Tuesday, 1 September 2009

مظلوم شوھر

0 comments


آج جو گنجا نظر آتا ہےسر اسکا کبھی گنجان تھا

بیگم نے کیا خاک اسے جو بنتا کبھی خاقان تھا

بچپن سے جوانی تلک وہ ماں کی آنکھ کا نور تھا

بعد شادی جوہوئی چشم کشا تو نورسارا کافور تھا

پہلے تھا گدھے کی اولاد اور پھر بنا گدھے کا باپ

اب کیا کہیے قسمت کو یونہی منظور تھا

ہاں! نظر آتی ہیں اب بھی بیگم سراپا تبسم اسے

ہوئی سراب زندگی اسکی جو متمنی تعبیرخواب تھا

ملتا تو ہم سے اب بھی ہے وہ بظاہر خلوص سے

ہے مگر ناپید اسکی طبعیت میں جوکبھی جوش تھا

اجی ہوش کے ناخن تو اس نے کب کے ہی کٹوا دیئے

صرف 'جی بیگم' جانتا ہے اب وہ جو کبھی جی دارتھا

دولہا بننا زندگی کا اک سنگ میل ہے، یہ اسے معلوم تھا

زندگی پھر سنگ کہ سنگ گزرے گی یہ مگر نا معلوم تھا

روٹھی بیوی کومیکے سے منالانے کے بعد، سرفراز!

خود کو چغد گردانتا ہے کچھ دن تلک جو شاداب تھا

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔