Tuesday, 1 September 2009

تلازمات -Association of thoughts

0 comments


کسی چیز کو سیکھنے کے دوران قدیم معلومات سے جدید معلومات کا جوڑنا ایک فطری بات ہے۔
سیکھنے کے دوران ہم انجانے طور پر اس طرح کے تلازمات قائم کرتے رہتے ہیں۔
مثلاَ :
وطن کے لفظ کے ساتھ ہی ہمیں اپنے اپنے وطن کا نام یاد آتا ہے۔
کرکٹ کا لفظ سنتے ہی کرکٹ کے اپنے محبوب کھلاڑی کا نام ذہن میں آنا فطری بات ہے۔
"نشیمن" پر کسی شعر کے سنتے ہی دوسرا شعر "نشیمن" کا یاد آ ہی جاتا ہے۔
کسی نظم کا پہلا مصرعہ پڑھتے ہی اس نظم کا دوسرا مصرعہ ذہن میں آتا ہے کیونکہ پہلے مصرعے کے آخری لفظ سے دوسرے مصرعے کے پہلے لفظ میں ایک تعلق اور جوڑ ہمارے ذہن میں جمع ہوا ہوتا ہے۔
پوری نظم کے مصرعوں میں ایک مصرعہ کے اخیر اور دوسرے کے شروع میں ایسے تلازمات قائم ہو جاتے ہیں۔ جب یہ تلازمات ٹوٹتے ہیں تو ہم نظم کو بھولنے لگتے ہیں۔

اعادے (repetition) کی کثرت ، ان تلازمات کے نقوش کو قوی تر بناتی ہے۔

ہم زندگی گزارنے میں سہولت کی خاطر مصنوی تلازمات بنا اور اختیار کر سکتے ہیں۔ مصنوی تلازمات ان تلازمات کو کہتے ہیں جو پہلے سے پائے نہیں جاتے بلکہ پیش آنے والی باتوں میں غور و تدبر سے انہیں قائم کرنا پڑتا ہے۔
اس کی ایک آسان سی مثال اپنی طالب علمی کے زمانے سے پیش کرتی ہوں۔
انگریزی کے دو الفاظ ہیں :
WEEK اور WEAK
پڑھتے وقت میرے لئے یہ فرق کرنا مشکل تھا کہ کون سا لفظ کمزور کے لئے ہے اور کون سا ہفتہ کے لئے؟ کیونکہ یہ دو الفاظ ہم آواز ہیں۔
ہماری کلاس ٹیچر نے ان الفاظ کو یاد رکھنے کا ایک دلچسپ طریقہ بتایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہفتہ میں ایک سے زائد دن ہوتے ہیں اور اس کے لفظ WEEK میں ایک سے زائد E ہوتے ہیں۔
اس "تلازمہ" کو سمجھ لینے کے بعد مذکورہ دشواری باقی نہیں رہی !!

اسی خطوط پر جدید علم کو قدیم علم سے جوڑنے کی اگر ہم مشق کرتے جائیں تو قدم قدم پر بیشمار تلازمات ذہن میں قائم کئے جا سکتے ہیں۔ اس طرح قدیم معلومات گویا کھونٹیاں ہیں جن سے جدید معلومات کو لٹکایا جاتا ہے۔

اسکو انگریزی میں
Association of thoughts
کہتے ہیں اور نظم میں یہ تلازمات بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں‌جسکی وجہ سے نظم بعنیہ یاد ہوجاتی ہے لیکن غزل میں‌یہ صورت نہیں‌ہوتی اس لیے غزل کے اشعار کو اسی ترتیب سے یاد رکھنا کافی مشکل ہوجاتا ہے - جیسے ایک مسخرے کو دیکھ کر آپ کو خواہ مخواہ ہنسی آنا شروع ہوجائے گی چاہے وہ ہنسی والی بات نہ بھی کر رہا ہو - اسی طرح جب آپ کوئی مزاحیہ ڈراما یا سیریل دیکھتے ہیں‌تو ان تلازمات کی وجہ سے بعض اوقات آپ کو نہ ہنسنے والی بات پر بھی ہنسی آجاتی ہے - جو شخص برا لگے اسکی ہربات بری لگتی ہے اور جو اچھا لگے اسکی ہربات اچھی، انہی تلازمات کی وجہ سے ہی یہ ہوتا ہے -

اس سلسلے میں پاولوف کا تجربہ بھی یاد آگیا کہ وہ جب بھی اپنے کتے کو کھانا ڈالتا تو گھنٹی بجاتا - پھر کچھ عرصے بعد یہ ہوا کہ وہ صرف گھنٹی ہی بجاتا تھا تو کتے کی رال بہنی شروع ہوجاتی تھی کیونکہ گھنٹی کے بجتے ہی اس کے ذہن میں کھانا آجاتا تھا - اسی طرح اگر ہم کسی لذیذ کھانے کی تصویر بھی دیکھیں تو ہمارے منہہ میں‌ پانی آجاتا ہے یا کوئی لذیذ شے کا تصور کریں تب بھی ایسا ہوتا ہے - یہ تلازمات کی ہی امثال ہیں -


آپ کو بھی دعوت ہے کہ یہاں اپنے کچھ دلچسپ تلازمات کا ذکر کریں۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔