Tuesday, 1 September 2009

کہاوت کا مارا

0 comments

"روپیہ روپیہ کو کھینچتا ہے"ایک کسان نے یہ کہاوت سنی تو اس کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی اور وہ اسے آزما نے کی سوچنے لگا ۔
ایک بار اسے شہر جانے کا اتفاق ہوا ۔ وہ اپنے ساتھ ایک روپیہ کا سکہ بھی لیتا گیا ۔اس نے سوچا کہ اپنے ایک روپیہ سے شہر کے بہت سارے روپے کھینچ لائے گا ۔
شہر پہنچ کر وہ سارا دن موقع کی تلاش میں رہا۔ لیکن اسے ناکامی ہوئی ۔شام کے وقت جب وہ نا امید ہو کر لوٹ رہا تھا تو اسے ایک دوکان پر ایک سیٹھ نوٹوں کی گڈیاں گنتا نظر آیا ۔ کسان بہت خوش ہوا اور اس نے سیٹھ کی نظر بچا کر اپنا روپیہ نوٹون کی گڈی میں پھینک دیا اور مکان کے باہر جا بیٹھا ،انتظار کرنے لگا کہ میرا روپیہ سیٹ کے روپیوں کو کھینچ کر اب آتا ہے اور تب آتا ہے ۔ کافی دیر ہوگئی روپیہ نہیں لوٹا ، پر کسان آس لگائے بیٹھا رہا۔
روپئیے گنتے گنتے سیٹھ کی نظر کئی بار کسان پر پڑی ، اس نے سمجھا کوئی چوراچکا ہے ۔
اسی لئے جب اس سے رہا نہ گیا تو اس نے ڈپٹ کر کہا ۔
"چل بھاگ یہاں سے ورنہ پولس کے حوالے کردوں گا "۔
"میرا روپیہ" کسان نے گڑ گڑا کر کہا۔
"تیرا روپیہ؟ کیسا روپیہ "سیٹھ نے حیرت سے پوچھا۔
"میں نے آپ کی گڈی میں پھینکا تھا"۔
"کیوں پھینکا تھا "؟
" میں نے سنا تھا روپیہ روپیئے کو کھینچتا ہے ۔ یہی آزمانے کے لئے پھینکا تھا ۔ لیکن ابھی تک میرا روپیہ لوٹ کر نہیں آیا "۔
سیٹھ بے اختیار ہنس پڑا ،اور بولا ۔" بے وقوف ! روپیہ روپیئے کو کھینچتا ہے یہ کہاوت غلط ہے ، لیکن جس کو کھینچنا تھا اس نے کھینچ کیا ۔ اب گھر جاؤ، یہاں کھڑے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ۔"

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔