Wednesday, 2 September 2009

ڈرون (امریکی جاسوسی طیارہ) کی تاریخ

0 comments

کلاشنکوف، سٹنگر میزائل اور گن شپ ہیلی کاپٹر جیسے تباہ کن ہتھیاروں کے ناموں سے پاکستانی انیس سو اسی کی دہائی میں امریکہ کے ایماء پر افغانستان پر سویت یونین کے قبضے کے خلاف لڑے جانے والے جہاد کے دوران روشناس ہوئے۔

عام پاکستانی دو عالمی طاقتوں کے اس ٹکراؤ سے پہلے ان لفظوں سے بالکل ناآشنا تھے۔

سن دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے نے پاکستانیوں کو ان سے کہیں زیادہ خطرناک جدید ہتھیاروں اور بموں ’ڈیزی کٹر، بنکر بسٹر، کروز میزائل، شنوک ہیلی کاپٹروں، ڈرون اور ان پر نصب ہیل فائر میزائلوں سےآشنا کر دیا۔

پاکستان میں بسنے والا آج شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو ڈرون کے نام سے واقف نہ ہو۔

ڈرون یا بغیر پائلٹ کے جہاز کے لیے امریکی فوج میں انگریزی زبان کا لفظ ’میِل‘ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لفظ کا اگر اردو میں ترجمہ کیا جائے تو اس کا مطلب نر ہو گا۔

ایک ڈرون سسٹم میں چار جہاز شامل ہوتے ہیں

اصل میں میل مخفف ہے ’میڈیم ایلٹیٹوڈ لانگ اینڈورینس‘ کا۔ ابتداء میں بغیر پائلٹ کے جہاز یا ’پریڈیٹر‘ کو دشمن کے علاقے میں فضائی جاسوسی یا نگرانی کرنے کے مقصد سے بنایا گیا تھا لیکن بعد میں اس پر اے جی ایم ہیل فائر میزائل بھی نصب کر دیئے گئے۔

سن انیس سو پچانوے سے امریکی فوج کے زیر استعمال یہ ڈرون افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں سے پہلے بوسنیا، سربیا، عراق اور یمن میں بھی استعمال کیئے جا چکے ہیں۔

ڈرون صرف ایک جہاز ہی نہیں بلکہ یہ ایک پورا نظام ہے۔ اس پورے نظام میں چار جہاز، ایک زمینی کنٹرول سٹشین اور اس کو سیٹلائٹ سے منسلک کرنے والا حصہ ہوتا ہے۔ اس نظام کو چلانے کے لیے پچپن افراد کا عملہ درکار ہوتا ہے۔

پینٹاگن اور سی آئی اے انیس سو اسی کی دہائی کے اوائل سے جاسوسی کے لیے ڈرون طیاروں کے تجربات کر رہے تھے۔

انیس سو نوے میں سی آئی کو ابراہم کیرم کے بنائے ہوئے ڈرون میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ ابراہم کیرم اسرائیلی فضائیہ کا چیف ڈیزائنر تھا جو بعد میں امریکہ منتقل ہو گیا۔

ڈرون انیس سو نوے کی دہائی میں مختلف تجرباتی مراحل سے گزرتا رہا اور انیس سو پچانے میں پہلی مرتبہ اسے بالکان میں استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ڈرون کے بارے میں حقائق

بنیادی کام: جاسوسی اور اہداف کو نشانہ بنانا
بنانے والے: جنرل اٹامکس ایئروناٹیکل سسٹم انکارپویٹڈ
انجن: روٹیکس 914 ایف چار سلنڈر
قوت: ایک سو پندرہ ہارس پاؤر
پروں کا پھیلاؤ: اڑتالیس اعشاریہ سات فٹ
لمبائی: ستائس فٹ
اونچائی: چھ اعشاریہ نو فٹ
وزن: ایک ہزار ایک سو تین پاؤنڈ
اڑان کا وزن: دو ہزار دو سو پچاس پاؤنڈ
ایندھن کی گنجائش: چھ سو پینسٹھ پاؤنڈ
رفتار: چوراسی میل فی گھنٹہ سے ایک سو پینتیس میل فی گھنٹہ
مار: چار سو پینتالیس میل
پرواز کی بلندی: پچیس ہزار فٹ
ہتھیار: دو لیزر گائڈڈ میزائل

افغانستان پر فوجی چڑھائی سے قبل امریکی فضائیہ ساٹھ کے قریب پریڈیٹر طیارے حاصل کر چکی تھی اور ان میں بیس مختلف کارروائیوں میں ضائع ہو گئے تھے۔ ضائع ہونے والے زیادہ تر موسمی خرابیوں کی وجہ سے تباہ ہوئے۔

انتہائی کم درجہ حرارت کی وجہ سے پیدا ہونے والی فنی خرابیوں کے باعت بعد میں ان طیاروں کو برف پگھلانے والے آلات اور ٹربو چارج انجنوں سے لیس کر دیا گیا۔


ڈرون کی کم از کم دو پروازوں میں قندہار کے قریب ترناک کے فارمز پر سفید لباس میں ملبوس ایک طویل قامت شخص جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسامہ بن لادن تھے دیکھا گیا۔



سن دو ہزار ایک میں افغانستان میں پریڈیٹر جہاز کے جاسوسی مشن کے نتائج دیکھنے کے بعد سی آئی کے انسداد دہشت گردی کے مرکز کے سربراہ کوفر بلیک نے اسامہ بن لادن کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون جہازوں پر میزائل نصب کرنے کی ضرورت پر زور دینا شروع کیا۔

بائیس مئی اور سات جون سن دو ہزار ایک میں ڈرون سے میزائل داغنے کے مزید تجربات کیئے گئے اور جون کے پہلے ہفتے میں امریکہ کے نیواڈا صحرا میں افغانستان کے صوبے قندہار کے علاقے ترناک میں اسامہ بن لادن کے گھر کی طرح کا ایک گھر بنایا گیا اور اس پر ڈرون سے میزائل داغا گیا۔ یہ میزائل اس گھر کے کمرے میں پھٹا اور یہ فرض کیا گیا کہ اس کمرے میں موجود بہت سے لوگ ہلاک ہو گئے۔

تاہم ستمبر دو ہزار ایک میں امریکہ پر ہونے والے حملوں سے پہلے ڈرون کو میزائل داغنے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔

سی آئی اے اور پینٹاگن نے سن دو ہزار میں مشترکہ طور پر افغانستان میں اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے کا پلان بنایا۔ اس پلان کو
’افغان آئیز‘ کا نام دیا گیا اور ڈرون طیاروں کا ساٹھ دن کی تجرباتی پروازیں شروع کی گئیں۔

اس سلسلے کی پہلی تجرباتی پرواز سات ستمبر دو ہزار کو کی گئی۔ وائٹ ہاؤس کے سیکیورٹی چیف رچرڈ اے کلارک ان تجرباتی پروازوں کے نتائج سے بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں اسامہ بن لادن کو ڈرون سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

رچرڈ کلارک، سی آئی اے کے کاونٹر ٹریورزم کے سینٹر کے چیف کوفر بلیک اور سئی آئی اے کے خفیہ معلومات اکھٹی کرنے والے آپریشن کے انچارج چارلس ایلن امریکی انتظامیہ کے وہ تین اعلی اہلکار تھے جنہوں نے فوری طور پر ڈرون کی تجرباتی پروازوں کی حمایت کی۔

ڈرون کی افغانستان کے اوپر پندرہ میں سے دس پروازوں کو کامیاب قرار دیا گیا۔ ڈرون کی کم از کم دو پروازوں میں قندہار کے قریب ترناک کے فارمز پر سفید لباس میں ملبوس ایک طویل قامت شخص جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسامہ بن لادن تھے دیکھا گیا۔

اُس سال اکتوبر کے مہینے میں موسم سرد ہو جانے کے ساتھ ازبکستان سے ڈرون کی پروازیں کرنا ممکن نہیں رہا۔

چار ستمبر دو ہزار ایک کو بش انتظامیہ کی طرف سے القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائی کی منظوری دینے کے بعد سی آئی اے کے چیف جان ٹینٹ نے ڈرون کی پروازوں کی اجازت دی۔ اسوقت تک ڈرون سے میزائل داغنے کی صلاحیت حاصل کر لی گئی تھی لیکن ازبکستان کی حکومت کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے ڈرون پر میزائل نصب نہیں کیئے گئے۔

گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ نے فوری طور پر ڈرون کے لیے ہیل فائر میزائل روانہ کر دیے اور سولہ ستمبر تک یہ ازبکستان میں امریکی اڈوں پر پہنچ گئے تھے۔اٹھارہ ستمبر دو ہزار ایک کو کابل اور قندہار کے اوپر پہلی مرتبہ ڈرون جہازوں نے پروازیں کیں لیکن اس وقت ان پر میزائل نصب نہیں تھے۔

فروری دو ہزار چار کو ڈرون نے ایک قافلے کو نشانہ بنایا جس میں القاعدہ کے ایک رہنما ہلاک ہو گئے۔ خفیہ اہلکاروں کا ابتدائی طور پر خیال تھا کہ یہ اسامہ بن لادن تھے۔
بی بی سی/ اردو

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔