Tuesday, 1 September 2009

قرآن اوربائبل سائنس کی روشنی میں(آخری قسط)

0 comments
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم


قرآن اوربائبل سائنس کی روشنی میں(آخری قسط)
ڈاکٹر ذاکر نائیک اور ڈاکٹرولیم کیمپبل کے درمیان آخری فیصلہ کن نشست

http://tariqraheel.blogspot.com/2009/09/1.html


مترجمین:انجم سلطان شہباز' سیدعلی عمران اصلاح ونظرثانی: قاضی کاشف نیاز
ڈاکٹرولیم کیمپبل کاخطاب( گزشتہ سے پیوستہ)
تیسری پیش گوئی:…ایک پیغام برمسیح uکاراستہ ہموار کرے گا۔یہ کام Malachi(ملاکی) کے ذریعے ہوا۔ باب 400,3:1قبل مسیح میں…''دیکھو! میں اپناپیغام بربھیجوں گا جومجھ سے پہلے رستہ ہموارکرے گا اور جس آقاکی تمہیں تلاش ہے' اچانک اُس کی عبادت گاہ میں آئے گا۔ میزبانوں کاآقا کہتا ہے کہ خانقاہ کے جس پیغام برسے تمہیں خوشی ہوگی دیکھو!وہ آرہاہے۔'' یہ پیش گوئی اگلے ہی روز پوری ہوئی ہے۔ John the Baptist 'یحییٰ ابن زکریانے عیسیٰ uکو اپنی طرف آتے دیکھا اورکہا''دیکھوخدا پرقربان ہونے والاجودنیا کے گناہ دھوڈالے گا۔''یہ وہی ہے جس کے بارے میں مَیںنے کہاتھا ''میرے بعدایک شخص آئے گاجس کامقام ومرتبہ مجھ سے پہلے ہے 'اس لئے کہ وہ مجھ سے پہلے موجودتھا۔''اوراس امر سے قرآن بھی متفق ہے۔ سورة آل عمران آیت نمبر39تا41 میں بیان ہے کہ ''یحییٰ آئے گا جوخداکے ''کلمہ'' کی سچائی کی گواہی دے گاجس کانام یسوع مسیح ہوگا'جومریم uکابیٹا ہوگا۔'' بتائیے کہ کتنے رہنماؤں کانقیب پہلے آیاتھا؟ اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے ۔میں بس یوں کہہ سکتاہوں ایک ہزار میں سے ایک رہنماایساہوگاجس کانقیب پہلے آیاتھا۔
چوتھی پیش گوئی:…''عیسیٰ uبہت ساری نشانیاں اور معجزے پیش کریں گے۔ 750:Isaiah میں ہم پڑھتے ہیں ''خوفزدہ دل والوں سے کہہ دوکہ تقویت پکڑیں اور خوفزدہ نہ ہوں۔تمہارا خداآئے گا اورتمہیں بچائے گا۔ پھر اندھوں کی آنکھیں کھل جائیں گی اوربہروں کے کانوں سے رکاوٹیں دور ہوجائیں گی'تب لنگڑا ہرن کی طرح چھلانگیں لگائے گا اور گونگے کی زبان خوشی سے پکاراٹھے گی۔''بائبل اورقرآن بھی تکمیل کے بارے میں بیان کرتے ہیںکہ عیسیٰ uنے بہت سے معجزے دکھائے۔ بائبل میں زیادہ معجزے دکھانے والے صرف چار پیغمبروں کاذکرہے۔موسیٰ' الیاس Elaisha اور عیسیٰ i۔ عیسیٰ uفردواحدہیں جنہوں نے پیش گوئیوں میں مذکور چاروں قسم کے معجزے دکھائے اوربعض اوقات جتنے لوگ آئے ' سب کوشفایاب کردیا۔ چونکہ بہت سارے مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ کل انبیاء 1,24,000 تھے'ہم اس تعداد کے حوالے سے کہیں گے کہ عیسیٰ uاپنی انفرادیت میں یکتاتھے۔
پانچویں پیش گوئی:…ان نشانیوں کے باوجوداس کے بھائی اس کے خلاف تھے۔ایک ہزارقبل مسیح داؤدu کے گیت میں وہ کہتاہے ''میں اپنے بھائی کے لئے اجنبی بن گیا ہوں'اپنی ماں کے بیٹوںکے لئے نامانوس۔'' اورJohn نے تکمیل کی''پس اُس کے بھائیوں نے یہ جگہ چھوڑدینے اور ''جودیا''جانے کے لئے کہاکیونکہ اُس کے بھائی بھی اُس کا یقین نہیں کرتے تھے۔'' ایک سوال پیداہوتاہے کہ ایک حکمران کے کتنے رشتے داراُس کے خلاف ہوںگے؟بہت سے بادشاہوں کااُن کے اپنے رشتہ داروں نے تختہ اُلٹا۔اس لئے ہم کہیں گے کہ پانچ میں سے ایک یاابتداً بیس کے لگ بھگ تو ہوں گے۔
چھٹی پیش گوئی:…یہ زکریاuنے520 قبل مسیح میں کی''اے قومِ یہودکی بیٹی! خوشیاںمنا'پکاراے بنتِ یروشلم! دیکھو تمہارا بادشاہ تمہارے پاس آرہاہے۔ وہ منصف اورنجات دہندہ ہے۔ بڑی سادگی سے اورگدھے پرسوار۔''تکمیل!اگلے دن ایک بہت بڑا ہجوم زیتون کی کچھ شاخیں لئے ہوئے اس کے استقبال کے لئے چلاتے ہوئے باہرآیا''نعرۂ تحسین''۔ رحمت ہو اس پرجواپنے آقا کے نام پرآیا۔ بنی اسرائیل کے بادشاہ پررحمت ہو۔ عیسیٰ uکو ایک جوان گدھاملا اوروہ اس پر بیٹھ گئے۔ یقینی امرہے کہ عیسیٰu نے گدھے کاانتخاب سواری کے لئے کیا۔یہ کوئی معجزہ نہیں ہے'نہ ہی یہ کوئی غیرمعمولی بات ہے۔ تاہم ہجوم وہاں موجودتھا جس نے ان کی تعظیم کی اور کہا''رحمت ہواس پرجوآقاکے نام سے آیاہے۔'' یروشلم میں کتنے حکمران داخل ہوئے لیکن کتنے ایک گدھے پرسوار یروشلم میں داخل ہوئے؟آج کل کے حکمران تومرسڈیز گاڑی پر آتے ہیں توجیساکہ میں نے کہا کہ سومیںسے ایک حکمران ایساہوسکتا ہے۔
ساتویں پیش گوئی:…عیسیٰuنے عبادت گاہ کی تباہی کی خبردی اوریہ پیش گوئی خودانہوں نے کی۔ عیسیٰu نے 30ء میں کسی وقت یہ بات بتائی تھی۔جب وہ عبادت گاہ سے باہر نکل رہے تھے توان کے ایک حواری نے کہا''استاد محترم! دیکھئے کتنے خوبصورت پتھرہیں اورکتنی خوبصورت عمارتیں۔'' اور عیسیٰ uنے اس سے کہا''کیاتم یہ عظیم الشان عمارتیں دیکھ رہے ہو؟ ایک پتھربھی ایسانہ رہے گا جوپھینکانہ جائے گا۔'' تکمیل :تقریباً 40سال بعد70ء میں رومن جنرل ٹائٹس (Titus) نے ایک طویل محاصرے کے بعدیروشلم پرقبضہ کیا۔ ٹائٹس کا ارادہ عبادت گاہ سے درگزر کرنے کاتھالیکن یہودیوں نے اسے آگ لگادی۔ یہودیوں کے لئے بغاوت کرنااورپھرکچلے جانا ایک معمول تھا۔ پس میں نے کہاتھاکہ(ایسی پیش گوئی کے پورا ہونے کا)امکان پانچ میں سے ایک ہے۔
آٹھویں پیش گوئی:…عیسیٰ uکومصلوب کیاجائے گا۔ Psalmsمیں جسے داؤد uنے1000قبل مسیح لکھاتھا''بڑے لوگوں کے ایک گروہ نے مجھے گھیرا ڈال رکھا ہے۔ انہوں نے میرے ہاتھ اورپاؤں چھید دئیے ہیں۔'' داؤد u نے اس طرح وفات نہ پائی۔وہ تواپنے بسترپر فوت ہوئے۔ ان کے ہاتھ پاؤں نہیں چھیدے گئے تھے۔ Luke (لوقا)نے ہمیں تکمیل کے بارے میں بتایا''جب وہ "The skull" نامی جگہ پرآئے توانہوں نے جرائم پیشہ لوگوں کے ساتھ عیسیٰ uکوبھی مصلوب کیا۔ایک ان کے داہنی طرف اور ایک بائیں طرف۔'' ہمارا سوال یہ ہے کہ کتنے لوگوں میں سے ایک کو مصلوب کیاگیا؟ تومیں نے کہا' دس ہزار میں سے ایک۔
نویں پیش گوئی:…وہ اس کے کپڑے بانٹ لیں گے اور ان کے جُبّے کے لئے قرعہ ڈالیں گے۔ یہ بھی داؤد uکا قول ہے''انہوں نے میرے کپڑے آپس میں بانٹ لیے اور لباس کے لئے قرعہ ڈالا۔'' توJohnنے ہمیں باب 19 میں تکمیل کے بارے میں بتایا''جب فوجیوں نے عیسیٰ uکو مصلوب کیا توانہوں نے ان کے کپڑے لے لئے اورچار حصے کیے' ہرایک کے لئے ایک حصہ'صرف زیرجامہ باقی بچا۔'' یہ کپڑا ان سلاتھا۔ ایک ہی بُنائی کابناہوا'اوپر سے نیچے تک۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ٹکڑے نہیں کرتے۔آؤ قرعہ اندازی سے فیصلہ کریں کہ کس کوملے گا۔توکتنے مجرم اَن سلے لباس والے ہوں گے؟آپ خودہی فیصلہ کرسکتے ہیں تاہم میں نے کہا تھاکہ ایک سو میں سے ایک۔
دسویں پیش گوئی:…''اگرچہ وہ معصوم ہے لیکن موت کے بعداس کا شمارمکار اور دولت مندوں میں ہوگا۔''
Isaiahنے750قبل مسیح میں کہا ''اسے موت کے بعدمکاروں اوردولت مندوں والی جگہ قبرملی۔ اگرچہ اپنی حیات میں اس نے کوئی تشددنہیں کیا تھا اورنہ ہی دھوکہ دہی لیکن اس کاشمارحد سے تجاوزکرنے والوں میں ہوا۔''Mathew نے تکمیل دی…انہوںنے اس کے ساتھ دوڈاکوؤں کومصلوب کیا۔ جب شام ہوئی توArimatheaسے ایک امیر آدمی وہاں پہنچاجس کانام یوسف تھا' عیسیٰuکاایک حواری' اس نے Pilate جاکر عیسیٰ uکے جسدِ خاکی کے بارے میں دریافت کیا ۔یوسف نے میت کولینن کے ایک صاف کپڑے میں لپیٹ کر اپنے مقبرے میں رکھ دیاتھا۔ بتائیے سزائے موت پانے والے مجرموں میں کتنے معصوم تھے؟میں نے کہا تھا کہ دس میں سے ایک اورکتنے معصوم یامجرم لوگوں کودولت مندوں کے ساتھ دفن کیا گیا؟ میں نے کہاتھا' سومیں سے ایک۔ یہ توایک ہزار میں سے ایک ہوا۔
اب آخرمیں پیش گوئی …مرنے کے بعدوہ مردوں میں سے جی اٹھے گا۔ Isaiah میں دوبارہ بیان ہے ''کیونکہ اس کازندہ لوگوں کی دنیا سے ناطہ ٹوٹ گیاتھا۔ وہ مرگیا اوراگرچہ آقانے اس کی زندگی کوگناہ کا چڑھاوا بنایا تاہم وہ اپنی ذریت کودیکھے گا اور اس کی مدت کوطول دے گا۔ پس یہ ایک پیش گوئی ہے کہ وہ دوبارہ زندہ ہوگا۔ Luke نے ہمیں بتایا کہ عیسیٰ uخود ان کے درمیان کھڑے ہوئے اوران سے کہا''تم پر سلامتی ہو۔'' پھرپال نے ہمیں 1:15 Corin thains میں بتایا ہے کہ عیسیٰu پیٹر(پطرس )سے ملے اور پھر بارہ حواریوں سے۔اس کے بعدپانچ سو سے زیادہ (دینی) بھائیوں سے بیک وقت ملے جن میں سے زیادہ تراب بھی زندہ ہیں۔پھرجیمز سے ملے جوان کانسبتی بھائی تھا اور پھرتمام نمائندوں سے۔لیکن یہ ایسی بات نہیں ہے جس کی آپ قدر کرسکیںاس لئے اب ہم اعدادوشمار کاجائزہ لیتے ہیں۔ دنیا بھر میں کتنے لوگوں میں سے ایک ساری کی ساری دس پیش گوئیاں پوری کرے گا؟ اس سوال کاجواب تمام اندازوں کوضرب دے کر دیاجاسکتاہے۔سارے اعدادوشمارکوبیان کرنے کے لئے میرے پاس وقت نہیں ۔تاہم جواب یہ ہے کہ صفریں 2x2.78x10x28.28 میں سے ایک۔آئیں اس عددکو آسان اورمختصر کریں تویوں کہیں گے 28(10)میں سے ایک۔ دنیامیں پیداہونے والے انسانوں کی کل تعداد کے بارے میں بہترین اندازہ 8.8بلین کے قریب ہے۔ یہ 1x1011 عددبنتاہے۔دونوں اعدادکوباہم تقسیم کرنے کے بعد ہمیں پتہ چلتاہے کہ دنیامیں آج تک کسی ایسے انسان کا وجود خوش قسمتی سے پوری دس پیش گوئیوں کی تکمیل کاامکان 17(10) میں سے ایک ہے یعنی سترہ صفروں والاعدد۔ آئیں کوشش کریں اور اندازہ لگائیں۔اگرآپ پوری ریاست ٹیکساس کوایک ڈالر کے سکوں سے تین فٹ(ایک میٹر)گہرائی تک ڈھانپ دیں جن میں سے ایک سکے پرمخصوص نشان لگا ہو اور پھرمیں آپ سے کہوں کہ ریاست ٹیکساس کی حدود سے مطلوبہ سکہ نکال لائیں۔ خوش قسمتی کے امکان کے باوجودآپ کے مطلوبہ سکہ نکال لانے کی یہ کیفیت ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں کوئی امکان نہیں ہے۔
مجھے ذرادقت ہورہی ہے'ذرا ساتوقف کریں۔اور بہت سی پیش گوئیاں ہیں۔یہ سب ظاہرکرتی ہیں کہ نبی داؤدu یا Isaiah پہلی نشانی ہیں۔ خداکاپیش گوئیاں پوری کرنا دوسری نشانی ہے اور خدا نے عیسیٰ uکے حواریوں کویہ سب لکھنے کی توفیق دی۔ یہ تمام ثبوت ہیں'بائبل کے سچاہونے اورمنجانبِ خداوند یہوداہونے کے۔ بائبل میں بیان ہے کہ ''عیسیٰ uخدا کی طرف سے آئے اور ہمارے گناہوں کاکفارہ اداکیا۔'' یہ اچھی خبرہے۔ قرآن کی خبربہت سخت گیرہے۔ سورہ نحل آیت نمبر61میں بیان ہے :
''اگر اللہ لوگوں کی پکڑغلطیوں کے باعث کرتاتوزمین پر کوئی زندہ نہ بچتا۔''
مسئلہ یہ ہے کہ قرآن بہت واضح طورپرایسے لوگوں کوبھی 'جنہوں نے بہترین عمل کیے' صرف ایک ''غالباً'' (امکان 'نہ کہ یقینی تشفی)دیتاہے۔
سورہ القصص آیت نمبر67میں بیان ہے ''غالباً'' جو شخص (اپنے کیے پر)پچھتائے گا اورایمان کے ساتھ ساتھ اعمال صالح بھی بجالائے گا'شایدوہ کامران لوگوں میں سے ایک ہو۔''
سورہ تحریم آیت نمبر8میں بیان ہے ''اے ایمان والو! اللہ کے حضورخلوصِ نیت سے پشیمانی کااظہار کرو تاکہ شاید وہ تمہارے گناہ معاف کردے۔''
سورہ توبہ آیت نمبر18میں بیان ہے ''اللہ کی مساجد میں صرف وہی عبادت کریں گے جواللہ اورآخرت پرایمان رکھتے ہیں اور عبادت کاحق ادا کرتے ہیں اور خیرات دیتے ہیں اور اللہ کے سواکسی سے نہیںڈرتے اورشایدیہی لوگ ہیں جوہدایت یافتہ ہیں۔''
اختتامیہ انتہائی اُداس کن ہے۔ اگرایک شخص ایمان نہیں رکھتاتووہ یقینی طورپر جہنم میں جائے گا لیکن اگر وہ ایمان رکھتا ہے 'آخرت پرتووہ اللہ کے رحم وکرم کامحتاج ہے۔ کوئی سفارش کرنے والاہے نہ کوئی دوست اوروہ محض اُمید کرسکتاہے کہ غالباً شاید ہوسکتاہے کہ وہ بخشے جانے والوں میں سے ہو۔ یہ بہت کڑی خبرہے۔ لغت میں موجودتمام معانی شاید'غالباً ممکن ہے' ہوسکتاہے وغیرہ ہیں(یقینی نجات والی کوئی خبرنہیں)۔ انگریزی سے عربی والی آکسفورڈ ڈکشنری میں Perhaps کامعنی 'asaha' (عسیٰ)ہے۔ممکن ہے یہ سچ ہو لیکن بہت کڑوا ہے۔دوسری طرف بائبل میں اچھی خبر ہے۔ بہت سے لوگوں کے لئے اپنی زندگی تاوان کے طورپر دینے کے لئے۔ایک اور آیت نمائندے پال کی طرف کہتی ہے ''اگرتم منہ سے کہہ دو کہ عیسیٰ uآقاہیں اوراپنے دل میں عقیدہ رکھو کہ خدانے انہیں مردوں میں سے اُٹھایاتوبس تمہاری نجات کی راہ ہموار ہے۔'' یہ بہت شاندار اچھی خبرہے۔ آپ نے میرے ساتھ ان تکمیل شدہ پیش گوئیوں کوثبوت کے طورپرپڑھاہے۔ عیسیٰ uکو مُردوں میں سے جی اٹھنے کے بعد پانچ سوسے زیادہ لوگوں نے دیکھا۔ آثارِ قدیمہ کی بہت سی دریافتوں نے بائبل کی تصدیق کی ہے۔ میں ترغیب دیتاہوں کہ آپ بائبل (Gospel) کاایک نسخہ لیں'اسے پڑھیں۔آپ اپنی رُوح کے لئے اچھی خبرپائیں گے۔آپ سب پرخداکی رحمت ہو۔ شکریہ

ڈاکٹرمحمد:
اب میں ڈاکٹرذاکرنائیک کودعوت دیتاہوں کہ وہ ڈاکٹر ولیم کیمپبل کے لئے جوابی خطاب پیش کریں۔
ڈاکٹرذاکرنائیک کادندان شکن جواب:
محترم ڈاکٹرولیم کیمپبل 'ڈائیس پرموجود شخصیات 'میرے محترم بزرگو' میرے عزیزبھائیو اوربہنو! میں ایک دفعہ پھر آپ کواسلامی طریقے سے خوش آمدیدکہتاہوں۔
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ…!!
آپ سب پراللہ تعالیٰ کی سلامتی' رحمت اوربرکتیں نازل ہوں۔ڈاکٹرولیم کیمپبل نے میرے اُٹھائے ہوئے 22 اعتراضات میں سے صرف دو کاتذکرہ کیا ہے۔ پہلانکتہ جو انہوں نے بیان کیا یہ ہے کہ ان کے خیال میں بائبل میں مذکور ''دنوں'' کو''طویل عرصوں'' کے معنوں میں لیاجاسکتاہے۔ میں اپنے خطاب میں پہلے ہی اس کاجواب دے چکاہوں کہ اگرآپ قرآن کی طرح یہاں بھی''دنوں''کو''طویل عرصوں'' کے معنی میں لیں تب بھی آپ صرف دومسئلے حل کرسکتے ہیں'چھ دن کی تخلیق کامسئلہ ' پہلے دن روشنی آئی اور تیسرے دن زمین۔ باقی چار مسئلے اپنی جگہ موجودہیں۔ پس ڈاکٹرولیم کیمپبل نے محض یہ کہنے پراکتفاکیا کہ دنوں سے مراد طویل عرصے ہیں اور تب بھی انہوں نے چھ میں سے دوسائنسی غلطیاں حل کرنے کی کوشش کی۔ باقی چار' کائنات کی تخلیق کے بارے میں وہ متفق ہیں جوکہ اچھی بات ہے اوروہ کہتے ہیں کہ اس کاجواب دینامشکل ہے اور دوسرا نکتہ جس پرانہوں نے اظہارِ خیال کیا'وہ Mark باب 16' آیت نمبر17اور18'سائنسی ٹیسٹ کے بارے میں انہوں نے کہا''مراکش میں ان کا ایک ہیری نامی دوست یاجو بھی اس کانام تھا'اس نے ''خسخس'' کھایا۔بائبلKings James Version جس کاڈاکٹر ولیم کیمپبل نے حوالہ دیا ہے' بائبل کہتی ہے''مہلک زہرپیا''…کھایانہیں'''پیا''۔ اس کے باوجودمیں برانہیں مناتا۔ اگرکوئی شخص مہلک زہرکو''کھاتا'' ہے' تب بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ مجھے بتایاگیا ہے کہ دنیامیں دوارب عیسائی ہیں'کوئی ایک بھی سامنے نہیں آسکتا'دوارب میں سے ایک بھی؟اورمیرا خیال تھا کہ ڈاکٹرولیم کیمپبل ایک سچے عیسائی مومن ہیں'میں نے اُن سے اس آزمائش سے گزرنے کے لئے کہاتھانہ کہ ان کے دوست سے جو کہ پہلے ہی مرچکاہے اورانہوں نے کہاکہ ''منہ سے خون نکلا۔''ڈاکٹرولیم کیمپبل بخوبی جانتے ہیں'حتّٰی کہ میں بھی بحیثیت ڈاکٹرجانتاہوں کہ زہر خورانی کے باعث خون توآتاہے اور ہم بہت سے ایسے مریضوں کا علاج کرتے ہیں۔آزمائش کی حقیقت تواس صورت میں ظاہر ہوتی ہے کہ آپ زہرخورانی کے بعد غیرملکی زبانیں بولنے کے قابل بھی رہیں۔ڈاکٹر ولیم کیمپبل نے کہاکہ آپ Gospel of Mark باب16پڑھ کر دیکھیں 'اس زمانے کے لوگ مانوس اوراجنبی زبانیں بولتے تھے۔ڈاکٹرولیم کومعلوم نہ تھاکہ باہرہندوستانی بھی موجودہیں۔ یقینا بہت سے گجراتی' مراٹھی جانتے ہیںحتّٰی کہ میں بھی جانتا ہوں۔اگرمیں آپ سے دریافت کروں "shu cheh" فرض کریں میں آپ سے پوچھوںایک مخصوص زبان میں… "Neer kud"…تامل ۔کوئی جواب نہیں آیا۔اجنبی زبانیں…"Neer kud"…کوئی تامل یاملیالم جانتاہے؟
(سامعین )…خوش آمدید!
بہرحال'یہ عیسائیت کے پیرؤوں کے پاس کرنے کاٹیسٹ تھا۔ یہاں بہت سے لوگ ایسے ہیں جوغیرملکی زبانیں جانتے ہیں۔ آپ کوصرف اتناکرناتھانہ ان سے اس طرح کی بات کرتے ''تمہارانام کیاہے؟'تم کیسے ہو؟'' مثلاً کیف حالک عربی میں جو کہ آپ جانتے ہیں۔ نئی زبانیں جوکہ آپ نہیں جانتے تھے۔ آپ نے میرانکتہ ثابت کردیاہے۔ابھی تک میری کسی ایک بھی عیسائی سے ملاقات نہیں ہوئی جس نے میرے سامنے یہ امتحان پاس کیاہو۔ جن ہزارعیسائیوں سے میں بذاتِ خود مل چکاہوں'ان میں سے ایک بھی نہیں۔ اب 1001 ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹرولیم کیمپبل سے ملنے کے بعد۔ڈاکٹرولیم کیمپبل نے میرے بیان کردہ صرف دونکات کاجواب دیا۔انہوں نے میرے 20نکات کاجواب تودیانہیں اورپیش گوئی کے بارے میں بات کرناشروع کردی۔
پیش گوئیوں کامسئلہ:
''بائبل میں سائنس'' سے پیش گوئی کا کیاتعلق ہے؟ اگرپیش گوئی ہی امتحان ہے توناسٹراڈیم کی کتاب' بہترین کتاب قرار دی جانی چاہئے۔ اسے بہترین کتاب کہناچاہئے بلکہ…''خداکاکلام'' تودرست ہوگا۔ انہوں نے نظریۂ امکانات کے بارے میں بات کی۔نظریۂ امکانات سے آپ قرآن مع سائنسی حقائق کاکیسے تجزیہ کرسکتے ہیں۔ میری سی ڈی ملاحظہ کریں ''کیاقرآن خداکاکلام ہے'' یہ داخلی ہال میں دستیاب ہے۔ میں نے سائنسی طورپرثابت کیا ہے' آپ نظریۂ امکانات کیسے استعمال کرسکتے ہیں ۔ڈاکٹرولیم کیمپبل نے پیش گوئی کی بنیاد پر استعمال کیا۔ اگرمیں چاہوں توایسی کوشش کرسکتاہوں کہ ان کی بیان کردہ پیش گوئیوں کو غلط ثابت کردوں لیکن میںایساکرنانہیں چاہتا۔ چلئے میں اسے دلیل کے طورپر درست مان لیتاہوں' ہم آہنگی کی مذاکراتی فضاکے لئے کہ انہوں نے جوبھی پیش گوئیاں بیان کی ہیں' درست ہیں ۔ لیکن اگرایک بھی پیش گوئی کی تکمیل نہیں ہوئی توساری بائبل خدا کے کلام کے حوالے سے مسترد ہو جائے گی۔ میں آپ کو غیر تکمیل شدہ پیش گوئیوں کی فہرست دے سکتاہوں۔
مثال کے طورپراگرآپ 4:12Genesis پڑھیں' وہاں بیان ہے''خدانےCain کوبتایا:تم کبھی قیام پذیری کے قابل نہ ہوگے 'تم ایک آوارہ گردرہوگے۔'' Genesisمیں چندآیات کے بعد 4:17میں بیان ہے ''Cain نے ایک شہربسایا'' غیرتکمیل شدہ پیش گوئی۔ اگرآپ یرمیاہ 36:30 پڑھیں تووہاں بیان ہے کہ یہودا(1)جوکہ باپ ہے یہودا(ii)کا…کوئی اس کے تخت پربیٹھ نہ سکے گا' داؤد uکا تخت'یہودا کے بعدکوئی بھی نہ بیٹھ سکے گا۔'' اگراس کے بعد آپ Kings دوم 24:16 پڑھیں توبیان ہے کہ ''یہودا(i)جب مرگیا تواس کے بعدیہودا(ii)تخت نشین ہوا۔'' غیرتکمیل شدہ پیش گوئی ۔ایک ہی ثبوت کافی ہے کہ یہ خدا کا کلام نہیں ہے۔ میں بہت ساری مثالیں دے سکتاہوں۔ اگر آپ حزقیل باب 26پڑھیں تووہاں لکھاہے کہ ''بخت نصر شہر Tyre کوتباہ کرے گا۔'' جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ Tyre کو سکندرِ اعظم نے تباہ کیا تھا۔ غیرتکمیل شدہ پیش گوئی ۔ 7:14Isaiah پیش گوئی کرتی ہے''ایک شخص آئے گا جو ایک کنواری کے ہاں پیداہوگا' اس کانام ایمانوئیل (Emmanuel) ہو گا ۔ '' عیسائی کہتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت عیسیٰu ہیں'ایک کنواری کے ہاں پیدا ہونے والے۔ وہاں عبرانی کالفظ "amla" ہے جو''ایک کنواری'' کے معنی نہیں رکھتا بلکہ ''ایک نوجوان عورت'' مراد ہے۔ عبرانی زبان میں کنواری کے لئے "baitula" کالفظ ہے۔ چلیں اس بات کو جانے دیں۔یہ کہاگیاہے''اسے ایمانوئیل کہہ کر پکارا جائے گا۔'' بائبل میں کہیں بھی حضرت عیسیٰ uکوایمانوئیل کہہ کر مخاطب نہیں کیاگیا۔ غیرتکمیل شدہ پیش گوئی۔ میں بے شمار غیرتکمیل شدہ پیش گوئیاں بیان کرسکتاہوں جبکہ بائبل کوغلط ثابت کرنے کے لئے صرف ایک ہی کافی ہے۔ میں نے چند ایک مثالیں بیان کی ہیں۔آپ کے نظریۂ امکانات کے حوالے سے بھی بائبل خداکاکلام ثابت نہیں ہوتا ہے۔ڈاکٹرولیم کیمپبل نے کہاکہ''قرآن کے مطابق الیاس uنے جنگ جیتی جب کہ بائبل کے مطابق الیاس uنے جنگ ہاری۔ بات جوبھی تھی اس کامطلب یہ ہرگزنہیں ہوسکتاکہ بائبل صحیح ہے اور قرآن غلط۔ اگربائبل اورقرآن میں اس ضمن میں تضاد پایاجاتا ہے توآپ کویہ گمان ہونے لگاکہ بائبل غلط۔یہ بھی ہوسکتاہے کہ دونوں غلط ہوں اوریہ بھی ہوسکتاہے کہ دونوں صحیح ہوں۔ پس اگر ہم یہ تجزیہ کرناچاہیں کہ دونوں میں سے غلط کون سی کتاب ہے تو ہمیں کیا کرناہوگا؟ ہمیں ایک تیسرا غیرجانبدار مستندحوالہ درکارہوگا۔ کیونکہ بائبل کہتی ہے''الیاس uہارے'' اورقرآن کہتاہے ''الیاسu جیتے'' محض اس بیان پریہ کہنا کہ قرآن غلط ہے' یہ غیرمنطقی ہے اورڈاکٹر ولیم کیمپبل نے میری بیان کردہ سائنسی غلطیوں کاجواب دینے کی بجائے نیا غیرمتعلق موضوع چھیڑدیا۔ میں انہی نکات پربات کروں گا جن کے بارے میں وقت کی کمی کے باعث پہلے بات نہ کرسکا۔ انہوں نے چھ سات سے زائد نکات اپنی گفتگومیں بیان کئے ہیں جن کا ان شاء اللہ مختصراً جواب دوں گا۔
روشنی کامسئلہ:
انہوں نے کہاکہ قرآن بیان کرتاہے…میرے حوالے کی کیسٹ دکھائی اور برادرشبیرعلی کاحوالہ بھی دیاکہ ''چاند کی روشنی منعکس شدہ ہے'' اورانہوں نے کہا''اس کایہ مفہوم نہیں ہے۔'' میں دوبارہ عرض کررہاہوں کہ قرآن سورہ فرقان سورہ نمبر25آیت نمبر61میں بیان کرتاہے کہ…''وہی ہے عظمت والاجس نے آسمان میں ستارے سجائے ہیں'ایک روشن چراغ(سورج)اورچاند(منیر)جس کی روشنی (اپنی نہیں بلکہ) منعکس کردہ ہے۔''عربی زبان میں چاند کے لئے لفظ ''قمر'' استعمال کیاگیا ہے۔یہ ہمیشہ ''منیر'' یا''نور'' کے طورپرآیا ہے جس کے معنی''انعکاسِ روشنی'' کے ہیں۔عربی لفظ''شمس'' سورج کے لئے آیاہے۔ یہ ہمیشہ چراغ کے معنی میں آیاہے جس کے معنی ہیں ''ایک بہت تیزروشنی (کامنبع)'' یعنی ''ایک روشن نورانی ہالہ'' اورمیں حوالہ جات دے سکتاہوں 'سورہ نور آیت نمبر 15تا16' سورہ یونس آیت نمبر5اورمزید بھی ہیں اور انہوں نے یہ کہاکہ اگراس کامطلب ہے ''ایک منعکس شدہ روشنی'' اور قرآن کی سورہ نور آیت نمبر35تا36کاحوالہ دیا کہ ''اللہ آسمان وزمین کی روشنی ہے'' لیکن آپ پوری آیت پڑھیں اور پھرتجزیہ کرکے دیکھیں کہ یہ کہتی کیاہے؟ یہ آیت کہتی ہے… ''اللہ روشنی ہے…'نور'آسمان و زمین کا'' یہ توایک تقابل ہے جیسے ایک طاق اورطاق میں رکھاہواچراغ۔ لفظ ''چراغ'' وہاں موجود ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی اپنی روشنی ہے اورمنعکس کردہ بھی۔ جیسے آپ ایک کیمیائی چراغ دیکھتے ہیں۔ آپ لوگ جویہاں موجود ہیں' اس سے واقف ہیں۔چراغ کی بتی کی اپنی روشنی ہے لیکن چراغ کاشیشہ روشنی کومنعکس کررہاہے ۔یعنی دونوں قسم کی روشنیاں ایک جگہ پائی جاتی ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کی 'الحمدللہ' اپنی روشنی کے علاوہ جیسا کہ قرآن کی آیت کہتی ہے''طاق میں ایک چراغ ہے اوراللہ تعالیٰ کے چراغ کی روشنی ذاتی ہے اوراللہ اپنی ذاتی روشنی منعکس کرتاہے۔''ڈاکٹرولیم کیمپبل کہتے ہیں کہ… قرآن کہتاہے کہ…''قرآن نورہے''…یہ روشنی منعکس کررہا ہے۔یقینا قرآن اللہ تعالیٰ کی روشنی اوررہنمائی کومنعکس کررہاہے۔ حضرت محمدeکا''سراج'' ہوناتووہ یقیناایسے ہی ہیں ۔پیارے نبی eکی حدیث ہماری رہنمائی کررہی ہے۔ پس حضرت محمد e''نور'' بھی ہیں اور'' سراج'' بھی۔الحمدللہ
ان کی رہنمائی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اس لئے اگر آپ اس لفظ ''نور'' کوایک منعکس کردہ روشنی کے طورپر استعمال کریںگے اور''منیر'' کوبھی ایک منعکس کردہ روشنی تب بھی الحمدللہ آپ سائنسی لحاظ سے ثابت کرسکتے ہیں کہ چاند کی روشنی اس کی اپنی نہیں ہے بلکہ یہ منعکس کردہ روشنی ہے۔
دوسرے اعتراضات جوڈاکٹرولیم کیمپبل نے اُٹھائے وہ سورۂ کہف آیت نمبر86کے حوالے سے ہیں کہ …
غروب سورج کامسئلہ:
''ذوالقرنین نے سورج کوبے نورپانی میں ڈوبتے دیکھا… کثیف پانی میں''اندازہ کریں کہ سورج کے کثیف پانی میں ڈوبنے کی بات…غیرسائنسی ہے۔عربی لفظ جویہاں استعمال ہواہے'وہ ہے ''وجد''جس کے معنی ہیں''ذوالقرنین کوایسے لگایا محسوس ہوا'' اورڈاکٹرولیم کیمپبل عربی جانتے ہیں'اگرآپ بھی ڈکشنری دیکھیں تواس کے معنی ہیں ''ایسے لگا'' پس اللہ تعالیٰ نے وہ بیان کیا جوذوالقرنین کومحسو س ہوایادکھائی دیا۔اگر میں یہ مثال دوں کہ ''جماعت کے ایک طالب علم نے کہا 'دواور دو پانچ ہوتے ہیں''اورآپ کہیں…''اوہ! ذاکر نے کہا'دواور دوپانچ ہوتے ہیں۔میں نے نہیں کہا۔میں توبتا رہا ہوں…''جماعت کے ایک طالب علم نے کہا 'دواوردوپانچ ہوتے ہیں۔'' میں نے غلط نہیں کہا' طالب علم نے غلط کہا۔ اس آیت کوجانچنے اورتجزیہ کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ایک طریقہ یہ ہے'محمداسد کے بقول کہ''وَجَدَ'' کے معنی ہیں ''ایسے لگا یعنی ایسے محسوس ہوا''… ''ذوالقرنین کوایسے لگا'' نکتہ نمبر2عربی لفظ جواستعمال ہواہے وہ ''مغرب'' ہے۔ یہ وقت کے لئے بھی استعمال ہوسکتاہے اور جگہ کے لئے بھی۔ جب ہم ''غروبِ شمس'' کہتے ہیں تویہ وقت کے معنی میں ہوسکتاہے۔اگرمیں کہوں…''سورج شام7 بجے غروب ہوتاہے۔'' تومیں یہ الفاظ وقت کے لئے استعمال کر رہاہوں۔ اگرمیں یہ کہوں کہ…''سورج مغرب میں غروب ہوتاہے'' اس کامطلب ہے کہ میں یہ الفاظ جگہ کے لئے استعمال کررہاہوں۔ پس اگر ہم یہاں ''مغرب'' کو وقت کے معنی میں لیں توذوالقرنین غروبِ شمس کی جگہ نہ پہنچے تھے اور اگروقت کے معنی میں لیں تووہ غروبِ شمس کے وقت وہاں پہنچے۔ مسئلہ حل ہوگیاہے۔ علاوہ ازیں آپ بہت سے دوسرے طریقوں سے بھی یہ مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔ حتّٰی کہ اگر ڈاکٹرولیم کیمپبل یہ کہتے ہیں …''نہیں نہیں'بلا دلیل تسلیم کردہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی' ایسانہیں ہے''ایسالگا'' ہی حقیقت ہے۔ آئیں اس کامزید تجزیہ کریں۔ قرآنی آیت کہتی ہے''سورج کثیف پانی میں غروب ہوا۔'' اب ہم جانتے ہیں کہ جب ہم ''طلوعِ شمس'' اور ''غروبِ شمس'' جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔کیاسورج طلوع ہوتا ہے؟سائنسی لحاظ سے سورج نہ تو اُبھرتاہے اورنہ ہی ڈوبتاہے۔ ہم سائنسی لحاظ سے جانتے ہیں کہ سورج غروب قطعاً نہیں ہوتا۔ یہ توزمین کی گردش ہے جوسورج کے اُبھرنے اورڈوبنے کے مناظر دکھاتی ہے لیکن اس کے باوجود آپ ہرروز اخباروں میں پڑھتے ہیں۔طلوعِ شمس صبح6بجے اور غروبِ شمس شام7بجے۔ اوہ! توکیا اخبارغلط ہیں' غیرسائنسی! اگر میں لفظ''تباہی (Disaster)''استعمال کروں کہ اوہ! ایک تباہی ہوگئی ہے۔ Disaster کامطلب ہے کہ کوئی تباہی وقوع پذیر ہوگئی ہے۔لفظی معنی کے لحاظ سے Disasterکامطلب ہے ''ایک منحوس ستارہ''۔ پس جب میں یہ کہوں "This Disaster" توہرکوئی جانتاہے کہ میری مراد ''ایک تباہی'' سے ہے 'نہ کہ منحوس ستارے سے۔ ڈاکٹرولیم کیمپبل اورمیں جانتے ہیں جب ایک شخص کو'جوپاگل ہے'ہم اُسے Lunatic کہتے ہیں۔ ہاں یانہیں؟ کم ازکم میں تومانتاہوں اورمجھے اُمید ہے ڈاکٹرولیم کیمپبل بھی ایساہی کریں گے۔ ہم جس شخص کو "a Iunatic" کہتے ہیں'وہ پاگل ہے۔ Lunaticکے معنی کیا ہیں؟ اس کے معنی ہیں''چاند کاماراہوا'' لیکن زبان نے اسی قدرتی عمل سے تدریجاً ترقی کی ہے۔ اسی طرح sunrise' درحقیقت یہ تومحض الفاظ کا استعمال ہے اوراللہ نے انسانوں کے لئے رہنمائی بھی مہیاکی ہے۔ وہ ایسے الفاظ استعمال کرتاہے کہ ہم (بات کو) سمجھ سکیں۔اس لئے یہ محض (لفظ)sunset ہے نہ کہ درحقیقت غروب ہونے کاعمل۔ نہ ہی یہ کہ سورج درحقیقت اُبھررہاہے۔پس یہ وضاحت ہمیں ایک واضح تصویر دکھاتی ہے کہ قرآن کی سورہ کہف آیت نمبر86 تسلیم شدہ سائنس سے متصادم نہیں ہے۔انہوں نے سورہ فرقان آیت نمبر45تا46 کاحوالہ دیاہے کہ ''سایہ بڑھتاہے اورطول پکڑتاہے۔ ہم اسے ساکن بناسکتے ہیں۔ سورج اس کارہنماہے۔'' اوراپنی کتاب میں وہ تذکرہ کرتے ہیں…کیاسورج حرکت کرتاہے؟'' اس آیت میں کہاں لکھاہے کہ …''سورج حرکت کرتاہے۔'' سورہ فرقان آیت نمبر45تا46ہرگزنہیں کہتی کہ سورج حرکت کرتاہے اور وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ''ہمیں مدرسہ ابتدائیہ میں پڑھایا گیا تھا'' اورانہوں نے اپنی گفتگومیں بھی کہاہے کہ ''یہ زمین کی گردش کے باعث ہے کہ سائے بڑھتے گھٹتے ہیں۔''
لیکن قرآن کیا کہتاہے…''سورج اس کارہنما ہے۔'' آج حتّٰی کہ وہ شخص بھی جوسکول نہیں گیا'جانتاہے کہ سایہ سورج کی روشنی کے باعث ہے۔ پس قرآن کاملاً درست ہے۔ یہ نہیں کہتا کہ سورج حرکت کرتاہے اور سایہ بننے کاسبب ہے۔ وہ اپنے الفاظ قرآن میں ڈال رہے ہیں۔ سورج اس کارہنماہے' یہ سائے کی رہنمائی کرتاہے۔ سورج کی روشنی کے بغیرآپ کو سایہ نہیں مل سکتا۔ ہاں'آپ روشنی کے سائے ملاحظہ کرسکتے ہیں لیکن یہ ایک مختلف چیزہے لیکن یہاں اُس سائے کا ذکرہے جو آپ دیکھتے ہیں' جوکہ حرکت کرتاہے' بڑھتاہے اورگھٹتاہے۔
سلیمان uکی وفات:
ڈاکٹرولیم کیمپبل نے سلیمان uکی موت کے بارے میں بات کی۔ سورہ سباء آیت نمبر 12 تا 14 اور کہا کہ ''ذرا تصورکریں کہ ایک شخص چھڑی کے سہارے کھڑا کھڑا موت سے ہمکنار ہوگیا اور کسی کوخبرنہ ہوئی'وغیرہ۔'' اس کی وضاحت کے کئی طریقے یہ ہیں :نکتہ نمبر1'سلیمان uاللہ کے نبی تھے اوریہ ان کا ایک معجزہ ہوسکتا ہے۔ جب بائبل کہتی ہے کہ عیسیٰu مردوں کوزندہ کرسکتے تھے۔ عیسیٰ uایک کنواری کے ہاں پیداہوئے'مردوں کوزندگی دینے والے…یاایک چھڑی کے سہارے طویل عرصہ کھڑے رہنا'ان میں سے کون سی بات زیادہ ناقابلِ یقین ہے؟ پس اگر خدا عیسیٰ u کے ذریعے معجزے دکھا سکتاہے توسلیمان u کے ذریعے ایک معجزہ کیوں نہیں دکھا سکتا؟ موسیٰ uنے سمندر میںشگاف کردیا۔ انہوں نے ایک چھڑی ڈالی'چھڑی ایک سانپ بن گئی۔بائبل نے یہ کہا ہے اورقرآن نے بھی۔ پس جب خدااتنا کچھ کرسکتاہے تووہ ایک طویل عرصے کے لئے ایک شخص کو(چھڑی کے سہارے) کیوں نہیں کھڑا رکھ سکتا؟ بہرحال میں نے انہیں کئی مختلف جوابات دئیے ہیں۔ قرآن پاک میں یہ کہیں بھی نہیں لکھاکہ سلیمانu بہت طویل عرصے تک چھڑی کے سہارے کھڑے رہے۔ محض یہ کہاگیاہے کہ ممکن ہے کسی جانور نے اُن کی چھڑی ہلادی ہواور وہ نیچے گرگئے ہوں لیکن میراگمان ہے'میں قرآن سے متضاد دلیل استعمال کرتا ہوں کیونکہ اس بات سے قطع نظر کہ آپ متصادم سعی کرتے ہیں یا ہم آہنگی کی' سورہ نساء آیت نمبر82 کہتی ہے''وہ قرآن کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔اگریہ اللہ کے سواکسی اورکی طرف سے ہوتاتو اس میں بہت سے تضاد ہوتے ۔''قطع نظر اس بات سے کہ آپ متصادم حکمت عملی اپناتے ہیں یاہم آہنگی کی'اگر آپ منطق پہ کاربند رہتے ہیں توآپ قرآن کی ایک آیت بھی ایسی نہیں دکھا سکتے جوتضادبیانی رکھتی ہو اور نہ ہی کوئی آیت ایسی ہے جوتسلیم شدہ سائنس کے خلاف ہو۔
میں ڈاکٹرولیم کیمپبل سے اتفاق کرتاہوں کہ سلیمان u ایک طویل دورانیے تک کھڑے رہے۔ جواب اسی آیت میں دیاگیاہے جس میں سلیمان uکے گرنے کاذکرہے۔ جنوں نے کہاکہ''اگرہمیں معلوم ہوتاکہ سلیمان uفوت ہوچکے ہیں توہم اتنی کڑی مشقت نہ کرتے۔'' اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنات تک کے پاس علم غیب نہ تھا۔ چونکہ جنّات خود کو بہت عظیم سمجھتے تھے 'پس اللہ انہیں سبق دے رہے ہیں کہ علمِ غیب تو ان کے پاس بھی نہیں ہے۔
مویشیوں کادودھ:
ڈاکٹرولیم کیمپبل نے سورہ نحل آیت نمبر66 میں ''دودھ کے پیداواری عمل'' کاتذکرہ کیا۔ پہلا شخص جس نے دورانِ خون کے بارے میں بتایا'ابنِ نفیس تھا' نزولِ قرآن کے600سال بعداورابنِ نفیس کے400سال بعد ولیم ہاروے نے اسے مغربی دنیاکے لئے عام فہم بنایا۔یہ نوبت نزولِ قرآن کے 1000سال بعدآئی۔ خوراک جو آپ کھاتے ہیں' آنت میں جاتی ہے اورآنتوں سے خوراک کے اجزاء خون کے دھارے کے ذریعے مختلف اعضاء تک پہنچتے ہیں' اکثر اوقات جگرکے دہانے کے ذریعے اور پستانی غدود تک بھی پہنچتے ہیں جوکہ دودھ کی پیداوار کاباعث ہے اور قرآن نے جدید سائنس کی یہ معلومات مختصرالفاظ میں سورہ نحل آیت نمبر66میں دی ہیں جہاں بیان ہے کہ ''درحقیقت مویشیوں میں تمہارے لئے ایک سبق ہے۔ ہم تمہیں پینے کے لئے دیتے ہیں' اس میں سے جو ان کے جسموں میں ہے' جوایسے مرکز سے آتا ہے جوفضلے اورخون کے درمیان کاجز وہے'دودھ جوپاکیزہ ہے تمہارے پینے کے لئے۔''الحمدللہ کہ سائنس کے ذریعے ہمیں معلومات بالکل حال ہی میں '50سال قبل یازیادہ سے زیادہ 100سال قبل معلوم ہوئی ہیں جبکہ قرآن نے 1400 سال پہلے اس کاتذکرہ کیاتھا۔
سورہ مومنون آیت نمبر21 میں یہ پیغام دہرایاگیا ہے۔
جانوروں کی بودوباش:
ڈاکٹرولیم کیمپبل نے جانوروں کے بارے میں یہ نکتہ اٹھایا کہ''جانور گروہی رہائش رکھتے ہیں۔'' قرآن سورہ انعام آیت نمبر38میں بیان کرتاہے…زمین پررہنے والے ہرجانور کو ہم نے تخلیق کیاہے اور ہوامیں اُڑنے والے ہر پرندے کو کہ تمہاری طرح اکٹھے رہیں۔'' اور ڈاکٹر ولیم کیمپبل کہتے ہیں کہ… ''مکڑی جفتی کے بعداپنے نرکوماردیتی ہے' ہونے والے بچوںکے باپ کو'وغیرہ…کیاہم بھی ماردیتے ہیں؟ شیر ایسا کرتا ہے اور ہاتھی بھی۔'' وہ تورویّے (طرزِ عمل)کی بات کررہے ہیں۔قرآن طرزِ عمل کی بات نہیں کررہا۔ اگر ڈاکٹر ولیم کیمپبل قرآن کوسمجھ نہیں سکتے تواس میں قصوراِن کاہے۔ یہ مطلب نہیں کہ قرآن غلط ہے۔ قرآن کہتاہے…''وہ گروہوں میں رہتے ہیں''جانوروں اور پرندوں کے اکٹھارہنے کی بات ہے' انسانوں کی طرح اجتماعی بودوباش۔ قرآن طرزِ عمل کی بات نہیں کررہا۔ سائنس آج ہمیں بتاتی ہے کہ جانور'پرندے اور دنیا کے دوسرے جاندار اجتماعی بودوباش رکھتے ہیں' انسانوں کی طرح رہنے کامطلب ہے…وہ اکٹھے رہتے ہیں۔
میرے پاس علمِ جنین کے بارے میں ہرنکتے پربات کرنے کے لئے وقت نہیں ہے'میں ان کے 8/9 موضوعات پربات کرتا ہوں جو انہوں نے بیان کیے۔ علمِ جنین…میں مزیدتفصیل بیان کروں گا۔ علمِ جنین کے بارے میں ایک نکتہ جس کی میں وضاحت کر چکاہوں ۔ اُس کے علاوہ انہوں نے کچھ نکات بیان کیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جنین کے ارتقا کے مراحل بقراط اورگیلن (جالینوس)نے بیان کیے تھے اورانہوں نے کئی سلائیڈ بھی دکھائیں۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ محض اس لئے کہ کسی کی کہی ہوئی بات قرآن سے مطابقت رکھتی ہے تواس کاہرگز یہ مطلب نہیں بنتاکہ قرآن نے توصرف ان کی کہی ہوئی باتیں دہرائی ہیں۔فرض کریں کہ اگر میں کوئی بیان دوں جوکہ درست ہے اور یہی بات اگرکسی نے پہلے کہی تھی تواس کاہرگزیہ مطلب نہیں ہے کہ میں نے محض نقالی کی ہے… ایساممکن ہوسکتاہے اورغیرممکن بھی۔ قرآن نے بقراط کی کئی غلط باتیں نہیں قبول کیں۔ اگراس نے نقالی کی ہوتی تو وہ ہربات کی نقالی کرتا'یہ منطقی بات ہے۔ میں اسے نقل نہیں کہوں گا' یہ درست بات ہے۔ میں اسے نقل کروں گا۔بقراط اور گیلن کے بیان کردہ تمام مراحل قرآن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ بقراط اورگیلن نے ''جونک جیسی چیز'' کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے ''مضغہ'' کے بارے میں کوئی بات نہیں کی انہوں نے کیابات کی؟ بقراط اورگیلن نے اُس دورمیں کہا کہ ''عورت کابھی مادۂ منویہ ہوتاہے'' یہ بات کس نے کہی؟ اگر آپ بائبل کامطالعہ کریں تووہ بھی یہی کہتی ہے۔

بائبل کے سائنس کے ساتھ مزیدتضادات:
پس تمام 22نکات تاحال ثابت کرتے ہیں کہ بائبل سائنس کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ نکتہ نمبر 23حیوانیات کے شعبے میں 11:6Leviticus میں بیان ہے کہ ''خرگوش جگالی کرنے والا(جانور)ہے۔'' ہم جانتے ہیں کہ خرگوش جگالی نہیں کرتا۔ قبل ازیں خرگوش کی حرکات کے باعث ایسا گمان کرتے تھے۔ اب ہم جانتے ہیں کہ خرگوش جگالی نہیں کرتا'نہ ہی اُس کامعدہ ایسی ٹھوس نوعیت کاہوتاہے۔

آج ہم جانتے ہیں کہ چیونٹیاں مہذب کیڑے ہیں۔ان کانظامِ کاربہت اچھاہے جس میں ان کاسردار ہوتاہے' ان کانگران ہوتاہے'ان کے کارکن ہوتے ہیں حتّٰی کہ ان کی ایک ملکہ بھی ہوتی ہے'ان کے ہاں ایک حکمران بھی ہے' اس لئے بائبل غیرسائنسی ہے۔ علاوہ ازیں بائبل3:14Genesis اور 65:25 Isaiah میں بیان ہے کہ ''سانپ مٹی کھاتے ہیں۔'' 11:20 Book Of Leviticus میں بیان ہے ''مکروہ چیزوں میں چارپنجوں والے پرندے شامل ہیں۔'' اور بعض عالم کہتے ہیں کہ عبرانی لفظ"uff" کاترجمہ "fowl" غلط ہے۔King James Version میں ''کیڑا'' یا ''پردار مخلوق''ہے اورنئی بین الاقوامی اشاعت (New International Version)میں ''پردار مخلوق'' ہے لیکن یہ کہاگیاہے ''تمام کیڑے جن کے چارپاؤں ہیں' وہ مکروہ ہیں۔وہ تمہارے لئے نفرت انگیز ہیں۔'' میں ڈاکٹرولیم کیمپبل سے پوچھناچاہتاہوں''کن کیڑوں کے چارپاؤں ہوتے ہیں؟'' حتّٰی کہ ایک پرائمری پاس طالب علم بھی جانتاہے کہ کیڑوں کے چھ پاؤں ہوتے ہیں۔ دنیا میں نہ کوئی پرندہ ہے اورنہ ہی کوئی کیڑا جس کے چارپاؤں ہوں۔مزیدبرآں بائبل میں افسانوی اورخیالی جانوروں کاتذکرہ ایسے ہے کہ جیسے وہ (سچ مچ) موجودہوں۔مثال کے طورپر Unicorn (گھوڑے کی شکل کا افسانوی جانور جس کے ماتھے پر ایک بالکل سیدھا سینگ ہوتاہے)۔ 34:7 Isaiah میں Unicornکاتذکرہ ایسے کیاگیاہے کہ جیسے سچ مچ وجود رکھتا ہو۔آپ ڈکشنری میں دیکھیں'یہ کہتی ہے…''ایک جانور جس کا جسم گھوڑے کا ہے اورایک سینگ جوصرف افسانوں میں دستیاب ہے۔''میرا (مقررہ)وقت ختم ہونے والاہے۔ صرف یہ کہناچاہوں گا کہ اگرکسی عیسائی کی دل آزاری ہوئی ہوتو معافی چاہتاہوں۔ یہ میراارادہ نہ تھابلکہ محض ڈاکٹرولیم کیمپبل کی کتاب کاجواب 'یہ ثابت کرنے کے لئے قرآن سائنس کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور بائبل' ایک حصہ خدا کاکلام ہوسکتاہے' مکمل خدا کاکلام نہیں۔یہ موافقت نہیں رکھتی۔میں قرآن کی سورہ اسراء آیت نمبر18سے اپنے کلام کااختتام پسندکروں گا' جوکہتی ہے ''جب سچ کوجھوٹ پردے ماراجاتاہے توجھوٹ تباہ ہوجاتاہے' اس لئے کہ جھوٹ اپنی فطرت کے لحاظ سے مٹ جانے والاہی توہے۔''


واخردعوانااَنِ الحمدللہ رب العالمین

12:1-12Leviticus میں یہ کہاگیاہے کہ عورت ''بیج'' دیتی ہے۔ اس طرح تودرحقیقت بائبل بقراط کی نقالی کررہی ہے اور بائبلJob میں کہتی ہے'10:9-10 کہ '' ہم نے انسان کومٹی سے بنایاہے'اُبلے ہوئے دودھ اورنیم جامد پنیر جیسا۔''اُبلاہوا دودھ اورنیم جامدپنیر' یہ بقراط کاواقعی چربہ ہے۔ چربہ کیوں؟ کیونکہ یقینا یہ خداکاکلام نہیں ہے۔ یہ جزو غیرسائنسی ہے۔ یہ بقراط' گیلن اور یونانیوں کاکہناتھا کہ ''انسان نیم جامد پنیرکی طرح تخلیق کیے گئے ۔'' اوربائبل نے ہوبہو اس بات کونقل کیاہے لیکن قرآن الحمدللہ 'اگرآپ علمِ جنین کی کتابیں پڑھیں' حتّٰی کہ ڈاکٹر کیتھ مور کی کتابیں بھی 'انہوں نے کہا کہ ''بقراط اورگیلن جیسے دوسرے لوگوں نے اور ارسطو نے بھی ابتداء میں علمِ جنین کے بارے میں کافی کچھ بتایالیکن بہت سے نظریے درست تھے اور بہت سے غلط'' اورانہوں نے مزید کہا ''قرونِ وسطیٰ میں یاعربوں کے عہدمیں' قرآن نے اضافی تعلیمات مہیاکیں۔'' اگریہ (قرآن)ہوبہو نقالی پرمبنی ہوتاتو ڈاکٹرکیتھ موراپنی کتاب میں قرآن کی توصیف کیوں کرتے۔ وہ توارسطو اور بقراط کی بھی توصیف کرتے ہیں ۔ یہ ایک تسلی بخش ثبوت ہے'اس بات کاکہ قرآن یونانی عہد کی نقالی نہیں کرتا۔ آپ مجھ سے کہیں گے کہ ''دنیا گول ہے'' یونانیوں سے نقل کیاگیا۔ میں فیثا غورث کوجانتاہوں' چھٹی صدی قبل مسیح یونانی سائنسدان جس کاعقیدہ تھا کہ دنیاگھومتی ہے۔ ان کاعقیدہ تھاکہ سورج کی روشنی منعکس کردہ ہے۔ اگرحضرت محمد eنے …نعوذباللہ…نقل کی توانہوں نے یہ کیوں نقل کیا…وہ عقیدہ رکھتے تھے کہ سورج ساکن ہے اور یہ عقیدہ بھی کہ سورج کائنات کامرکزہے۔ پس حضرت محمد e نے کیوں درست بات نقل کی اور غلط باتوں کوحذف کردیا؟ یہ کافی ثبوت ہے کہ حضرت محمد eنے نقل نہیںکی ۔ انہوں نے ایک فہرست دی ہے کہ یونانی سے سریانی' سریانی سے عربی میں نقل ہواہے ۔ قرآن کاایک بیان اسے مسترد کرنے کے لئے کافی ہے۔ سورہ عنکبوت آیت نمبر48 میں بیان ہے کہ ''آپ نے اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھی اور نہ ہی اپنے دائیں ہاتھ سے کبھی کچھ لکھا۔اگرایسا ہوتاتولوگ یقینا شک کرتے۔'' نبی eایک ''اُمّی'' یعنی اَن پڑھ تھے۔ تاریخ کایہ عنصر ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ آپ نے کوئی چربہ سازی نہیں کی تھی۔ اندازہ کریں کہ ایک سائنس دان جوبہت کم تعلیم یافتہ ہوتاہے' وہ بھی ایسانہیں کرسکتا۔ لیکن اللہ نے اپنی اُلوہی رہنمائی میں آخری نبی e کوایک ''اُمّی'' جیسابنایا۔(وہ جب لکھ پڑھ ہی نہیں سکتے تھے توان سے نقل کیسے ہوسکتاتھا) بہت سی ایسی چیزیں ہیں کہ میں بائبل کے بارے میں گفتگوجاری رکھ سکتاہوں۔ میں نے قرآن کے خلاف اُن کے تمام دلائل کااحاطہ کردیاہے۔ الحمدللہ کوئی ایک نکتہ ایسانہیں جوثابت کرسکے کہ قرآن سائنس کے خلاف ہے۔ انہوں نے میرے 22اعتراضات پربات نہیں کی' صرف2کاتذکرہ کیاہے'وہ بھی ثابت نہیں کئے گئے۔ 6:7Proverb میں تذکرہ ہے کہ ''چیونٹی کا کوئی حکمران نہیں'کوئی سردار نہیں۔'' بشکریہ مجلہ الدعوۃ اکتوبر 2008

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔