Wednesday, 2 September 2009

بارہ پنجے ساٹھ ۔۔۔ مستقبل کی ایک تصویر

0 comments
بھلا وہ کیا چیز ہے جو کمپیوٹر سے زیادہ ذہین ہو،اس سے زیادہ تیز رفتارہو، اس سے زیادہ تخیلاتی ہواور سب سے بڑھ کر کمپیوٹر سے زیادہ انسانی وجود سے قریب تر ہو؟

اس سوال کا جواب بہت ہی آسان ہے، دماغ۔ جی ہاں ہمارا دماغ ان تمام افعال میں کمپیوٹرسے برتر ہے، لیکن ہم انفارمیشن ہائی وے پر چوہا دوڑ میں اس قدر مگن ہوگئے ہیں کہ اپنے دماغ سے کام لینا ہی چھوڑتے جا رہے ہیں۔ اسکول کے بچے سے پوچھ لیں یا کسی دفتر کے بابوسےکہ نواٹھے کتنے ہوتے ہیں؟ وہ سوچ میں پڑ جائے گا جیسے نہ جانے کون سا مشکل سوال کرلیا گیا ہے۔ کیلکولیٹر مانگے گا یا کمپیوٹر کا سہارا تلاش کرے گا ۔

مجھے ایجاد کی بنا پر ہونے والی ہر مثبت تبدیلی قبول ہے لیکن مجھے جدید ایجاد کی قیمت پر انسانی ذہن کا ، پرکھنے کا ہنر ، چننے کی صلاحیت اور فیصلہ کرنے کی قدرت کو قربان کردینا منظور نہیں:

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

کوئی جدید سے جدید کمپیوٹر بھی شعر بھلا کہاں کہہ سکتا ہے،دو لفظ ہمدردی کے کہاں بو ل سکتا ہے،زخموں پر مرہم کہاں رکھ سکتا ہے ،خوشی کے لمحات میں کہاں شریک ہو سکتا ہے۔ کہنے کی بات یہ ہے کہ دور جدید کی تمام ترقی مشینوں کی مرہونِ منت ضرور ہے لیکن اس میں سے انسانی عنصر کو نہیں نکالا جا سکتا۔آخر انسان نے ٹیکنالوجی کے یہ کمالات زندگی میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ہی بنائے ہیں نا۔

2

میرے تخیئل کے پردے پر سال 2408ء کا ایک منظر ابھر رہاہے ۔دنیا ترقی کی انتہاؤں کو چھوتی ہوئی اپنی کہکشاں آکاش گنگا سے پرے نکل چکی ہے۔انسان کی بنائی ہوئی مشینوں کی مار ساڑھے چار نوری سال دور الفا سنتوری سے آگے پہنچ چکی ہے۔

الفا سنتوری کے ایک ستارے پراکسیما کے نظامِ شمسی کے باسی اہلِ زمین سے پرخاش رکھتے ہیں۔اہلِ زمین اور پراکسیما واسیوں کے درمیان ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو گئی ہے ۔دونوں ایک دوسرے پر حملے کرنے اور ایک دوسرے کے حملوں سے بچنے کے نت نئے طریقے کھوجنے میں جٹے ہوئے ہیں۔

زمین کے صدر کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کس طرح پراکسیما واسیوں پر حملے کے لیے سستے اور موثر طریقے تلاش کیے جائیں۔

اِدھرزمین پر ایک فوجی یونٹ میں سپر وائزر اپنے افسر کوایک بہت اہم بات بتا رہا ہے:

’سر میں نے خود اس کلرک سے بات کی ہے۔وہ واقعی کسی کمپیوٹر کے بغیر حساب کتاب کر سکتا ہے۔میں نے اس کو آزمایا ہے، بلا شبہ وہ جو کہتا ہے سچ ہے۔‘

بات یہ ہے کہ معمولی کلرک اچانک اپنے محکمے میں مشہور ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہٴ شہرت یہ ہے کہ وہ بغیر کمپیوٹر کے حساب کتاب کر سکتا ہے۔اس کے ساتھی اس کا امتحان لیتے ہیں، سات اٹھے؟ وہ کہتا ہے چھپن۔ ساتھی پوچھتے ہیں بارہ پنجے؟ وہ کہتا ہےساٹھ۔ اور یہ سب جواب وہ کمپیوٹر کی مدد کے بغیر دیتا ہے،اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کمپیوٹر بھی یہی جواب دیتا ہے۔کیسا باکمال آدمی ہے کمپیوٹر کا کام کر رہاہے؟

افسر اپنے بڑے افسر کو رپورٹ کرتا ہے اوربات اوپر بڑھتے ہوئے وزیرِ اعظم تک چلی جاتی ہے۔وزیرِ اعظم کو یقین نہیں آتا کہ کس طرح ایک انسان خود سے حساب کتاب کر سکتا ہے۔وزیر اعظم اس کلرک سے ملاقات کرتے ہیں:

’تم ہی وہ شخص ہو جس نے خود سے حساب کتا ب شروع کردیا ہے؟‘

’جناب اس میں میرا کوئی قصور نہیں، میں نے کچھ نہیں کیا۔‘

’ڈرو نہیں تم نے تو ایک عظیم کام کیا ہے، لیکن تم نے یہ سب کچھ کیا کیسے؟‘

’جناب مجھے سینکڑوں سال پہلے تباہ ہوئی عمارت کے تہہ خانے سے ایک کتاب ملی تھی جو کاغذ پر لکھی گئی تھی۔ سنا ہے کبھی انسان جاہل تھا وہ کاغذ پر لکھنے کی کوشش کرتا تھا۔جناب اس کتاب سے میں نے جمع تفریق تقسیم ضرب کے قاعدے سیکھے۔‘

وزیر اعظم نے اپنے کمپیوٹر پر کچھ جمع تفریق کی اور کلرک کووہ سوال حل کرنے کے لیے دے دیے گئے۔ کلرک نے کاغذ پر کچھ دیر سر کھپانے کے بعد اپنے جوابات وزیر اعظم کو دکھائے ۔

’شاندار! کمپیوٹر نے بھی یہی جوابات دیے ہیں۔تم اپنا یہ ہنر دوسروں کو بھی سکھا سکتے ہو؟‘

’جی جناب لیکن اس میں ٹائم لگے گا ۔خود مجھے اس کام کو ٹھیک طرح سے کرنے میں کئی سال لگ گئے تاہم امید ہے دوسروں کو سکھانے میں کم وقت لگے گا۔‘

’تم اس نئے پراجیکٹ کے سربراہ ہو ۔میں صدر سے بات کرتا ہوں، وہ فوراً اس کی منظوری دے دیں گے۔‘

3

صدراپنے دفتر میں نئے سپرکمپیوٹروں کے ساتھ اہم میٹنگ میں ہے۔وزیر اعظم کا پیغام آتا ہے:

’پراکسیما والوں نے زمین کو نشانے پر لینے کے لیے مریخ پر واقع ہماری رسد گاہ پر حملے تیز کر دیے ہیں۔‘

’ہمارا جدید کمپیوٹر ز کی تیاری کا سسٹم سست روی کا شکار ہے۔ہم نے پراکسیما تک مار کرنے والے میزائل تو بنا لیے ہیں لیکن پارٹس کی کمی کی وجہ سے ہر میزائل میں کمپیوٹر نہیں لگایا جا سکتا۔اس صورت حال میںٕ جلد کوئی انتظام نہ کیا گیا تو زمین کو بچانا مشکل ہو جائےگا۔تو کیا کریں ہم مجبور ہیں۔ ہمارے کمپیوٹر قیمتی ہیں اوران کی تعداد بھی کم ہے۔‘

’سر ایک کلرک نے اپنے ذہن کا استعمال سیکھ لیا ہے۔ وہ کمپیوٹر پر کرنےوالے حساب کتاب خود کرلیتا ہے۔میں نے خود ٹیسٹ کیا ہے۔اس سے پوچھا گیا، بارہ پنجے؟ اس نے کہا ساٹھ اور یہ ٹھیک ہے۔‘

’ارے زبردست! یہ تو کمال ہوگیا فوری طور پر اس پراجیکٹ پر کام شروع کردو۔انسانی ذہن کے استعمال سے ہم پراکسیما والوں کو شکست دے دیں گے۔‘

’جی ہاں جناب صدر،میں بھی یہی سوچ رہا ہوں ہمارے پاس بہت سارے بیکار انسان ہیں جن کی تربیت کے بعد انہیں ہم پراکسیما تک مار کرنے والے میزائلوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔‘

’واہ ہم نےکتنا سستا اور مؤثرہتھیار تلاش کرلیا ہے،اور ہاں اس پراجیکٹ کا نام رکھو، بارہ پنجے ساٹھ ۔۔۔‘


شاہد احمد خان کے قلم سے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔