Tuesday, 1 September 2009

صہیونیت کامہلک سرطان لائنز کلب

0 comments
لائنز صہیونیت کی ایک خفیہ اور تباہ کن تنظیم ہے جو ساری دنیا کے علاوہ اسلامی دنیا میں بھی سرگرم عمل ہوچکی ہے ۔اس کا مقصد بھی صہیونیت کے اسلام دشمن منصوبوں کی تکمیل ہے ۔اسلامی تنظیم کی بین الاقوامی کانفرنس نے اپنے اجلاس منعقدہ مکۃ المکرمۃ 1974ءمیں اس تنظیم کے خطرناک ارادوں کو بھانپ لیا تھا۔چنانچہ اس کانفرنس نے جس میں 140مندوب شریک تھے ایک اپیل جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالم اسلام بین الاقوامی صہیونی تحریک سے تعلق رکھنے والی تمام تنظیموں کے خلاف نبردآزما ہوجائے ،یہ تنظیمیں مختلف ناموں سے اپنی اسلام دشمن سرگرمیوں میں مصروف ہیں ۔ان میں لائنز،روٹری ،مورل آرمنگ موومنٹ اور برادرز آف فریڈم جیسی تنظیمیں شامل ہیں ۔اپیل میں کہاگیا تھا کہ اسلامی ممالک ان تنظیموں کو صہیونیت اور فری میسن کی طرح خطرناک سمجھیں ۔
کانفرنس نے اسلامی ملکوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں ان تنظیموں کی تمام سرگرمیوں کو روک دیں ۔ان کے کلب بند کردیں ،تمام اراکین پر پابندی عائد کردیں اور ان کے گھناؤنے کرتوتوں کی تفصیلات کا انکشاف کرکے ان پر مقدمات چلائیں۔
رسالہ الجہاد(لیبیا)نے اپنے شمارے (مئی 1984ء)لائنز کے ارادوں اور گھناؤنے عزائم کی پول کھول دی تھی۔ہم اس کا ترجمہ اختصار کے ساتھ پیش کررہے ہیں۔
بین الاقوامی تنظیم لائنز دراصل شکاگو کے ایک صہیونی تاجر کا خواب تھا ،واضح رہے کہ شکاگو امریکہ کی صنعتی تحریک کا مرکز ہے ۔اس تاجر کا نام بیلون جو نز تھا،اس کے خیال میں یہ ضروری تھا کہ مقامی تاجروں کو اپنے مفادات کوفروغ دینا چاہئے او ردنیا بھر میں تمام معاشروں کے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے ،لیکن یہ تحریک بہت جلد ایک ناقابل علاج سرطان کی صورت اختیار کرگئی اور امریکہ میں اس کے پھیلتے ہی اس نے تمام آزاد انسانی اصولوں کو تخت وتاراج کرکے رکھ دیا۔اس کا پہلا اجلاس جون 1917ءمیں شکاگوکے لاسل ہوٹل میں 23کلبوں کے اراکین کی موجودگی میں ہوا۔1920 ءاس کے اراکین کی تعداد دگنی ہوگئی اور یہ تحریک کنیڈا چین اور پھر 1927ءمیں میکسیکو تک پھیل گئی ۔اس طرح اس کے کلبوں کی تعداد 61ہزار ہوگئی ۔دنیابھر میں اس کلب کے اراکین کی تعداد اس وقت 20لاکھ سے متجاوزہے۔لفظ لائنز دراصل اختصار ہے Liberty Intelligance Our Nations Safety(آزادی وذہانت ہماری قوم کے لئے) کا اس کے بانی کے مطابق اس نے اس پیغام کے اظہار کے لئے یہ لفظ وضع کیا اس لفظ کا شیر ببر کے لئے انگریزی لفظ Lionسے کوئی تعلق نہیں تاہم اس نے شیر ببر کے سر کو اس تنظیم کا نشان ضرور بنایاتاکہ اس کے اراکین کو بھی اس کی طرح کائیاں ،طاقتور اور جری بن کر لوگوں کو صہیونیت کے جال میں پھانس سکیں ۔
اس تنظیم کے رکن بخوبی جانتے ہیں کہ وہ کس حد تک صہیونیت کے مقاصد کی تکمیل کررہے ہیں ۔یہ کلب اسلامی دنیا میں سرگرم عمل ہے ،دنیا کے 37علاقے اس کی سرگرمیوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں ۔ان میں افریقہ ،جنوب مغربی ایشیاء،آسٹریلیا ،نیوزی لینڈ ،بحرالکاہل اور جنوبی چین کے جزائر ،جنوبی امریکہ ،وسطی امریکہ ،غرب الہند کے جزائر اورمیکسیکو ،ریاست ہائے متحدہ امریکہ ،مشرق بعید ،جنوب مشرقی ایشیا،یورپ اور کنیڈا شامل ہیں ۔
بین الاقوامی تنظیم لائنز ان تمام صہیونی سرگرمیوں میں ملوث ہے جو حقوق مثلاً حقوق انسانی کو پامال کرتی ہیں ۔اس کا بظاہر یہی دعوٰی ہے کہ وہ بے سہارا ،محروم ومقہور اور معذوروں کے مسائل حل کرنے میں مصروف ہے اور وہ محض ان کی امداد اس لئے کررہی ہے کہ ایسے تمام لوگ بقیہ انسانوں سے آملیں اور سب میں قومی جذبے کے ساتھ انسانی فلاح کا شعور پیدا ہوجائے ۔ان تمام پر فریب نعروں اور دعووں کا مقصد معصوم غریب ،بھولے بھالے لوگوں کو یکجا کرکے بین الاقوامی صہیونیت تحریک کے مقاصدتکمیل کے لئے انہیں ہموار کرنا ہے۔
اس کلب کی تعداد اب ہزاروں میں ہوگئی ہے اور یہ دنیا کے 157ملکوں میں سرگرم ہے(جن میں پاکستان بھی شامل ہے)۔اس تنظیم کا سب سے زیادہ پرفریب نعرہ یہ ہے کہ وہ اپنے تمام اراکین میں ہر قسم کے معاشرتی اختلافات ختم کرنا چاہتی ہے اور اس کے بااثر اور دولت مند اراکین غریب ونادار افراد کی مدد کریں گے۔اس نے اس نعرے اور دعوے کی آڑ میں سربراہان مملکت تک رسائی حاصل کی اور انہیں اپنا سرپرست بناکر رکن سازی کے لئے راہ ہموارکی۔ظاہر ہے کہ جب ملکوں کے سربراہان اور صدور کلب کے اراکین میں گھرے ہوں گے تو پھر ان کے لئے بھی اقتدار میں شرکت کی راہ ہموار ہوجائے گی اس طرح نودولتیوں کو صاحب اقتدار شخصیتوں سے قربت کے مواقع فراہم ہوں گے اور اس طرح حکومت کے مداح اور خوشامدیوں کو موقع مل جائے گا کہ وہ گورنر اور سربراہان مملکت سے اپنی راہ ورسم بڑھائیں ۔
لائنز فری میسن اور صہیونیت کا مثلث دراصل ایک قسم کا زہریلا ہشت پا ہے جس نے امریکہ کو اپنے چنگل میں بری طرح جکڑرکھا ہے ۔اس میں امریکہ کے امیر ترین یہودی شامل ہیں ۔یہ وہ یہودی ہیں جنہیں معیشت کے کئی شعبوں میں اجارہ داری حاصل ہے جن کے ہاتھوں میں سیاسی طاقت ہے اور جو اپنے اثر وتسلط میں اضافے کے خواہاں ہیں ۔اس مثلث میں امریکی انتظامیہ بھی برابر کی شریک ہے چنانچہ اس کی ایمااور تعاون سے اسرائیل کی صہیونی مملکت وجود میں آئی اور صہیونیوں اور امریکہ میں روز بروز بڑھتا ہوا فوجی تعاون اس کا منہ بولتا ہوا ثبوت ہے۔

”انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف دی لائنز“کلب کے شائع شدہ مقاصد بالخصوص سیکشن 351میں درج اصولوں کے مطابق اس تنظیم کی سرگرمیوں کاہدف محض عرب ملک ہی نہیں بلکہ اس کا جال پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے ان مقاصد کی تکمیل میں ان تمام امریکن یونیورسٹیوں کے پروفیسر شامل ہیں جو دنیا کے مختلف ملکوں میں فروغ علم وتحقیق کے نام پر کام کررہی ہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ عرب اور اسلامی دنیا میں ”لائنز“کلب کے بانی امریکن یونیورسٹیوں کے گریجویٹ ہیں جن کے صہیونی انٹیلی جنس ادارے موساد اورامریکی ادارے سی آئی اے سے تعلقات ہیں۔
ڈاکٹر زہیر محمود بیروت کی امریکن یونیورسٹی کے گریجویٹ اور ایک ممتاز ماہر سماجیات ہیں ۔انہیں کئی سال تک اس تنظیم کے گہرے مطالعہ کا موقع ملا،وہ بیروت کے سینٹ جارج لائنز کلب کے رکن رہے ہیں ۔یہ عرب دنیا کا ایک نہایت اہم لائنز کلب ہے اس ادارے کے اصل حقائق کا انکشاف ہونے پر وہ اس سے الگ ہوگئے۔انہوں نے اس بات کو محسوس کرلیا کہ اس کلب کا مقصد ہر اعتبار سے صہیونیت کے گھناو ¿نے مقاصدکی تکمیل ہے۔
ڈاکٹر زہیر کے مطابق لائنز کلب کے کسی بھی رکن کو اس کے اصل مقاصد کا علم فوری طور پر نہیں ہوسکتا، اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ کم ازکم دس سال تک ان کی سرگرمیوں کا گہرا مطالعہ کرے اور ان کے گورنروں کی مصروفیات کا جائزہ لے ۔ان کی سرگرمیوں،کام اور باہمی گفت وشنید کے بغور مطالعے سے یہ بات منکشف ہوجائے گی کہ ان کا اصل مقصد کیا ہے۔اس تنظیم کا دعوٰی ہے کہ اسے مالی امداد اپنے اراکین ہی کے ذریعہ ملتی ہے اور وہ اس سے اپنے ہفتہ وار عشائیوں ،اجتماعات، دفاتر،کتابوں اور رسائل کی طباعت واشاعت اور پروپیگنڈے کے لئے ضروری رقوم حاصل کرتے ہیں ۔ڈاکٹر زہیر کے مطابق یہ صریحاً جھوٹ ہے کیونکہ لائنز کلب کے ذمے دار عہدے داروں کو ہزاروں ڈالر ماہانہ بطور تنخواہ ملتے ہیں اور اپنے شان دار عشائیوں پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں جس میں مملکتوں کے سربراہ ،وزراءاورممتاز شخصیتیں مدعو کی جاتی ہیں ۔
ان کے مطابق اس میں کسی کو شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ یہ رقوم اور مالی امداد بین الاقوامی صہیونی ایجنسی فراہم کرتی ہے ۔اس کے علاوہ ایسی کئی مذہبی تنظیمیں اس میں شامل ہیں جو خود کو انسانی اداروں کے نام سے متعارف کرواتی ہیں جب کہ ان کااصل مقصد اپنے انسان دشمن تباہ کن مقاصد کی تکمیل ہے۔
ڈاکٹر زہیر مزید بتاتے ہیں کہ ان پر اس تلخ حقیقت کا انکشاف لائنز کلب کے ذمے دار عہدیداروں سے گفت وشنید کے دوران ہوا۔ان تمام گفتگوو ¿ں کے بعد ان کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں رہا کہ انسانی دوستی کے نام سے رچائے جانے والے اس ناٹک کا اصل مقصد اسلام ،مسلمانوں بنیادی طور پر عربوں کے رگ وپے میں سم قاتل اتارنا ہے۔
لائنز اسلامی مراکز کے سلسلے میں ایک انتہائی تباہ کن پالیسی پر گامزن ہے ۔اس کلب نے اسلامی عقائد کو کمزور کرنے کی غرض سے لادینیت یعنی سیکولرازم کی تشہیر کے لئے سرتوڑ مساعی کا آغاز کیا۔اس کانشانہ خاص طور پر نوجوانوں کو بنایا جارہا ہے انہیں سیکولر تعلیم دینے کی کوشش اورسامان ہورہے ہیں تاکہ اس طرح تیار ہونے والے اذہان مستقبل میں اہم ذمہ داریاں سنبھال لیں اور اسلامی وعرب دنیا میں ایسی حکومتیں قائم ہوں جن کی پالیسی سیکولرازم ہوچنانچہ سیکولرازم کے ایک حامی کے بقول :
”جہاں تک آزادی اجازت دے تعلیم کو قطعاً آزاد ہونا چاہئے تاکہ ذہنی اور فکری الجھاو ¿ کا خاتمہ ہوجائے بلکہ میں تو اس کا بھی قائل ہوں کہ حکومتیں بھی سیکولر ہوں یہ کس قدر شرمناک ہے کہ ہماری تویہ حالت ہے جبکہ باقی دنیا ترقی کررہی ہے ۔مغرب توایٹم اور ہائیڈروجن بموں کے دھماکے کررہا ہے اور ہم اپنے نوجوانوں کونفرت وانتقام کی تعلیم دے رہے ہیں۔یہ تعلیم ملک اور قوم پرستی کے نام پر دی جارہی ہے ۔میں تواپنی حکومت سے کہوں گا کہ وہ مذہبی تعلیم کاسلسلہ یکسر موقوف کردے اور اس کی جگہ طلبا ءکو صرف اخلاقیات کی تعلیم دی جائے ۔یہ تعلیم مذہبی تعلیم کا نعم البدل ثابت ہوگی۔“
یہ ہیں وہ مقاصد جن کے تحت ”لائنز “تحریک اسلام کو تباہ کرنا چاہتی ہے اور اس کی روح وسعی سے محروم کرنے کے درپے ہے تاکہ اس طرح مسلم نوجوانوں کو صیہونی مقاصد کی تکمیل کے لئے تیار اور ہموار کیا جائے
انٹرنیشنل لائنز کے مطالعہ کے لئے اس کی تنظیم اور ڈھانچے کا مطالعہ ضروری ہے اس تنظیم میں کلب اور اس کے اراکین بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ۔انٹرنیشنل انتظامی بورڈ اس تنظیم کا سب سے اعلیٰ ادارہ ہے ۔کلب کے قیام کے لئے کم ازکم ایسے 20افراد ضروری ہیں جو اس تنظیم کے اغراض ومقاصد سے متفق ہوں اور ان کی تکمیل کے لئے پوری وفاداری اور تن دہی سے کام کریں یا بالفاظ دیگر بین الاقوامی صہیونیت کے عزائم کی تکمیل کے لئے تیار ہوں ۔یہ اراکین کلب کے گورنرسے رابطہ قائم کرتے ہیں ،جوان کے نام منظوری کے لئے تنظیم کے مرکز شکاگو بھیج دیتا ہے ۔اس کی منظوری کے بعد یہ تنظیم کے ایجنٹ بن جاتے ہیں اور وہ اس کی ہر ہدایت کی تکمیل کے پابند ہوتے ہیں انہیں یہ کام ہر قیمت پرکرنے ہوتے ہیںاس میں کسی بات کی پرواہ نہیں کی جاتی۔اس سے چاہے ملک یہاں تک کہ ان کے اپنے اعزہ واقرباءکو نقصان پہنچتا ہو وہ ہدایات پر عمل درآمد کے پابند ہوتے ہیں ۔
یہ کونسل ،صدر ،تین نائب صدر سکریٹری ِخازن ،چار سکریٹریوں اور ایک تربیت دہندہ پر مشتمل ہوتی ہے ۔ان میں سے ہر ایک ”لامحدود“فنڈ حاصل کرسکتا ہے کیونکہ یہ لوگ عموماً اعلیٰ طبقات سے تعلقات رکھتے ہیں ان میں زیادہ تر پروفیسر اہل قلم اور ذمہ دار شہری شامل ہوتے ہیں ۔
جنرل کونسل کااجلاس ہر مہینے میں کم ازکم دوبار ہوتا ہے جبکہ انتظامی حسب ضرورت اپنا اجلاس منعقد کرتی ہے،تاہم یہ ضروری ہے مہینے میں کم ازکم دوباراس کا اجلاس ہو تاکہ وہ اپنے مقاصد اورمنصوبوں کو عملی جامہ پہناسکے۔
خازن مالی سالوں کے خاتمے پر صدر واراکین کو بجٹ کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتا ہے جبکہ سکریٹری شکاگو بین الاقوامی سینٹر کوکلب کی سرگرمیوں کی ماہانہ رپورٹ بھیجتارہتا ہے۔
تنظیم کو دعوٰی ہے کہ وہ اپنے اراکین سے ہر سال 6.5ڈالر فیس رکنیت وصول کرتی ہے اور یہ رقم شکاگو کے مرکزی دفتر میں جمع کردی جاتی ہے جبکہ اراکین کے دیئے ہوئے چندوں کی رقم بہت بھاری ہوتی ہے یہ چندے نو آبادیاتی کمپنیاں ،سرکاری عہدیداراور دولت مند افراد فراہم کرتے ہیں ۔یہ رقمیں اکثر اوقات بیشتر ملکوں کے بجٹ سے زیادہ ہوتی ہیں اس کا ثبوت صہیونی تحریک کی سرگرمیوں سے ہوتا ہے جو نام نہاد ”عظیم تر اسرائیل“کے قیام کے لئے خطیر رقم فراہم کرتی رہتی ہے۔
”لائنز“ریجن یا علاقے کو ذیلی علاقے یا سیکٹر میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔یہ لائنز کا دوسرا یونٹ ہوتا ہے اور اس کی چار اقسام ہوتی ہیں ۔
(1) ایک مکمل اور علیحدہ سیکٹر جس میں کم ازکم 30کلب شامل ہوتے ہیں
(2) ایک مکمل ذیلی سیکٹر جو ایک پولی سیکٹر کی شاخ ہوتا ہے۔
(3) پولی سیکٹر۔
(4) عارضی سیکٹر جس میںکلب کی تعداد 30سے کم ہوتی ہے تاکہ اس سیکٹر کے امور کا جائزہ لیا جائے اور پورا پروگرام مرتب کیا جاسکے۔
بین الاقوامی ”لائنز“علاقوں یا ریجن میں منقسم ہے اور یہ ریجن تنظیم کا تیسرا یونٹ ہے ،ایسے27 علاقے ہیں اوریہ جغرافیائی اعتبار سے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں ۔اس مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ایک نہایت منظم قسم کی تنظیم ہے ۔ہر سیکٹر کاایک گورنر ہوتا ہے جس کے تحت ایک آنرری بورڈ ہوتا ہے پھر ان کے سربراہ،مشیر،کونسلیں اور سکریٹری ہوتے ہیں ۔اس تنظیم کا اپنا آئین ومنشور نیز حلف ہے جسے اٹھانے کا ہر رکن پابند ہوتا ہے اس کے بعد اس کی قومیت و نظریات وغیرہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے وہ صرف اور صرف لائنز کے منشور کا پابند ہوتا ہے ۔اس سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنی ذہنی تطہیر کے لئے آمادہ رہے گا اور اس طرح خود کو ہر اعتبار سے صہیونیت کے مقاصد کی تکمیل کے لئے تیار کرے گا ۔اور اس کے لئے ہر قسم کی قربانی دے گا۔
”لائنز“تحریک....ممتاز شخصیتوں مثلاً انجینئروں ،ڈاکٹروں ،وزراء،دولت مند افراد اور نوآبادیاتی تجارتی صنعتی ومالیاتی اداروں کو اپنے حلقہ اثر میں لانے کی کوشش کرتی ہے ۔یہ تنظیم ڈاکٹروں پر زیادہ توجہ دیتی ہے تاکہ ان کے ذریعے سے اسے عام لوگوں تک رسائی میں آسانی ہو،وہ طبی امداد کے بہانے ان میں اپنے مقاصد کی تکمیل کی راہیں تلاش کرتی ہیں۔
”لائنز“تحریک میں خواتین کی حیثیت دل لبھانے والی کی ہوتی ہے اورانہیں اس سلسلے میں بڑا سرگرم حصہ ادا کرنا ہوتا ہے۔انہیں عشائیوں اور پارٹیوں میں خراب مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ ان میں اہم شخصیتیں شرکت کرتی ہیں ۔ان میں اکثر خواتین دولت مند ہوتی ہیں اور یہ اپنے گھروں کو اس تنظیم کے مقاصد کے تکمیل کا مرکز بناتی ہیں ۔
یہ تحریک اب افریقہ کو بھی گھیر چکی ہے اس کا پہلا اجلاس کینیا میں 1958ءمیں منعقد ہوا ۔نیروبی کے سیکٹر 411کی لائنز تنظیم کے کرتا دھرتا مسٹر پال میناسیک شاہیں ،بیروت کے سیکٹر 351کے سربراہ فوزی آذر کا اس شاخ سے گہرا رابطہ ہے ۔کینیا کے علاوہ یوگنڈا ،زائر اور تنزانیہ میں بھی اس تنظیم نے اپنے پیر جمالئے ہیں ۔
بہر نوع اسلام دشمن عناصر نے انتہائی چالاکی اور عیاری کے ساتھ اپنا جال پھیلادیا ہے اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنی ریشہ دوانیوں کو بہر قیمت جاری رکھنے کا عزم کئے ہوئے ہیں ۔اب یہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ انہیں بے نقاب کریں اور اپنے دوست اور دشمن کو پہچانیں ۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔