Tuesday, 1 September 2009

عیسوی سال کی کہانی

0 comments
سال کے 12مہینوں کی کہانی مختلف ادوار میں مختلف رہی ہے ۔ کبھی ان مہینوں کی ترتیب اس موجودہ ترتیب سے مختلف تھی ۔ اب ان 12 مہینوں کی کہانی یوں ہے۔

جنوری سن عیسوی سال کے اس پہلے مہینے کا نام رومیوں کے ایک دیوتا جینس کے نام پہ رکھا گیا ہے۔ ا س دیوتا کی پوجا صرف جنگ وجدل کے دوران ہی کی جاتی تھی اور امن کے زمانے میں اس کا دروازہ بند رہتا تھا۔ اس دیوتا کے دو سر تھے جن سے وہ ایک ہی وقت میں آگے اور پیچھے دیکھ سکتا تھا ۔ اس مہینے کا نام اس دیوتا کے نام پر رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ رومیوں کے عقیدے کے مطابق جس طرح یہ دیوتا اپنے دونوں سروں آگے اور پیچھے دیکھ سکتا تھا اسی طرح انسان بھی اس میں اپنے ماضی اور مستقبل کا جائزہ لیتا ہے ۔

فروری کا نام اہل روم کے ایک مذہبی تہوارفیبریا کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ تہوار دیوتا لیوہرکس کے اعزاز میں منا یا جاتا تھا۔ ایک زمانہ تھا جب فروری سال کا آخر ی مہینہ تھا۔ یہ مہینہ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس میں 28دن ہوتے ہیں اور ہر 4سال بعد یہ مہینہ 29دن کا ہوجاتا ہے۔
مارچ کا نام مارس دیوتا کے نام پر رکھا گیا ہے ۔ یہ دیوتا بڑا خطرناک تھا۔ رومی دیو مالا کے مطابق اس کی شکل کچھ اس طرح تھی کہ اس کی رتھ میں دیوتا کھڑا تھا اس کے ہاتھ میں نیزہ تھا دوسرے ہاتھ میں ڈھال تھی دیوتا کا چہرہ آسمان کی طرف اٹھا ہوا تھا۔ اہل روم مارس کو جنگ کادیوتا کہتے تھے اور اسے تمام دیوتاؤں سے طاقتور سمجھتے تھے ان کا عقیدہ تھا کہ بارش ٫ بجلی اور گرج چمک سب مارس کے ہاتھ میں ہے ۔

اپریل کے معنی ہیں کھولنے والا ٫آغازکرنے والا۔اس مہینے سے پیار کی آمد ہوتی ہے۔اس کا نام کسی دیوتاپر نہیں تھا بلکہ پیار کے فرشتے کی طرف منسوب تھا۔

مئی مہینے کا نام ایک دیوتی میا کے نام پر رکھا گیا تھا ۔ رومیوں کے خیال میں اس وسیع و عریض زمین کو اٹل دیوتا نے اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھا تھا اس دیوتا کی 7بیٹیاں تھیں جن میں سے میا زیادہ شہرت کی مالک تھی ۔

جون کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس مہینے کا نام جونو دیوی کے نام پر رکھا گیا تھا جبکہ بعض لوگ یہ رائے ظاہر کرتے ہیں کہ یہ نام روم کے ایک مشہور شخص جولیس کے نام پہ رکھا گیا۔جونو دیوی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ دیوتاؤں کے سردار جیوپیٹر کی بیٹی تھی جبکہ جولیس ایک بے رحم اور سفاک انسان تھا ۔

جولائی کا نام ایک مشہور حکمران جولیس بیزر کے نام سے منسوب تھا۔ کسی زمانے میں جولائی سال کا پانچواں مہینہ تھا۔

اگست کانام ایک مشہور رومی حکمران آگسٹس کے نام پہ رکھا گیا ۔ پہلے آگسٹس کا نام کچھ اور تھا مگر جب اس نے فلاح و بہبود کے لیے دن رات کام کیا تو اہل روم اس کے اس قدر گرویدہ ہوگئے کہ اسے آگسٹس کے نام سے پکارنے لگے جس کے معنی دانا ، دانشمند کے ہیں لہٰذا اس مہینے کو آگسٹس کے نام پر بھی اگست کہا جانے لگا ۔

ستمبر کے لغوی معنی ہیں ساتواں ۔ پہلے یہ سال کا ساتواں مہینہ تھا مگر بعد میں کیلینڈر از سر نو ترتیب دینے پر نواں مہینہ بن گیا ۔

اکتوبر کے لغوی معنی 8 کے ہیں یہ لاطینی زبان کا لفظ ہے پہلے یہ سال کا آٹھواں مہینہ تھا کہیں بعد میں اسے دسواں مہینہ بنا دیا گیا ۔

نومبر لاطینی زبان کے لفظ (novem) سے بنا ہے جس کے معنی ہیں نواں ۔پہلے یہ سال کا نواں مہینہ تھا لیکن بعد میں یہ گیارھواں مہینہ بن گیا۔ اس مہینے کو خونی مہینہ بھی کہا جاتا تھاکیونکہ اس مہینے میں سردی بہت پڑتی تھی ۔

دسمبر کے معنی دس کے ہیں ۔یہ سال کا دسواں مہینہ ہوتاتھا ۔ لیکن بعد میں بارھواں مہینہ بن گیا ۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔