامات پرپانی کے دور کو بہت تفصیل کے ساتھ بیان کرتاہے۔
ڈاکٹر ولیم کیمبل نے زیادہ تر وقت علم جنین کے موضوع پرصرف کیا' تقریبا ً نصف تقریر پرمشتمل 'علم ارضیات کے بارے میں بھی بہت کچھ اورچھ دیگر موضوعات کابھی تذکرہ کیاہے جنہیں میں نے لکھ رکھاہے ۔
خ… علم ارضیات کے حوالے سے آج ہم یہ جان چکے ہیںکہ ماہرین ارضیات نے ہمیں بتایاہے کہ زمین کانصف قطر تقریباً 3750 میل کاہے نیزا ندرورنی تہیں گرم اورمائع حالت میںہیں جہاں حیات ممکن نہیں ہے ۔زمین کی اوپر والی سطح جس پر ہم رہتے ہیں'بہت پتلی ہے۔ بمشکل ایک سے تیس میل تک موٹی ہے ۔ بعض حصے دبیز ہیں لیکن غالب اکثریت ایک سے تیس میل موٹی تہہ ہے اوراس بات کے قوی امکانات موجود ہیں کہ زمین کی یہ اوپر ی تہہ لرزے گی ۔اس کی وجہ زمین کا Folding Phenomenonہے جوپہاڑی سلسلوں کوبلندی دیتاہے ۔جوکہ اس زمین کواستحکام دیتا ہے ۔قرآن سورہ نباسورہ نمبر 78 آیت نمبر 6 تا7میںبیان کرتاہے ''ہم نے زمین کوفرش بنایا ہے اورپہاڑوں کومیخیں''۔قرآن یہ نہیں کہتا کہ پہاڑوں کومیخوں کی صورت میںاوپر سے گاڑا گیاہے بلکہ یہ کہ پہاڑوں کومیخوں کی طرح گاڑاگیاہے۔عربی لفظ ''اوتاد ''کامطلب میخیں ہے جیسے خیمے کی کھونٹیاں اورآج ہم جدید علم ارضیات کے مطالعے سے یہ جان چکے ہیں کہ پہاڑوںکی جڑیں گہری ہوتی ہیں۔ یہ بات 19ویں صدی کے دوسرے نصف کے دورا ن معلوم ہوئی ۔پہاڑ کی اوپری سطح جوہم دیکھتے ہیں'یہ اس کے مقابلے میں بہت کم ہے جو زمین کے اندرگہرائی تک ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک کھونٹی کوزمین میں گاڑدیاجاتاہے ۔ یاسمندر میںبرف کے تودے کی چوٹی کی طرح… آپ چوٹی کودیکھتے ہیں جبکہ90فیصد توداپانی کے اندر چھپاہوتا ہے۔قرآن سورة الغاشیہ آیت نمبر19اور سورہ نازعات آیت نمبر32 میں بیان کرتاہے''اورپہاڑوں کوزمین میں (مضبوط) گاڑدیا۔''آج جدیدعلم ارضیات کی ترقی کے بعدڈاکٹرولیم کیمپبل نے کہاکہ Platectonics کے نظریے کے مطابق جوکہ 1960ء میں پیش کیاگیاہے' اس میں پہاڑی سلسلوں کے اُبھرنے کاتذکرہ ہے۔ آج کے ماہرین ارضیات تسلیم کرتے ہیں کہ پہاڑ زمین کواستحکام دیتے ہیں۔گوتمام ماہرین ارضیات ایسانہیں تسلیم کرتے لیکن بہت سے اس امر کے قائل ہیں۔میری نظر سے آج تک ایک بھی ایسی کتاب نہیں گزری اورمیں ڈاکٹرولیم کیمپبل کوچیلنج کرتاہوں کہ وہ علم ارضیات کی کوئی ایک بھی کتاب دکھائیں نہ کہ ایک ماہرِ ارضیات کے ساتھ اپنی ذاتی خط کتابت جس کی کوئی اہمیت نہیں۔ ان کی ڈاکٹر کیتھ مورکے ساتھ ذاتی خط کتابت دستاویزی ثبوت کا درجہ نہیں رکھتی اور اگرآپ"The Earth" کا مطالعہ کریں جس کاحوالہ تقریباً تمام جامعات نے دیاہے' علم ارضیات کے شعبے میں اس کے مصنفین میں سے ایک جس کانام Dr. Frank Press ہے جوسابق امریکی صدرجمی کارٹرکے مشیر اوراکیڈمی آف سائنس امریکہ کے صدر رہ چکے ہیں۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ''پہاڑکھونٹی کی شکل کے ہیں' ان کی جڑیں زمین کی گہرائی تک ہوتی ہیں'' اورانہوں نے یہ بھی کہا کہ ''پہاڑ کاعمل زمین کواستحکام دیناہے''اورقرآن سورہ لقمان آیت نمبر10' علاوہ ازیں سورہ نحل آیت نمبر15 میں بیان کرتاہے کہ ''ہم نے پہاڑوں کوزمین میں مضبوطی کے ساتھ کھڑاکیاہے تاکہ یہ نہ لرزے (اورنہ تمہیں لرزائے)'' ان تمید بکم(Do not Shake with you)سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر زمین کوپہاڑوں کی وجہ سے استحکام نہ ہوتا توعین ممکن ہے کہ انسان کے چلنے پھرنے'حرکت کرنے سے زمین انسان سمیت تھرتھراتی۔اگرانسان جھولتا توممکن ہے' زمین بھی جھولے جیسی حرکت کرنے لگتی'' اور ہم جانتے ہیں کہ جب ہم زمین پرچلتے ہیں توزمین نہیں لرزتی۔ یہی بات Dr. Frank Pressاورڈاکٹر نجاة نے بیان کی ہے۔ ڈاکٹر نجاة کاتعلق سعودی عرب سے ہے اور انہوں نے ایک پوری کتاب قرآن میں ارضیاتی تصورات کے بارے میں تحریر کی ہے جس میں ڈاکٹرولیم کیمپبل کے تقریباً ہرسوال کا جواب موجودہے۔ ڈاکٹرکیمپبل اپنی کتاب میں لکھتے ہیںکہ''اگرپہاڑ زمین کو لرزنے سے بچاتے ہیں توپھرپہاڑی علاقوں میں زلزلے کیوں آتے ہیں؟'' میں نے کہا کہ قرآن میں یہ کہاں لکھا ہے کہ پہاڑزلزلوں کی روک تھام کرتے ہیں۔ زلزلہ عربی زبان میں ''زلزال'' ہے اور اگرآکسفورڈ ڈکشنری میں اس کی تعریف دیکھیں تووہاں لکھاہے''زلزلہ زمین کی بالائی سطح کے لرزنے کی وجہ سے ہے'زلزلے کی مقیّد لہروں کے اخراج کی وجہ سے' چٹان میں دراڑاورآتش فشانی ردّعمل بھی اسباب بن سکتے ہیں۔قرآن پاک نے زلزلے کے بارے میں سورہ زلزال میں بیان کیا ہے اَنْ تَمِیْدَ بکم (To Prevent earth from Shaking with you)اور اس بیان کے جواب میں ''کہ اگر پہاڑ زلزلوں سے بچائو کاباعث ہیںتو پہاڑی علاقوں میں زلزلے کیوں آتے ہیں'' اس کاجواب یہ ہے کہ اگر میں کہوں کہ ڈاکٹر انسانی بیماریوں اورامراض کی روک تھام کرتے ہیں توکوئی اعتراض کرے 'اگر ڈاکٹرانسانی بیماریوں اور امراض کی روک تھام کرتے ہیں تو ہسپتالوں میںزیادہ بیمار لوگ کیوں پائے جاتے ہیںجہاں گھر کی نسبت کہیں زیادہ ڈاکٹر موجود ہوتے ہیں جبکہ گھرپہ ڈاکٹر نہیں ہوتے ۔
خ… سمندروں کے بارے میں علم کے ضمن میں عظمت والاقرآن سورہ فرقان سورہ نمبر 25آیت نمبر 53بیان کرتاہے کہ یہ اللہ ہی ہے جس نے پانی کے بہتے ہوئے دودھارے آزاد چھوڑے ہوئے ہیں۔ایک میٹھا اور پینے کے قابل جبکہ دوسرا نمکین اورتلخ '' اگرچہ وہ آپس میں ملتے ہیں لیکن آمیز ( mix)نہیں ہوتے ۔ان کے درمیان ایک حد فاصل ہے جسے عبور کرنے کی اجازت نہیں ۔ سورہ رحمان سور ہ نمبر 55آیت نمبر19تا20میں ہے'' یہ اللہ ہی ہے جس نے پانی کے دودھارے آزادچھوڑ رکھے ہیںاگرچہ وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیںلیکن باہم آمیز نہیں ہوتے ۔ان کے درمیان ایک حدّ فاصل ہے جسے عبور کرنے کی اجازت نہیں ۔''قبل ازیں قرآن کے مفسّرپریشان ہوتے تھے کہ قرآن کامطلب کیاہے ؟' ہم میٹھے اور نمکین پانی کے بارے میں جانتے ہیں ۔آج سمندری علوم میں ترقی کے باعث ہم جان چکے ہیں کہ جب کبھی پانی کی ایک قسم دوسری قسم کے ساتھ مل کربہتی ہے تو جہاں دونوں قسمیں ملتی ہیں' وہاں دونوں اپنی جزوی حیثیت کھودیتی ہیں اورایک یک جنسی آڑا ترچھا دھارابن جاتاہے۔اسی کو قرآن نے حدِّ فاصل قرار دیاہے۔ اس بات سے بہت سے سائنس دانوں نے اتفاق کیا ہے۔ حتّٰی کہ امریکہ کے Dr.Hay نامی سائنس دان نے بھی (تسلیم کیاہے)۔ وہ بحری علوم کے ماہر ہیں۔ ڈاکٹرولیم کیمپبل اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ''یہ ایک قابل مشاہدہ مظہر( Phenomenon)ہے۔ اس زمانے کے ماہی گیر جانتے تھے کہ پانی کی دوقسمیں ہیں… میٹھااورنمکین۔اس لئے ہوسکتاہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ملک شام کے سفرکے دوران سمندر ملاحظہ کرنے بھی گئے ہوں یاان کی ماہی گیروں سے بات ہوئی ہو۔ میٹھااورنمکین پانی ایک قابل مشاہدہ عملPhenomenon ہے ۔میں اس بات سے اتفاق کرتاہوں لیکن ماضی قریب تک لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ ایک ان دیکھی حد فاصل بھی ہوتی ہے۔یہاں جس سائنسی نکتے کے بارے میںغور کرنے کی ضرورت ہے' وہ ''برزخ'' ہے'نہ کہ میٹھااورنمکین پانی۔
خ… علمِ جنین کے موضوع پرڈاکٹرولیم کیمپبل نے اپنی تقریر کا تقریباً نصف وقت صرف کیا۔تمام چھوٹی چھوٹی غیرمنطقی چیزوں میں سے ہرایک کاجواب دینے کی مجھے وقت اجازت نہیں دے گا۔میں ایک مختصرجواب پراکتفاکروں گا جوکہ تسلی بخش ہوگا'ان شاء اللہ۔مزیدتفصیلات کے لئے آپ میری سی ڈیز ''قرآن اور جدیدسائنس'' نیز میری دوسری سی ڈی''قرآن اور میڈیکل سائنس'' کے موضوع پر ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
عربوں کے ایک گروپ نے قرآن اورحدیث میں مذکورعلم جنین کے بارے میں تمام مواد کوجمع کیاتھا۔انہوں نے یہ مواد ڈاکٹر کیتھ مورکوپیش کیا جوکہ ٹورنٹویونیورسٹی (کینیڈا)کے شعبہ علم تشریح الابدان (Anatomy)کے سربراہ اورچیئرمین تھے اورآج کل وہ علم جنین کے شعبے میں ممتازترین سائنس دانوں میں سے ایک ہیں۔قرآن کے کئی تراجم پڑھنے کے بعدانہیں تبصرے کے لئے کہاگیا توانہوں نے کہا'' قرآن اور حدیث کی بیشترروایات جدید علم جنین سے ہم آہنگ ہیں'' لیکن چندروایات ایسی ہیں جن کے بارے میں نہ تویہ کہہ سکتا ہوں کہ درست ہیں اورنہ ہی یہ کہ غلط ہیںکیونکہ مجھے خودان کے بارے میں علم نہیں ۔ایسی دوآیات پہلی قرآنی وحی کی دو ابتدائی آیات ہیں۔سورہ اقراء یاسورہ علق سورہ نمبر96 آیت نمبر 1تا2 جوبیان کرتی ہیں ''پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا'جس نے انسان کوپیدا کیا(چمٹنے والی چیز)یا (جونک نما) جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے۔''
ڈاکٹرولیم کیمپبل کے بیان کہ''کسی لفظ کے معنی کے تجزیے کے لئے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جس وقت نزول (قرآن) ہوا'اس وقت کیامعنی مراد لئے گئے تھے اوران لوگوں کے نزدیک کیا معنی تھے جن سے خطاب ہواتھا'' جہاں تک ان کے بائبل کے حوالے کاتعلق ہے' میں ان سے مکمل اتفاق کرتا ہوںکیونکہ بائبل کاخطاب صرف اس عہدکے بنی اسرائیل سے تھا۔
متی(Methew)کی انجیل 10:5-6 میں مذکورہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)نے اپنے پیروکاروں کوبتایا''تم غیرقوموں کے راستے پرمت چلو بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی گم شدہ بھیڑوںکی طرف جاؤ۔'' حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)نےMethew کی انجیل 15:24 میں فرمایاہے:''میں نہیں بھیجا گیا مگراسرائیل کے گھرانے کی گم شدہ بھیڑ وںکی طرف۔''
پس حضرت عیسیٰ (علیہ السلام)اورانجیل کاپیغام صرف اسرائیل کی اولاد کے لئے تھا۔ چونکہ یہ تعلق صرف انہی سے تھا 'اس لئے انجیل کے تجزیے کے لئے آپ کووہی معنی اختیارکرنے ہوں گے جواس دورمیں مراد لئے گئے تھے لیکن قرآن صرف اس دور کے عربوں کے لئے نہ تھااور نہ ہی قرآن صرف مسلمانوں کے لئے (محدود)ہے۔ قرآن تمام نوعِ انسانی کے لئے ہے اور ابدتک کے لئے بھی۔قرآن سورہ ابراہیم سورہ نمبر14آیت نمبر52'سورہ بقرہ سورہ نمبر2آیت نمبر158 اور سورہ زمر سورہ نمبر39آیت نمبر41 میں کہتاہے کہ قرآن تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے اور حضرت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم )صرف عربوں یا مسلمانوں ہی کے لئے نہیں بھیجے گئے تھے۔ اللہ سورہ انبیائ' سورہ نمبر 21 آیت نمبر107میں فرماتاہے ''ہم نے آپ کورحمت بنا کر بھیجا ہے' ایک رہنماکے طورپر تمام انسانیت کے لئے (بھیجا ہے)۔اس لئے جہاں تک قرآن کاتعلق ہے'آپ اس کے معانی کوصرف اُس دورتک محدود نہیں کرسکتے کیونکہ یہ توابد تک کے لئے ہے۔
''علقہ''کے معانی میں سے ایک ''جونک جیسی چیز'' یا''چمٹنے والی چیز'' ہے۔پروفیسرکیتھ مور نے کہا''مجھے معلوم نہیں تھاکہ جنین ابتدائی مرحلے میں جونک جیسا نظر آتاہے۔'' پس وہ اپنی لیبارٹری میں گئے اور جنین کے ابتدائی مرحلے کاتجزیہ ایک خوردبین سے کیا اور ایک جونک کی تصویر سے موازنہ کیا تو دونوں میں حیران کن مشابہت دیکھ کرششدر رہ گئے۔یہ ایک جونک کی تصویرہے اور یہ ایک جنین کی۔ڈاکٹرولیم کیمپبل نے جودکھایا'وہ اس کے مختلف تناظرکی تصویرہے۔اگرمیں آپ کویہ کتاب اس طرح دکھاؤں تویہ ایک مختلف تناظرہے۔ وہ شکل کتاب میں دی گئی ہے اور جوشکل آپ نے سلائیڈ میں دیکھی ہے 'وہ بھی موجودہے اورمیں اس سے نمٹوں گا۔ ان شاء اللہ
پروفیسرکیتھ مور نے تقریباً80سوال پوچھے جانے کے بعد کہا''اگرآپ یہی80سوال مجھ سے 30سال قبل پوچھتے تومیں بمشکل نصف کے جواب دے پاتا کیونکہ علمِ جنین نے گزشتہ30سال کے دوران بہت ترقی کی ہے۔'' یہ بات انہوں نے 80ء کی دہائی میں کی۔اب ہم ڈاکٹرکیتھ مورہی کی بات مانتے ہیں جن کی تحریر اور سی ڈی باہر ہال میں موجودہے۔ یہی تو سچ ہے…''اناعلی لحق''۔توکیا آپ ڈاکٹر ولیم کیمپبل کی پروفیسرکیتھ مورکے ساتھ نجی گفتگوپریقین کریں گے یاجوکچھ اس کتاب میں مذکورہے مع اسلامک ایڈیشن اورتصاویر بھی جومیں نے آپ کو دکھائی ہیں اورجوسی ڈیزباہر دستیاب ہیں'اس میں بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔یہ بیانات انہوں نے ہی دئیے ہیں۔ پس آپ نے زیادہ منطقی امرکا انتخاب کرناہے۔ ڈاکٹرولیم کیمپبل کے ساتھ نجی گفتگویا ان کاویڈیوبیان ؟بالکل اسی طرح ہے جیسے ڈاکٹرولیم کیمپبل نے میری سی ڈیز دیکھیں'میرے کہے ہوئے کا 100فیصدثبوت…''چاندروشنی منعکس کرنے والاہے۔'' میں اس کا تذکرہ بعد میںکروں گا اور جواضافی معلومات انہوں نے قرآن وحدیث سے اخذکیں 'وہ بعدمیں ان کی کتاب "The Developing Human" میں شامل کی گئیں۔ تیسرے ایڈیشن کوکسی ایک ہی مصنف کی لکھی ہوئی بہترین طبی کتاب کاایوارڈ اس سال ملا۔یہ اسلامی ایڈیشن ہے جسے شیخ عبدالمجیدزندانی نے پیش کیا اور خودڈاکٹر کیتھ مورنے اس کی تصدیق کی۔قرآن سورہ مومنون سورہ نمبر23آیت نمبر13 اور سورہ حج سورہ نمبر22آیت نمبر5 اوراس کے علاوہ کم ازکم گیارہ مقامات پربیان کرتاہے کہ انسان ''نطفے'' سے بنتاہے' مائع کی ایک چھوٹی سی مقدارسے 'ایک ایسے قطرے جیسی جو پیالے میں باقی رہ جائے۔''نطفہ'' عربی زبان میںمائع کی ایک بہت چھوٹی مقدارہے ۔آج ہم جان چکے ہیں کہ مادۂ منویہ کے ایک اخراج میں کئی ملین نطفے موجود ہوتے ہیں جن میں سے صرف ایک نطفہ بیضے کوبارآور کرنے کے لئے درکار ہوتاہے۔ قرآن نطفے کا حوالہ دیتاہے۔سورہ سجدہ سورہ نمبر32آیت نمبر8''ہم نے بنی نوع انسان کو ''سُلٰلَة'' سے بنایاہے۔''کل کا بہترین جز'' اور قرآن سورہ دھرسورہ نمبر76 آیت نمبر2میں بیان کرتاہے ''مخلوط مائع کی ایک بہت قلیل مقدار '' اس سے مراد نطفہ اوربیضہ ہیں' بار آوری کے لئے دونوں درکار ہوتے ہیں۔ قرآن نے جنین کے مختلف مراحل کوبڑی عمدگی سے مفصل بیان کیا ہے جن کے سلائیڈ آپ کودکھائے گئے ۔ڈاکٹر ولیم کیمپبل نے یہ موضوع مکمل کرنے میں میری مدد کی ہے۔ سورہ مومنون سورہ نمبر23آیت نمبر12تا14میں بیان ہے جس کا ترجمہ یوں ہے ''ہم نے انسان کونطفے سے بنایاہے' مائع کی ایک نہایت قلیل مقدارسے' پھراسے ایک محفوظ مقام پررکھاہے'پھرہم نے اسے جونک جیسی چیز میں تبدیل کیا۔جمے ہوئے خون کاایک لوتھڑا' پھر علقہ سے مضغہ بنایا یعنی جگالی کیے ہوئے گوشت جیسا'پھرہم نے مضغہ سے عظام (Bones)بنائیں' پھر ہڈیوں کو گوشت کالباس پہنایااور اس طرح ہم نے ایک نئی مخلوق تشکیل دی۔ مقدس ہے اللہ جوبہترین تخلیق کرنے والاہے۔
قرآن کی یہ 3آیات جنین کے مختلف مرحلوں کے بارے میں نہایت تفصیل سے بیان کرتی ہیں۔ اوّلاً نطفے کا ایک محفوظ مقام پہ رکھا جانا'علقہ میں تبدیل ہونا۔علقہ کے تین معانی ہیں۔ان میں سے ایک ''کوئی ایسی شے جوچمٹتی ہے'' اورہم جانتے ہیں کہ ابتدائی مراحل میں جنین رحم کی دیوار سے چمٹ جاتاہے اور آخر تک چمٹنے کاعمل جاری رہتاہے۔ دوسرامعنی ''ایک جونک جیسی چیز'' ہے جیساکہ میں نے قبل ازیں بیان کیاہے۔ جنین ابتدائی مراحل میں جونک جیسا ہی دکھائی دیتاہے۔ جونک جیسادکھائی دینے کے علاوہ یہ عمل بھی جونک جیساہی کرتاہے'یہ اپنی ماں سے خون بالکل ایک خون چوسنے والی جونک کی طرح حاصل کرتاہے اور تیسرا معنی جس پرڈاکٹر ولیم کیمپبل نے اعتراض کیاہے' وہ بالکل درست معنی ہے''جمے ہوئے خون کاایک لوتھڑا'' جسے انہوں نے قرآن کی سائنسی غلطی قرار دیاہے(نعوذباللہ)اور میں ان کی اس بات سے اتفاق کرتاہوں کہ ڈاکٹرولیم کیمپبل ایسا نہیں سمجھتے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ معنی کیسے ہوسکتاہے کیونکہ اگرایسا ہی ہے توپھرقرآن غلطی پرہے(نعوذباللہ)۔میں معذرت کے ساتھ کہتاہوں کہ قرآن غلطی پرنہیں ہے'ڈاکٹرولیم کیمپبل کی خدمت میں نہایت ادب واحترام کے ساتھ (عرض ہے)… کہ آپ غلطی پرہیں۔کیونکہ آج علم جنین کی اس قدرترقی کیبعدبھی ڈاکٹرکیتھ مورکہتے ہیں کہ ''ابتدائی مراحل میں جنین ایک جونک جیسانظرآنے کے ساتھ ساتھ ایک خون کے لوتھڑے جیسابھی دکھائی دیتاہے'' کیونکہ ابتدائی مراحل میں علقہ کے مرحلے میں 3سے 4ہفتے(کی مدت)کے دوران خون بندتھیلی میں منجمد ہو جاتاہے اور ڈاکٹرولیم کیمپبل نے آپ کوسلائیڈ دکھاکرمیرے مؤقف کوواضح اورآسان بنادیاہے۔آپ کے لئے دیکھنا مشکل ہوگا لیکن یہ سلائیڈ ہے جوانہوں نے آپ کودکھائی اور یہی وہ بات ہے جوپروفیسرکیتھ مورنے کہی''جمے ہوئے خون کے لوتھڑے جیسادکھائی دیتاہے'' بندتھیلی میں خون منجمد ہے اورجنین کے تیسرے ہفتے کے دوران خون گردش نہیں کرتا۔یہ عمل بعدازاں ہوتاہے'اس لئے یہ ایک لوتھڑے جیسی شباہت رکھتا ہے۔ اگرآپ اسقاطِ حمل کے بعدکے احوال کامشاہدہ کریں تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ جونک جیساہی دکھائی دیتاہے۔ ڈاکٹر ولیم کیمپبل کے تمام اعتراضات کے جواب میں ایک ہی جملہ کافی ہے کہ قرآن کے بیان کردہ جنین کے مراحل کی بنیاد ظاہری صورت پرہے۔ پہلے علقہ کی ظاہری صورت ''ایک جونک جیسی چیز'' اور خون کالوتھڑا بھی(ایسا ہی ہے)۔ڈاکٹرولیم کیمپبل نے بجا طورپر کہاکہ کچھ خواتین آتی ہیں اور پوچھتی ہیں ''مہربانی کرکے لوتھڑے کونکال دیں'' یہ ایک لوتھڑے جیساہی دکھائی دیتاہے اورمراحل کی بنیاد ظاہری صورت پرہی ہے۔ انسان کسی ایسی چیز سے تخلیق ہوتاہے جولوتھڑے جیسی ظاہری صورت رکھتی ہے'جوایک جونک جیسی صورت رکھتی ہے اورایسی چیز بھی جو چمٹتی ہے ۔پھرقرآن کہتاہے''ہم نے علقہ سے مضغہ بنایا' ایک جگالی کیے ہوئے گوشت جیسا۔''
پروفیسرکیتھ مورنے ایک پلاسٹک کاٹکڑا لے کراپنے دانتوں سے چباکر مضغہ جیسادکھائی دینے والا بنایا۔ دانتوں کے نشاناتSolmites(اعضائ)جیسے دکھائی دیتے تھے۔ ڈاکٹر کیتھ مور نے کہا''جب علقہ ایک مضغہ بن جاتا ہے تو چمٹنے کی خاصیت تب بھی موجودہوتی ہے۔ یہ خاصیت ساڑھے8 ماہ تک برقرار رہتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کا بیان غلط ہے۔قرآنی بیان بالکل درست ہے کیونکہ جیسا کہمیں نے آپ کوابتدا میں بتایاہے کہ قرآن ظاہری صورت کوبیان کررہاہے ''جونک جیسی ظاہری صورت'' اور ''لوتھڑے جیسی ظاہری صورت'آخر میں چبائے ہوئے گوشت''جیسی ظاہری صورت میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہ پھربھی آخردم تک چمٹی رہتی ہے۔ اس بات میں کوئی مسئلہ(تضاد)نہیں کیونکہ مراحل کی تقسیم ظاہری صورت کے حوالے سے ہے نہ کہ کارکردگی کے حوالے سے۔ بعدازاں قرآن کہتاہے ''ہم نے مضغہ سے عظام بنائیں' پھر ہڈیوں پرگوشت چڑھایا۔'' ڈاکٹرولیم کیمپبل نے کہا اورمیں بھی ان سے متفق ہوں کہ ہڈیوں اورعضلات کامادہ بیک وقت بننا شروع ہوتاہے'یہ بات تسلیم کرتاہوں۔ آج علم جنین ہمیں بتاتا ہے کہ عضلات اورہڈیوںکااساسی مادہ 25ویں سے 40ویں دن کے درمیان اکٹھے بننا شروع ہوتا ہے جس کاقرآن پاک مضغہ کے مرحلے کے حوالے سے تذکرہ کرتاہے لیکن تاحال ارتقا کی منزل طے نہیں ہوئی۔ بعدازاں ساتویں ہفتے کے اختتام پرجنین ظاہری انسانی شکل اختیارکرتاہے' تب ہڈیاں بنتی ہیں'عضلات نہیں بنتے۔ آج جدیدعلم جنین بتاتاہے کہ ہڈیاں 42ویں دن کے بعدبنتی ہیں اورایک ڈھانچے جیسی ظاہری صورت نظرآتی ہے۔ حتّٰی کہ اس مرحلے پر بھی جب کہ ہڈیاں بنتی ہیں'عضلات نہیں بنتے۔ بعدازاں ساتویں ہفتے کے اختتام پر اورآٹھویں ہفتے کے آغاز پر عضلات بنتے ہیں۔ پس قرآن پاک'پہلے علقہ' پھرمضغہ 'پھرعظام'پھرگوشت کا چڑھایا جانا'یہ بیان کرنے میں بالکل درست ہے۔جیساکہ پروفیسر کیتھ مورنے کہاکہ''جدیدعلم جنین نے مراحل کو جس طرح بیان کیا ہے…مرحلہ ایک 'دو'تین'چار'پانچ بہت حیران کن ہیں یعنی غیرواضح ہیں۔ قرآنی مراحل جوکہ جنین کی ظاہری صورت اور شباہت کی بنیاد کے حوالے سے بیان کئے گئے ہیں' بہت فوقیت رکھتے ہیں۔''الحمدللہ
اسی لئے انہوں نے کہا کہ''مجھے یہ تسلیم کرنے پرکوئی اعتراض نہیں کہ حضرت محمدeاللہ کے رسول ہیں اورعظمت والا قرآن پاک اللہ کی نازل کی ہوئی مقدس کتاب ہے۔''
سورہ نساء سورہ نمبر4آیت نمبر56میں''درد'' کا تذکرہ ہے۔ پہلے ڈاکٹر یہی خیال کرتے تھے کہ دردمحسوس کرنے کادارومدارصرف دماغ پر ہی ہے۔آج ہم یہ جان چکے ہیں کہ دماغ کے علاوہ جلد کے کچھ خلیے بھی دردکو محسوس کرتے ہیں جنہیں ہم ''Pain receptors''کہتے ہیں۔قرآن سورہ نساء 'سورہ نمبر4آیت نمبر56میں بیان کرتاہے کہ''اوروہ جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں'ہم انہیں جہنم کی آگ میں ڈالیں گے اورجونہی ان کی جلد جھلس جائے گی' ہم انہیں نئی جلد دیں گے تاکہ وہ درد(کی اذیت)کو(باربار)محسوس کریں۔'' یہ اس امر کی نشاندہی ہے کہ جلد میں ایسی کوئی چیزہے جودرد کو محسوس کرتی ہے۔ جس کوقرآن "pain receptors" قرار دے رہاہے۔
پروفیسرThagada Tagada Shaun نے جوکہ تھائی لینڈ کی چیانگ مائی یونیورسٹی کے شعبۂ تشریح الابدان کے سربراہ ہیں 'صرف اس ایک آیت کی بنیاد پرمسلمان ہوگئے اور ریاض (سعودی عرب)میں آٹھویں میڈیکل کانفرنس کے دوران اعلانیہ گواہی دے دی کہ ''لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ''میںنے عظمت والے قرآن کی سورہ فصلت (حم السجدہ)سورہ نمبر41 آیت نمبر53سے اپنی گفتگوکاآغازکیا جوکہتی ہے''جلدہی ہم ان کو اپنی نشانیاں افق کے دوردراز مقامات تک دکھائیں گے اوران کی اپنی ذاتوں کے اندریہاں تک کہ ان پر واضح ہوجائے کہ یہ سچ ہے۔''
ڈاکٹرتھاگاڈاکے لئے یہی ایک آیت بطورثبوت کافی ثابت ہوئی اور وہ پکاراُٹھے کہ قرآن ایک مقدس الہامی کتاب ہے۔بعض کوشاید10نشانیاں درکارہوں' بعض کو100 لیکن بعض ہزارنشانیاں دئیے جانے کے باوجود سچ کوقبول نہ کریں گے۔ قرآن سورہ بقرہ سورہ نمبر2آیت نمبر18میں ایسے لوگوں کاتذکرہ ان الفاظ سے کرتاہے ''بہرے 'گونگے اوراندھے ہیں'ایسے لوگ حق کی راہ اختیار نہ کریں گے'' بائبل بھی متی کی انجیل 13:13 میں یہی بیان کرتی ہے ''ایسے لوگ دیکھتے ہوئے بھی نہیں دیکھتے'سنتے ہوئے بھی نہیں سنتے اورنہ ہی وہ سمجھیں گے'' اور اگروقت نے اجازت دی توجنین کے دوسرے مراحل کے حوالے سے بھی اعتراضات کامدلل جواب دوں گا'ان شاء اللہ۔

(جاری ہے)




0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔