Wednesday, 2 September 2009

یزید رحمہ اللہ اور رافضی سازش

0 comments
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم


السلام علیکم !

الحمد اللہ وکفٰی وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی۔۔۔ اما بعد!۔
تقریبا دو سال قبل میرا ایک کتابچہ بنام امیر المومنین یزید ابن معاویہ رحمۃ اللہ شائع ہوا تھا جو بحمد اللہ بڑی مقبولیت حاصل کیا۔ بیشمار احباب نے اس کتابچہ پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا اور اعتراف کیا کہ واقعی ہم بڑی غلط فہمی میں مبتلا تھے اور ناحق ایک صالح خلیفہ پر لعنت اور تبرا کرتے رہے اللہ ہمیں معاف فرمائے اس میں شک نہیں بعض گرم و تلخ خطوط بھی وصول ہوئے ایک کرم فرمانے تحریر کیا کہ اگر تو یزید کو صالح سمجھتا ہے تو تیرا حشر یزید کے ساتھ ہوگا اور ہم عاشقان اہل بیت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ محشور ہونگے۔۔۔

حال ہی میں میرے دو کتابچے بنام۔ دعوت فکر۔ اور صوفی کانفرنس کے خدوخال۔ پانچ پانچ ہزار کی تعداد میں نکلے اور ان پر بحمدللہ خوب داد تحسین ملی لیکن کسی کام کی عنداللہ مقبولیت کا ثبوت ہی کیا جب تک کسی حلقے سے اس پر ناراضگی اور گرما گرمی نہ ہو چنانچہ ایک مخصوص حلقے میں میرے خلاف غیظ و غضب کا لاوا پکنے لگا اس لاوے کو پھُوٹ پڑنے کے لئے کوئی بہانہ چاہئے تھا اسی حلقے کے ایک فرد نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ماہ محرم اور عاشورہ کی مناسبت سے اور خاص طور پر اس بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہ ان ایام میں عامۃ المسلمین میں جذباتی کیفیت غالب رہتی ہے میرے کتابچے (یزید ابن معاویہ رحمۃ اللہ) کے چند اقتباسات اخبار (رہمنائے دکن) مورخہ ٥ جون ١٩٩٧ء میں شائع کر دیئے اب کیا تھا؟؟؟۔۔۔ دیوانہ وار ہوئے بس است یار لوگوں کو میرے خلاف اپنی بھڑاس نکالنے کا موقع مل گیا یزید حقائق کے آئینہ میں اس عنوان کے تحت ایک مضمون رہنمائے دکن مورخہ ١٤ جون ١٩٩٧ء کو شائع کیا گیا اور اس مضمون میں مجھ پر خوب ملامت کی گئی جب اس سے بھی سیری نہیں ہوئی تو ایک کتابچہ شائع کیا جس میں ان لوگوں نے اپنی دانست میں میری (نقاب کشائی) کی اب آئیے دیکھیں اس نقاب کشائی کے ضمن میں کس کے چہرے بے نقاب ہوتے ہیں اور کس کے کذب وافتراء کا پردہ چاک ہوتا ہے۔۔۔

نسب پر طعن!۔
علمی مسائل میں خواہ کتنا ہی شدید اختلاف ہو یہ اختلاف اخلاق اور شرافت کے حدود میں ہونا چاہئے اور گفتگو صرف مسائل ہی سے متعلق ہونی چاہئے مسائل سے ہٹ کر ذاتیات پر حملے کرنا نسب پر حرف رکھنا جھوٹے الزامات عائد کرنا، بالکل یہ غیر عالمانہ اور غیرمہذب طریقہ ہے یہ طریقہ نچلے قسم کے لوگ اختیار کرتے تو کوئی افسوس کی بات نہیں تھی لیکن جب ایسے لوگ جو صوفی اور مشائخ ہونے کے ناطے تزکیہ نفس، اخلاق حسنہ، تالیف قلب اور رشد و ہدایت کے علمبردار ہونے کے مدعی ہیں اور یہ غیر مہذب طریقہ اختیار کرتے ہیں تو سوائے قوم و ملت کی بدبختی کا ماتم کرنے کے اور کیا کیا جاسکتا ہے انہوں نے اپنے مضمون کی بسم اللہ ہی میرے نسب پر طعن سے کی اور مجھے حُسینی سے یزیدی قرار دے کر اپنا دل ٹھنڈا کیا اتنا نہیں سوچا کہ مجھے یزیدی کہنے سے میرا کیا بگڑنے والا ہے اللہ تعالٰی نے مجھے حُسینی نسب میں پیدا کیا ہے اور لاتبدیل لخلق اللہ کی مصداق میں دنیا کی کوئی طاقت مجھے حُسینی سے کچھ اور نہیں بنا سکتی بحمداللہ میرا نسب حُسین رضی اللہ عنہ کی ذات اقدس تک موتی کی طرح صاف و شفاف ہے میں شرعی عدالت میں حلفیہ اقرار کر سکتا ہوں کہ میں صحیح النسب حُسینی سید ہوں میرے نسب پر حرف گیری کرنا لازما چاند پر تھوکنے کی کوشش کرنا ہے افسوس ہے کہ ان لوگوں نے صحیح مُسلم کی اس حدیث پر نظر نہیں کی جس میں الطعن فی الانساب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے امور جاہلیت میں سے فرمایا ہے (کتاب الجنائز)۔ اور نسب پر طعن کو کفر قرار دیا ہے (صحیح مسلم۔ باب الطلاق اسم الکفر علی الطعن الانساب والنیاحتہ) اب میرے نسب پر طعن کرنے والے اور میری نقاب کشائی کرنے والے حضرات ان احادیث شریفہ کے آئینہ میں اپنی نقاب کشائی کر کے اپنی نورانی صورتیں دیکھ لیں۔۔۔

شرمناک اتہامات!۔
میرے کذب و افتراء کا پردہ چاک کرنے والے حضرات نے مجھ پر تین بدترین اور شرمناک اتہامات لگائے ہیں۔۔۔

پہلا انتہام یہ ہے کہ میں نے نعوذ باللہ ہزار بار نعوذ باللہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو ظالم، باغی، مفسد، اور کربلا میں فساد اور خون ریزی کا ذمہ دار قرار دیا ہے یہ بات صرف میرے خلاف زہر پھیلانے کے لئے کہی گئی ہے ان لوگوں کے دلوں میں واقعی اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ تعالٰی عزیز ذوانتقام ہے اور اس بات کی ذرا بھی پروا ہے کہ ایک دن اللہ تعالٰی کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے کئے اور کہے کی جوابدہی کرنی ہے تو وہ بتائیں کہ میری تحریروں میں، میں نے کہاں مذکورہ بالاایمان سوز الفاظ لکھے ہیں اتنی صریح جھوٹ اور اتنا شرمناک بہتان کیا کسی صوفی اور مشائخ کے شایان ہوسکتا ہے؟؟؟۔۔۔

دوسرا بہتان یہ ہے کہ میں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب کا منکر ہوں اور ان کو جھوٹ قرار دیتا ہوں یہ بات بھی میرے خلاف جذبات کو بھڑکانے کے لئے کہی گئی ہے یہ بات ضرور ہے کہ میں فضائل علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کی ان روایات کو جن میں حضرات خلفاء ثلاثہ اور اصحاب جمل و صفین پر طنز و تعریض ہو شیعوں کی مقریات ہونے کی بناء پر تسلیم نہیں کرتا اس کی صراحت میں نے اپنی کتاب جوامع الکلام پر مزید تحقیق کے صفحہ ١١ پر کی ہے ایسی صورت میں یہ کہنا کھُلی شرارت کے سوا اور کیا ہے کہ میں خاص طور پر حضرت حسین رضی اللہ کے فضائل و مناقب کا سرے سے منکر ہوں۔ سبحانک ھذا بہتان عظیم۔

تیسرا یہ مجھ پر کس قدر شرانگیز اور شرمناک بہتان ہے کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کے دشمنوں اور قاتلوں سے محبت اور حمایت جتانے کے لئے اپنا زور قلم صرف کر رہا ہوں اگر ان بہتان تراشیوں پر (وعلی ابصارھم غشاوہ) کی کیفیت نہیں ہے تو یہ کھُلی آنکھ سے میرے کتابچہ میں دیکھ سکتے ہیں کہ میں نے آپ رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کے لئے دشمنان اسلام، غدارانِ ملت اور ظالم کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور کھُل کر لعنت کی ہے جیسا کہ آگے آئے گا میرے نزدیک حضرت یزید اور ان کی فوج آپ رضی اللہ کی شہادت کی ذمدار نہیں ہے آپ رضی اللہ عنہ کے قاتل کوفے کے سائی تھے جنہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھ کر بلایا تھا میں ان سبائیوں پر ضرور لعنت کرتا ہوں میں حضرت یزید کی مدح کرتا ہوں تو یہ قطعاً نہیں کہا جاسکتا کہ میں آپ رضی اللہ عنہ کے دشمنوں اور قاتلوں سے محبت اور حمایت جتاتا ہوں۔۔۔

اللہ تعالٰی نے اہل ایمان پر ناکردہ الزام لگا کر انہیں دُکھ اور اذیت پہنچانے والوں کو بہتان اور اثم مبین کا ذمدار قرار دیا ہے (سورہ احزاب آیت ٥٨) ان لوگوں نے مجھ پر جھوٹے الزامات لگا کر بلاشبہ مجھے اذیت پہچنائی ہے اور بہتان عظیم اپنے سر لیا ہے ہو سکتا ہے یہ بہتان تراشی اورکذب و افتراق متقدش مآبوں کی غیرت ایمانی کا عین تقاضا ہو لیکن یہ لوگ ضرور اللہ کے پاس ماخوذ و مسئول ہونگے اللہ تعالٰی کے قہر و جلال کے آگے اپنے کئے اور کہے کی جوابدہی انہیں کرنی ہوگی۔۔۔

سچا کون اور جھوٹا کون؟؟؟!۔۔۔
یہ لوگ کہتے ہیں کہ حاضر الوقت صحابہ کرام، تابعین، اور تابع تابعین جو (واقعات کربلا کے) چشم دیدہ گواہ تھے انہوں نے متفقہ طور پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومیت کا بھرپور اعتراف کیا ہے اور یزید کے ظلم و ستم کی تصدیق کی ہے اب ان بزرگواروں کے اقوال کو جھوٹ قرار دینے والا خود کس قدر کذاب ہوگا۔۔۔ یہ میں کہتا ہوں کہ حضرت حُسین رضی اللہ عنہ پر کربلا میں بھیانک مظالم کی داستانیں ہی خود ساختہ کہانیاں اور خود تراشہ افسانے ہیں حاضر الوقت صحابہ کرام اور تابعین عظام نے اس حادثہ کو بے حد افسوسناک سہی لیکن اتفاقی اور غیر متوقع حادثہ سمجھا اور صبر کے ساتھ خاموشی اختیار فرمائی کوئی مستند روایت نہیں ہے کہ ان بزرگواروں نے ان فضول داستانوں کی تصدیق کی ہو اس وقت کتنے ہی صحابہ بقید حیات تھے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے حضرت حُسین رضی اللہ عنہ کو سجدہ کی حالت میں فرق رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بیٹھے دیکھا اور دیکھا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لاڈلے نواسے کے لئے سجدہ کو دراز کر دیا تھا وہ صحابہ کرام بھی زندہ تھے جنہوں نے الحسین منی وانا من الحسین اور ھما ریحانتلی وغیرہ ارشادات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت فرمائی تھی کیا وہ سب حضرات صرف آپ کی مظلومیت کے اعتراف کے بعد اپنی ذمداری سے سبکدوش ہوجاتے ہیں؟؟؟۔۔۔ اسلام میں کافر کی لاش کا مُثلہ کرنے کی ممانعت ہے کیا یہ سب حضرات صرف لاشئہ مبارک کو گھوڑوں کی سموں سے روندنے کی ٹھنڈے پیٹ روایت کر کے حبِ رسول اللہ علیہ وسلم اور آلِ رسول کی کسوٹی پر پورے اُترتے ہیں؟؟؟۔۔۔ کیا ان سب حضرات کا فریضہ نہیں تھا کہ آلِ رسول کا انتقام لینے کے لئے تلواریں سونت کر حکومت کے خلاف کھڑے ہوجاتے؟؟؟۔۔۔ کربلا کے مظالم پر غور کیجئے ایسے بھیانک مظالم کسی کافر و مشرک یہودی و نصرانی پر بھی ہوتے تو مسلمان کا فریضہ بنتا ہے کہ اس کی حمایت میں کھڑے ہوں اور ایسی ظالم حکومت کو تباہ و تاراج کرکے رہیں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا جو مقام تھا اس وقت عالم اسلام کا بچہ بچہ اس سے واقف تھا دنیا کے وسیع و عریض حصہ پر پھیلی ہوئی مملکت اسلامیہ میں ایسی محبوب اور عظیم المرتبت شخصیت پر بھیانک مظالم پر کیوں تہلکہ نہیں مچ گیا؟؟؟۔۔۔ اگر اس وقت کے سارے ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین عظام اُٹھ کھڑے ہوتے تو سارا عالم اسلام ان کے ساتھ ہوتا حکومت خواہ کتنی ہی طاقت و قوت کی مالک ہو یقینا مقابلہ کی تاب نہیں لاسکتی تھی سوال یہ ہے اُس وقت ایسا کیوں نہیں ہوا؟؟؟۔۔۔ بعد کے زمانوں میں تو اس واقعہ پر اس قدر گرما گرمی، جوش و خروش، آہ وبکا، ماتم وسینہ کوبی ہے اُس وقت کیوں سب نے چُپ سادھ لی تھی؟؟؟۔۔ میں حضرت عبداللہ بن حنظلہ غسیل الملائلہ سے بصد احترام پوچھتا ہوں کہ حضرت! آپ نے دمشق میں ایسا کیا دیکھا کہ آپ کو مدینہ میں آسمان سے پتھروں کے عذاب کے نزول کا خوف ہوا؟؟؟۔۔۔ کیا واقعہ کربلا آپ کے سامنے نہیں تھا؟؟؟۔۔۔ کیا آلِ رسول پر کئے گئے بھیانک مظالم آپ کے نزدیک نزولِ عذاب کے لئے کافی نہیں تھے جو آپ نے حکومت کے خلاف تلوار اُٹھانے کے لئے دو سال تک توقف فرمایا؟؟؟۔۔ اور دو سال بعد تلوار اُٹھائی بھی تو اس کا سبب یزید کی بد اعمالیوں کوہی بتایا واقعہ کربلا کا کوئی اشارہ تک نہیں دیا؟؟؟۔۔۔ حضرت علی بن حسین زین العابدین واقعہ کربلا کے چھ ماہ بعد اپنے خاندان والوں کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے لازما اہلِ مدینہ آپ پر ٹوٹ پڑے ہونگے اس حاثہ جانکاہ کی تفصیلات پوچھی ہونگی آپ نے بیان فرمایا ہوگا وہ مدینہ جہاں حضرت حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے اپنی عمر عزیز کا تقریبا سارا ہی حصہ یہاں گزارا لازما آپ دیگر مقامات کی بہ نسبت اہل مدینہ میں سب سے زیادہ محبوب اور ہردل عزیز رہے ہونگے پھر کیا بات ہے کہ آپ کے فرزند رشید سے اتنے بھیانک مظالم کی داستان سُن کر اہل مدینہ نے خاموشی اختیار کر لی بنی ہاشم کے سردار حضرت ابن عباس، حضرت محمد بن علی (ابن الحنفیہ) اور حضرت عبداللہ بن جعفر طیار کے ہاشمی جوش کو کیا ہوگیا تھا کہ ان حضرات نے بھی اپنی جگہ رو دُھو کر چپ سادہ لی ایک مسلم بن عقیل کے قتل پر ہاشمی غیرت اتنی جوش میں آئی کے نتائج و عواقب کی پرواہ کئے بغیر برادران مسلم نے حکومت سے بدلہ لینے کے لئے سفر کوفہ کو جاری رکھنے کا اصرار کیا تھا دوسری طرف سبطِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم و آلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بھیانک مظالم ڈھائے گئے سب کہ تہہ تیغ کیا گیا معصوم بچے کے پیاسے حلق پر تیر برسائے گئے شہیدوں کی لاشوں کو روند کر ریزہ ریزہ کیا گیا سروں کو نیزوں پر چڑھا کر بازاروں میں پھرایا گیا سیدانیوں کی چادریں چھین کر ان کو نامحرموں کے ہجوم میں بے پردہ کیا گیا اس پر رگ ہاشمی بالکل مفلوج، بالکل معطل، این چہ بوا یعجبی ست۔۔۔

ان سب اُمور پر غور کرنے سے یہ بات بالکل واضع ہوجاتی ہے کہ حضرت حُسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے چند عزیزوں کی شہادت کا واقعہ ایک غیر متوقع اتفاقی حادثہ تھا اس پاکیزہ خون کی ساری ذمداری حُر بن یزید اور اس کے کوفی ساتھیوں پر ہے حاضر الوقت صحابہ کرام اور تابعین عظام کا عمل جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے صاف بتا رہا ہے کہ ان کے نزدیک کربلا میں پیش آئے بھیانک مظالم کی داستانیں جھوٹ کے انبار ہیں اور اس مقدس خون کی ذرا سی بھی ذمداری حاکم الوقت اور حکومت پر نہیں ہے۔۔۔

اب سوال کیا جائے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے؟؟؟۔۔۔ تو بلاشبہ سچا میں ہی ہوں اس لئے کہ میرے قول کی تائید میں حاضر الوقت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، سادات بنی ہاشم اور تابعین عظام کا عمل ہے اور یقینا جھوٹا اور کذاب اکبر وہ شخص ہے جو کربلا کی بھیانک داستانیں رو رو کر سناتا ہے اور عالم اسلام کے کسی ردعمل حاضر الوقت صحابہ کرام اور سادات بنی ہاشم کے کسی بھی جوابی اقدام کو نہیں پیش کرتا گویا وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اس وقت عالم اسلام میں حضرت حُسین رضی اللہ عنہ کی پرکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں تھی جبھی تو حکومت کو آپ پر اتنے مظالم ڈھانے کی جرات ہوئی اور سبھوں نے ان مظالم پر خاموشی اختیار کر لی ایسی صورت میں ہزار بار بھی لعنت اللہ علی الکاذبین کہا جائے تو بے جا نہیں ہے۔۔۔

قرآن و حدیث اور اقوالِ آئمہ !۔
یزید پر لعنت کے جواز میں کہا گیا ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل نے سورہ محمد کی آیات نمبر ٢٢ اور ٢٣ کی روشنی میں ان پر لعنت کے جواز کا فتوٰی دیا ہے یہ بڑی عجیب بات ہے کہ حاضر الوقت صحابہ کرام تابعین عظام وغیرھم جو واقعات کربلا و حرہ کے چشم دید گواہ تھے ان کی نظریں ان آیات پاک پر نہیں پڑیں اور کسی نے بھی یزید پر لعنت کرنے کے جواز میں ان آیات پاک پر نہیں پڑیں اور کسی نے بھی یزید پر لعنت کرنے کے جواز میں ان آیات سے استدلال نہیں کیا حقیقت یہ ہے کہ ان بزرگواروں سے یزید کو کسی الزام کا مورد قرار دینا اور لعنت کرنا مستند روایات سے ثابت نہیں ہے ایسی صورت میں امام احمد اپنے اسلاف کرام کے طریقے سے ہٹ کر کسیے یہ فتوٰی دے سکتے ہیں یہ بات امام احمد جیسے جلیل القدر امام اہل سنت پر اتہام کے سوا کچھ نہیں ہے۔۔۔

یہ موضوع اور من گھڑت عبارت حضرت ابو عبیدہ ابن الجراح (میلاد ١٨ھ) اور حضرت ابودرداء (میلاد ٣٢ھ) سے مروی بتائی جاتی ہے حضرت ابودرداء کی وفات کے وقت جناب یزید دس سال کے تھے اور اس عمر تک ان کی صحبت میں رہے اور حسب استعداد علمی استفادہ بھی کیا تھا سوال یہ ہے کہ حضرت ابودرداء نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث سنا کر ان کا نام کیوں نہیں بدلوایا کیوں نہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو آگاہ کر دیا کہ یہ لڑکا معتوب ہے اس کو آئندہ خلافت کی کوئی ذمداری نہ سونپی جائے بنی امیہ میں ایک چھوڑ تین خلیفہ ہوئے کوئی روایت نہیں ملتی کہ کسی صحابی یا کسی تابعی نے کسی یزید کو اس حدیث کا مصداق بتایا ہو یہ اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ یہ حدیث بعد میں کوفہ کی سبائی ٹکسال میں گھڑی گئی ہے۔۔۔

٦٠ ہجری میں پناہ مانگنے کی روایت بھی غور طلب ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ٦٠ ہجری تو نہیں فرمایا ہوگا اس لئے کہ اس وقت سنہ ہجری کا کوئی تصور نہیں تھا لازما معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات فرمایا ہوگا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث اپنی وفات ٥٩ھ سے پہلے کسی وقت بیان فرمائی ہوگی تو سوال یہ ہے کہ چند سال پہلے ہی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کیسے علم ہوگیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ٦٠ ہجری ہوگی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کسیے علم ہوگیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات ٦٠ہجری میں ہوگی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ نہ کی طرف یہ جملہ منسوب ہے اعوذ باللہ من راس الستین وامارۃ الصبیان (ترجمہ) میں اللہ تعالٰی سے ٦٠ ہجری کی ابتداء اور بچوں کی حکومت سے پناہ مانگتا ہوں واقعہ یہ ہے کہ ٦٠ ہجری کی ابتداء بالکل خیریت سے گزری حضرت معاویہ رضی کی وفات وسط سال یعنی رجب کے مہینے میں ہوئی اور یزید اس وقت خلیفہ ہوئے ایسی صورت میں آپ کو من وسط السنتین کہنا چاہئے تھا اور پناہ مانگنا ہی تھا تو ٦١ ہجری کی ابتداء سے پناہ مانگتے کہ کربلا کا واقعہ اوائل ٦١ ہجری میں پیش آیا تھا بچوں کی حکومت کا لفظ بھی غلط ہے یزید خلافت کے وقت ٣٨ سال کے تھے اس عمر کے آدمی کو عربی میں صبی (بچہ) نہیں کہتے اس لئے یہ ناممکن ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اتنی واضع غلط بات فرمائی ہوگی۔۔۔

کوفی سبائیوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بدعقیدہ اور متنفر تھے آپ کو نشان ملامت بنانے کے لئے اس قسم کی بیشمار من گھڑت باتیں آپ کی طرف منسوب کردی ہیں ایک طرف تو آپ کو مکثرین حدیث میں سرِ فہرست ہونے کا اعزاز دلایا اور دوسری طرف آپ سے منسوب کر کے بہت سی غلط باتیں اُمت میں پھیلا دیں اس لئے آپ کی روایات کو سوچ سمجھ کر قبول کرنا چاہتے کوئی سبائیوں کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ اپنی مفتریات کو ایسے صحابہ کی طرف منسوب کرتے ہیں جن سے وہ خود عداوت و بغض رکھتے ہیں اہلسنت والجماعت کو یہ بتانے کے لئے کہ یہ روایات ان صحابہ کرام سے ہیں جن کو تم عطیم المرتبت صحابی مانتے ہو تو اب تمہیں اس کو قبول کرنے میں کیوں پس وپیش ہے چنانچہ اہلسنت کی اکثریت نے اسی بناء پر ان روایات کو قبول کر لیا ہے اوپر دی گئی حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی قبیل سے ہے۔۔۔

میری نقاب کشائی کے کتابچہ میں حضرت امام اعظم کا قول پیش کیا گیا ہے کہ یزید سے فسخ وفجور متواتر ثابت ہیں مگر کفر متواتر نہیں ہے حالانکہ صرف دو تین سطر اوپر حضرت عبداللہ بن حنظلہ کا قول پیش کیا گیا کہ یہ شخص ماؤں بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ نکاح جائز قرار دیتا تھا یہ کیسی پیچیدہ صورت حال ہے؟؟؟۔۔ ایک طرف عبداللہ کُھلاہوا کفر یزید کی طرف منسوب کر رہے ہیں اس لئے کہ محرمات سے نکاح جائز قرار دینا صریح کفر ہے دوسری طرف امام اعظم فرماتے ہیں کہ قول کی روشنی میں واضع ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن حنظہ نے بالکل جھوٹا الزام یزید پر لگایا ہے ایسا الزام جو متواتر ثابت نہیں ہے حضرت عبداللہ بن حنطلہ کے قول کو صحیح مانا جائے تو ماننا پڑے گا کہ حضرت امام اعظم کے نزدیک نکاح محرمات کفر نہیں ہے اس لئے آپ یزید کے کفر کے قائل نہیں ہیں جبکہ مجوز نکاح محرمات کو کافر نہ ماننا بجائے خود کفر ہے حقیقت یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن حنظلہ اور ان کے ساتھیوں کو حضرت یزید کے ترکِ نماز اور شراب نوشی پر سخت غصہ تھا (اس پر بحث آگے آرہی ہے) یہ اہلِ مدینہ حضرات جنہوں نے اپنی آنکھوں سے حضرات خلفاء اربعہ رضی اللہ عنہم کی نہایت سادہ زندگیاں دیکھی تھیں ان کا آسمان کو چھونے والا ورع و تقوٰی ان کی نگاہوں میں بسا ہوا تھا اور جب ان حضرات نے جناب یزید کے شاہانہ ٹھاٹ باٹ کا مشاہدہ کیا، ترکِ نماز اور شراب نوشی نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا تو وہ اور زیادہ برہم ہوگئے کہ جناب یزید سادہ زندگی، زہددورع وغیرہ میں حضرات خلفاء اربعہ کی گرد کو بھی نہیں پہچنے تھے یہی تفاوت تھا جس کو حضرت عبداللہ نے منکرات سے تعبیر کیا تھا بعد میں یار لوگوں نے ان منکرات کے ضمن میں نکاح محرمات، زنا، لواطت، سودی لین دین وغیرہ کا اضافہ کر دیا اس لئے حضرت عبداللہ بن حنطلہ کی طرف اس پورے حملے کا انتساب ہی غلط ہے جو داقدی جیسے مشہور کذاب نے گھڑا (یہ جملہ کتابچہ نقاب کشائی کے صفحہ نمبر ٨ پے دیا گیا ہے)۔۔۔

حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کا یہ ارشاد کہ یزید سے فسق و فجور متواتر ثابت ہیں بشرطیکہ یہ واقعی آپ کا ارشاد ہو محلِ نظر ہے آپ حضرت یزید کے انتقال کے سولہ سال بعد کوفہ میں پیدا ہوئے کوفہ ہی کے ماحول میں پلے بڑھے اور کوفہ سبائیوں کا گڑھ خلافتِ اسلامیہ اور خلیفہ الاسلام کے خلاف سازشوں کا مرکز تھا کچھ عجب نہیں کہ حضرت امام اعظم بھی باقتضائے بشریت ان باتوں سے متاثر ہوں جو طفلی سے آپ کے کانوں میں پڑی آرہی تھیں اس لئے آپ یزید کے فسق و فجور کو متواتر قرار دیتے ہیں تو یہ صرف ماحول کا اثر ہے حقیقت نہیں ہے احناف کے لئے ضروری نہیں ہے کہ آپ کے ذاتی آراء پر بھی ایمان لائیں ورنہ یہ بالکل اندھی تقلید ہوگی آپ کی جو بات قرآن و حدیث کی روشنی میں ہم تک پہچے ہمارے سر آنکھوں پر ہے آپ کی ذاتی آراء کو تسلیم کرنے کے ہم بالکل مکلف نہیں ہیں۔۔۔

فتاوٰی عزیزیہ کے حوالے سے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کا یہ قول پیش کیا گیا ہے کہ آپ کا خروج رعایا کو ایک ظالم (یزید) کے ہاتھ سے نجات دلانے کی بناء پر تھا مظالم کے مقابلے میں مظلوم کی مدد کرنا واجبات دین سے ہے لاتنظر من قال وانظر ما قال کے اصول کے پیش نظر رکھ کر دیکھا جائے تو صاف معلوم ہوگا کہ یہ قول نہایت لغو اور فضول ہے جناب یزید کے سریر آرائے خلافت ہونے سے لے کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بعزم کوفہ مکہ معظمہ سے نکلنے تک جو چھ ماہ کا عرصہ ہے اس عرصہ کے بارے میں کوئی روایت نہیں ملتی کہ پورے عالم اسلام میں طلم و ستم کا بازار گرم ہوگیا تھا اور اللہ کی مخلوق تلملا اُٹھی تھی اس وقت مملکت اسلامیہ کے سارے ہی صوبوں میں (سوائے عراق) کے کہیں بھی یہ نہ خلیفہ کی جانشینی کے جواز و عدم جواز پر گرما گرمی ہو رہی تھی اور نہ خلیفہ کے کردار پر چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں اور نہ کسی ظلم و ستم پر چیخ پکار ہورہی تھی صرف کوفی سبائی شرارت پر تُلے ہوئے تھے لیکن ان کے ساتھ بھی نرمی کا معاملہ ہورہا تھا اس لئے یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ آپ رعایا کو ظالم کے ظلم سے نجات دلانے کے لئے اُٹھے تھے اگر واقعی آپ ظالم حکومت کو نیست و نابود کرنے اور رعایا کو ظلم سے نجات دلانے کے لئے اُٹھے تو لازما مملکت اسلامیہ میں اعلان کر کے ایک لشکر جرار کے ساتھ اُٹھتے نہ کہ اپنے گھر کی عورتوں بچوں اور مٹھی بھر نوجوانوں کو لے کر نکلتے اللہ تعالٰی نے اپنے آپ کو نادانستہ ہلاکت میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے۔۔۔اللہ وحدہ لاشریک کا فرمان ہے کہ!۔

وَلاَ تُلْقُواْ بِاَيْدِيكُمْ
اور اپنے ہی ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو (سورہ بقرہ ١٩٥)

دشمن کے مقابلے کے لئے اتنی قوت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے جس سے دشمن مرعوب ہوجائے۔۔۔


وَاَعِدُّواْ لَھُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّۃٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ
اور (اے مسلمانو!) ان کے (مقابلے کے) لئے تم سے جس قدر ہو سکے (ہتھیاروں اور آلاتِ جنگ کی) قوت مہیا کر رکھو (سورہ انفال ٦٠)۔۔۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیسے باور کیا جاسکتا ہے کہ آپ نے ان صریح قرآنی احکام کو نظر انداز فرمایا ہوگا رعایا کو ظالم کے پنچے نجات دلانے کا کیا یہی صحیح طریقہ ہے کہ پوری بے سروسامانی کے ساتھ انہیں اپنی اور اپنے گھروالوں کی جانوں کو ہلاکت میں ڈالیں اور نتیجتہ ظالم کی جرات اور بڑھ جائے ایسا عمل کسی معمولی عقل والے آدمی سے بھی صادر نہیں ہوسکتا چہ جائے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جیسی صاحبِ فراستِ ایمانی ہستی ہے صادر ہو دوسری بات یہ ہے کہ رعایا کو ظالم کے پنجے سے چھڑانا واجبات دین سے تھا تو کیا صرف حضرت حسین رضی اللہ عنہ ہی اس کے مکلف تھے دوسرے صحابہ کرام اور تابعین عظام نے اس بارے میں کیوں کچھ نہیں کیا؟؟؟۔۔۔ اس لئے یہ بات ناقابل قبول اور نہایت غیر معقول ہے کہ آپ نے رعایا کو ظالم کے پنچے سے چھڑانے کے لئے خروج فرمایا تھا۔۔۔

واقعہ حرہ ٦٣ھ!۔
اوپر گزر چکا ہے کہ حضرت عبداللہ بن حنطلہ نے یزید کی بداعمالیوں کو بنیاد بنا کر نقض بیعت کی علم بغاوت بلندکیا تھا اس ضمن میں چند باتیں اہمیت کی حامل ہیں نقض بیعت اور بغاوت کی تحریک کے روح رواں حضرت عبداللہ بن مطیع عدوی نے حضرت علی کے فرزند رشید حضرت محمد (ابن الحنفیہ) سے اپنا ساتھ دینے کے لئے طویل گفتگو کی تھی جس کا ذکر میں نے اس کتابچہ میں کیا تھا اس گفتگو کا اہم تکتہ یہی ہے کہ اس میں واقعہ کربلا کا کوئی اشارہ نہیں ہے اور کردار یزید پر بھی جو گفتگو ہوئی ہے اس ضمن میں، میں نے حضرت محمد کا ارشاد پیش کیا تھا اور میں نے یہ بھی صراحت کی تھی کہ یزید کی بد اعمالیوں کے حضرات ابن مطیع عینی شاہد نہیں تھے جبکہ ان کے صلاح وتقوٰی حضرت محمد عینی شاہد تھے حضرت ابن مطیع صحابی ہونے کے ناطے حضرت محمد سے افضل ہیں لیکن عینی شہادت کے آگے صحابی اور غیر صحابی کی بحث لایعنی ہے شیخ الصحابہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جو حضرت بن مطیع کے قریبی عزیز تھے فرمایا تھا کہ ہم نے اس شخص (یزید) کے ہاتھ پر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ہے اس سے بڑھ کر غدر (عہد شکنی) اور کیا ہوگی کہ ہم ایک شخص کے ہاتھ پر اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کریں اور پھر اس کے خلاف تلوار اُٹھائیں (صحیح بخاری ، کتاب الیقین) آپ نے بیعت شکنی کرنے والوں سے اپنے تعلقات منقطع کرنے کا بھی اعلان فرمایا تھا حضرت زین العابدین اور دیگر سادات بنی ہاشم بھی کنارہ کش رہے حضرت محمد الباقر کے ارشاد کے مطابق اولاد عبدالمطلب میں سے کسی نے بھی بغاوت میں حصہ نہیں لیا تھا۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کو دارالخلافہ بنایا تھا اس میں ایک مصلحت تھی کہ خلیفہ پر کوئی آنچ آئے تب بھی حرم شریف کی بے حرمتی نہ ہو لیکن عبداللہ بن حنظلہ نے اس اسوہ مبارکہ کو نظر انداز کر دیا اور مدینہ میں ایک چھوٹی سی جمیعت فراہم کرکے گورنر مدینہ کو مدینہ سے نکال دیا بنو اُمیہ کے جو افراد مدینہ میں تھے ان کو پریشان کرنا شروع کر دیا ان حالات میں حضرت زین العابدین نے بنو اُمیہ کے ان افراد کو اپنے گھر میں پناہ دی جب سرکاری فوج نے شہر کا محاصرہ کیا تو باغیوں نے بھی اپنے مورچے سنبھال لئے امیر لشکر حضرت مسلم بن عقبہ نے تین روز تک فرمائش کی ہتھیار ڈال دیں اور اطاعت قبول کر لیں اس کے جواب میں باغیوں نے فوج پر پتھراو اور تیر اندازی کی آخر قبیلہ بنو عبدالاشہل جس میں زیادہ تر صحابہ کرام تھے اپنے محلے میں سے حضرت مسلم کو مدینہ میں داخلہ دیدیا اب باغی پسپا ہوگئے صرف چھ سات آدمی بشمول عبداللہ بن حنظلہ گرفتار ہوئے اور انہیں بغاوت کے الزام میں قتل کر دیا گیا عبداللہ بن مطیع چند ساتھیوں کے ساتھ مکہ معظمہ فرار ہوگئے باقیوں نے معذرت کے ساتھ اطاعت قبول کر لی۔۔۔

اس مختصر واقعہ کو واقعہ کربلا کی طرح زیب داستان کے لئے جو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے وہ یہ سات سو بے گناہ صحابہ کرام سمیت دس ہزار محبانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم و آلِ رسول کو شہید کیا گیا ایک اور روایت کے مطابق موالی میں سے تین ہزار انصار میں سے چودہ سو یا سترہ سو قریش کے تیرہ سو حضرات شہید کئے گئے مدینہ منورہ کی مقدس مہبطِ قرآن اور مہیطِ جبرئیل سرزمین پر معزز اور پاکدامن عورتوں کی جو عصمت دری ہوئی ہے (خلافت و ملوکیت) کی روایت کے مطابق معزز گھرانوں کی ایک ہزار بن بیاہی لڑکیاں حاملہ ہوگئیں روضہ رسول کی بے حرمتی کے لئے گھوڑے باندھے گئے جن کی لید اور پیشاب سے منبر اطہر کو گندا کیا گیا۔۔۔

سوال یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن حنظلہ نے پتھروں کے عذاب کے نزول سے ڈر کر خروج کیا تھا تو اللہ تعالٰی نے ان کی غیبی نصرت کیوں نہیں کی اکابر صحابہ اور سادات بنی ہاشم نے ان کا ساتھ کیوں نہیں دیا ہمارے نزدیک اس کاجواب یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکام اور اولوالامر کے ناگوار پر صبر کرنے کی ہدایت فرمائی تھی اور یہ بھی تاکید فرمائی تھی کہ جو بھی اطاعت کے دائرے سے بالشت بھرنکلے گا وہ جاہلیت کی موت مرے گا (صحیح بخاری کتاب الفتن) حضرت عبداللہ بن حنظلہ اور ان کے ساتھیوں نے ان احکام کو نظر انداز کر دیا تھا جس کی انہیں دنیا ہی میں سزا مل گئی آخرت میں یقیناً شرفِ صحابیت کی بناء پر وہ عنداللہ خطائے اجتہادی پر ماجور و مغفور ہونگے۔۔۔

اب اگر تھوری دیر کے لئے مان لیاجائے کہ کربلا میں آل رسول پر بھیانک مظالم یزیدی فوج نے ڈھائے تھے اور حرمین شریفین کی بدترین بے حرمتی کی یزیدی فوج ہی ذمدار اور گنہگار ہے اور یزید نے اپنے عہد میں نکاح محرمات، زنا، لواطت، سودی لین دین، شرابخوری، اور ترک نماز کو فروغ دیا تھا تو یہ کفر بواح (کھلا کفر) کے سوا کیا ہے صحیح بخاری کتاب الفتن کی روایت کے مطابق کفر بواح پر حکام اور اولوالامر کے خلاف جہاد و قتال کرنے کا حکم ہے شیخ الصحابہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ مدینہ میں موجود اور واقعہ حرہ کے عینی شاہد تھے انہوں نے اس حکم کی کیا تعمیل کی؟؟؟ حضرت محمد الباقر کے ارشاد کے مطابق اولاد عبدالمطلب میں سے کسی نے بھی اس وقت حکومت کے خلاف تلوار کیوں نہیں اُٹھائی کیا یہ سب حضرات نافرمائی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتکب نہیں قرار پاتے ہیں؟؟؟۔۔۔ یہ بات کس طرح باور کی جائے کہ حاضر الوقت سارے ہی صحابہ کرام سادات بنی ہاشم اور تابعین عظام نے ایک ایسے شخص کو جس کا کفر بواح ثابت تھا اپنا امیر تسلیم کر رکھا تھا۔۔۔

جناب یزید کی بیعت کے موقع پر حضرت ابن عمر نے فرمایا تھا کہ اگر یہ اچھا نکلا تو ہم شکر ادا کریں گے اور اگر یہ مصیبت بن گیا تو ہم صبر کرینگے (لسان المیزان ازعسقلانی) فاروق اعظم الناطق بالحق والصواب اشدعلی الکفار جیسے باپ کے خلف الرشید سے یہ کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے یزید کے کفر بواح پر بھی صبر ہی کیا ہوگا صبر کے یہ معنی تو نہیں ہیں کہ آدمی حرارت دینی اور غیرت ملی سے یکسر خالی ہو جائے جب حضرت ابن عمرنے واقعہ کربلا کے بعد بھی یزید کی بیعت کو اللہ اور رسول کی بیعت قرار دے کر نقض بیعت کرنے والوں کو تہدید سنائی اور واقعہ حرہ کے بعد بھی کوئی احتجاجی اقدام نہیں فرمایا تو ماننا پڑے گا کہ واقعہ کربلا اور واقعہ حرہ کی داستانیں فضول اور منگھڑت ہیں صحیح العقیدہ اہلسنت والجماعت کے لئے صرف حضرت ابن عمر کا اسوہ مبارکہ ہی مشعل ہدایت اور منارہ نور تھا اور جب آپ کے ساتھ اس وقت کے سارے ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین اور سادات بنی ہاشم بھی شریک ہیں تو یہ نور علی نور کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے لیکن ومن لم یجعل اللہ لہ نور افمالہ من نور (سورہ نور آیت ٤٠)۔۔۔

جہاد قسطنطنیہ!۔
اس بارے میں بڑی بحثیں ہیں کہ مدینہ قیصر سے مراد قسطنطنیہ ہے یا حمص ہے وہ کونسا دستہ ہے جو مغفرت موعودہ سے مشرف ہے اس دستہ کا امیر کون تھا؟؟؟۔۔۔ فی الوقت میں یہاں ان حضرات کا جواب لکھ رہا ہوں جو اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ مغفرت موعودہ کی بشارت والا وہی دستہ تھا جو جناب یزید کی سرکردگی میں قسطنطنیہ پر حملہ آور ہوا تھا لیکن یہ حضرات جناب یزید کو کافر و مرتد قرار دے کر مغفرت موعودہ سے محروم قرار دیتے ہیں مفتی محمد شفیع اوکاڑوی کا مضمون جہاد قسطنطنیہ اور کردار یزید میرے پیش نظر ہے جو رہمنائے دکن مورخہ ٩ جون ١٩٩٧ء کے صفحہ نمبر ٢ پر موجود ہے مفتی صاحب کی بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ مغفرت کی بشارت اس کے لئے ہے جس میں مغفرت کی اہلیت ہو یعنی اس کی موت ایمان پر ہو چونکہ یزید کافر ومرتد ہے اس لئے مرتد مغفرت کی بشارت سے محروم اور خارج ہے مفتی صاحب نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ مغفرت کی بشارت کے بعد ارتدار اور کفر کا دھڑکا لگا ہوا ہو یا کسی رکاوٹ کے حائل ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر بشارت ہی کیا ہوئی یہ بات تو سارے ہی مسلمانوں کے لئے ہے کہ ان کے اعمال صالحہ کا فائدہ انہیں اسی وقت پہنچے گا جبکہ ان کی ایمان پر موت ہو پھر کسی شخص یا جماعت کو خاص طور پر مغفرت یا جنت کی بشارت دینے کا کیا فائدہ؟؟؟۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص یا جماعت کو خاص طور پر مغفرت یا جنت کی بشارت دینے کا مطلب یہی ہے کہ دراصل منجانب اللہ اس بات کی ضمانت دی جارہی ہے کہ اس شخس یا جماعت کی موت ایمان پر ہوگی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جن صحابہ کرام کو جنت کی بشارت دی اس کے ساتھ یہ شرط نہیں لگائی کہ بشرطیکہ ان کی موت ایمان پر ہو جہاد قسطنطنیہ کے شرکاء کی مغفرت کی بشارت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ اگر ان میں سے کوئی مرتد ہو کر مرے تو وہ اس بشارت سے خارج رہے گا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جہاد قسطنطنیہ کے سبھی شرکاء خواہ امیر ہو یا مامور باایمان مرے اور بشارت سے مشرف ہوئے۔۔۔

حضرت یزید مظلوم صالح، متقی اور امیر المومنین ہیں!۔
جن حضرات نے اس پوری تحریر کا یہاں ٹھنڈے دل سے مطالعہ کیا ہے وہ یقینا اس بات کو تسلیم کر لیں گے کہ خواہ مخواہ حضرت یزید کے کردار کو مسخ کیا گیا ہے اور ان پر ناحق ظلم کیا گیا ہے اس بناء پر میں ان کو خلیفہ مطلوم کہتا ہوں تو کیا غلط کہتا ہوں؟؟؟۔۔۔ میں نے اپنی اس تحریر میں سردار بنی ہاشم حضرات ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ارشاد پیش کیا تھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا اپنے گھر کا صالح فرد ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فرزند رشید محمد کا ارشاد پیش کہ میں نے ان کو (یزید کو) نمازوں کی پابندی کرنے والا، اعمال صالح میں سرگرم فقہ کا متلاشی اور سنت رسول کا پیروی کرنے والا پایا ہے صلاح وتقوٰی اس کے سوا اور کیا ہے؟؟؟ اگر میں حضرت محمد کے ارشاد کی روشنی میں حضرت یزید کو صالح اور متقی کہتا ہوں تو مجھ پر غم و غصہ کیوں؟؟؟۔۔۔ یہ حقیقت ہے کہ حضرت یزید نے روایتی تقدس مابی کا سوانگ نہیں رچایا تھا اپنے جُبہ ودستار، خرقہ اور سبحہ کی نمائش نہیں کی تھی دین داری کا لبادہ اوڑھ کر جفیہ دنیا کے طالب نہیں تھے ان کا ظاہر و باطن یکساں تھا کسی کو اں سے آماتو چنانکہ می نمای ہستی؟؟؟۔۔۔ پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی اس لئے آج کی ذہنیت کے اعتبار سے انہیں صالح اور متقی نہیں مانا جاتا ہے تو اور بات ہے میں حضرت علی بن حسین زین العابدین کا ارشاد اللہ امیر المومنین پر رحمت نازل کرے بھی پیش کیا تھا اس ارشاد کی روشنی میں، میں حضرت یزید کو امیر المومنین کہتا ہوں اور ان کے لئے دُعائے رحمت کرتا ہوں تو مجھ پر کیوں دانت پیسے جا رہے ہیں کل اللہ تعالٰی مجھ سے اس بارے میں سوال کرے تو ان شاء اللہ میں اللہ تعالٰی کے ان برگزیدہ اور محبوب بندوں کی آڑلوں گا۔۔۔

اس میں کوئی شک نہیں کے بعد کے بہت سے علماء اور آئمہ کے حضرت یزید کے بارے میں سخت سے سخت اقوال موجود ہیں ان ہی اقوال کی بناء پر لوگ ان کو فاسق و فاجر قرار دیتے ہیں اور ان پر لعنت کرنے کا جائز سمجھتے ہیں لیکن دیکھا جائے تو یہ بعد کے علماء اور آئمہ حضرت ابن عمر، حضرت ابن الحنیفہ اور حضرت زین العابدین کے ہم پلہ تو کیا ان کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتے ان تینوں بزرگوں اور دیگر حاضر الوقت صحابہ کرام اور تابعین عظام سے حضرت یزید کو فاسق و فاجر کہنے اور ان پر لعنت کرنے کی کوئی روایت نہیں ہے۔۔۔

لے دے کر ان پرصرف شراب نوشی اور ترکِ نماز کا الزام رہ جاتا ہے حضرت عبداللہ بن مطیع نے حضرت محمد سے جو طویل گفتگو کی تھی اس میں صرف ان ہی دو الزامات کا ذکر ہے واقعہ کربلا، نکاح محرمات اور دیگر بداعمالیوں کا کوئی اشارہ نہیں ہے اور پھر انہیں یہ اعتراف بھی تھا کہ وہ ان الزامات کے عینی شاہد نہیں ہیں ان دونوں الزامات کی حقیقت یہ ہے کہ یزید جو مشروب شوق سے استعمال کرتے تھے اس کے جواز اور عدم جواز میں اختلاف تھا اس لئے نہیں کہا جاسکتا تھا کہ وہ حرام شراب ہی استعمال کرتے تھے شام جیسے شرد ملک میں ٹھنڈے مشروبات کے زیادہ استعمال کی وجہ سے وہ مرض نقرس اور وجع المفاصل (گٹھیا اور جوڑوں کے درد) میں مبتلا ہوگئے تھے اس وجہ سے وہ منظر عام پر آکر نماز پڑھنے اور امامت کرنے سے قاصر تھے اسی بناء پر غالبا لوگوں نے ان پر ترک نماز کا الزام لگایا تھا یہ کیفیت انتقال سے چند ماہ پہلے شروع ہوئی تھی اور اسی میں ان کی وفات ہوگئی جو لوگ کہتے ہیں کہ یزید پر ایسا عذاب الٰہی نازل ہوا کہ وہ طرح طرح کے امراض خبیثہ میں گرفتار ہونے کے بعد تڑپ تڑپ کر ہلاک ہوگیا بالکل جھوٹ ہے نقرس اور وجع المفاصل امراض خبیثہ میں شمار نہیں ہوتے بالفرض وہ واقعی شراب نوشی اور ترکِ نماز کے مرتکب تھے تب بھی اللہ کی رحمت سے انہیں مایوس نہیں قرار دیاجاسکتا اس لئے کہ ان پر شرک کے ارتکاب کا کسی نے الزام نہیں لگایا اور شرک کے سوا ہر گناہ کی مغفرت کی پوری گنجائش ہے (سورہ النساء آیت ٤٨) آج کتنے مسلمان ہیں جو دنیا کی ساری بداعمالیوں کے ساتھ ساتھ مشرکانہ عقائد و اعمال میں خود مبتلا ہیں دوسروں کو مبتلا کرتے ہیں پھر پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنے آپ کو جنت کا ٹھیکیدار سمجھ کر دوسروں کو عبرتناک انجام سے ڈراتے اور عذات الٰہی کا مستحق ٹہراتے ہیں کاش یہ لوگ اپنے گریباں میں بھی ذرا سا جھانک لیتے۔۔۔

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد!۔
قتلِ حسین اصل مرگ یزید ہے۔۔۔ حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی اور اپنے کنبہ کی قربانی دے کر اسلام کو بچالیا چمن اسلام کی اپنے خون سے آبیاری کی، خود فنا ہوکر اسلام کو حیات ابدی بخشی بظاہر یزید کی فتح ہوئی لیکن حقیقی فتح حسین رضی اللہ عنہ کی ہوئی غرض اس طرح کے ہوش سے خالی جوش سے بھرپور جملے تقریبا ہر سیرت حسین رضی اللہ عنہ کے جلسے میں سننے میں آتے ہیں اب ان ہی محبانِ وشیدانانِ حسین رضی اللہ عنہ سے پوچھیں کہ صاحب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اتنی عظیم قربانی کے بعد کیا ہوا تو یہ منہ کسور کے کہتے ہیں کہ!۔

امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد تو یزید بےلگام ہوگیا زنا، لواطت، حرام کاری، (زنا اور لواطت کے علاوہ حرام کاری اور کیا چیز ہے میری سمجھ میں نہیں آتی مشائخ حضرات ہی اسکی بہتر وضاحت کر سکتے ہیں) بھائی بہن کے درمیان نکاح، سود کا لین دین اور شراب نوشی وغیرہ علانیہ طور پر رائج ہوگئے لوگوں میں نماز کی پابندی اُٹھ گئی (نقاب کشائی صفحہ١٠)۔۔۔

گویا ان لوگوں کے نزدیک واقعہ کربلا سے اسلام کو یہ زندگی ملی قتلِ حسین سے یہ مرگِ یزید ہوئی اس طرح چمنِ اسلام کی آبیاری ہوئی۔۔۔ یہ حضرت حسین کی ذاتِ اقدس کے ساتھ بھونڈا مذاق نہیں ہے تو اور کیا ہے؟؟؟۔۔۔ آپ کی شہادت ہر تعریف کے انداز میں بدترین طنز نہیں تو اور کیا ہے؟؟؟۔۔۔ شہادت کے بعد یزید اتنا بے لگام ہوگیا تو پھر مرگِ یزید کیا ہوئی؟؟؟۔۔۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اتنی عظیم قربانی کا آخر کیا ثمرہ اُمت کو ملا میرے نزدیگ مرگِ یزید اور بے لگامی کی متضاد بات حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شان میں بدترین گستاخی اور آپ کی ذاتِ اقدس پر بھرپور طنز ہی ہے۔۔۔

ان صاحبان جبہ ودستار سے کوئی پوچھے کہ لفظ لا الہ کے کیا معنی ہیں کیا یہ دو چھوٹے سے لفظ عین ایمان ہیں؟؟؟۔۔۔ کیا کوئی شخص صرف لا الہ (کوئی معبود نہیں) کہدے تو کیا مومن کہلایا جاسکتا ہے؟؟؟۔۔۔ ایک چھوٹا بچہ بھی جانتا ہے کہ جب تک لفظ لا الہ کے ساتھ الا اللہ نہ کہا جائے یہ لفظ عین کفر ہی ہوگا، اب اس شخص کا پتھر کا کلیجہ ہی ہوگا جس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اس عین کفریہ کلمہ کی بنا قرار دیا اور پھر حق کی تاکید کیساتھ اتنا کھلا کفر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ذاتِ اقدس کی طرف منسوب کرنے کے باوجود یہاں کسی عاشقِ حسین کو خارجیت و ناصبیت نظر نہیں آتی للعجب مجھ پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی اور اہانت کا الزام لگانے والے حضرات ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ وہ خود کیسی گستاخی اور اہانت کے مرتکب ہو رہے ہیں اگر وہ شہادت کے بعد واقعی مرگِ یزید ثابت کرتے تو کچھ بات تھی لیکن انہوں ن بےلگامی کی بات کہہ کر شہادت کی برُی طرح توہین کی جس کی عِنداللہ جواب دہی کرنی ہوگی بے لگامی کے ضمن میں جتنی باتیں کہی گئی ہیں نکاح محرمات زنا و لواطت وغیرہ اس میں ایک مثال تو بتائی جائے کہ فلاں شخص نے اپنی محرم بہن سے نکاح کیا تھا اور خلیفہ نے اس کو جائز قرار دیا تھا بتایا جائے کہ فلاں شخص لواطت کے جرم میں ماخوذ ہوا ور حکومت نے اس کو شاباشی دی ہو اور سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اس وقت کتنے صحابہ کرام سادات بنی ہاشم اور تابعین عظام تھے آخر یہ سب کیا کر رہے تھے آلِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذرا سی توہین پر آج گئے گذرے زمانے میں ہمارا خون کھول اُٹھتا ہے حرمین شریفین کی ذراسی بے حرمتی پر ہم مرنے مارنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں آج اسلام کی کسی قدر کو پامال ہوتے دیکھ کر ہم آپے سے باہر ہوجاتے ہیں تو کیا اس وقت کے بزرگوں کی حمیت کو سانپ سونگھ گیا تھا یا وہ ایمانی حمیت اور ملی غیرت کے معاملے میں ہم سے کمتر تھے جو انہوں نے خاموشی اختیار فرمائی اور یزید کو طبعی موت مرنے دیا اور یزید کے بعد بنی اُمیہ ہی میں حکومت باقی رہی ان امور پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے گاؤن بانٹ لینے کے انداز میں اپنے آپ کو جنت کا ٹھیکیدار سمجھ کر کسی کو خواہ مخواہ عذاب الٰہی کا مستحق قرار دینا دانشمندی اور تقاضائے ایمانی سے بعید ہے بالفرض میری فکر میں سقم ہے او میں جو کہہ رہا ہوں واقعی غلط ہے تب بھی وہ قابل معافی ہے اس لئے کہ شرک کے سوا ہر گناہ کی مغفرت کی گنجائش ہے لیکن یہ بات ضرور ہے کہ کسی بندے کو اپنے طور پر عذاب الٰہی کا مستحق قرار دینا اللہ تعالٰی کے اختیار میں مداخلت کرنا ہے جو بلاشبہ قابلِ مواخذہ ہے ۔

وما علینا الالبلاغ۔۔۔

والسلام

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔