Saturday, 20 August 2011

حسرت موہانی

0 comments
 
انگریزی نقادٹی ایس ایلیٹ کے مضمون ـ
”Tradition & Individual Talents”
کاایک اہم اقتباس:۔
“The most individual part of his work may be those in which the dead poets, his ancesters, assert their immortality most vigorously” (Published-1919)
اس اقتباس میں ایلیٹ نے شاعری کو غیرفانی ہونے کے لیے جس اہم خوبی کا ذکر کیا ہے، حسرت جو تقریباً13سال بڑے تھے، کافی پہلے اس مخصوص خوبی کی حاصل شاعری کا آغاز کرچکے تھے۔ اس لیے حسرتؔ کی شاعری لافانی تصور کی جاتی ہے، جو اردوشاعری کی تاریخ میں قدیم اورجدید کے درمیان ایک عبوری حیثیت رکھتے ہیں۔
غالبؔ و مصحفیؔ و میرؔ و نسیمؔ و مومنؔ
طبع حسرتؔ نے اٹھایا ہے ہراستاد سے فیض
حسرتؔ موہانی کا نام سید فضل الحسن اور حسرتؔ تخلص تھا۔ 1875میں قصبہ موہان ضلع کانپور، یوپی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم عربی وفارسی اپنے ہی قصبہ میں حاصل کی اور ہائی اسکول کاامتحان فتح پور سے پاس کیا اور 1903میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ شاعری کاشوق دوران طالب علمی سے ہی ہوگیا تھا۔ علی گڑھ پہنچنے پر ان کی شاعری کو مزید جلا ملی۔ تسنیم لکھنوی اور نسیم دہلوی سے اصلاح سخن حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں زبان لکھنؤ میں دہلی کا رنگ ہے۔
پیرو تسلیم ہوں، شہدائے انداز نسیمؔ
شوق ہے حسرتؔ مجھے اشعار حسرتؔ خیز کا
حسرتؔ کے زمانہ میں غزل کو ناقدری کی نگاہ سے دیکھا جاتاتھا اور کافی اعتراض ہوا کرتے تھے۔
ہوچکے حالیؔ غزل خوانی کے دن
راگنی بے دقت کی اب گائیں کیا
حسرتؔ نے ایسے زمانہ میں غزل کو گلے لگایا۔ چاہے معاملہ عشق کا ہو، تصوف کا ہو سیاست کا ہو، رنج کا ہو یاخوشی کا ہو، پابندسلاسل ہوں یا آزاد ہوں، غزل کا دامن نہیں چھوڑا اورغزل کی روایتوں کو ازسرنو زندگی بخشتے ہوئے اس کو اتنے بلند مقام پر پہنچایا کہ انہیں ’امام المتغزلین‘ کا لقب عطاہوا۔ عام طورسے غزل کی مقبولیت جہاں اس کا ایجاز و اختصار ہے، وہاں جذبات نگاری اور عشقیہ شاعری کی صداقت بھی ہر دل پراثر کرتی ہے۔ حسرتؔ کی عشقیہ شاعری میں ایک سیدھے سادے انسان کے دل کی واردات نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں ایک چلتے پھرتے محبوب کی پرچھائیاں نظر آتی ہیں۔ ان کا محبوب خیالی نہیں حقیقی ہے۔جوشرم و حیا کا پیکر بھی ہے۔ دانتوں میں انگلی دبانا، ننگے پائوں آنا وغیرہ باتیں شرم وحیا کی تصویر پیش کرتی ہیں۔
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد  ہے
یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلیں اکثر ہر گھر میں پڑھی اور سنی جاتی ہیں۔ ان کے کافی اشعار ضرب المثل ہیں۔ دواشعار پیش ہیں۔
خرد کانام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
توڑ کر عہد کرم ناآشنا ہوجائیے
بندہ پرور جائیے اچھا خفا ہوجائیے
حسن وعشق کے معاملات میں غزل کی صنف میں وہ منفرد حیثیت رکھتے ہیں جو ایک نئی تحریک تصور کی جاتی ہے۔ ان کے یہاں نازک رشتوں اوراحساسات کا کھلا ہوا اظہار ملتاہے جو ان سے پہلے کسی شاعر کی غزلوں میں نہیں ملتا۔انہوںنے اپنی شاعری میں عشق کا پاکیزہ تصور پیش کیا ہے اور اپنے جذبات کی صداقت کو عشق کی پاکبازی اور شیفتگی میں تلاش کرتے ہیں۔ وہ جمالیاتی تخیل کے زبردست محرک ہیں۔ حسرتؔ جہاں غزل کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں وہاں وہ ایک محب وطن کےلحاظ سے بھی تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوںنے 1921میں احمدآباد کانگریس کے اجلاس میں ہندوستان کی ’’کامل آزادی‘‘ کی قرارداد پیش کی تھی۔ انہیں کئی بار انگریزی حکومت کے ظلم و استبداد کا شکار ہونا پڑا۔ لیکن ان کی شاعرانہ طبیعت کبھی ماندنہ پڑی۔ وہ مصیبتوں اورآلام کو شعرکی رنگینیوں میں چھپادیتے تھے۔ ایک بار جب وہ موسم گرما میں رمضان کے مہینہ میں روزہ کی حالت میں قیدوبند کی مصائب جھیل رہے تھے۔
ہے مشق ستم جاری چکی کی مشقت بھی
ایک طرفہ تماشہ ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی
انگریز حکومت نے انتقاماً ان کے نایاب کتب خانہ کوردی میں فروخت کردیا تو اپنے دکھ اور صبر کو اس حسین شعر میں ڈھال دیا۔
سرگرم ناز آپ کی شان جفا ہے کیا
باقی ستم کا اور ابھی حوصلہ ہے کیا
حسرتؔ اشتراکیت سے کافی متاثر تھے اور ہندوستان کی مذہبی و لسانی ہم آہنگی کے لیے اشتراکی نظام کو ترجیح دی۔ ان کو بال گنگا دھرتلک سے خاصی عقیدت تھی۔ ان کے انتقال پرکانپور گزٹ میں ایک مرثیہ لکھا جو شخصی مرثیہ کی اچھی مثال ہے جس میں انہوںنے اپنے جذبات کو اشعار میں پیش کیا ہے۔
وہ ایک ادیب اورصحافی بھی تھے۔ انہوںنے علی گڑھ سے ایک رسالہ اردوئے معلیٰ جاری کیا تھا۔ تحریک آزادی میں شامل ہونے کی وجہ سے اس رسالہ کی ضمانت ضبط کرلی گئی اور کئی بارجیل جانا پڑا۔ ’انتخاب سخن، کے نام سے ایک سلسلہ بھی شروع کیا تھا۔ جس میں اساتذۂ غزل کے مختصر تعارف کے ساتھ ان کا بہترین انتخاب پیش کرتے تھے۔ حسرت نے مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کی مگر بنیادی طورپر وہ غزل کے ہی شاعر ہیں بطور نمونہ غزل کے چنداشعار:
حسرت جفا ئے یار کو سمجھا جو تو وفا
آئین اشتیاق میں بھی یہ روا ہے کیا؟
حسرتؔ پھر اور جاکے کریں کس کی بندگی
اچھا جو سر اٹھائیں بھی اس آستاں سے ہم
بڑھ گئیں کچھ تم سے مل کر اور بھی بے تابیاں
ہم یہ سمجھے تھے کہ اب دل کو شکیبا کردیا
بجا ہیں کوششیں ترک محبت کی مگر حسرتؔ
جو پھر بھی دل نوازی پر وہ چشم سحرکار آئی
غزل کے دامن کو اپنے متنوع خیالات سے مالامال کرکے امام المتغزلین حسرتؔ موہانی 13مئی1951کو رحلت فرماگئے۔
مدت کے بعد ہوتے ہیں پیدا کہیں وہ لوگ
مٹتے نہیں ہیں دہر سے جن کے نشاں کبھی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔