Tuesday, 1 September 2009

تلاوت قرآن کے آداب

0 comments
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

تلاوت قرآن کے کچھ آداب ہیں ، ان کا خیال رکھنا چاہے تاکہ قراءت اللہ تعالٰی کے ہاں مقبول اور باعث ثواب ہو ۔
مثلا :
1ـ قراءت خالصتا اللہ تعالٰی کے لیے کی جائے اور اس کا مقصد اللہ کی خوشنودی اور ثواب ہو
ارشاد باری تعالٰی ہے :
وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ
سورة البینہ 5
"حالانکہ انھیں یہی حکم دیا گیا تھا کہ وہ بندگی کو اللہ کے لیے خالص کریں''

2ـ حدث سے پاک (وضو) ہو کر تلاوت کرے ، خواہ یہ حدث چھوٹا ہو یا بڑا ـ
اللہ تعالٰی فرماتا ہے :
لا يمسه إلا المطهرون
.الواقعة 79
"اسے بس پاک (فرشتے ) ہی ہاتھ لگاتے ہیں "

اس آیت میں پاکبازی کہہ کر جنابت کو خارج کیا گیا ہے نہ کہ بے وضگی کو
کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے
ان المسلم لاینجس
مسلمان پلید نہیں ہوتا ۔
صحیح بخاری حدیث نمبر :٢٨٣
بشکریہ ابن مبارک
حیض کے دوران قرآن کو ہاتھ لگایا جا سکتا ہے ؟


3ـ قراءت کے وقت ہاتھوں کو بے فائدہ ادھر ادھر نہ ہلاتا رہے اور نہ ہی بلاضرورت اپنی آنکھیں ادھر ادھر پھیرتا رہے ـ
4ـ مسواک کر کے اپنا منہ پاک صاف کر لے کیونکہ یہ قرآن (کی ادائیگی ) کی راہ ہے
5ـ بہتر یہ ہے کہ تلاوت کے وقت قبلہ رخ ہو جائے کیونکہ یہ سب سے افضل سمت ہے ـ
6ـ تلاوت شروع کرنے سے پہلے أعوذ بالله من الشيطان الرجيم پڑھ لے
7ـ اگر سورت کی ابتداء سے شروع کرے تو بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پڑھ کر شروع کرے

8ـ قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھے گویا اسے محبت کے ساتھ آہستگی سے پڑھ رہا ہے کیونکہ مقصود تو غورو فکر کرنا ہے جو جلدی پڑھنے سے حاصل نہیں ہو سکتا اور قراءت میں جلدی کرنا معنی و مفہوم پوری آگاہی نہ ہونے کی نشانی ہے ـ
أفلا يتدبرون القرآن أم على قلوب أقفالها
محمد 24
'' کیا یہ قرآن میں غورو فکر نہیں کرتے ؟یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں "

9ـ اپنے ذہن واور فہم کو کام میں لائے تاکہ یہ سمجھ لے کہ اسے کیا کہا جا رہا ہے ـ
10ـ رحمت کی آیت کے وقت اللہ تعالٰی سے رحمت طلب کرے ، عذاب کی آیت کےوقت پناہ مانگے ، تسبیح کی آیت کے وقت تسبیح کرے اور جب سجدے کی آیت گزرے تو سجدہ کرے
11أـ پڑھتے وقت ہر حرف کی ادائیگی کا حق ادا کرے حتیٰ کے لفظ پورا ہونے پر کلام واضح ہو جائے کیونکہ ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہیں ـ
12ـ تلاوت کے وقت خشوع ، اطمینان اور وقار کا ہونا ضروری ہے ـ

13ـ قرآن کو تجوید کے قواعد کے ساتھ پڑھے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
والاخذ بالتجوید فرض لازم
من لم یجود القرآن آثم
ترجمہ :: تجوید کے ساتھ (قرآن) پڑھنا بہت ضروری ہے ـ جو قرآن تجوید سے نہ پڑھے گناہگار ہے ـ

14ـ قراءت کے وقت کوئی شخص قرآن کی عبارتوں میں اپنے پاس سے کوئی لفظ نہ بڑھائے ،، جیسے بعض لوگ اللہ ، اللہ یا آعد آعد یا ایسے ہی کوئی اور الفاظ کہ دیتے ہیں ، سننے والے سے جو کچھ مطلوب ہے وہ صرف غور وفکر ، خاموشی اور خوشوع ہے ـ
15 ـ بے فائدہ باتوں کے لیے قراءت منقطع نہ کرے

16 ـ ہمیشہ تلاوت کے معمول سے قرآن کی محافظت کرے تاکہ اسے بھول جانے کا عارضہ پیش نہ آئے ـ
حدیث میں آتا ہے ، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتےہیں کہ
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"اور جب قرآن کو یاد کرنےو الا کمر بستہ ہو کر دن رات اسے پڑھتا رہے تو اسے یار دہتا ہے اور اگر ایسا نہ کرے تو بھول جاتا ہے ''
صحیح مسلم فضائل القرآن ، باب الامر بتعھد القرآن ـــــــ،،، حدیث 789ـ (227)

یعنی اس پر ایسا کوئی دن نہیں گزرنا چاہے جس میں اس نے قرآن سے کچھ بھی نہ پڑھا ہو اور بہتر یہ ہے کہ ہر روز ایک پارے سے کم نہ پڑھے ـ اس طرح کم از کم ماہ میں ایک بار ضرور قرآن کرنا چاہیے ـ

17ـ جس قدر ممکن ہو قرآن کو اچھی آواز سے پڑھے
اللہ کا فرمان ہے :
ورتل القرآن ترتيلا
المزمل4
''اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (صاف پڑھا کر )

کیونکہ حدیث میں آتا ہے :
زينوا القرآن بأصواتكم
''قرآن کو اپنی آواز سے مزین کرو "
سنن ابی داؤد ، الوتر ، باب کیف یستحب الترتیل فی القراءتہ ، حدیث : 1468

18ـ قرآن کی قراءت سنتے وقت خاموش رہنا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے :
وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا لعلكم ترحمون
الأعراف 204
''اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے توجہ سے (کان لگا کر ) سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کی جائے "

19 ـ مصحف (قرآن ) کا احترام کرے ،ا سے زمین پر رکھے نہ اس کے اوپر کوئی چیز رکھے اور نہ اسے اپنے کسی ساتھی کے پاس پھینکے کہ وہ اسے پکڑ لے اور اسے اس حالت میں چھوئے جب وہ پاک ہو ـ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ ـ فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ
سورة عبس 13،14
"(وہ) قابل احترام صحیفوں میں ( محفوظ ) ہے ـ جو بلند و بالا اور پاکیزہ ہیں ''

20 ـ جب تلاوت سے فارغ ہو تو اپنے رب کی تصدیق کرے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے قرآن پہنچانے کی گواہی دے اور یہ گواہی دے کہ وہ برحق ہے ـ
پس وہ یوں کہے ؛
"ائے ہمارے رب تو نے سچ فرمایا اور تیرے رسولوں نے (تیرا پیغام ) پہنچا دیا اور ہم اس بات پر گواہ ہیں ـ''
ائے اللہ ! ہمیں انصاف پر قائم رہنے والے حق کے گواہ بنا


21ـ سردیوں میں رات کے ابتدائی حصے میں قرآن ختم کرنا چاہے اور گرمیوں میں دن کے ابتدائی حصے میں ـ اس میں حمکت یہ ہے کہ حدیث میں آتا ہے :
'اگر رات کے ابتدائی حصے میں قرآن ختم کیا جائے تو فرشتے صبح ہونے تک اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے رہتے ہیں اور اگر دن کے ابتدائی حصے میں قرآن ختم کیا جائے رو ترشتے شام ہونے تک اس کے لیے رحمت کی دعا کرتے رہیتے ہیں ـ


نوٹ : مذکورہ بالا آداب قرآن میں سے کچھ تو قرآن و حدیث سے ثابت ہیں اور کچھ قرآن و حدیث میں تو نہیں لیکن اسلاف سے منقول ہیں ـ
جس طرح کے امام ابوعبد اللہ حکیم ترمذی نے اپنی کتاب '' نوادرالاصول '' میں ذکر کیے ہیں ــ جیساکہ تفسیر قرطبی کے مقدمے میں ہے ـ ''
تفسیر القرطبی "1/ 22أ25 مطبوعہ : دارلکتب العلمیہ بیروت لبنان
فضائل قرآن
عبد اللہ بن جار اللہ بن ابراہیم جار الل

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔