Tuesday, 1 September 2009

کیا بائبل کا مذہب پر امن ہے؟

0 comments

کرہ ارض پر اس وقت الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے ایک ''عالمی جھوٹ'' بڑی تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے کہ ''اہل بائبل'' کا مذہب پر امن مذہب ہے اور موسیٰ علیہ السلام نے امن اور مسیح علیہ السلام نے محبت کی مثال قائم کی۔ حقائق کی دنیا میں اس بات کا جائزہ ذرا ''بائبل'' کو مدنظر رکھ کر لیتے ہیں کہ کیا وہ بھی اس دعویٰ کی تائید کرتی ہے یا نہیں؟ بائبل کی رو سے خدا کے ناموں میں سے ایک نام ''رب الافواج'' کثرت سے بائبل میںپایا جاتا ہے۔ نیز بائبل کے مطالعہ سے ایک بات کھل کر واضح ہوتی ہے کہ کنعان یا فلسطین کا ملک خدا نے بنی اسرائیل (یہود) کی میراث ٹھہرایا تھا' اس لئے کنعانیوں اور غیر کنعانیوں سے جنگ کرنے کے احکام الگ الگ ہیں۔

غیر کنعانیوں سے جنگ کا اصول
خدا صاحب جنگ (خروج3;15) نے بائبل میں بتایا کہ ''جب تو کسی شہر سے جنگ کرنے کو اس کے نزدیک پہنچے تو پہلے اسے صلح کا پیغام دینا اور اگر وہ تجھ کو صلح کا جواب دے اور اپنے پھاٹک تیرے لئے کھول دے تو وہاں کے سب باشندے تیرے باجگزار بن کر تیری خدمت کریں اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کرے بلکہ تجھ سے لڑنا چاہے تو تو اس کا محاصرہ کرڈالنا لیکن عورتوں اوربال بچوں اور چوپایوں اور ا س شہر کے سب مال اور لوٹ کو اپنے لئے رکھ لینا اور تو اپنے دشمنوں کی اس لوٹ کو جو خداوند تیرے خدا نے تجھ کو دی' وہ کھانا۔ ان سب شہروں کا یہی حال کرنا جو تجھ سے بہت دور ہیں اور ان قوموں کے شہر نہیں''۔ (استثنا 10;20تا 15)

کنعانیوں سے جنگ کا اصول
اور جب خداوند تیرا خدا ان کو تیرے آگے شکست دلائے اور تو ان کو مار لے تو تو ان کو بالکل نابود کر ڈالنا۔ تو ان سے کوئی عہد نہ باندھنا اور نہ ان پر رحم کرنا۔ تو ان سے بیاہ شادی بھی نہ کرنا نہ ان کے بیٹوں کو اپنی بیٹیاں دینا اور نہ اپنے بیٹوں کے لئے ان کی بیٹیاں لینا کیونکہ وہ تیرے بیٹوںکو میری پیروی سے برگشتہ کردیں گے تاکہ وہ اور معبودوں کی عبادت کریں۔ یوں خداوند کا غضب تم پر بھڑکے گا اور وہ تجھ کو جلد ہلاک کردے گا بلکہ تم ان سے یہ سلوک کرنا کہ ان کے مذبحوں کو ڈھا دینا۔ ان کے ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا اور ان کی یسیرتوں کو کاٹ ڈالنا اور ان کی تراشی ہوئی مورتیں آگ میں جلادینا۔ (استثناء 2;7 تا 5)

لمحہ فکریہ
قارئین غور کرنے کا مقام ہے کہ ''گلو بلائزیشن '' کی حرص و ہوس پوری کرنے کے لئے رحم و ترس سے مبرا' امن و محبت اور انسانی حقوق کے تحفظ کی آڑ میں ''عالمی دہشت گردی'' پھیلانے سے کیا کر ۃ ارض پر بنی نوع انسان امن و سکون سے رہ سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ نیز دنیائے مسیحیت نے بائبل کے بر خلاف بت پرستی کواپنایا اور قوم یہود ساری دنیا کے بت پرستوں کی محافظ بن گئی۔
موسیٰ اور بنی اسرائیل کی جنگیں

مدیانیوں سے جنگ
بائبل کے جنگی قوانین پر جب بنی اسرائیل نے عمل کرنا شروع کیا تو بائبل نے اس کا نقشہ کچھ یوں کھینچا ہے ''خداوند کے کہنے پر موسیٰ نے مدیانیوں سے بنی اسرائیل کا انتقام لینے کے لئے بارہ ہزار مسلح آدمی جنگ کے لئے چنے اور مدیانیوں سے جنگ کرکے ان کے سب مردوں کو قتل کیا' ان کی عورتوں اور بچوں کو قید کیا۔ سب مال و اسباب اور جانور لوٹ کے ان مدیانیوںکے سب شہروں اور چھائونیوں کو آگ سے پھونک دیا۔ بعد میں موسیٰ کے کہنے پر بچوں میں سے تمام لڑکوں کو قتل کر ڈالا اور جتنی عورتیں مرد کا منہ دیکھ چکی تھیں' وہ بھی قتل کردی گئیں لیکن ان اچھوتی لڑکیوں کو جو مرد سے واقف نہیں تھیں اپنے لئے زندہ رکھ لیا جن کی تعداد بتیس ہزار تھی''۔ (گنتی باب نمبر 31 ) یعنی اسرائیلیوں نے اتنی کثیر تعداد میں عورتوں کا کنوار پن باقاعدہ چیک کیا۔

عمالقہ سے جنگ
موسیٰ کی زیر نگرانی عمالقیوں سے جنگ لڑی گئی اور ان کے لوگوں کو تلوار کی دھار سے شکست دی گئی اور موسیٰ کے بقول خداوند نے قسم کھائی ہے کہ عمالقیوں سے نسل درنسل جنگ کرتا رہے گا (خروج 8;17تا 16)

یشوع کی فتوحات
موسیٰ کے بعد ان کے جانشین'' یشوع'' کی کمان میں جو جنگیں بنی اسرائیل نے لڑیں' ان کے بارے بائبل کچھ یوں نقشہ کھینچتی ہے۔

یریحو کی فتح
یشوع کی فوج شہر کی دیوار گر اکے اندر گھس گئی اور اس شہر کے کیا مرد' کیا عورت' کیا جوان' کیا بڈھے' کیا بیل' کیا بھیڑ 'کیا گدھے' سب کو تلوار کی دھار سے بالکل نیست کردیا۔ فقط سونے چاندی' پیتل اور لوہے کے برتن خداوند کے گھر کے خزانہ میں داخل کئے اور اس شہر اور جو کچھ اس میں تھا' سب کو آگ سے پھونک دیا۔ (یشوع 12:6 تا 27 )

عی کی فتح
''یشوع اور اسرائیلیوںنے جنگی چال چلتے ہوئے عی کے لوگوں کو شہر سے باہر نکلوایا اور گھات میںبیٹھے ہوئے اسرائیلیوں نے ان کے پیچھے شہر کوآگ لگادی اور پھر شہر کے مرد و عورت جن کی تعداد بارہ ہزار تھی' سب کو تلوار سے مار کے فنا کردیایہاں تک کہ نہ کسی کو باقی چھوڑا نہ بھاگنے دیا۔ (یشوع 14:8 تا 29)

حصور کی فتح
یشوع نے حصور کے باشندوں کو تلوار کی دھار سے قتل کردیا۔ مال غنیمت اور چوپایوں کو بنی اسرائیل نے اپنے واسطے لوٹ لیا اور حصور کو آگ سے جلا کر پھونک دیا۔'' (یشوع باب نمبر 11)

قبیلہ دان کی میراث کے لئے جنگ
بائبل کی کتاب ''قضاۃ'' میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل کے قبیلہ دان کو اپنے رہنے کے لئے میراث نہیں ملی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے پانچ آدمیوں کو میراث کی جگہ ڈھونڈنے کے لئے صرعہ اور استال سے روانہ کیا۔ وہ پانچوں ایک علاقے ''لیس'' میں آئے اور دیکھا کہ لوگ اطمینان ' امن اور چین سے رہتے ہیں اور وہ ایسی جگہ ہے جس میں دنیا کی کسی چیز کی کمی نہیں نیز اس ملک میں کوئی حکمران بھی نہیں ہے تو واپس جاکر وہ چھ سو مسلح افراد ساتھ لے کر آئے اور پر امن لوگوں کو تہہ تیغ کیا۔ شہر کو جلادیا اور ا س شہر کا نام '' دان'' رکھا (قضاۃ باب نمبر 18)

دان کے قصہ کی ریاست اسرائیل سے مماثلت
قارئین! قبیلہ دان کو میراث نہ ملنے کی بات سراسر جھوٹ ہے کیونکہ یشوع نے کنعان فتح کرکے قرعہ ڈال کر ملک اسرائیل کے قبیلوں میں بانٹ دیا۔ ساتواں قرعہ بنی دان کا تھا' اس کے ذریعہ جو شہر بنی دان کو ملے' ان کا ذکر ''صرعہ'' اور ''استال'' سمیت کتاب یشوع (40:19تا48) میںموجود ہے۔ بالکل اسی طرح جھوٹ' مکر' ظلم اور ناانصافی سے یہودی فلسطین میں امن و چین سے بستے لوگوں کے پاس آئے اور انہیں ان کی زمینوں سے بے دخل کرکے غاصبانہ قبضہ کے بعد اس ملک کا نام ''اسرائیل'' رکھ لیا اور نسل در نسل ابھی تک قتل و غارت کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔

سائول کی جنگ
قاضیوں کے عہد کے بعد بنی اسرائیل میں بادشاہت کا دور آیا۔ بنی اسرائیل کے پہلے بادشاہ کا نام ''سائول'' تھا۔ سموئیل نبی نے سائول کو مسح کرکے بادشاہ بنانے کے بعد خداوند کا حکم سنایا کہ قوم عمالیق کو بالکل نیست و نابود کردے اور رحم مت کر۔ سائول نے سب لوگوں کوتلوار کی دھارسے نیست کردیا لیکن ان کے اچھے اچھے جانوروں اور بچوں کو بادشاہ اجاج سمیت زندہ رکھا۔ اس کی سزا سائول کو سموئیل نبی نے یہ سنائی کہ خداوند نے تیرے خاندان سے بادشاہت چھین کر تیرے پڑوسی دائود کو دے دی ہے۔ (1۔سموئیل باب نمبر 15)

داؤد کی جنگ
بنی عمون سے داؤد نے جنگ کی۔ ان کے بادشاہ کا سونے کا تاج اور شہر کا بہت سا مال لوٹا۔ لوگوں کو باہر نکال کر ان کو آروں ' لوہے کے ہینگوں اور لوہے کے کلہاڑوں کے نیچے کاٹ دیا۔ ان کو اینٹوں کے پزاوے میں جلایا اور بنی عمون کے سب شہروں سے ایسا ہی کیا۔ (2 ۔ سموئیل 26:12 تا 32 )

یہودہ مکابی کا جہاد
بت پرست بادشاہ ''انطاکس'' کی ظالمانہ ' دین دشمن پالیسیوں کے خلاف یہودہ مکابی کے باپ نے لوگوں میں تحریک چلائی۔ ایک بڑا گروہ تیار کرکے شہر کو چھوڑ کر ہجرت کرکے پہاڑوں میں جا رہے۔ اس چھوٹی سی فوج کے سپہ سالار ''یہودہ مکابی'' نے ظالم' دین دشمن اور بت پرست حکومت (امریکہ جیسی ذہنیت کی حامل) کے خلاف چھاپہ مار جنگوں کا آغاز کردیا تب جاکر یہودی حکومت قائم ہوئی'' (١۔مکابیین باب نمبر1 تاباب نمبر4 2۔ مکابیین باب نمبر 5 تا 10 کاتھولک بائبل کلام مقدس)

مسیح برائے جنگ
قارئین! مسیح کو ''امن کا شہزادہ'' اور محبت کا پیامبر کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہ انجیل جنگ کی سخت مخالف ہے حالانکہ یہ بھی ایک بہت بڑا جھوٹ ہے کیونکہ شاگردوں کو تبلیغی مشن پر بھیجتے وقت مسیح نے کہا تھا کہ ''یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں' صلح کرانے نہیں بلکہ تلوار چلوانے آیا ہوں کیونکہ میں اس لئے آیا ہوں کہ آدمی کو اس کے باپ سے اور بیٹی کو اس کی ماں سے اور بہو کو اس کی ساس سے جدا کردوں'' ۔ (انجیل متی 34:10 تا 35) میں زمین پر آگ بھڑکانے آیا ہوں اور اگر لگ چکی ہوتی تو میں کیا ہی خوش ہوتا۔ (انجیل لوقا 49:12) کیا تم گمان کرتے ہو کہ میں زمین پر صلح کرانے آیا ہوں؟ میں کہتا ہوں نہیں بلکہ جدائی کرانے (انجیل لوقا 51:12) دیکھو میں نے تم کو اختیار دیا کہ سانپوں' بچھوئوں کو کچلو اور دشمن کی ساری قدرت پر غالب آئو اور تم کو ہر گز کسی سے ضرر نہ پہنچے گا'' (انجیل لوقا 19-10) دیکھو میں تم کو بھیجتا ہوں گویا بھیڑوں کو بھیڑیوں کے بیچ میں' پس سانپوں کی مانند ہوشیار اور کبوتروں کی مانند بے زار بنو'' (انجیل متی 16:10) اسی لئے رفعِ آسمانی سے پہلے مسیح نے عملی طور پر بھی اپنے شاگردوں سے کہا کہ مگر اب جس کے پاس بٹوا ہو' وہ اسے لے اور اسی طرح جھولی بھی اور جس کے پاس نہ ہو' وہ اپنی پوشاک بیچ کر تلوار خریدے، انہوں نے کہااے خداوند' دیکھ یہاں دو تلواریں ہیں' اس نے ان سے کہا' بہت ہیں۔ (انجیل لوقا 36:22 تا 38 ) اپنی گرفتاری کے وقت مسیح نے اپنے شاگرد سے تلوار چلوا کر دشمن کا کان کٹوایا۔ (انجیل لوقا:22 49 تا 51)

بائبل کا تبصرہ
قارئین اس سے معلوم ہواکہ بائبل کی رو سے اقوام عالم میں جنگ و جدل اوردہشت گردی کرانا اہل بائبل کا فریضہ ہے۔ اسی لئے اہل بائبل نے بھولی بھالی بھیڑوں کے روپ میں غیر قوموں میں داخل ہو کر خونخوار بھیڑیوں کی طرح نہتی انسانیت پر سب سے پہلے ایٹم بم گرانے کا ''اعزاز'' حاصل کیا۔ اور اس کے بعد ویت نام' بوسنیا' کوسووا' فلسطین اور عراق و افغانستان میں مسلسل عالم انسانیت کو تاراج کئے جا رہے ہیں اور پھر بھی دعویٰ ہے پارسائی کا اور امن پسندی کا؛
''اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا''

(تحریر :فادر عبداللہ ۔چیف ایگزیکٹو بائبل انفارمیشن فائونڈیشن ۔چیکو سلواکیہ)
بشکریہ ماہنامہ مجلۃ الدعوۃ

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔