Tuesday, 1 September 2009

روزہ طبی نکتہ نگاہ سے

0 comments

روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور پھر مسلمان پر فرض ہے ۔ یہ عبادت ان میں سے ہے جو مسلمانوں سے پہلی امتوں پر بھی فرض تھی اور اللہ کے تمام رسولوں کی عبادت و شریعت میں شامل رہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

” اے ایمان والو ! روزہ تم پر اس طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو ۔

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے جہاں یہ پتہ چلتا ہے کہ روزہ پہلے مذاہب میں بھی شامل تھا وہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کا مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم خالی از مصلحت نہیں ہے یہ الگ بات ہے کہ انسانی فہم کی اس تک رسائی نہ ہو ۔ ایک خاص وقت تک کھانے پینے اور نفسانی خواہشات سے باز رہنے کا نام روزہ ہے ۔ لیکن یہ اصل مقصد نہیں ہے بلکہ مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے ۔ قرآن حکیم نے روزہ کا مقصد تقویٰ بیان کیا ہے ۔ اسلام دین فطرت ہے اور فطرت کا ہر عمل انسان کی فلاح کے لیے ہے اس طرح روزہ کے دینی مقاصد اپنی جگہ مسلم مگر جسمانی یعنی طبی پہلو سے بھی انسان کے لیے مفید ہے ۔ صبح سحری سے افطاری یعنی نماز مغرب تک فاقہ نہیں بلکہ وقفہ روزہ ہے ۔ روزہ میں کھانے پینے اور دیگر نفسیانی خواہشات کا جو وقفہ ہوتا ہے وہ جسم کو فضلات سے پاک اور خون کو صاف کرتا ہے ۔ روزہ دار میں حرص اور مرض سے مقابلے کی قوت پیدا ہوتی ہے اس لیے نفس کے تزکئے کے لیے روزے فرض کئے گئے ۔ مسلمانوں پر سال میں ایک ماہ تک روزے فرض کر کے نفس اور جسم کی تربیت کا ساماں کیا گیا ہے ۔ یوں ضبط و نظم کی عادت ہو جاتی ہے اور پابندی اوقات کی تربیت ہوتی ہے ۔ ماہرین طب و سائنس اس امر پر متفق ہیں کہ وقت مقررہ پر کھانے پینے سے صحت بحال رہتی ہے ۔ اس طرح یہ بھی ایک طے شدہ بات ہے کہ بہت سے امراض کی جڑ معدہ کی خرابی ہے ۔ یعنی نظام ہضم میں فتور ہے ، روزہ میں وقت مقررہ پر کھانے پینے اور کچھ وقت وقفے سے نہ صرف معدہ کو آرام کا موقع مل جاتا ہے بلکہ اس کی اصلاح ہو جاتی ہے ۔ طب و سائنس اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ روزہ سے جسم کی ان رطوبات کا خاتمہ ہوتا ہے جن سے امراض جنم لیتے ہیں یا ان میں اضافہ ہوتا ہے ۔ مثلاً ہائی بلڈ پریشر ، موٹاپا ، نزلہ زکام ، گیس ، ریاح ۔ ان میں سے بیشتر کا روزہ یکسر قدرتی علاج ہے ۔ روزہ نہ صرف جسمانی اصلاح کرتا ہے بلکہ روحانی طور پر انسانی رفعت و عظمت کا ذریعہ ہے ۔ بعض لوگ روزہ کو محض فاقہ قرار دیتے ہیں جس سے جسم تحلیل ہوتا ہے اور جسمانی کارکردگی اور صلاحیت عمل متاثر ہوتی ہے حالانکہ یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ روزہ فاقہ نہیں ہے بلکہ صرف صبح سے شام تک کھانے پینے میں وقفہ ہے اور وقفہ سے جسم کو اس وقت تک کوئی نقصان نہیں پہنچتا جب تک ایک خاص حد سے تجاوز نہ کیا جائے ۔

روزہ کی حقیقت کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ قدرت نے جسم میں قوت مدافعت/ مدبرہ بدن پیدا کی ہے جو کسی خارجی تدبیر کے بغیر بیماریوں سے محفوظ رکھتی اور جسمانی اعضاءکی قوتوں کی حفاظت کرتی ہے ۔ اس لیے علاج معالجہ میں یہ اصول پیش نظر رکھا جاتا ہے کہ وہ تدابیر بھی اختیار کی جائیں جس سے امراض سے نجات کے ساتھ ساتھ اس قوت کو مضبوط بنایا جائے اور ان تمام باتوں سے پرہیز کیا جائے جس سے یہ قوت کمزور ہو ۔ روزہ اس قوت کو مضبوط بناتا ہے ۔ جدید سائنس اور ماہرین علاج و معالجہ کچھ وقت کے لیے ترک خوردونوش کو ازالہ امراض کے لیے ایک اہم تدبیر قرار دیتے ہیں ۔ ویدک طریق علاج میں تو اس کی بڑی اہمیت ہے ۔

تمام حیوانی اجسام میں یہ قدرتی اصول علاج رائج ہے کہ وہ تمام اشیاءجن میں زندگی کے آثار مفقود ہوں اور فرسودگی پائی جائے جسم سے خارج کر دینے چاہئیے ۔ روزہ سے جسم کی ان قوتوں کو فائدہ ہوتا ہے جو مضر اور غیر حیات بخش عناصر کو جسم سے خارج کرتے ہیں گویا قوت ہضم جو ان عناصر کو برسر پیکار رکھتی ہے ان سے فارغ ہو کر قوت مدافعت میں شامل ہو کر اسے مضبوط بنا دیتا ہے ۔ کیلیفورنیا ( امریکہ ) کے ایک ڈاکٹر لوگان نے لکھا کہ وہ جب بیمار ہوتے ہیں تو روزہ رکھ کر صحت یاب ہو جاتے ہیں ۔ اس طرح دیگر معالجین اور لوگوں کے تجربات سامنے آئے تو مغرب کے ماہرین طب و سائنس اس جانب متوجہ ہوئے اور کھلم کھلا اعتراف کیا کہ روزہ ( ترک ازالہ خوردونش ) بہت سے امراض کا علاج ہے ۔ مختصراً یہ کہ روزہ نہ صرف انسان کو متعدد امراض میں فائدہ پہنچاتا ہے بلکہ محفوظ بھی رکھتا ہے ۔ رمضان المبارک روئے زمین پر بسنے والے مسلمانوں پر اللہ کی رحمتوں کے نزول کا مہینہ ہے اور جسمانی کثافتوں سے نجات کی جانب ایک اہم قدم بھی ۔ روزہ کا پابند انسان ہر طرح چاق و چوبند اور تندرست رہتا ہے اس بابرکت مہینہ میں دینی پہلو کے ساتھ ساتھ جسمانی فوائد کے حصول کا طریقہ یہ ہے کہ روزہ کو اس کی روح کے مطابق رکھا جائے ۔ قلیل غذا کا اصول اختیار کریں ، ضبط نفس کا مظاہرہ کریں ، سحری و افطاری میں معمول کی سادہ غذا لی جائے ۔ البتہ غذا ایسی ہو جس میں صحت کے لیے متوازن اجزاءہوں ۔ مگر ہمارے ہاں روزہ کے مطلوبہ طبی فوائد اس لیے نہیں حاصل ہو پاتے کہ ہم لوگ رمضان المبارک میں کھانے پینے کا بجٹ دو گنا کر دیتے ہیں جس سے روزہ کے دینی اور طبی پہلو دونوں کے مقاصد پورے نہیں ہوتے کیونکہ زائد از ضرورت غذا کو جلانے کے لیے اور اسے بدن سے خارج کرنے کے لائق بنانے کے لئے اعضائے ہضم کو زیادہ توانائی خرچ کرنا پڑتی ہے ۔ جو اعضا اس عمل میں زیادہ کام کرتے ہیں اس سے اضافی بوجھ اٹھانا پڑتا ہے ۔

ہمارے ہاں افطاری اور افطار دعوتوں میں سموسے ، کچوریاں ، پکوڑے وغیرہ بکثرت استعمال ہوتے ہیں ۔ گھروں میں بھی انواع اقسام کے کھانے تیار ہوتے ہیں اس طرح معدہ بوجھل ہوتا ہے اور زیادہ کام کرنا پڑتا ہے ۔ نماز تراویح میں طبیعت میں اضمحلال محسوس ہوتا ہے اور بھوک کم ہو جاتی ہے ۔ چند دنوں میں نقاہت کا احساس ہونے لگتا ہے حالانکہ روزہ کا صحیح طریقہ یہ ہے ۔

سادہ غذا سے روزہ رکھا جائے اس طرح افطار بھی سادہ کیا جائے کھجور یا دودھ زیادہ مناسب ہے کھجور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مرغوب غذا ہے اور حیاتین سے بھرپور ہے اور جلد جزو بدن بن جاتی ہے ۔ نماز مغرب کے بعد معمول کا سادہ سالن روٹی لی جائے ۔ پھر کوئی پھل لے سکتے ہیں مگر ہمارے ہاں لوگ افطاری میں اس قدر کھاتے ہیں کہ دن بھر معدہ کو جو آرام ملتا ہے وہ اس سے زائل ہوجاتا ہے ۔ نماز تراویح میں غذا منہ کو آتی ہے اور طبیعت بوجھل ہوتی ہے ۔ سادہ طریقے سے روزہ رکھا جائے تو نہ صرف قلیل غذا کا مقصد پورا ہو گا بلکہ دل و دماغ اور گردوں کو آرام کا موقع ملے گا جس سے ان کی کارکردگی بہتر ہوگی ۔ یورپ والے جو ہر شے کو مادیت اور ظاہری حسن سے دیکھتے ہیں فاقہ کے نام سے روزہ کے معترف ہیں اور متعدد امراض میں علاج قرار دیتے ہیں ۔ آج کل سلمنگ سنٹروں کی بھرمار ہے جہاں مصنوعی ادویہ اور فاقہ سے علاج کیا جاتا ہے مگر روزہ موٹاپا کا قدرتی علاج ہے ۔ روزہ میں مرغن اشیاء، پراٹھے ، چاول ، پکوڑے ، سموسے ، کچوریاں وغیرہ سے پرہیز کریں اور سادہ غذا سے سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق روزہ رکھیں اور افطار کریں تو روزہ کے طبی پہلو سے استفادہ کر سکتے ہیں اور اللہ کی رحمت سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔

خلاصہ کلام یہ کہ روزہ سے روحانی پاکیزگی کے ساتھ ساتھ جسمانی فوائد بھی سمیٹے جا سکتے ہیں بشرطیکہ روزہ کو اس کی روح کے ساتھ رکھا جائے ۔ سحر و افطار میں اعتدال سے تجاوز نہ کیا جائے ۔ بسیار خوری سے احتیاط کی جائے ۔ نفسانی خواہشات کے ساتھ ساتھ ثقیل غذا کا مقصد پورا ہو تاکہ روزہ تقویٰ کے ساتھ ساتھ نظام ہضم ( معدہ ) کی اصلاح کا سالانہ پروگرام بن جائے اور اللہ کے اس حکم سے بھی جسمانی فلاح حاصل ہو ۔

طب و صحت

جناب حکیم راحت نسیم سوہدروی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔