Tuesday, 1 September 2009

قرآن کریم کی جمع وتدوین کب اور کیسے؟

0 comments
آج یہ قرآن مجیدجو ہمارے درمیان موجود ہے یقینا یہ ایک اللہ تعالی کی عطا کردہ لازوال نعمت و معجزہ ہے جس سے انسانیت تا قیامت مستفید ہوتی رہے گی ۔
بلا شبہ یہ قرآن مجید اللہ رب العالمین کا کلام ہے ، اللہ کی کتاب ہے گذشتہ کتابوں کے برخلاف رب دو جہاں نے اس کتاب کے حفاظت کی ذمہ داری خود اپنے ذمہ لے رکھی ہے
جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
الحجر:9
بیشک ہم نے ہی قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں
اس آیت کی تفسیر میں ابن جریر طبری رحمہ اللہ تعالی لکھتے ہیں کہ :{ بیشک ہم نے ہی ذکر کو نازل فرمایا ہے } اور وہ ذکر قرآن ہے { اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والےہیں } اللہ تعالی نے اس میں یہ فرمایا ہے کہ ہم قرآن کی حفا ظت کرنے والے ہیں کہ کہیں اس میں باطل کا اضافہ نہ کر دیا جاۓ‌ یا پھر اس کے احکام و حدود اور فرائض میں سے کچھ کمی نہ کردی جاۓ ۔ تفسیر الطبری ( 14 / 8 )

اور شیخ السعدی رحمہ اللہ تعالی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ :
(بیشک ہم نے ہی ذکر کو نازل کیا ہے ) یعنی قرآن کو نازل کیا جس میں ہرچیزکے کا ذکر ہے مسائل اورواضح دلائل وغیرہ اور اسی طرح اس میں سے جو نصیحت حاصل کرنا چاہے اس کے لئے نصیحت بھی ہے ۔
(اورہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ) یعنی وقت نزول اور نزول کے بعد بھی ، تو نزول کی حالت میں ہم نے اسے ہر شیطان مردود سے محفوظ رکھا ہے جو کہ چوری چھپے سننے والا ہے ، اور نزول کے بعد اللہ تعالی نے اسے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت کے سینوں میں محفوظ کیا ، اور اللہ تعالی نے اس کے الفاظ کو زیادتی اور نقصان اور اس کے معانی میں کسی بھی قسم کے رد وبدل سے محفوظ رکھا ہے ، اور اگر اس کے معانی میں تحریف کرنے والا کوئی بھی تحریف کرتا ہے تو اللہ تعالی ایسے علماء پیدا فرما دیتا ہے جو کہ حق کو بیان کرتے ہیں ۔

ہمارے لئے اس بات کا بھی علم ضروری ہیکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن تئیس ( 23 ) برس میں تھوڑا تھوڑا کرکے بوقت ضرورت نازل کیا گیا ، جیسا کہ فرمان الہی ہے :

وَقُرْآناً فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلاً "
الاسراء ( 106 )
( اور قرآن کو ہم نے تھوڑ تھوڑا کرکے اس لئے اتارا ہے کہ آپ اسے بہ مہلت لوگوں کو سنائیں اور ہم نے خود بھی اسے بتدریج نازل فرمایا } ۔
شیخ سعدی رحمہ اللہ تعالی اس آیت کی تشریح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :یعنی : ہم نے یہ قرآن فرق کرنے والا بنا کر نازل کیا ہے جو کہ حق وباطل اورھدایت وگمراہی کے درمیا ن فرق کرنے والا ہے ۔
(ہے کہ آپ اسے بہ مہلت لوگوں کو سنائیں } یعنی مہلت کے ساتھ تاکہ وہ اس کے معانی پر غوروفکراور تدبر کر سکیں اور اس کے علوم کا استخراج کریں ۔
{ اور ہم نے خود بھی اسے بتدریج نازل فرمایا } تھوڑا تھوڑا کر کے تئیس برس میں نازل کیا ۔

تفسیر السعدی ص ( 760 )۔

پہلی کوشش :
قارئین کرام : آئیے اب معلوم کرتے ہیں کہ قرآن مجید جس کے حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے لے رکھی ہے کس کس طرح سے اس کو مختلف ادوار میں محفوظ کیا گیا ہے ، پہلی بات یہ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین قرآن کریم کو اپنے سینوں میں حفظ کیا کرتے تھے اور ان میں سے بہت ہی ایسے تھے جو کہ بعض آیات اور سورتیں چمڑے اورباریک پتھروں وغیرہ پر لکھ لیا کرتے تھے ۔

اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع میں قرآن کریم کے علاوہ کچھ اور لکھنے سے منع فرما دیا تھا ، اور صحابہ کو اپنا کلام لکھنے سے وقتی طور پر روک دیا تھا تا کہ صحابہ کرام کی ہمتیں قرآن کریم کے حفظ اور اس کی کتابت کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہوجائیں ، اور اس لئے بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا اللہ تعالی کی کلام قرآن کریم کے ساتھ اختلاط نہ ہو جاۓ اور قرآن کریم زیادتی و نقصان سے محفوظ رہے ۔ یہ بھی ایک اقدام آپ r کی جانب سے تھا کہ آپ نے امین اورفقہاء صحابہ کرام کی ایک جماعت کووحی لکھنے کی ذمہ داری سونپ رکھی تھی ۔

دوسری کوشش :
خلیفہ اول ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور تک قرآن کریم صحابہ کرام کے سینوں اور چمڑے وغیرہ پر باقی اور محفوظ رہا ، اس کے بعد مرتدین کے ساتھ لڑائیوں میں بہت سے حفاظ صحابہ کرام شھید ہوگئیے تو ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کو ڈر پیدا ہوا کہ کہیں قرآن کریم صحابہ کرام کے سینوں میں ہے نہ رہ کر ضائع ہو جاۓ ، تو انہوں نے کبار صحابہ کرام سے مشورہ کیا کہ مکمل قرآن کریم کو ایک کتاب میں جمع کیوں نہ کرلیا جاۓ تا کہ وہ ضائع ہونے سے محفوظ رہے ، تو یہ کام انہوں نے حفاظ میں سے زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کے ذمہ لگایا ۔

اس کا ذکر امام بخاری رحمہ اللہ تعالی نے کچھ یوں کیا ہے :
زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے جنگ یمامہ کے بعد میری طرف پیغام بھیجا ( میں جب آیا تو ) عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو ان کے پاس دیکھا ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کہنے لگے کہ عمررضی اللہ تعالی میرے پاس آ کر کہنےلگے کہ جنگ یمامہ میں قرآء کرام کا قتل ( شہادتیں ) بہت بڑھ گیا ہے ، اور مجھے یہ ڈر ہے کہ کہیں دوسرے ملکوں میں بھی قرآء کرام کی شہادتیں نہ بڑھ جائیں جس بنا پر بہت سا قرآن ان کے سینوں میں ان کے ساتھ ہی دفن ہوجائے گا ، اس لئے میری راۓ تو یہ ہے کہ آپ قرآن جمع کرنے کا حکم جاری کردیں ۔

میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کہا کہ تم وہ کام کیسے کرو گے جو کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ؟
عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا اللہ کی قسم یہ ایک خیر اور بھلائی کا کام ہے ،چنانچہ عمر رضی اللہ تعالی عنہ بار بارمیرے ساتھ یہ بات کرتے رہے حتی کہ اللہ تعالی نے اس بارہ میں میرا شرح صدرکردیا ، اور اب میری راۓ بھی وہی ہے جو عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی ہے ۔

زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ تم ایک جوان اور عقل مند شخص ہو ہم آپ پر کوئیی کسی قسم کی تہمت بھی نہیں لگاتے ، اور پھرتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی بھی رہے ہو ، تو تم قرآن کو تلاش کرکے جمع کرو ۔
زید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالی کی قسم اگر وہ مجھے ایک جگہ سے دوسری جگہ کوئی پہاڑ منتقل کرنے کا مکلف کرتے تو مجھ پر وہ اتنا بھاری نہ ہوتا جتنا کہ قرآن کریم جمع کرنے کا کام بھاری اور مشکل تھا ، میں کہنے لگا آپ وہ کام کیسے کروگے جو کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ؟ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم یہ خیر اوربھلائی ہے ، تو ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ بار بار مجھ سے یہ کہتے رہے حتی کہ اللہ تعالی نے میرا بھی دل کھولا جس طرح ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالی عنہما کا شرح صدر ہوا تھا ، تو میں قرآن کریم کو لوگوں کے سینوں اور چھال اور باریک پتھروں سے جمع کرنا شروع کردیا حتی کہ سورۃ التوبۃ کی آخری آیات خزیمۃ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کے علاوہ کسی اور کس پاس نہ پائی { لقد جاءکم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم ۔۔۔ } ( تمہارے پا‎س ایسا رسول تشریف لایا ہے جو تم میں سے ہے جسے تمہارے نقصان کی بات نہایت گراں کزرتی ہے ۔۔ ) ۔

یہ مصحف ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات تک ان کے پاس رہا پھر ان کے بعد تاحیات عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس اور ان کے بعد حفصہ بنت عمررضی اللہ تعالی عنہما کے پاس رہا ۔

صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ خود بھی حافظ قرآن تھے ، لیکن اس کے باوجود انہوں نے قرآن کریم کے ثبوت کے لئے ایک خاص منھج اختیار کیا چنانچہ وہ اس وقت تک کوئی آیت نہیں لکھتے تھے کہ جب تک دوصحابی یہ گواہی نہ دے دیں کہ انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔

یہ مصحف خلفاء کےہاتھ میں خلیفہ راشد عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ کے دور تک رہا ، اور صحابہ کرام مختلف ممالک میں پھیل چکے اور وہاں وہ قرآن ان سات لہجوں میں ہی پڑھتے تھے جن میں انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ، تواس طرح ان کے شاگرد اسی طرح پڑھتے جس طرح کہ ان کے شیخ اور استاد نے انہیں پڑھایا تھا ۔

جب ایک شاگرد اپنے ہم عصر بھائی کو قرآن کسی اور لہجے میں پڑھتا ہوا دیکھتا وہ اسے غلط کہتا اور اس کا انکار کرتا یہ معاملہ اسی طرح چلتا رہا حتی کہ صحابہ کرام کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ تابعین اور ان کے بعد آنے والوں کے درمیان فتنہ نہ پیدا ہوجاۓ اس لئے انہیں یہ خیال آیا کہ لوگوں کو صرف قریش کے لہجہ پر جمع کردیا جاۓ جس پر قرآن کریم نازل ہوا ہے تاکہ اختلاف کو مٹایا جاسکے اور اس کی جڑ ہی ختم کردی جاۓ ،

یہاں پر ہمیں اس بات کا علم بھی ضروری ہیکہ قرآن کریم سات لغات ولہجات میں اتارا گیا جیسا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی کی حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ۔ صحیح بخاری ( 2287 ) صحیح مسلم ( 818 ) اور یہ لغات اور لہجات فصاحت میں معروف ہیں ۔

تیسری کوشش :

امام بخاری رحمہ اللہ تعالی انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہیں حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہما عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آۓ جو کہ آرمینیا اورآذربائجان کو فتح کرنے کے لئے اہل عراق کے ساتھ مل کر شامیوں سے غزوہ کر رہے تھے حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ کو قرآت میں ان کے اختلاف نے گھبراہٹ میں ڈال دیا تھا ۔

حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ عثمان رضی اللہ تعالی عنہ سے کہنے لگے اے امیر المؤمنین اس امت کو کتاب اللہ میں یھودیوں اور عیسائیوں کی طرح اختلاف کرنے سے پہلے ہی روک لیں ، چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ اس پر راضی ہوگئے اور آپ نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس پیغام بھیجا کہ ہمیں وہ مصحف دو تاکہ ہم اس کے نسخے تیار کرنے کے بعدیہ مصحف آّ پ کو واپس کردیں ، عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے زید بن ثابت ، عبداللہ بن زبیر اور سعید بن عاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ھشام کو مصحف کے نسخے تیار کرنے کا حکم دیا ، اور اس گروہ میں سے تین قریشیوں کو یہ کہا کہ اگر تم اور زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ قرآن کی کسی چیزمیں اختلاف کرو تو اسے قریش کے لغت میں لکھو کیونکہ قرآن ان کی زبان میں نازل ہوا ہے ، توانہوں نے ایسے ہی کیا ۔

جب نسخے تیار ہوچکے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے مصحف ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ تعالی کو واپس کردیا ،اور ان نسخوں میں سے ہرایک طرف ایک نسخہ بھیج دیا اور یہ حکم دیا کہ اس نسخہ کے علاوہ ہر مصحف اور صحیفہ جلا دیا جاۓ ۔

الحمدللہ ثم الحمدللہ یہ تھی وہ کوشیشیں جو حفاظت قرآن کیلئے اللہ تعالی اپنے منتخب بندوں کے حق میں لکھ دی تھیں ، اس طرح قرآن کریم کو محفوظ کیا گیا جو قیامت تک ان شا ء اللہ محفوظ رہے گا

اسم المقالة : قرآن کریم کی جمع وتدوین کب اور کیسے؟
تحرير المقالة: مرسل ۞ ابو سلطان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔