Tuesday, 1 September 2009

پرائیویٹ سراغ رساں ۔۔۔۔ مجرم کو پہچانئے !

0 comments



کیا آپ کے ذہن میں تجسس ہے ؟
کیا آپ باریک بینی سے مطالعہ کرتے ہیں ؟
کیا آپ کا مشاہدہ تیز ہے ؟
کیا آپ بکھرے ہوئے اشاروں کو سمیٹ کر منطقی طور پر نتیجہ نکال سکتے ہیں ؟
کیا آپ میں "پرائیویٹ سراغ رَساں" بننے کی صلاحیت ہے ؟


اپنی صلاحیتوں کا امتحان لینے کے لیے درج ذیل کہانی کا بغور مطالعہ کریں ۔
اِس کہانی میں وہ تمام اشارے اور ثبوت موجود ہیں ۔۔۔ جن کی موجودگی میں ایک ماہر سراغ رَساں اصل مجرم کو پہچان سکتا ہے ، اور مجرم کے جرم کے بارے میں بھی دلائل دے سکتا ہے ۔

آپ بھی یہ کہانی پڑھ کر اس میں دئے ہوئے اشاروں اور واقعات کی مدد سے اصل مجرم کا نام سوچئے اور اس کے ساتھ ساتھ مجرم کے جرم کو ثابت کرنے کے لیے دلائل بھی سوچ کر مختصر reply کیجئے۔
اصل نتیجہ چند دن بعد آپ کے سامنے پیش کر دیا جائے گا ۔

تو ۔۔۔۔ عزیزانِ گرامی ! کہانی کچھ یوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




ڈاکٹر مظفر علی کو زہر دے کر ہلاک کیا گیا تھا۔
ڈاکٹر مظفر کیمسٹ اور ایک سائنسداں تھا۔اس کی کوٹھی میں اس کی اپنی لیباریٹری تھی، جہاں وہ اپنے نوجوان پارٹنر ڈاکٹر فراز کے ساتھ تجربے کرتا رہتا تھا۔ دونوں مل کر نئی نئی قسم کی دوائیں ایجاد کرتے تھے ، اور پھر یہ دوائیں بڑی مقدار میں تیار کر کے مارکیٹ میں سپلائی کی جاتی تھیں۔
ڈاکٹر مظفر کی جدید طرز کی لیباریٹری کوٹھی کے پچھلے حصے کے تہہ خانے میں بنی ہوئی تھی ، جس کا راستہ کچن کے برابر میں تھا۔ صدر دروازے سے کوٹھی میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے بڑا سا ڈرائنگ روم تھا۔ ڈرائنگ روم کے اندر ہی سے ایک زینہ دوسری منزل پر جاتا تھا۔ دوسری منزل پر ڈاکٹر مظفر کی خواب گاہ تھی، اور خواب گاہ کے سامنے ادویات کا اسٹور روم تھا۔
ڈاکٹر مظفر کی موت کی اطلاع اس کے نوجوان پارٹنر ڈاکٹر فراز نے پولیس کو دی تھی۔ڈاکٹر فراز ہی نے پولیس انسپکٹر حمیدی کو یہ بتایا تھا کہ ڈاکٹر مظفر کو کافی میں سائینائڈ زہر دیا گیا ہے ، کیونکہ کافی کے کپ کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر مظفر کے مونہہ سے اب تک کڑوے باداموں کی سی بو آرہی تھی جو سائینائڈ کی خاص پہچان ہے۔
انسپکٹر حمیدی کے پوچھنے پر ڈاکٹر فراز نے بتایا کہ اس مکان میں کئی قسم کے زہر اسٹور روم اور لیباریٹری میں موجود رہتے ہیں ، جن میں سائینائڈ بھی شامل ہے۔اس لئے قاتل کے لئے زہر حاصل کرنا کچھ مشکل نہیں تھا۔
انسپکٹر حمیدی نے ڈاکٹر فراز کا بیان لیا ، تہہ خانے میں جا کر لیباریٹری دیکھی ، اسٹور روم دیکھا ، لیکن کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکا۔ اندازہ یہ ہوتا تھا کہ یا تو ڈاکٹر مظفر نے خودکشی کی ہے یا پھر اس کی بیوی نے ڈاکٹر کو زہر دیا ہے۔ ڈاکٹر مظفر کی بیوی رخشندہ اسی دن ڈاکٹر سے ملنے آئی تھی۔

جب انسپکٹر حمیدی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا تو اس نے موبائل پر کال کر کے اپنے دوست کرنل آفریدی کو بلایا اور اس کو سارے حالات بتا کر مدد چاہی۔ کرنل آفریدی پرائیویٹ سراغ رَساں تھا اور حمیدی کی کئی مواقع پر مدد کر چکا تھا۔
کرنل آفریدی نے کوٹھی میں آتے ہی ایک بار سب کمروں میں گھوم کر دیکھا۔
آخر میں اس نے ڈاکٹر فراز سے کہا :
" ڈاکٹر فراز ، ایک بار مجھے اپنے طور پر آج دن بھر کے واقعات بتائیے۔ "
" مجھے کوئی اعتراض نہیں۔" ڈاکٹر فراز نے غم زدہ لہجے میں کہا۔
" ڈاکٹر مظفر میرے دوست ، میرے پارٹنر اور میرے محسن تھے۔اُن کی موت کا مجھے بہت صدمہ ہے۔ اگر یہ قتل ہے تو اُن کے قاتل کو گرفتار کرانا میرا اولین فرض ہے۔
اصل واقعات اس طرح ہیں کہ ۔۔۔۔
دوپہر کو لنچ کے بعد مجھے ایک فرم سے بزنس کے سلسلے میں کچھ معاملات طے کرنے جانا تھااور چار بجے تک واپس آنا تھا۔ ڈاکٹر مظفر نے مجھے بتایا کہ تین بجے اُن کی بیوی رخشندہ ان سے ملنے آ رہی ہے۔ ڈاکٹر مظفر ، رخشندہ سے طلاق لینا چاہتے تھے، کیونکہ تین سال سے ان دونوں میں بنتی نہیں تھی اور وہ الگ الگ رہتے تھے۔وہ مادام رخشندہ کو کچھ رقم دے کر طلاق پر راضی کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ اپنی خواب گاہ میں رخشندہ سے گفتگو کریں گے ، کیونکہ اُن کی طبیعت کچھ ناساز تھی۔ انہوں نے کہا کہ جب میں واپس آؤں تو اوپر نہ آؤں بلکہ لیباریٹری میں بیٹھ کر گھنٹی بجا دوں۔ اگر وہ گھنٹی کا جواب گھنٹی سے دیں تو اس کا مطلب میں یہ سمجھوں کہ مادام رخشندہ جا چکی ہیں اور وہ تنہا ہیں۔ اس صورت میں ، مَیں اوپر آ سکتا ہوں۔ اگر وہ کوئی جواب نہ دیں تو اس کا مطلب ہوگا کہ ابھی مادام ان کے ساتھ ہیں۔"
کرنل آفریدی نے ڈاکٹر فراز کی بات کاٹ کر پوچھا :
" کیا لیباریٹری میں گھنٹی ہے ؟ "
" جی ہاں ۔ درحقیقت وہ "بزر" ہے۔ ایسا ہی ایک بزر ڈاکٹر مظفر کی خواب گاہ میں ہے۔ جب کبھی ان کو اوپر میری ضرورت ہوتی ہے ، وہ بزر بجا دیتے ہیں۔ اور جب کبھی مجھے لیباریٹری میں ان کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ، میں بزر بجا دیتا ہوں ۔۔۔۔۔ خیر ، تو میں دو بجے چلا گیا۔ چار بجے میں عقبی دروازے سے لیباریٹری میں آ گیااور بزر بجایا۔ لیکن اوپر سے کوئی جواب نہ ملا۔ میں سمجھ گیا کہ ابھی مادام نہیں گئی ہیں، اس لئے میں اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد میں مادام کے جاتے ہی اوپر پہنچا تو ڈاکٹر مظفر بستر پر مردہ پڑے تھے اور اور اُن کے مونہہ سے سائینائڈ کی بو آ رہی تھی۔
چنانچہ میں نے فوراً پولیس کو فون کر دیا۔ میرا خیال ہے کہ مادام رخشندہ نے ان کو کافی کے کپ میں سائینائڈ دیا ہے ، کیونکہ مادام طلاق لینے کو اپنی بے عزتی سمجھتی تھیں۔ دوسرے ڈاکٹر مظفر نے دس کروڑ کا بیمہ کرا رکھا تھا جو مادام ہی کے نام تھا۔ ڈاکٹر مظفر کے مرنے کے بعد بیمہ کی وہ رقم مادام رخشندہ کو ملنی تھی ۔۔۔
بس جناب ۔۔۔ یہ ہیں وہ کل واقعات ۔ آگے آپ فیصلہ کر سکتے ہیں۔ "
ڈاکٹر فراز نے اپنا بیان ختم کیا۔

کرنل آفریدی نے جیب سے اپنا مخصوص سگار نکال کر سلگایا اور اپنی بڑی بڑی نیم غنودہ آنکھیں خلاء میں گاڑ دیں، چند لمحے وہ اسی طرح اپنی سوچ میں مشغول رہا پھر وہ انسپکٹر حمیدی کو ایک طرف لے گیا۔
ایک گھنٹہ بعد ہی وہ پولیس اسٹیشن واپس پہنچ چکے تھے، کیونکہ قاتل کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

دوستو ۔۔۔ ! یہاں آپ کو درج ذیل دو سوالات کے مختصر جواب دینا ہیں ۔
1) ڈاکٹر مظفر کے قتل کے جرم میں کس کو گرفتار کیا گیا ؟
2) مختصر دلائل سے قاتل کے جرم کو ثابت کریں۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔